لیگل میٹرولوجی محکمہ متحرک | 272قصوروار دکانداروں سے7لاکھ جرمانہ وصول
سرینگر//محکمہ لیگل میٹرولوجی کے فیلڈ ایگزیکٹیوز نے وادی کے مختلف بازاروں کا معائنہ کرکے 272 قصوروار تاجروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔اس دوران قصوروار تاجروں سے 7 لاکھ روپے کاجرمانہ وصول کیا گیا۔ خلاف ورزی کرنے والوں میںزیادہ سبزی اور پھل فروش ، کریانہ دوکاندار،رسوئی گیس ڈیلر اور قصاب شامل ہیں۔محکمہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی کاروباری غیر معیاری وزن یا پیمائش استعمال کر رہا ہو یا کم وزن یا پیمائش میں ملوث ہو تو دفتری اوقات کے دوران ٹول فری نمبر: 1800-180-7114 پر محکمہ سے رابطہ کریں۔
علامہ اقبالؒ کی 81 ویں برسی | پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا خراج عقیدت
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے شاعر مشرق علامہ اقبالؒکی برسی پر انہیں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ کلامِ اقبال ساری دنیا کیلئے ایک نادر سرمایہ ہے۔انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر اقبالؒ کا پیغام خدا اعتمادی اور خود اعتمادی پر مبنی ہے۔ آپ کے کلام میں انسان دوستی، باہمی رواداری، انسانیت کی بقا اور انسانی قدروں کی صحیح عکاسی کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علامہ اقبالؒ ہمیشہ معاشرے کی ترقی کیلئے کوشان رہے ۔ ڈاکٹر عبداللہ کے مطابق وادی کشمیر کو اِس لئے بھی ایک خاص مقام حاصل ہے کیونکہ شاعر مشرق کا تعلق وادی گلپوش سے ہی رہا ہے۔پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر کے اِس بلند پایہ شاعر کا کلام عالم انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے۔معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر مصطفی کمال، سینئر لیڈران محمد شفیع اوڑی، میاں الطاف احمد، شریف الدین شارق اور محمد یوسف ٹینگ نے بھی شاعر مشرق کو خراج عقیدت پیش کیا۔
اننت ناگ میں مارکیٹ چیکنگ
سرینگر// اننت ناگ میں مارکیٹ چیکنگ کیلئے تحصیلدار کی قیادت میں ایک ٹیم نے مختلف بازاروں کا معائنہ کیا۔ ٹیم نے دکانداروں سے مقررہ قیمتوںپر ہی سامان فروخت کرنے کی ہدایت دی۔اس موقع پر ذخیزہ اندوزی میں ملوث دکانداروں سے 6ہزار روپے کا جرمانہ وصول کیا گیا۔
کرناہ حادثہ | خاتون کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے :بیوپار منڈل
سرینگر //کرناہ بیوپار منڈل کے صدر حاجی تسلیم احمد میر نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کرناہ حادثہ میں لقمہ اجل بن گئی خاتون کے لواحقین کی مالی مدد کی جائے اور زخمی افراد کو بہتر طبی امداد فراہم کی جائے ۔کرناہ کے باغ بالہ گائوں میں گذشتہ شام ایک سڑک حادثہ کے دوران ایک خاتون ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے ۔
ARTO بارہمولہ کاملازم کورونا مثبت | لوگوں سے دفترنہ آنے کی اپیل
سری نگر//اسسٹنٹ ریجنل ٹرانسپورٹ آفس بارہمولہ میں تعینات ایک ملازم کاکورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعداے آرٹی ائو بارہمولہ نے تمام لوگوں پرزوردیاہے کہ وہ اگلے احکامات تک دفتر آنے کی زحمت نہ کریں ۔کے این ایس کے مطابق اے آرٹی ائوبارہمولہ نے اس بات کی جانکاری دی کہ اُن کے دفتر کاایک ملازم کورونا میں مبتلاء پایاگیا ہے ،اسلئے اگلے احکامات تک کسی بھی کام کیلئے یہاں لوگ آنے سے گریز کریں ۔انہوںنے کہاکہ ہم پوری صورتحال کاجائزہ لینے کے بعددفترمیں معمول کاکام کاج بحال کریں گے اورتب تک میری سبھی لوگوںسے گزارش ہے کہ وہ اے آرٹی ائو بارہمولہ کے دفتر نہ آئیں ۔
