ٹی ای این
سرینگر//مرکزی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کئے گئے حالیہ معاشی سروے 2025-26میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی معیشت تیزی سے بلند شرح نمو، مضبوط بنیادی ڈھانچے اور مجموعی معاشی استحکام کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ سروے کے مطابق زراعت، صنعت اور خدمات تینوں شعبوں میں ہمہ جہتی بہتری دیکھی جا رہی ہے، جس کی بدولت ملک عالمی معاشی چیلنجز کے باوجود اپنی رفتار برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔سروے میں مالی سال 2026-27 کیلئے جی ڈی پی شرح نمو 6.8 سے 7.2 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس مضبوط اندازے کی بنیاد مستحکم گھریلو طلب، تاریخی سطح پر کم افراطِ زر، بہتر لیبر مارکیٹ اور مضبوط بیرونی مالیاتی ذخائر کو قرار دیا گیا ہے۔ پہلی پیشگی تخمینوں کے مطابق مالی سال 2025-26 میں حقیقی جی ڈی پی 7.4 فیصد اور مجموعی ویلیو ایڈیڈ 7.3 فیصد تک پہنچنے کی امید ہے۔معاشی سروے کے مطابق افراطِ زر تاریخی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔
اپریل تا دسمبر 2025 کے دوران اوسط افراطِ زر 1.7 فیصد رہا، جو خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا نتیجہ ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے بھی مالی سال 2026 کے لیے افراطِ زر کے اندازے کو کم کر کے 2.0 فیصد کر دیا ہے۔ اسی دوران آر بی آئی نے اپریل تا دسمبر 2025 کے دوران ریپو ریٹ میں مجموعی طور پر 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی، جس سے سرمایہ کاری اور قرض کی فراہمی کو سہارا ملا۔ زراعتی شعبہ دیہی مانگ کو مستحکم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ مالی سال 2026 میں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں 3.1 فیصد ترقی کا اندازہ ہے، جبکہ لائیوسٹاک اور ماہی پروری جیسے ذیلی شعبوں میں 5 سے 6 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔ صنعتی شعبہ بھی رفتار پکڑ رہا ہے۔ صنعتی ترقی 6.2 فیصد رہنے کی توقع ہے، جس میں مینوفیکچرنگ نے خاص طور پر نمایاں کردار ادا کیا۔ حکومت کی پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو اسکیموں کے تحت 2 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری، 18.7 لاکھ کروڑ روپے کی اضافی پیداوار اور 12.6 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ خدمات کا شعبہ بدستور معیشت کا سب سے بڑا ستون بنا ہوا ہے، جو مالی سال 2026 میں 9.1 فیصد کی رفتار سے ترقی کر رہا ہے۔ ہندوستان دنیا کا ساتواں سب سے بڑا خدمات برآمد کنندہ بن چکا ہے، جبکہ عالمی خدمات برآمدات میں اس کا حصہ 4.3 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔روزگار کے محاذ پر بھی مثبت رجحانات سامنے آئے ہیں۔ دسمبر 2025 میں بے روزگاری کی شرح کم ہو کر 4.8 فیصد رہ گئی، جبکہ خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔معاشی سروے کے مطابق مضبوط مالیاتی نظم، بہتر بینکاری نظام، کم این پی اے، اور ریکارڈ غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر نے ہندوستانی معیشت کو طویل مدتی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