مساجد معاشرے کیلئے ایک میڈیا سیل ہر معاملے میںمعاشرتی اصلاح کی تربیت گاہ بنانے کی ضرورت

اِکز اقبال

ہمارے معاشرے میں مولوی حضرات کی بہت عزت ہے اور انہیں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ائمہ مساجد ہمارے معاشرے کا اہم کردار ہیں۔ مولوی حضرات مساجد کے انچارج ہوتے ہیں اور اس پہلو کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مساجد ہمارے معاشرے کے لیے ایک میڈیا سیل Media Cell کا درجہ رکھتی ہیں ۔ایک ایسا میڈیا اور ذریعہ ابلاغ جو اس کے متعلقین تک دین کا پیغام پہنچانے کے ساتھ ساتھ قوم کی معاشرتی اور اخلاقی تربیت گاہ بھی ہوتی ہے۔ مساجد کا ایک اسلامی معاشرے میں بہت وسیع کردار ہے جو صوم و صلوٰۃ سے بڑھ کر ہماری زندگی کے بہت سے زندہ مسائل سے تعلق رکھتاہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن میں نبی اکرمؐ کی شان بحیثیت معلم بیان کی ہے۔خود رسالت مآبؐ نے ’’انمابعثت معلما‘‘(مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے ) فرما کر علماء کو رہتی دنیاتک عزت و توقیر کے اعلی منصب پر فائز کردیا ہے ۔ اسلام میں ائمہ کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلیٰ و ارفع ہے، معلم و مربی ہونے کی وجہ سے اُنہیں اسلام نے ایک اعلیٰ ترین اعزاز عطا کیا ہے۔
ایسے میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ائمہ مساجد اور مولوی حضرات قوم کے بہترین مربی بن جاتے اور معاشرتی ‘ سماجی اور اخلاقی معاملات میں قوم کے زبردست نگران ہوتے اور اُن کی تربیت کرتے۔لیکن بدقسمتی سے معاملہ اسکے بالکل برعکس دکھائی دیتا ہے۔ قابل غور پہلو ہے کہ ہماری ہر گلی میں مسجد ہونے کے باوجود ہم اس مسجد کے آس پاس رہنے والوں تک صحیح طریقے سے پیغام نہیں پہنچا رہےہیں ۔ کیایہ مولوی حضرات کی ذمہ داری نہیں کہ وہ لوگوں کو وقت کے ساتھ بدلنے والے معاشرتی ‘ سماجی ‘ ثقافتی و اخلاقی مسائل اور ان کے موزوں حل کے متعلق رہنمائی کریں ۔
گنہگار سے گنہگار انسان بھی کم از کم ایک جمعہ کے دن ضرور مولوی کو سننے جاتا ہے، یہ موقع قوم کی تربیت کے لئے سب سے زیادہ مثالی ثابت ہوسکتا تھا، لیکن مولوی صاحبان کے اذہان میں نہ جانے کہاں سے آکر یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ فقط تاریخی معاملات پر شعلہ فشانی کرنا ہی بہترین خطابت ہوتی ہے۔ ایسے میں جمعے کے خاص دن کے بیان کو صرف مسلکی باتوں میں گزار دینا یا پھر جمعے کے خطبات نامی کتابوں سے تقاریر رَٹ کر بیان کردینا عوام کے اور اپنے علم کے ساتھ سنگین زیادتی ہے۔
روز مرہ کے بے شمار ایسے معاملات اور مسائل ہیں جو ہمارے تمدن کا براہ راست حصہ ہیں اور انہیں ٹھیک کئے جانے کی اشد ترین ضرورت ہے لیکن مجال ہے جو کوئی ان معاملات پر بات بھی کرے ۔مثلاً موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ اور گاڑیوں میں سوارڈرائیور سیٹ بیلٹ نہیں پہنتے، باوجود متعلقہ اداروں کی جانب سے سختی اور بھاری بھرکم جرمانوں کے، یہ معاملہ کنٹرول میں نہیں ہے ، سڑک پر چلتے وقت خیال رکھا جائے کہ اپنی سمت میں چلیں، بچوں اور عمر رسیدہ افراد کی اس معاملے میں مدد کی جائے، پبلک ٹرانسپورٹ میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ عورتوں اور بزرگوں کو سیٹ دی جائے، موبائل فون پر مذاق مذاق میں بولے جانے والے جھوٹ کو Normal نہ سمجھے بلکہ اس کو گناہ تصّور کیا جائے، راستوں پر یا ندی نالوں میں کوڑاکرکٹ پھینکنا اخلاقاً جرم سمجھا جائے، نوجوان نسل میں پائی جانے والی بُرائیاں جیسے موبائل فونز کا غیر اخلاقی استعمال ‘ منشیات کی طرف رجحان اور وقت کا بے دریغ ضیاع ‘ ،رات کے اندھیرے میں کمرے میں اکیلے میں موبائل کی دنیا کے خرافات سے آگاہ کرنا، وغیرہ وغیرہ ۔