کووِڈمریضوں کی اسپتال منتقلی | جموں کشمیرمیں139ایمبولنس گاڑیاں کام پر
جموں//کووِڈ۔19 کے تناظر میں جموں وکشمیر حکومت لوگوں کو چوبیسوں گھنٹے ایمبولنس سہولیت فراہم کرنے کے لئے 108 ایمبولنسں خدمت فراہم کر رہی ہے۔ایک سرکاری ترجمان کے مطابق اَب تک 1,653 کووِڈ مشتبہ افراد کو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور 4,350 کووِڈ مریضوں کی زندگی بچائی گئیں۔ کووِڈمریضوں کو قریبی نامزد کردہ کووِڈ صحت مراکزمیں منتقل کرنے کے لئے یوٹی کے ہر ضلع میں مناسب ایمبولنسوں کودستیاب رکھا گیا ہے۔ ان ایمبولنسوں کو کسی بھی طبی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضروری دوائیں مل رہی ہیں اور ان میں ٹرانسپورٹ وینٹی لیٹر ، مانیٹر ، ڈیفبریلیٹر اور زندگی کی بحالی کے اہم سازوسامان شامل ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آکسیجن کی فراہمی کا نظام نازک مریضوں کو منتقل کرنے کے لئے خصوصی سٹریچر کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تربیت یافتہ ایمرجنسی ٹیکنشن( ای ایم ٹی) مریضوں کی نگرانی کرتے ہیں اور ایمبولینس میں مریضوں کوہسپتال سے قبل دیکھ ریکھ کرتے ہیں۔ یہ ای ایم ٹی کال سینٹر میں بیٹھے ایمرجنسی رسپانس فزیشنوں (ای آر سی پی) سے مستقل رابطے میں رہتے ہیں جو ای ایم ٹی کی رہنمائی کرتے ہیں۔ جموں و کشمیر ایمرجنسی میڈیکل سروسز (108-102 ایمبولینس سروس) بی وی جی انڈیا لمیٹڈ کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں حکومت کا ایک اقدام ہے جو عام لوگوں کی بلا معاوضہ خدمت کرتی ہے۔ یہ پروگرام جموں و کشمیریوٹی میں 24 مارچ 2020ء کو شروع کیا گیا تھا جس کے تحت 139 ایمبولینسیں رکھی گئی ہیں۔ اس پروگرام کے آغاز کے بعد سے54,396 ایمرجنسی مریضوں کو مختلف صحت کے اداروں میں منتقل کیا گیا ہے۔ حکام نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹول فری نمبر 108 پر رابطہ کرکے اس مفت سروس سے بھر پور فائدہ اُٹھائیں۔
کوروناوائرس کے جرثومہ کی ہوا میں موجودگی | بچائوکے رہنما اصولوں پرنظر ثانی کی ضرورت:ڈاک
سرینگر//کورونا وائرس کے ہوا کے ذریعے پھیلنے سے متعلق نئے ثبوت وشواہد ملنے کے بعد سلامتی ضابطوں کاسرنو جائزہ لیاجانا لازمی ہے۔اس بات کااظہار ڈاکٹر س ایسوسی ایشن کشمیر نے منگلوار کوایک بیان میں کیا۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ ہمیں اب ہوا کے ذریعے کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے پرتوجہ مرکوزکرنا ہوگی جواب اس کے پھیلنے کا بنیادی سبب تصور کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہوا کے ذریعے اس وائرس کے پھیلائوکوروکنے کیلئے ہمیں اندرون ہواداری کو بہتر بنانا ہوگا۔مناسب ہواداری کیلئے کھڑکیوں کو کھولنا کورونا کے پھیلنے کو روکنے کی ایک اہم تدبیر ہوسکتی ہے۔ڈاکٹر س ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ یہ ایک آسان تدبیرآلودہ ہوا کودور کرنے اورلوگوں کو محفوظ رکھنے میں نازک رول ادا کرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مشینوں کے ذریعے عمارتوں میں ہیٹنگ، اور ائرکنڈیشنگ کے ذریعے ہواداری فراہم کی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہواداری کے نظام کو بہتر بنانے سے ہوامیں موجودانفیکشن کو دور کرنے میں مدد ملے گی اور ہوامیں موجود انفیکشن کے دوبارہ ترسیل کو روکا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ناقص ہواداری کے مقامات پر لوگوں کے اس کے انفیکشن کا شکارہونے کا زیادہ احتمال ہے ۔