مادی علوم جاننے والے لوگوں کے ہاں معجزات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی کیونکہ وہ ہر واقعہ کو سمجھنے کے لئے اسباب و علل کی تلاش میں رہتے ہیں۔ان کے ہاں اسباب کے پیدا ہونے اور واقعہ کے عملی ظہور کے لئے بھی ایک ٹائم پیریڈ درکار ہوتا ہے۔اگر کوئی واقعہ اسباب اور وقت کے متعین اصولوں کے بر خلاف ظاہر ہوتا ہے تو یہ حضرات واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کو ہی خارج از امکان متصور کرتے ہیں۔وہ وقت (Time) ،جگہ (Space)اور مادہ (Matter)کے حدود میں ہر واقعہ کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ اس کائنات میں مروجہ قدرتی قوانین (جن سے انسان گہری واقفیت رکھتا ہے) کے تعامل ہی سے ہر واقعہ کی توجیہ بیان کرتے ہیں لیکن یہ بات یکسر بھول جاتے ہیں کہ انسان اس کائنات کا صرف چار فی صد حصہ دریافت کرچکاہے اور اس دریافت شدہ کائنات میں بھی وہ ایک قلیل تعداد میں قدرتی قوانین کا علم حاصل کر پایا ہے۔اس لئے اسے ہر واقعہ کی متعین توجیہ معلوم نہیں ہو سکتی ہے۔جدید انسان زمین کی طرف ہر چیز کے گرنے کے عمل کو قانون کشش ،سمندر میں کشتی کے چلنے کو بایویانسی( Buyoyancy) ،بجلی کے موٹر کی ورکنگ کو الیکٹرو میگناٹک انڈکشن(induction Electromagnetic) کے تحت سمجھتا ہے اور اسی طرح مادی دنیا میں متعدد مظاہر قدرت کو اپنے متعلقہ قدرتی قوانین کے دائرہ اثر میں جاننے اور سمجھنے کی سعی کرتا ہے۔ان دریافت شدہ قوانین کے علاوہ ابھی بے شمار قوانین اس کائنات میں محو عمل ہیں جن کو تاہنوز انسان دریافت نہیں کر پایا ہے جیسے اس زمین ہی پر برمودہ ٹرائنگل ( Triangle Bermuda) میں پراسرار طور پر ہوائی جہازوں اور سمندری جہازوں کا غائب ہونا کس قدرتی قانون کے تحت ہو رہا ہے انسان اس کو دریافت کرنے اور سمجھنے سے بالکل قاصر ہے۔اس لئے معجزات و کرامات کے وجود کا انکار کرنے والا رویہ غیر علمی و غیر منطقی ہے۔
مغربی مفکرین ،سائنسدان اور فلسفی علت و معلول کے قانون کے تحت بے شمار مظاہر فطرت کو بیان کرنے کے قابل ہوئے ہیں کیونکہ وہ اس تمام نظم کائنات کو بقول مولانا سید سلیمان ندوی "باہمی تاثیر و تاثر "کا نتیجہ سمجھتے ہیں لیکن مادی کائنات اور انسانی جسم کے اندر ہی کئی ایسے واقعات و رجحانات ہیں کہ جن کو سمجھنا انسان کے لئے مشکل ہے۔ان کی توجیہ انسان کس قانون کے تحت کرے انسان اس سے عاجز ہے اس لئے ان کی حیثیت بھی فی الحال انسان کے نزدیک معجزہ کی ہی ہے۔معجزات کے معاملے میں انسان کا انکار جب کہ وہ کسی واضح قانون قدرت سے واقف نہیں ہے کس اخلاقی و منطقی رو سے صحیح ہے۔ خواب کی سائنٹفک حقیقت کو جاننے سے انسان ابھی قاصر ہے اس تناظر میں اب انسان خواب کے وجود کا ہی انکار کرے اس رویے کو شاید حماقت سے بھی ابتر کوئی اورگھٹیا درجہ دیا جائے گا۔معجزات کا وقوع پذیر ہونا اس دور کے لوگوں کے لئے جہاں اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ بن سکتا تھا وہیں آج کے ملحد نظام تعلیم میں پلنے والے مغربی اور مغرب سے متاثر مشرقی اہل علم کے لئے خدا کی خدائی و قدرت پر ایمان پختہ کرنے کا قوی ذریعہ بن سکتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے معجزات کے معاصر لوگوں نے ان کو پیغمبر کی جادو گری قرار دے کر رد کیا اور آج کے لوگوں نے معجزات کے وقوع ہونے کا ہی انکار کیا جس کی وجہ سے انسانیت کا ایک ذہین حصہ ہدایت پانے سے محروم ہو چکا ہے۔