مشرف کی نااہلی معطل، انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت

 لاہور//پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ معطل کر دیا ہے اور اْنھیں اگلے ماہ ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی بھی اجازت دی ہے۔عدالت عظمیٰ نے سابق فوجی صدر کو 13 جون کو ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری برانچ میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف عدالت میں پیش ہوں تو اْنھیں گرفتار نہ کیا جائے۔سابق فوجی صدر پرویز مشرف آئین شکنی اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے سمیت چار مقدمات میں اشتہاری ہیں۔مختلف عدالتوں نے ان مقدمات میں ملزم پرویز مشرف کی جائیداد قرق کرنے کے احکامات بھی جاری کر رکھے ہیں۔  چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پرویز مشرف کی نظرثانی کی درخواست کی سماعت کی۔پرویز مشرف کے وکیل قمر افضل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے ان کے موکل پر انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق تاحیات پابندی عاید کرنے کے بارے میں جو فیصلہ دیا ہے اس میں حقائق کو سامنے نہیں رکھا گیا۔اْنھوں نے کہا کہ سنہ2013 میں پشاور ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا اس وقت سابق فوجی صدر کسی مقدمے میں سزا یافتہ بھی نہیں تھے۔قمر افضل کا کہنا تھا کہ عدالت کسی شخص پر انتخابات میں حصہ لینے پر کیسے پابندی عائد کر سکتی ہے جب وہ کسی مقدمے میں سزا یافتہ بھی نہیں ہیں۔واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر انتخابات میں تاحیات پابندی عائد کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ سابق فوجی صدر نے ملکی آئین کو توڑا ہے اس لیے اْن پر تاحیات پابندی عائد کی جاتی ہے۔چیف جسٹس نے پرویز مشرف کے وکیل سے کہا کہ وہ اپنے موکل سے کہیں کہ وہ جون کو عدالت میں پیش ہوں۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری ان کی عدالت میں پیشی سے مشروط ہے۔پرویز مشرف کے وکیل نے اپنے موکل کے عدالت میں پیش ہونے کے بارے میں کوئی یقین دہانی نہیں کروائی۔