پونچھ//حقوق انسانی کے کارکن اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ضلعی صدر کمل جیت سنگھ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایشیا کا سب سے پُرانا ، حساس اور حل طلب مسئلہ ہے جسے کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا ہے۔ یہاں جاری اپنے ایک پریس بیان میں موصوف نے کہا ہے کہ کشمیر کے حالیہ ضمنی پارلیانی انتخاب میں6 فی صداور دوبارہ پولنگ میں 2 فی صد ووٹنگ اور بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں 8کڑیل نوجوانوں کی شہادت دلی کے حُکمرانوں کے لئے صاف نوشتہ دیوار ہے کہ کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کشمیری اب بھی اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں پر یقین رکھتے ہیں اور ریاست کے دونوں اطراف بسنے والے عوام کے دلوں میں ابھی تک رائے شماری کا جذبہ زندہ ہے۔ سنگھ نے مزید کہا کہ بھارتی سیکورٹی فورسز کے بے رحمانہ ظُلم و تشددکرنے ، نوجوانوں کوجانوروں کی طرح پیٹ کر اُنہیں گالی گلوچ پر اُکسانے اور اُنہیں فوجی گاڑی کے آگے باندھ کر گلی گلی گُھمانے جیسے ویڈیوز کو سماجی ویب سائٹس پر شیئر کرنے سے عالمی سطح پر کشمیر کاز کو مزید تقویت ملی ہے اور دلی حکومت کے خلاف نفرت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اُنہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ اقوامِ متحدہ مسئلہ کشمیر پر کیوں کر خاموش ، بے بس اور بے اثر ہے جس سے اس کی اہمیت دِن بدِن گھٹتی اور اس کی حیثیت ایک بند پڑے مردہ خانہ جیسی دکھائی دے رہی ہے۔ کمل جیت نے کہا کہ پہلے بھارتی وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سرینگر کے لال چوک میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ہم کشمیری عوام پر زبر دستی کی حکومت نہیں ٹھونسیں گے بلکہ جو کشمیریوں کی خواہش ہوگی وہی حکومت اُنہیں ملے گی۔ سنگھ نے مزید کہا کہ بھارتی حُکمرانوں کے اتنے وعدوںاور یقین دہانیوں کے باوجود آج تک کسی نے ہم سے یہ تک نہیں پوچھا کہ ’ہم کیا چاہتے ہیں؟۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ ریاست کو وہ لوگ اپنا ’اٹوٹ انگ‘ کہتے ہیں جنہیں ریاستی قانون کے مطابق نہ ہی یہاںایک انچ جگہ خریدنے اور نہ ہی اپنے کسی فرد کوکسی بھی محکمہ میں ڈیلی ویجرز کی نوکری دینے تک کا اختیار ہے۔کمل جیت نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے لوگ ڈاکٹر عبداللہ کی جیت پر اتنا بھی نہ اترائیں کہ جیسے اب اُن کے ہاتھ اللہ دین کا چراغ لگ گیا ہے اور وہ جیسا کہیںگے ویسا ہی ہوگاکیوں کہ کشمیری عوام ریاستی اسمبلی میںاُن کی اکثریت کو پہلے بھی کئی بار دیکھ چُکے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن کی الیکشن جیت اورمسئلہ کشمیر کا حل د ونوں ایک دوسرے سے کوسوں دوُر ہیں۔ موصوف نے عالمی برادری اور اقوامِ متحد ہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ نہتے کشمیریوں کے خون کی ہولی کھیلنا بند کروائیں کیوں کہ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کا کشمیریوں کی خواہش کے مطابق تصفیہ طلب حل وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