اگر مولوی صاحبان اپنے جمعے کے خطبے میں خصوصی طور پر اِن چھوٹے چھوٹے معاملات کو لیکر عوام کو اپنے مخصوص انداز میں جھاڑ دیں تو بہتری کی اُمید کی جاسکتی ہے ۔ یہ محض چند مثالیںہیں، ایسے سینکڑوں معاملات ہیں جن پر جمعہ کے بیان میں مسلسل بات کئے جانے کی ضرورت ہے تاکہ آپ کی بات کا اثر لینے والے لوگ معاشرے میں ممتاز دکھائی دیں۔بات صرف نماز جمعہ کی نہیں ہے ۔ روزانہ پانچ مرتبہ تقریباً ہر گلی سے کچھ نہ کچھ لوگ مساجد کا رخ کرتے ہیں ‘جس میں نو جوانوں کی تعداد اچھی خاصی بھی ہوتی ہے۔تو کیا اس سلسلے میں ہمارے مولوی حضرات کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ ان تمام لوگوں کی تعلیم و تربیت کا مثبت انتظام کریں ،تاکہ ان نمازیوں کا مسجد آنا جانا نہ صرف اُن کے لئے بلکہ معاشرے کے لیے بھی اصلاح کا ذریعہ بن جائے۔بے شک اگر اُن پر خلوص اور بھرپور توجہ سے محنت کی جائے تو ان کی ایمانی،اخلاقی،معاشرتی اور تجارتی زندگی میں ایک دینی رنگ چھا سکتا ہے ۔
اخلاقی برائیوں کی طرف نظر کی جائے تو جھوٹ ،فریب، دھوکہ، خیانت، تکبر، ظلم، فحاشی، حسد ، بد گمانی اور غیبت وغیرہ ان میں سے بیشتر عیوب ہمارے معاشرے میں موجود ہیں ۔ ان مہلک بیماریوں کے شکار ہرجگہ موجود ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ خیانت کے مرض کا شکارکسی فرد کو ادارے کا رُکن یا سربراہ بنایا جا سکتا ہے؟ رشوت کا عادی ملازم لوگوں کی خدمت کرے گا یا ان کا جینا دوبھرکردے گا؟ رشوت دینے والے لوگ خود پر اور قوم پر ظلم نہیں کر رہے ہیں؟ انصاف سے عاری قانون دان ہمارے کس کام کا؟ والدین کے حقوق سے ناواقف بگڑی ہوئی اولاد کیا گل کھلائے گی ؟ فحاشی میں مبتلا نوجوان قوم کو کیا مستقبل فراہم کرے گا ؟ حسد، بد گمانی اور غیبت میں مبتلا لوگ دفاتر کا کیا ماحول بنائے گے ؟ تکبر میں مبتلا حکمران اپنی رعایا کے ساتھ کیسا سلوک کرے گا؟ یہ وہ گنتی کی چند اخلاقی برائیاں ہیں جس کا ہمیں قدم قدم پر سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لہٰذا جب تک تزکیہ اور تربیت کے عمل میں تیزی لاکر ان کو دور نہ کیا گیا تو یہ برائیاں بڑھتی چلی جائیں گی۔ ا گر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہمارے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں جینا مشکل ہوجائے گا ۔
مولوی حضرات کا اہم اور بنیادی فریضہ انسان سازی ہوتا ہے۔اگرچہ اس کام کے لیے دوسرے لوگ اور معتدد اداروں کے اثرات بھی شامل ہوتے ہیں لیکن یہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ پورے معاشرتی نظام کا مرکز و محور ایک عالم ہی ہوتا ہے اور لوگوں کی صحیح رہنمائی کرنا اُس کی ذمہ داری ہے ۔ جہاں دینی مسائل پر عوام کی رہنمائی کرنا اُس کا فرض ہےوہیں معاشرتی معاملات پر اُن کی تربیت کرنا بھی لازم ہے۔
بہت افسوس کے ساتھ ماننا پڑے گا کہ اُمت میں تزکیہ کا عمل جب تک ترجیحی بنیادوں پر جاری رہا، تب تک ہمارے معاشرے کے ہر فرد میں اخلاقی و معاشرتی اقدار کے آثار موجود رہے،لیکن جب سے ہماری ترجیحات بدل گئیں اور ہم نے نہ اپنی اصلاح کی جانب توجہ کی اور نہ ہی اپنے معاشرے کی ‘ تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج معاشرہ بدترین صورت حال سے دوچار ہے ۔ جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ امت اُس تصوّرِ دین کو ماننے کو ہی تیار نہیں جو دین ِ اسلام کا اہم تصوّر ہے۔
عوام کی رہنمائی اور روز مرہ کے معاملات پر بات کرنا مولوی حضرات کی ذمہ داری ہے۔ ایسی ذمہ داری سے نہ صرف عوام کی دینی تربیت مضبوط ہوتی ہے بلکہ معاشرتی مسائل کا حل کرنے میں بھی مدد حاصل ہوتی ہیں۔ مولوی حضرات کی رہنمائی میں عوام کو اپنی روز مرہ کی زندگی کو اصولوں اور معیاروں کے مطابق چلانے کی سیکھ ملتی ہے، جو معاشرتی بہتری اور امنیت کی جانب بڑھاتی ہے۔لہٰذا ائمہ کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ امت کی تربیت کریں ، ان کا نمازی کسی ایک طبقے سے تعلق نہیں رکھتا، بلکہ ان کے نمازیوں میں مزدور ،طالب علم ، وزیر، حکمران ، اساتذہ، سرکار ی وغیر سرکاری ملازمین ، افسر ، پولیس ، فوجی ، قانون دان ، سیاست دان ، دکاندار ، تاجر اور بے روزگار سب شامل ہیں ۔جب ان کے سامنے قرآن و حدیث کی واضح ہدایات پیش کی جائیں اور ساتھ ساتھ انھیں فکرمند کیا جائے کہ وہ ان ہدایات کو اپنے عملی ماحول میں اپنانے کی کوشش شروع کریں ۔اس طرح وہ ایک صاحب ایمان کا کردار ادا کر سکیں گے اوراپنے قول و فعل میں صداقت و امانت کے ساتھ ایک مثالی گھرانہ ،مثالی معاشرہ اور ایک مثالی ریاست کا نمونہ پیش کریں گے۔
رابطہ ۔7006857283
[email protected]