مزید خبریں

پبلک سیفٹی ایکٹ کا غلط استعمال | نظربندوں کے معاملوں کا جائزہ لینے کی ضرورت :تاریگامی

سرینگر //جموں کشمیرمیں غیرقانونی سرگرمیوں کی روکتھام سے متعلق قانون اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے بیجا استعمال کوغیرجمہوری قرار دیتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیامارکسسٹ رہنما یوسف تاریگامی نے کہا کہ یہ لوگوں کی شہری آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ غیرقانونی سرگرمیوں کے انسداد اور پبلک سیفٹی ایکٹ قوانین کے تحت نوجوانوں پراندھادھندمقدمے درج کئے جارہے ہیں جس سے پورے خطے میں تشویش کی لہردوڑ گئی ہے ۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ غیرقانونی سرگرمیوں کی روکتھام سے متعلق قانون کے تحت مقید افرادکووادی  سے باہر کی جیلوں میں منتقل کیا جارہا ہے جوایک سنگین مسئلہ ہے۔انہوں نے بیان میں کہا کہ موسم سرماکی ٹھٹھرتی سردی میں انہیں کشمیرکی جیلوں میں رکھا گیا اورا ب چونکہ وادی سے باہر شدیدگرمیوں کاآغاز ہونے والا ہے ،انہیں دوسری ریاستوں کی جیلوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔نیزسینکڑوں لوگوں کو جو پہلے ہی وادی سے باہرکی جیلوں میں بند ہیں ،انہیں شدیدمشکلات کا سامنا ہے کیوں کہ ان کے رشتہ دار ان سے ملنے سے قاصر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیںکہ وہ کشمیرسے باہر کی جیلوں میں مقید اپنے عزیزواقارب سے ملنے کیلئے جاسکیں۔تاریگامی نے کہا کہ ایک طرف انتظامیہ وادی میں حالات کے ٹھیک ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں اور دوسری طرف گرفتاریاں جاری ہیں اور مبینہ طور پرجیلوں میں قید افراد کو بیرون جموں کشمیرکی جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کچھ معاملات میں عدالت کی طرف سے پبلک سیفٹی ایکٹ کو منسوخ کئے جانے کے باوجود بھی پولیس انہیں پھر گرفتار کرکے لیجاتی ہے۔بیان میں غیرقانونی سرگرمیوں کی روکتھام اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے غلط استعمال پرفوری جائزہ لینے کی ضرورت ہے اورجن لوگوں کو ان سخت قوانین کے تحت گرفتار کیاگیا ہے ان کے معاملات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ 
 
 
 
 

جموں وکشمیر سے متعلق سوچ میں تھوڑی تبدیلی خوش آئند | عمرعبداللہ کا ہندپاک مفاہمت کاخیرمقدم 