انہوں نے کہا کہ معقول اور موثر ہواداری عوامی مقامات کی عمارات جیسے اسپتالوں ،دکانوں،دفاتر ، ریسٹورنٹوں،اسکولوں ،کانفرنس کمروں ،پبلک ٹرانسپورٹ میں ہونا لازمی ہے اس سے وائرس کے ایک سے دوسرے تک منتقل ہونے کو روکا جاسکے گااور صحت عامہ کے کارکنوں،مریضوں اور عام لوگوں کو بچایا جاسکے گا۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ گزشتہ ہفتہ لانسٹ میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا ہیکہ چھوٹے ایروسول کی بوندوں سے زیادہ سے زیادہ لوگ متاثر ہوسکتے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ چھوٹی بوندیں ہوا میں زیادہ دور تک تحلیل ہوسکتی ہیں جبکہ بھاری بوندیں زیادہ دور نہیں جاسکتی ہیں ۔ اس لئے ان بوندوں کے ہوا میں زیادہ سے زیادہ پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ عام طور پر ماسک سے ہی اس طرح ہوامیں تحلیل بوندوں سے بچائو کیا جاسکتا ہے اور سماجی دوری بڑھانے کا فیصلہ 6فٹ ہونا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بند کمرے میں کھانسے یا چھینکے ،تویہ وائرس اس کے چلے جانے کے بعدبھی ہوا میں موجودہوگا۔انہوں نے اس لئے ہواداری کی اہمیت پرزوردیا۔
جے کے بینک زونل آفس اننت ناگ | تاحکم ثانی بند،8ملازمین کاٹیسٹ مثبت
اننت ناگ// اننت ناگ ضلع میں جموں و کشمیر بینک کا زونل آفس منگل کے روز8 ملازمین کے کووڈ – 19 میں مبتلاء پائے جانے کے بعد بند کردیا گیا۔جے کے این ایس کے مطابقحکام نے بتایاکہ سوموارکے روز جے کے بینک زونل آفس اننت ناگ میں کام کرنے والے سبھی ملازمین کے ٹیسٹ کئے گئے تھے اوران میں سے8 ملازمین کے تشخیصی رپورٹ مثبت آگئی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بینک انتظامیہ نے دفتر بند رکھنے کا حکم دیا۔احتیاطی اقدام کے طور پرمنگل کے روز، بینک کے زونل آفس کو بند کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ19میں مبتلاء پائے گئے سبھی8 ملازمین کو خود کو الگ تھلگ کرنے یعنی قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس دوران حالیہ دنوں کے دوران جن لوگوں نے بینک آفس کا دورہ کیا تھا ، اُنہیں کورونا ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔خیال رہے سرکاری اطلاعات کے مطابق ، اننت ناگ ضلع میں 19اپریل کی شام تک کل 5652 مثبت کیس درج ہوئے تھے۔ جن میں سے تاحال 5214صحت یاب ہوچکے ہیں لیکن ابھی اس ضلع میں 337 فعال مثبت معاملات پائے جاتے ہیں۔ضلع اننت ناگ میں سوموارکی شام تک کورونا وائرس میں مبتلاء ہونے کے بعددم توڑ نے والے افرادکی تعداد101تھی ۔
کووِڈ کا مقابلہ | مرکز ریاستوں کیساتھ مل کرکام کرے:سی پی آئی ایم
سرینگر//کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ نے مرکزی حکومت پرزوردیا ہے کہ وہ الزام تراشی کی سیاست سے بالاتر ہوکرکوروناوائرس کی وبائی بیماری کا مقابلہ کرنے کیلئے ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کریں۔پارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے ملک کے عوام کو ایک جُٹ ہوناہوگا۔پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ کورونامخالف ویکسین کی دستیابی اور تقسیم میں شفاف اندازاپنایاجائے۔بیان میں پارٹی نے مرکز پرزوردیا کہ وہ امریکی انتظامیہ پر دبائو ڈالے تاکہ وہ کوروناویکسین کے لئے درکار خام مال کی فراہمی بھارت کو یقینی بنائیں۔
