معذوری انسانی تنوع کا حصہ

 معذور افراد کی روئیداد اجتماعی طور پر معاشرے کے سرہانے ہے اگرچہ معاشرہ اس سے باخبر ہو یا محو ِ غفلت۔آج یعنی3 دسمبر ، معذور افراد کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ، اور یہ ان کی تنظیموں کے جلوسوں اور دیگرانجمنوں کے ذریعہ فقط کچھ پریس ریلیز کی کارگزاری کے سِوا نہیں گزرنا چاہئے۔ بلکہ اس جدید سائنسی دور میں ہم عام لوگوں کو اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو آگے بڑھنے اور اس انسانی مسئلے میں شامل ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ مدد ایک مسکراہٹ سے شروع ہوتے ہوئے ایک عساء کے چلتے سائنسی پیشرفت کے ذریعہ ایک آرام دہ زندگی پر رکتی ہے۔ جیسے اوزار ، تکنیک اور ان کی طرف رخ کرنے کا رجحان۔
 رویہ: سب سے اہم یہ ہے کہ تبدیلی کے لئے عقیدے کا رویہ اور جو لوگ خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ ایک یا دوسرا تعلق رکھتے ہیں ، صبر ، استقامت اور مثبت سوچ کے مقصد کو پہنچنے کے راز کو برقرار رکھتے ہیں۔
 سروے: جموں کشمیر میں معذور افراد کا ایک گہراور متنوع سروے ناگزیر ہے ، اگرچہ بہت سے افراد روایتی طور پر محکمہ سوشل ویلفیئر میں رجسٹرڈ ہیں لیکن اس کے باوجود متعدد پہلوؤں کے معاملے کے طور پر بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ محکمہ تعلیم ایسے بچوں کو تلاش کرکے اچھا کام کر رہا ہے جو ذہنی یا جسمانی طور پریشانی کے شکار ہیں اور ضرورت کے مطابق ان میں معاون اوزار تقسیم کرتے ہیں اور انہیں ممکنہ حدود میں تعلیم کی دائیرے میں لاتے ہیں۔ محکمہ کو سماجی اور گھریلو سطح پر تعاون کی ضرورت ہے۔
 بیداری: جدید دور میںبہت سارے اوزار اور تربیت دستیاب ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے لیکن ایک مستفید کنندہ کو بیداری نہ ہونے کی وجہ سے ایسی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔تعلیم ، صحت اور غیر سرکاری تنظیموں سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کے محکموں میں متعلقہ طبقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مستحقین کو جدید سہولیات سے آگاہ کریں جس نے 'بازآبادکاری کے پہلوؤں میں انقلاب برپا کیا ہے۔ بدقسمتی سے آگاہی اور تعلیم کے حوالے سے دوسرے شعبوں کی طرح ہم یہاں بھی پچھڑے ہوئے ہیں۔یوٹیوب جیسی انٹرنیٹ کی ایجاد سے فائیدہ اٹھانے میں پیچھے رہ گئے ہیں جس کے تحت ہم موضوعات کو مقامیت کی شکل میں ناخواندہ افراد مقامی زبان میں بات بتاسکتے تھے۔اسکے برعکس ہم ہچکچاتے ہیں اور کاہلی میں پناہ لیتے ہیں۔
 تربیت: سائنس اور ٹکنالوجی میں بہت سی پیشرفت کے ساتھ ، تمام اسٹیک ہولڈرز کو تربیت اور سازوسامان کے حوالے سے اپنے بنیادی ڈھانچے کی تجدید کاری کرنے کی ضرورت ہے۔صحت، تعلیم ، سائیمولیشن ، فزیوتھیراپی ، کھیلوں ، جمناسٹکس ، نفسیاتیات اور دیگر متعلقین کو جدید ترین سائنسی پیشرفتوں پر مبنی پالیسی ترتیب دینی چائے اورمربوط سطح پر کام انجام دینا چائے۔
 باز آبادکاری: بازآبادکاری ضرورت پر مبنی اور پائیدار ہونی چاہئے جس کا مطلب ہے کہ مدد یا امداد معذوری کی قسم پر مبنی ہونی چاہئے نہ کہ رسمی سطح کا مالی امداد۔باز آبادکاری مراکز ، حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کو باز آبادکاری کے عمل میں جدید سائنسی تربیت اور حکمت عملی ، سازوسامان اور اوزار اپنانے چاہیں تاکہ اس طرح صحیح افراد کو مناسب ریلیف مل سکے۔