معجزات کا وقوع ہونا اللہ کے اذن سے ہوتا ہے۔اس اذن کی تعمیل میں اجزائے کائنات کیسا عملی راستہ اپناتے ہیں انسان اس راستے کو جاننے سے ہی قاصر ہے کیونکہ اس کی صلاحیت اور علم جب اس مقام پہ پہنچ ہی نہیں پایا ہے تو معجزات کے انکار کا کیا جواز ہے؟
عام طور پر معمول کی عادت سے ہٹ کر اگر کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے جس کی فوری توجیہ معلوم کرنے سے انسان یکسر عاجز ہو وہ معجزہ کہلاتا ہے۔قرآن کریم نے پیغمبروں کے حوالے سے متعدد معجزات کا ذکر کیا ہے اور تاریخ اسلام نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے معقول تعداد میں اس قسم کے واقعات ریکارڈ کئے ہیں۔معجزات کی علمی و عملی، عقلی و نقلی کیا حیثیت و ہیئت ہے اس موضوع پر مولانا سید سلیمان ندوی کی سیرت النبیؐ کی دوسری جلد کا مطالعہ مفید رہے گا۔معجزات کے حوالے سے علمائے کرام کا موئقف نہایت متوازن اور محتاط ہونا چاہئے۔معجزات کے ضمن میں چند جدید مسلم مفکرین صراط التوازن پر برقرار نہ رہتے ہوئے بہت سنگین کوتاہیوں کے مرتکب ہو گئے جن کا اثر مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلموں کی اسلامی تفہیم پر بھی پڑا۔ان حضرات نے مغرب سے ابھرتی ہوئی سائنس و ٹیکنالوجی کی چکاچوند سے متاثر ہو کر معجزات کو بھی سائنسی خطوط پر سمجھنے اور واضح کرنے کی کوشش کی اور کوئی معقول سائنٹفک توجیہہ معلوم کرنے سے قاصر ہوکر قرآن کی غلط تفسیر بیان کی ۔مرحوم سر سید احمد خان نے " فانفلق فکان کل فرق کاطود العظیم"کو مدو جزر سے تعبیر کیا۔مصر کے کئی مفکرین نے بھی اس کشتی میں خود کو سوار کیا ،جس سے معجزات کے حوالے سے سخت پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔اس معاملے میں معجزات کو وہی پوزیشن دی جانی چاہئے جو قرآن انہیں دیتا ہے۔کیونکہ قرآن مجید خود ایک اعلیٰ معجزہ ہے جس کی مثل بنانے پر نہ ابھی تک کوئی قادر ہوا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی ہو سکتا ہے۔دنیا کے تمام علوم پر غالب علم قرآن ہے اس لئے سائنس، عمرانیات ،معاشرت یا کسی اور فیلڈ کے توسط سے قرآن کو سمجھنا جہالت ہے۔ڈارون کی تھیوری پڑھ کر یا مارکس کا فلسفہ پڑھ کر قرآن کو سمجھنا بیوقوفی ہے۔ معجزات کو مادی دنیا کے دریافت شدہ قوانین کے میزان میں ڈال کر سمجھنے کی کوشش کرنا انسان کے محدود علم کا نمایاں ثبوت ہے۔اگرچہ معجزات کی تحریک سے بھی انسان سائنس کے میدان میں تحقیق و تخلیق کے نئے نئے گوشوں کا افتتاح کر سکتا تھا یا ہے جیسے معراج النبیؐ کے واقعہ پر غور کرنے سے انسان خلائی سفر کو ممکن بنا نے کے لئے فکری و عملی طور پر اقدام بہت پہلے کر سکتا تھا۔ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم 'شرح المواقف فی العقائد 'کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں :"کہ کسی پیغمبر کے وہ معجزات جو محض کسی وجہ و اثر کے بغیر دوسرے حالات میں وقوع ہوتے ہیں وہ مومنین کے لئے ہوتے ہیں تاکہ وہ تکنیکی ذرائع استعمال کرتے ہوئے ویسا کرنے کی سعی کریں ".