کووِڈ- 19سے متاثرہ ریاستوں کوراحت | ریلائنس انڈسٹریزلمٹیڈیومیہ700ٹن طبی معیار کاآکسیجن فراہم کریگی
نئی دہلی//ارب پتی مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز لمٹیڈ نے جام نگر کے اپنے تیل صاف کرنے کے کارخانے میں طبی معیار کے اکسیجن کی اضافی 700 ٹن پیداوار کرناشروع کیا ہے جو ملک کی کووِڈ- 19سے بری طرح متاثرہ ریاستوں کو مفت فراہم کیاجائے گا۔کمپنی کے جام نگر کے تیل صاف کرنے کے کارخانے میں ابتدائی طور100ٹن طبی معیارکے اکسیجن کی پیدوار شروع کی گئی جسے اب بڑھا کر700ٹن کردیاگیا ہے۔واقف کارحلقوں کے مطابق اس سے گجرات، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کے 70000 سے زیادہ نازک بیماروں کو راحت پہنچے گی۔ذرائع نے بتایا کہ کمپنی طبی معیار کے اکسیجن کی پیداوار یومیہ 1000 ٹن بڑھانے کاارادہ رکھتی ہے لیکن اس کیلئے انہوں نے کوئی معینہ مدت نہیں بتائی۔ اس سلسلے میں کمپنی کو بھیجے گئے ای میل کا کوئی جواب نہیں ملا۔طبی معیار کااکسیجن جام نگر میں پیدانہیں کیا جارہاتھاجہاں خام مال کوڈیزل ،پٹرول اور جیٹ آئل میں تبدیل کیا جاتا ہے۔لیکن کوروناوائرس معاملوں میں اضافے کے بعد کمپنی نے یہاں آلات نصب کئے ہیں جن سے طبی معیار کا اکسیجن پیدا کیا جاتا ہے۔ذرائع نے کہا کہ صنعتی استعمال کے اکسیجن کو طبی معیار کے آکسیجن میں تبدیل کیاجاتا ہے۔ایک واقف کار کے مطابق ہرروز700ٹن طبی معیارکاآکسیجن ملک بھر میں ریاستوں کو سپلائی کیا جاتا ہے ۔اس سے70000سے زیادہ نازک مریضوں کو راحت پہنچ رہی ہے۔ذرائع کے مطابق آکسیجن کی یہ پوری سپلائی منفی183ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پرخصوصی ٹینکروں سے ریاستوں کو بھیجی جارہی ہے جس کے لئے ریاستوں سے کوئی معاوضہ نہیں لیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ کمپنی کی کاروباری سماجی ذمہ داری پہل کا حصہ ہے۔ حکومتی ملکیت کی انڈین آئل کارپوریشن اور بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ نے بھی ان کے کارخانوں میں پیداہورہے آکسیجن کو طبی معیار کے آکسیجن میں تبدیل کرنے کے اقدام کئے ہیں تاکہ کووڈ سے بری طرح متاثرہ ریاستوں کو یہ آکسیجن سپلائی کیاجائے ۔
انتظامیہ نے کوروناکی پہلی لہرسے | کوئی سبق نہیں سیکھا:ڈاکٹرمصطفی کمال
سرینگر//کورونا وائرس کی دوسری لہر کی سنگین نوعیت کے اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وبائی بیماری کو بروقت قابو کرنے کیلئے انتظامیہ کے علاوہ ہر کسی شہری کر اپنا رول نبھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جس تعداد میں جموں وکشمیر میں روزانہ مثبت معاملات سامنے آرہے ہیں اور مریض ہسپتال میں داخل ہورہے ہیں اگر ایسا ہی سلسلہ جاری رہا، تو آنے والے دن انتہائی قیامت خیز ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ انتظامیہ نے دوسر ی لہر کوسنجیدگی سے لینے میں بہت دیر کردی۔انتظامیہ کو کورونا کی دوسری لہر کا مقابلہ کرنے کیلئے پورے ایک سال کا وقت ملا لیکن بدقسمتی سے کورونا کی پہلی لہر سے کوئی سبق نہیں لیاگیا جبکہ عوامی سطح پر بھی غفلت شعاری کا مظاہرہ کیا گیا ۔