 خاندانی تعاون: گھریلو اور بیرونی سطح پر بھی خاندانی تعاون ناگزیر ہے۔معاشرے سے وابستہ نام نہاد بدنامی بازآبادکاری کے کام میں ایک بڑی رکاوٹ ہے ، تاہم بازآبادکاری  کے اداروں کو چاہئے کہ وہ دونوں طبقوںپر ساتھ ساتھ کام کریں،/کنبہ پر بھی اورمستفید کنندہ پر بھی بتدریج کام شروع کریں۔  
 معیار: در اصل ہر شخص کو اپنے آپ کو معذور بھائیوں کی اس عظیم خدمت کے مشن سے جوڑنا چاہئے۔اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں ہر سات افراد میں ایک معزور ہے اور کل ایک ارب افراد معذور ہیں۔ ان میں سے کچھ جنے معذور ہیں ، کچھ حادثات کا شکار ہوئے ہیں ،الغرض وہ سب معاشرے کا حصہ ہیں اور گھر واپسی پر گھر کا حصہ ہیں۔ہم ان کو گھر کے اندر یا سڑکوں پر یا کسی اور جگہ کہیں دور دراز ذہنی اسپتالوں یا خیراتی مراکز کی متزلزل فرشوں میں مایوس لیٹے یا ان کے حقوق کی جنگ کے لئے گلیوں میں مایوس جلوس نکالنے کے لئے چھوڑنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ وہ برابر حقوق انسانی کے حقدار ہیں نہ کہ جانوروں کا سا سلوک کہیں کیا جائے۔ معذور لاڈلے بچے خصوصی اسکول کھول کر تعلیم کے حصول کے حقدار ہیں۔
 آخری اور اہم بات یہ کہ نقطہ نظر اور سلوک کے لحاظ سے یہ بھائی بہن اور اورمانند اولادبرابر انسانوں کے طور پر مستحق ہے۔ہمارے کچھ اقدامات اور اعتقادات دانستہ یا نادانستہ طور پر ان کے لئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں ، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دن کے آخر میں آخر ہر انسان تو اہم انسان ہے۔تجزیہ کار ہمیں بتاتے ہیں کہ شرم ، خوف اور افسوس وہ تین عوامل ہیں جو ان لوگوں کی شخصیت پر گہرے اثرا ت ڈالتے ہیں۔والدین شرم کی وجہ سے معذوری کو چھپاتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں انکشاف کرنا دوسرے بہن بھائیوں کی شادی کے عنصر کو خطرے میں ڈال دیتا ہے ، خوف کا عنصر نفسیات پر اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ یہ متنوع افراد یہ سوچتے ہیں کہ دوسرے ان کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ جس کے ساتھ ہم بات کرتے ہیںاور ان لوگوں کے سامنے آتے ہوئے اشارے کریں اور اس ترس کو جذب کرنا ان کی نفسیات کو متاثر کرتا ہے اور وہ لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنے کے بجائے تنہائی کو ترجیح دیتے ہیں۔
 در حقیقت معذوری انسانی تنوع (بنی نوع انسان)کا ایک حصہ ہے اور افسوس کی بات ہے کہ اس کو انسان صحیح طور پر نہیں سمجھ سکا ہے۔ایک شخص جسمانی طور پر کمزور ، ذہنی طور پر مضبوط ترہوسکتا ہے یا بجا طور پر ان کا نام 'خاص طور پر قابل' رکھا گیاہے۔ اس زمرے میں اسٹیفن ہاکنگ جیسے عظیم سائینس داں بھی رہ چکے ہیں۔
ایک باشعور معاشرے اور اسٹیک ہولڈرز کی حیثیت سے ہمیں اجتماعی طور پر اس موقع پر اپنا کردار نبھانا چاہئے تاکہ ان کے حقوق کو قبل از وقت تسلیم کرلیا جائے اور قوانین اور پالسیوں کوان کے حق میں مستحکم کیا جائے کہ ایک نظام کے تحت انکو معاشرتی اور حکومتی سطح پر حق مل جائے۔
برقی رابطہ۔ [email protected]
فون نمبر۔7006551196