عظمیٰ نیوز سروس
بڈگام//سکاسٹ نے آئی سی اے آرآل انڈیا کوآرڈی نیٹڈ ریسرچ پروجیکٹ (AICRP) برائے پولٹری بریڈنگ کے تحت قبائلی کسانوں کے لیے کرشی وگیان کیندر (KVK) بڈگام میں بیداری و تقسیم پروگرام کا انعقاد کیا۔ یہ پروگرام DAPST(قبائلی ذیلی منصوبہ)کے تحت منعقد کیا گیا، جس کا مقصد سائنسی بنیادوں پر بیک یارڈ پولٹری فارمنگ کو فروغ دینا، پائیدار ذریعہ معاش کے مواقع پیدا کرنا اور محفوظ و کیمیائی باقیات سے پاک نامیاتی انڈوں کی پیداوار کو بڑھانا تھا۔اس موقع پر ڈائریکٹر ریسرچ سکاسٹ کشمیر پروفیسر ریحانہ حبیب کانٹھ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے بیک یارڈ پولٹری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ نظام غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے، اضافی آمدنی پیدا کرنے اور دیہی روزگار کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ پائیدار پولٹری فارمنگ کو ویلیو ایڈیشن، نامیاتی کھاد کی تیاری اور کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ جوڑیں۔پروفیسر ریحانہ نے تازہ اور کیمیائی باقیات سے پاک نامیاتی انڈوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کا ذکر کرتے ہوئے کسانوں کو ماحول دوست زرعی طریقے اپنانے کی ترغیب دی۔
انہوں نے خوراک کی حفاظت اور ماحولیاتی پائیداری کے لیے کیمیائی ادویات اور زرعی کیمیکلز کے غیر ضروری استعمال میں کمی پر زور دیا۔اس سے قبل سکاسٹ کشمیر کے رجسٹرار اور ICAR-AICRP برائے پولٹری بریڈنگ کے پرنسپل انویسٹی گیٹر پروفیسر (ڈاکٹر) عظمت عالم خان نے DAPST منصوبے کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بہتر نسل کے بیک یارڈ پولٹری پرندے دیہی حالات میں انڈوں اور گوشت کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے سائنسی پولٹری فارمنگ کو کم سرمایہ کاری اور زیادہ امکانات والا ذریعہ معاش قرار دیتے ہوئے کسانوں کو بہتر انتظامی طریقے اپنانے کی تلقین کی۔KVK بڈگام کے سربراہ پروفیسر بلال احمد لون نے شرکا کا استقبال کرتے ہوئے کرشی وگیان کیندر کی کسان دوست سرگرمیوں اور ترقیاتی پروگراموں کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولٹری فارمنگ کو دیگر زرعی سرگرمیوں کے ساتھ مربوط کرنے سے کسانوں کی آمدنی اور معاشی استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے۔تکنیکی سیشنز کے دوران ڈاکٹر ذوالفقار الحق اور ڈاکٹر کویتا رانی نے سائنسی بیک یارڈ پولٹری مینجمنٹ پر تفصیلی تربیت دی۔