ڈاکٹر کمال نے صوبائی انتظامیہ، ضلع ترقیاتی کمشنروں اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام پر زور دیا کہ کورونا وائرس کے طوفان کو روکنے کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کریں اور ہسپتالوں میں ضروری ساز و سمان خصوصاً ادویات، آکسیجن اور وینٹی لیٹر میسر رکھے جائیں۔ معاون جنرل سکریٹری نے ہسپتالوں کے سربراہاں، ڈاکٹروں، طبی عملے اور ہیلتھ ورکروں کی اُن خدمات کی سراہنا کی جو وہ کورونا وائرس کی سنگین صورتحال کے دوران انجام دیکر قیمتی جانوں کو بچا رہے ہیں۔
CBSEکے تحت10جماعت پاس کرنے والے طلاب کا داخلہ | حکومت کو پیچیدگیوں سے مبرا پالیسی اپنانی چاہیے:الطاف بخاری
سرینگر//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ تعلیم کو اُن طلبا کے مسائل حل کرنے چاہئے جنہوں نے حالیہ سی بی ایس ای 10ویں جماعت کے امتحان میں کامیابی حاصل کی اور اطلاعات کے مطابق اُنہیں این سی ای آر ٹی نصاب والے ہائر اسکینڈری اسکولوں میں داخلہ دینے سے انکار کیاجارہاہے۔ ایک بیان میں بخاری نے کہاکہ دو سینٹرل بورڈوں کے سیشنز مکمل ہونے میں فرق طلبا کے لئے رکاوٹ نہیں بننا چاہئے جوکہ جموں وکشمیر این سی ای آر ٹی یا سی بی ایس ای کے تحت سرکاری ونجی تعلیمی اداروں میں داخلہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا’’محکمہ تعلیم کو چاہئے کہ ایسے طلبا کے مسائل حل کئے جائیں جنہیں اپنی سہولت کے مطابق اداروں میں داخلہ لینے میں سخت دقتوں کا سامنا ہے‘‘۔بخاری نے کہاکہ یہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اِن طلبا کے لئے قابل ِ عمل پالیسی لیکر آئے ۔انہوں نے کہا’’محکمہ تعلیم کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اِس مسئلے کو جلد سے جلد حل کیاجائے تاکہ ہمارے بچوں کا قیمتی وقت انتظامی خامیوں کی وجہ سے ظائع نہ ہو‘‘۔ اپنی پارٹی صدر نے کہاکہ جموں وکشمیر میں طلبا کو اپنی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہرممکن سہولت فراہم کی جائے اور اُنہیں کسی قسم کی لوازماتی پیچیدگی سے پریشان نہ کیاجائے۔ انہوں نے مزید کہا’’پچھلے تین دہائیوں سے جاری بحران ، افراتفری اور پر آشوب ماحول کی وجہ سے پہلے ہی ہم تعلیمی لحاظ سے بہت نقصان اُٹھاچکے ہیں،انتظامیہ کو اب گہری نیند سے بیدار ہوکر اِس مسئلے کا مستقل حل نکالنا چاہئے۔
میرواعظ سمیت تمام نظربندوں کورہاکیاجائے:آخون
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صوبائی صدر محمد سعید آخون نے مرکزی حکومت اور جموں وکشمیر انتظامیہ سے اُن تمام سیاسی لیڈران کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے جنہیں 5 اگست 2019 سے یا تو گھروں یا پھر مختلف جیلوں میں نظربند رکھا گیا ہے۔ایک بیان میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق کو فوری طور پر رہا کیا جائے کیونکہ وہ مسلسل18ماہ سے گھر میں نظربند ہیں۔انہوں نے کہا چونکہ اس وقت مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان المبارک جاری ہے اور اس مہینے میںمولانا محمد عمر فاروق لوگوں کو قرآن اور احادیث اور وعظ و تبلیغ سے روشناس کراتے تھے لیکن امسال مسلسل نظربند ی سے وہ یہ فرائض انجام دینے سے قاصر ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ اُن کو فوری طور رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ جو دیگر سیاسی لیڈران کشمیر یا بیرونِ کشمیر بند ہیں، اُن کی فوری رہائی بھی عمل میں لائی جائے کیونکہ ایک جمہوری نظام میں ایسی نظربندیوں کیلئے کوئی جگہ نہیں۔