سرینگر//ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مفاہمت کا خیر مقدم کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ جموں وکشمیر کو لیکر آخر کار ہندوستان اور پاکستان کی سوچ تھوڑی بہت ٹھیک ہوچکی ہے ۔انہوں نے کہا ،’’ کیا وجہ ہے کہ سوچ بدل گئی ہے، اس کے بارے میں وثوق کیساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن کم از کم کچھ قدم جو اٹھائے جارہے ہیں ، اُس سے ہمیں لگتا ہے کہ جموں و کشمیر کو اب شاید صحیح اندازے سے دیکھناشروع کیا گیا ہے۔‘‘ان باتوں کا اظہار انہوں نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر تنظیم کی مختلف اکائیوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگربھی موجود تھے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ5اگست کے بعد عوام چِلّا رہے تھے کہ ہمارے بچوں کی تعلیم ، کاروبار اور دیگر ضروریات کیلئے 4جی انٹرنیٹ بحال کیا جائے لیکن یہ لو گ ٹس سے مس نہیں ہوئے اور پھر اچانک 4جی چالو ہوگیااور اس کے بعد فائربندی کا اعلان بھی ہوا۔ کسی کو معلوم بھی نہیں تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت چل رہی ہے، سب یہی سوچ رہے تھے کہ دشمنی پرانی ہے اور آگے بھی برقرار رہے گی۔ لیکن اچانک جنگ بندی پر سختی سے عملدرآمد کرنے کا اعلان ہوا اور ہم نے اس کا خیر مقدم کیا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس کے بغیر ماحول کو ٹھیک رکھنا ناممکن ہے ۔عمر عبداللہ نے کہا کہ سیز فائر کے اعلان کو ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں ہو اکہ آج یہ خبر کو دیکھنے کو ملی کی میرواعظ مولوی عمر فاروق کی نقل و حرکت پر 18ماہ سے عائد پابندی ختم کی گئی ہے اور انہیں نمازِ جمعہ کے موقعے پر جامع مسجد میں خطبے کی اجازت دی جائیگی۔ اگر ان اقدامات کے وقفے میں زیادہ وقت ہوتا تو شائد یہ معمول کا عمل ہوتا لیکن پے درپے ایسے اقدامات سے ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ جموں وکشمیر سے متعلق کہیں نہ کہیں سوچ میں تھوڑی بہت تبدیلی آئی ہے۔ ڈی ڈی سی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں اور کشمیر صوبوں میں نیشنل کانفرنس کو لوگوں نے بڑھ چڑھ کر تعاون دیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے مخالفین جہاں ہمیں ڈی ڈی سی انتخابات میں ہرا نہیں سکے وہاں بعد میں ڈی سی کا دفتر استعمال کیا گیا۔
 
 
 
 
 
 

ممکنہ رہائی کا خیر مقدم :محبوبہ مفتی

سرینگر//سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بدھ کو میر واعظ عمر فاروق کی ممکنہ رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔ محبوبہ مفتی نے سماجی رابطہ گاہ ٹیوٹر پر تحریر کیا ،’’میر واعظ کی صوابدیدی نظربندی سے رہائی کے حوالے سے خبر سن کر اچھا لگا۔ مجھے امید ہے کہ جموں کشمیر اور ملک کی دیگر ریاستوں کی جیلوں میں قید سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا، ’’یہ صحیح وقت ہے جب تمام مقید افراد واپس اپنے اہل خانہ کے ساتھ جا ملیں۔‘‘
 
 
 
 
 

ایس آر او324بلاجواز:ایمپلائزجوائنٹ ایکشن فورم

سرینگر//ایمپلائز جوائنٹ ایکشن فورم نامی ملازمین  کے نئے مشترکہ پلیٹ فارم نے جموں میں ایس آرائو 324 کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے سروس رولز میں حالیہ ترامیم کے بارے میں سخت تشویش، تحفظات اورخدشات کا اظہار کیا۔ سوشیل سودن، اعجاز احمدخان،محمدرفیق راتھر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں سرکاری ملازمین کی سروس اور دیگر حقوق سے متعلق قواعد وضوابط میں کی گئی ترامیم پر ہمیں اورمختلف سرکاری محکموں وپبلک سیکٹر ادروں میں کام کرنے والے لاکھوں سرکاری ملازمین کوسخت تشویش لاحق ہوگئی ہے کیونکہ ترامیم کاغلط استعمال ہوسکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ 48سال عمر کی حدپارکرنے والے یا22سال کی سروس مکمل کرنے والے ملازمین کوسرکاری ملازمت سے سبکدوش کردینا سروس رولزاورملازمین کے حقوق کی بیخ کنی ہے ۔ انہوں نے لیفٹنٹ گورنر اورچیف سیکرٹری سے اپیل کی کہ وہ ملازمین کے نمائندوں کوطلب کرکے اُن کیساتھ بات کریں اوراُنھیں اعتمادمیں لیں کہ ترامیم کی آڑمیں بلاوجہ کسی سرکاری ملازم کوزیادتی یاناانصافی کانشانہ نہیں بنایاجائیگا۔
 