یہ بات بھی واضح ہے کہ ہر معجزہ کے ضمن میں ایسا کرنا ممکن نہیں ہے لیکن کئی معجزات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں وقوع پذیر ہوئے ان سے سائنسی تحقیق کے حوالے سے پیش رفت کی جاسکتی تھی۔شق القمر کے معجزہ سے چاند پر جو ایک میل لمبا شگاف پڑا ہے جسے عام طورپر ریڈلی ریل ( Rill Radley) کہا جاتا ہے (جس کو حال ہی میں دریافت کیا گیا ہے)کے بارے میں دنیا کو بہت پہلے باخبر کیا جا سکتا تھا۔ جدید مسلم دنیا میں ان جیسے موضوعات پر کسی قسم کا کام نہیں کیا گیا اور بدقسمتی سے سائنس و ٹکنالوجی میں ترقی کرنے کے لئے مضبوط sourceحاصل ہونے کے باوجود ہم اس فیلڈ سے کوسوں دور رہے۔اس شگاف کے عمیق جائزے کے لئے Apollo 15کے مشن سے عوام الناس کو کبھی واقف نہیں کیا جائے گا ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم کے مطابق "کیونکہ انگلینڈ کے روزنامہ گارڈئین نے 29جولائی 1971کی اپنی اشاعت میں مغربی عوام کو اس خطرے سے خبردار کیا تھا کہ اس سے مسلمانوں کو تقویت ملے گی اور وہ یہ اعلان کریں گے کہ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے چاند کے دو ٹکڑے کرنے کے معجزے کی سچائی اور صداقت کا اور ایک ثبوت ہے کہ شاید کوئی مسلمان فلک پیما کسی روز سائنسی تحقیق کے اس کام کی ذمہ داری لے اور اس شگاف کی اصلیت پر روشنی ڈالے اور اس شگاف کی اصلیت پر روشنی ڈالے اور ہمیں بتائے کہ کیا یہ شگاف اس لائن کا حصہ ہے کہ جس سے شق القمر کا معجزہ وقوع ہوا تھا" ۔یہ معجزہ مسلمانوں کی فلکی تحقیق کا محرک بن سکتا تھا اور مسلمان فلکیات میں تحقیق و تدقیق کا در کھولتے۔لیکن بدقسمتی سے دور جدید میں ایسا ہوا نہیں اور اس کے برعکس مغرب نے یہ کام کیا اور منافقت کا سہرا بھاند کر تکتمون الحق کا مکروہ کام سرانجام دیا۔ حدیث میں آیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کجھور کے ایک تنے کے ساتھ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے پھر صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لئے منبر بنوا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب اس پر تشریف فرما ہو کر خطبہ دینے لگے تو وہ تنا اس طرح رونے لگا جس طرح اْونٹنی اپنے بچے کی خاطر روتی ہے۔ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے اور اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہوگیا۔‘‘یہ معجزہ محققین کے لئے تحقیق کا ایک میدان دستیاب 1400سال قبل کر چکا تھا۔آج سائنس اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ پودے بھی احساس رکھتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کجھور کے تنے پر ہاتھ رکھنا پودوں کے اندر احساس کی موجودگی کا 1400سال قبل اشارہ دے چکاتھا۔المختصر معجزات کا وقوع پذیر ہونا جہاں انسانیت کی روحانی ترقی کے لئے مفید ہے وہیں مادی ترقی میں بھی انسان کے لئے فائدہ مند ہیں۔فبای الاء ربکما تکذبن۔
ّ(سلسلہ وار مضمون جاری ہے ۔اگلی قسط انشاء اللہ اگلی سوموار کو شائع کی جائے گی )
رابطہ ۔[email protected]