پارٹی رہنمائوں کی نظربندی | پی ڈی پی نے مرکز کوآڑے ہاتھوں لیا
سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک پارٹی نے منگلوار کو مرکزی حکومت کو پارٹی کے سینئررہنمائوں اور دیگر سیاسی قیدیوں کوکشمیراور کشمیر سے باہر نظربند رکھنے پرآڑے ہاتھوں لیا۔ایک بیان میں پارٹی کے جنرل سیکریٹری غلام نبی لون ہانجورہ نے کہا کہ محمدسرتاج مدنی اور نعیم اختر سمیت پارٹی کے سینئررہنماغیرقانونی طور نظر بندہیں اورحکومت کو ماہ صیام کے دوران بھی جموں کشمیر کے سیاسی نظربندوں پر کوئی ترس نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں جب کورونا وائرس نے تباہی مچارکھی ہے اورلوگ دھڑادھڑ اس سے مررہے ہیں ،سمجھ نہیں آتا ہے کہ حکومت کو پارٹی کے دوبزرگ رہنمائوں کو مسلسل نظربند رکھنے سے کیا حاصل ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ مرکز ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کوبہتر بنارہا ہے جبکہ اپنے لوگوں کے ساتھ دشمنوں جیسا برتائو کیا جارہا ہے ۔ہانجورہ نے کہا کہ وقت کا تقاجا ہے کہ مرکز جموں کشمیر کی قیادت کے تئیں انتقام گیری کارویہ ترک کریں اوراپنے فیصلوں کی تصحیح کرکے فوی طورتمام سیاسی نظر بندوں کو رہا کریں۔
درج فہرست قبائلی طلاب کیلئے ہوسٹلوں کوجدیدبنایا جائے گا بنیادی ڈھانچے کوبہتر بنانے کے علاوہ متعدد اقدامات پر کام شروع
سرینگر//محکمہ قبائلی امور نے طلاب کو بہترین سہولیات اور مسابقتی پلیٹ فارم مہیا کرنے کے لئے اَضلاع کے تمام رہائشی ہوسٹلوں کی جدیدیت کے لئے عمل شروع کیا ہے جس میں بنیادی ڈھانچے کی اَپ گریڈیشن ، ٹیکنالوجی اِنٹرونشنوں ، انتظامی نظم و ضبط وغیرہ کاکام شامل ہیں۔سیکرٹری قبائلی امور محکمہ اور چیف ایگزیکٹیوآفیسر مشن یوتھ ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے اس منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لئے اَفسران کی ایک میٹنگ طلب کی۔ محکمہ نے زیر انتظام تمام ہوسٹلوں کو جدید بنانے کے لئے مقررہ وقت کے ساتھ روڈ میپ تیار کیاہے۔ انہوں نے بہترین نتائج کو یقینی بنانے کے لئے شراکت داروں اور ڈومین ماہرین سے وابستہ رہنے کے لئے کہا۔ڈاکٹر شاہد نے ہوسٹل کی جدید کاری کے منصوبے کی نقاب کشائی کرتے ہوئے نتائج پر مبنی ہم آہنگی کی جانچ اور تشخیص کے لئے کہا۔ محکمہ داخلے کے لئے انتخابی مسابقتی عمل کا رخ کرے گا اور بہترین تعلیمی سہولیات فراہم کرے گا۔اُنہوں نے کہا کہ ہر ہوسٹل میں طلاب کو داخلے سے ہی رہنمائی کرنے کے لئے کیریئر کونسلنگ سینٹر ملے گا۔ سی سی سی مسابقتی امتحانات کے کوالیفائروں ، اختراع کاروں ، کاروباری افراد ، ماہرین تعلیم اور ڈومین کے ماہرین کے ساتھ ہر ماہ چار سے پانچ انٹرایکٹیو سیشنوں کا انعقاد کریں گے۔ سی سی سی ہوسٹلوں کو الگ بجٹ فراہم کیا جائے گا۔جدید کاری کے منصوبے میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی جن میں فرنیچر ، بستر ، سینٹری سے متعلقہ اشیاء ، صفائی کے اجزاء اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے ذریعہ طبی فٹنس ٹرینروں کی تعیناتی تمام مطلوبہ آلات کے ساتھ جمنازیم اور سپورٹس کلب کا قیام ایک ماڈل انٹرونشن کو یقینی بنایا جائے گا۔