 
 

پرانے SRO's کی نئے تشکیل شدہ ایس آراوزمیں منتقلی | سافٹ ویر کو اپگریڈ کرنے کا کام شروع

سرینگر// شہریوں کو اپنے سب رجسٹرار دفاتر میںدستاویزات کے اندراج کے لئے طویل عرصے تک انتظار کرنے میں تکلیف کے پیش نظر محکمہ مال اور آئی جی آر نے حکومت ہند کے’’ این جی ڈی آر ایس‘‘ کے ساتھ مشاورت سے سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ یونٹ (ایس ڈی یو) پونے سے مل کرپرانے ایس آر اوز کو نئے تشکیل شدہ ایس آر اوز میں منتقل کرنا شروع کیاہے۔ بھاری بھرکم ایس آر اوز میں ہر روز اضافی 5 مزید رابطوں کے دورانیہ کوشامل کیا گیا جبکہ سنیچر کو بھی کام کے دن کے طور پر نشاندہی کی۔اس سلسلے میں حکم نامہ 01- (Rev) 2021  محررہ22.02.2021 کے تحت ڈپٹی کمشنرز کو ایس آر اوز کی پیشرفت اور کام کی نگرانی کے لئے ہدایات جاری کی گئیں۔کلیدی طور پر رابطوں کے دورانیہ کی دوبارہ میقات بندی کی فراہمی ،عدالتی ایس آر اوز کی سطح پر اس قابل بنائی گئی تھی کہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اضافی  دورانیہ ان افراد کے لئے دستیاب ہوجائیں جنہوں نے پہلے ہی اپنی دستاویزات کی رجسٹریشن کیلئے رابطہ کیا تھا تاہم طویل انتظار کے ساتھ ان کے دستاویزات قطار میں موجود تھے۔اس سلسلے میں عوامی نوٹس جاری کی گئی اس کے نتیجے میں ہونے والے سر نو شیڈول سے شہریوں کو اپنی سہولت کی تاریخ کے مطابق ، کبھی کبھی40سے60 دن تک اپنا رجسٹریش دورانیہ میں مدد ملی ہے۔ان اقدامات نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ فی الحال شہری بیشتر ایس آر اوز میں بغیر کسی انتظار کے اپنی سہولت کے مطابق رابطوں کا دورانیہ شیڈول کرسکتے ہیں ۔
 
 
 
 

مرکز کے تابع وقف بورڈوں کا قیام ناقابل قبول :نیشنل کانفرنس 

سرینگر// نیشنل کانفرنس نے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کے اُس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں موصوف نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں ہر حال میں شیعہ اور سنی وقف بورڈ قائم کئے جائیں گے۔ پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے ایک بیان میں کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام کو مرکزی حکومت کے شیعہ اور سنی بورڈوں کے قیام کا منصوبہ ناقابل قبول ہے اور نیشنل کانفرنس ایسے کسی بھی اقدام کی کوشش کو مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے یہ منصوبے سنگین اور مداخلت فی الدین کے مترادف ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر میں قانون سازی کی عدم موجودگی میں شیعہ اور سنی وقف بورڈوں کے قیام کا مطلب پارلیمنٹ کو براہ راست ان اداروں کے اختیارات تفویض کرنا ہے جہاں مسلمانوں کی ترجمانی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ترجمان نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کو مرکزی حکومت کے تابع وقف بورڈوں کا قیام ناقابل قبول ہے۔ وزیر موصوف کو ایسے مذہبی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت یہ سارے فیصلے جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ2019کے تحت کررہی ہے ، جس کی جوازیت ملک کی سب سے بڑی عدالت میں زیر سماعت ہے اور ایک ایسے ایکٹ کے تحت فیصلے لینا جس کی جوازیت کی جانچ پڑتال جاری ہے، توہین عدالت کے مترادف ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مرکزی حکومت ایسے فیصلوں سے اجتناب کرے۔