محکمہ معیاری تعلیم پر زور دیتے ہوئے لائبریریوں کو تمام مطلوبہ کتابوں کے ساتھ قائم کرے گا جو ڈیجیٹل لائبریری کی کتابوں ، جرائد ، حوالوں اور دستاویزات کے آف لائن اور آن لائن مخزن ہوں گے۔ محکمہ ٹیوشن سسٹم آن لائن کلاس ماڈیول کی جگہ لے گا جس کے لئے جموں اور سری نگر میں ہر ایک ہوسٹل میں سمارٹ کلاس روموں اور ایک جدید ترین سٹوڈیو قائم کیا جائے گا تاکہ ریسورس اَفراد کو ہوسٹل کے ساتھ رابطہ قائم کیا جاسکے۔ڈاکٹر شاہد نے کہا کہ کلاس VI۔XII تک کے پورے جے اینڈ کے بورڈ کے نصاب کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لئے ایک متوازی عمل ہوگا جس میں طلبا کو سکول بیگ ختم کرنے کے لئے ٹیبلٹ کمپیوٹرس مہیا کئے جائیں گے ۔ ڈی پی ٹی افہام و تفہیم کی سہولیت کے لئے صوتی اور تصویری لیکچر بھی مرتب کرے گا۔ یہ سہولیات موجودہ تعلیمی سال سے فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے کھانے کے مینوز اور یونیفارم پر نظر ثانی کرنے کے لئے کہا جس میں ہر طالب علم کے لئے فی دن 100 روپے اور 2200 روپے سالانہ مختص ہے اور بہتر معیار کو یقینی بنانے کے لئے اس میں اضافہ کیا جائے گا۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب ، طلاب اور عملے کے لئے بائیو میٹرک حاضری ، آر او واٹر پیوریفائر ، پاور بیک اَپ کی سہولیت ، گرمی کاسامان اور دیگر سہولیات جدید کاری کے منصوبے کا ایک حصہ ہیں۔ محکمہ ہوسٹلوں کی جدید کاری ، تعلیمی تعاون سمیت وظائف اور ان ہوسٹلوںمیں بہتر معیاری سہولیات کی فراہمی پر 15 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرے گا۔ہوسٹل کے وارڈنز کو طلاب کی باقاعدہ صحت کی دیکھ ریکھ اور پی ایم جے اے وائی ۔ سی ای ایچ اے ٹی سکیم کے تحت 5 لاکھ روپے کی صحت کی فراہمی کے لئے لازمی اندراج کی ہدایت دی گئی تھی۔تمام ہوسٹلوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مجوزہ اقدامات اور ہدفِ کار کامیابیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوسٹل مینجمنٹ کا ایک تفصیلی منصوبہ مرتب کریں۔
سحری اور افطار کے وقت | لوگ بجلی کا منصفانہ استعمال کریں:چیف انجینئرپی ڈی ڈی
سرینگر//محکمہ بجلی کے چیف انجینئر نے وادی کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سحری اورافطار کے اوقات بجلی کا منصفانہ استعمال کریں تاکہ بجلی کے مختلف فیڈروں پراضافی بوجھ نہ پڑے ،جو بجلی کی بلا خلل ترسیل میں رکاوٹ کاباعث بنتا ہے۔کے این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے محکمہ بجلی کے چیف انجینئر اعجازاحمدڈار نے کہا کہ سحری اورافطار کے وقت لوگ بجلی سے گرمی دینے والے آلات کااستعمال اگر ترک کریں گے تو بجلی کی سپلائی پوزیشن میں بہتری آسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ دوروزتک موسم کے پھر خراب رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ درجہ حرارت میں پھرکمی واقع ہوسکتی ہے۔تواس وجہ سے اگر لوگ بجلی کازیادہ استعمال کریں گے توبجلی کے نظام پردبائو میں اضافہ ہوگاجوبجلی سپلائی میں خلل کاباعث بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو سحری اورافطار کے اوقات بجلی کی بلاخلل سپلائی یقینی بنائیں لیکن یہ اُسی صورت میں ممکن ہے جب لوگ اس کا منصفانہ استعمال کریں گے۔
وادی میں بجلی کی آنکھ مچولی پرحکیم یاسین برہم
سرینگر//سحری اور افطار کے اوقات وادی میں بجلی کی آنکھ مچولی پر پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم یاسین نے سخت برہمی کااظہار کیا ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی جب لوگوں کو سحری اورافطار کے اوقات میں بجلی کی سپلائی سے محروم رکھاجاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ لوگوں کو ماہ صیام میں بجلی کی بلاخلل سپلائی کو یقینی بنانے میں ناکام ہوا ہے۔حکیم یاسین نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ اور لوگوں کے درمیان رابطے کا زبردست فقدان پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو گونا گوں مصائب کو جھیلنا پڑتا ہے۔انہوں نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے پر بھی انتظامیہ کوآڑے ہاتھوںلیااور کہا کہ انتظامیہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے میں بھی ناکام ہوا ہے۔
پوری سرکاری مشینری تیار | کافی مقدار میں آکسیجن دستیاب :راجن ٹھاکر
نیوز ڈیسک
سرینگر//کووِڈ۔19 وَبائی مرض کی دوسری لہر کی وجہ سے پیدا ہونے والے سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لئے پوری سرکاری مشینری تیار ہے۔ اِس کے علاوہ کووِڈ۔ 19کی روکتھام کے لئے تمام اقدامات بھی موجود ہیں۔ نیز آکسیجن سلنڈروں کا مناسب بفر سٹاک دستیاب ہے اور لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جموں و کشمیر میں آکسیجن کی کمی کے سبب ایک بھی مریض کی موت نہیں ہوگی۔اِن باتوں کا اِظہار پرنسپل سیکرٹری صنعت و حرفت راجن پرکاش ٹھاکر نے آج شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایس کے آئی ایم ایس)صورہ میں آکسیجن کنسنٹریشن سینٹر، O2سلنڈروں کا بفر سٹاک اور کووِڈ مریضوں کے لئے بستروں کی فراہمی کا جائز ہ لینے کے دوران کیا۔پرنسپل سیکریٹری نے کہا کہ اس مقام پر آکسیجن کی کمی نہیں ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ کووِڈ ۔19 مریض کے ہر شخص کے لئے بیڈ دستیاب ہیں ۔ہم مستقبل میں طلب اور ہنگامی صورتحال کی حالت میں اس میں اضافہ کریں گے۔‘اُنہوں نے کہا کہ اِنتظامیہ نے تمام ہسپتالوں میں O2کی وافر فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے موجودہ صورتحال کے پیش نظر تمام غیر طبی استعمالات سے آکسیجن کو طبی استعمال میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پرنسپل سیکرٹری نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کووِڈ رہنما اصولوں اور ایس او پیز پر من و عن عمل کریں ۔ سماجی دوری برقرار رکھیں، ماسک پہنیں اور بغیر کسی ضروری کام کے باہر نہ جائیں۔دریں اثنا اُنہوں نے سکمز اِنتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر پوری مشینری کو تیار رکھنے پر زور دیا۔ دورے کے دوران پرنسپل سیکرٹری نے مختلف شعبوں کا معائینہ کیا جن میں آئی سی یو ، نیورو سرجیکل یونٹ ، انٹنسیو کارڈیک کیئر یونٹ ، ڈیپارٹمنٹ آف ڈائٹیٹکس اینڈ تھراپیوٹیکس ، سینٹرل سیٹرائل سپلائز ڈیپارٹمنٹ ، آکسیجن کنسن ٹریٹر پلانٹ وغیرہ شامل ہیں۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹرسکمز اے جی آہنگرنے کہا کہ اس ادارے نے کووِڈ مریضوں کے لئے 260 بستر محفوظ رکھے ہیں اور اس وقت ہسپتال میں 156 کووِڈمریض داخل ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اِنسٹی چیوٹ میں آکسیجن کی موجودہ کھپت کی شرح 3.93 لاکھ لیٹر فی گھنٹہ ہے اور آکسیجن کی اضافی مطلوبہ مقدار 1.5 لاکھ فی گھنٹہ ہے۔