حادثاتی فائرنگ سے 2فوجی زخمی
سمت بھارگو
راجوری //سرحدی ضلع پونچھ کے حد متارکہ پر تعیناتی فوجیوں سے حادثاتی طورپر چلنے والی فائرنگ کی وجہ سے 2فوجی زخمی ہوگئے ۔فوجی ذرائع نے بتایا کہ حادثاتی طورپر ضلع کے کرشنا گھاٹی علاقہ میں ہوئے فائرکی وجہ سے زخمی ہو ئے فوجیوں کو ہسپتال میں زیر علاج رکھا گیا تاہم دونوں خطرے سے باہر ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ سرحدی علاقہ میں تعینات فوجی اہلکار معمول کی مشق کررہے تھے تاہم اس دوران حادثاتی طورپر نکلے فائر کی وجہ سے 2فوجی زخمی ہو گئے ۔فوجی ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ واقعہ پوری طرح سے حادثاتی طورپر رونما ہوا ہے جبکہ دونوں زخمی فوجی خطرے سے باہر ہیں ۔
حافظ محمد جاوید کی ہمشیرہ وفات پا گئیں| علماء اور معززین نے سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا
عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی // تھنہ منڈی کے درہ گاؤں کے رہنے والے حافظ محمد جاوید کی ہمشیرہ فاطمہ بی بی رضائے الٰہی سے انتقال کر گئیں ۔ان کی عمر تقریبا 45 سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔چار بچوں کی ماں فاطمہ بی بی کے شوہر 2008 میں ایک درد ناک حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ شوہر کی وفات کے بعد فاطمہ بی بی نے بڑی محنت اور مشقت سے اپنے یتیم بچوں کی پرورش کی۔مرحومہ انتہائی نیک خاتون تھی اور ان کوعلاقہ میں نہایت ہی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔مرحومہ کی نماز جنازہ اتوار کے روز شام 5 بجے ان کے آبائی گاؤں درہ میں ادا کی گئی جس میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ مرحومہ کی وفات پر علاقے کی دینی ، سیاسی اور سماجی برادری نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ، انہیں بہترین خراج عقیدت پیش کیا ہے اور ان کے خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے۔
ڈی سی پونچھ کا مختلف طبی مراکز کا اچانک دورہ | ویکسی نیشن مہم میں تیزی لانے کی ہدایت جاری کی
حسین محتشم
ْونچھ//ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ اندرجیت نے ضلع کے مختلف طبی مراکز کا اچانک دورہ کرکے جائزہ لیااس دوران ان کے ہمراہ اے ڈی ڈی سی پونچھ ، اے سی آر پونچھ، اے سی ڈی پونچھ اور بلاک سطح کے تمام افسران موجود تھے دورے کے دوران نانہوں نے 45برس سے زائد کی کیٹیگری کے ٹیکہ لگانے کے سلسلہ میں جانکاری حاصل کرنے کے ساساتھ ساتھ پنچایت کی سطح پر قائم کوڈ کئیر سینٹر( سی سی سی) کے کام کاج کا جائزہ لیا۔ انہوں نے45برس سے زائد عمر کے زمرے کے لئے جاری ویکسی نیشن ڈرائیو کو تیز کرنے ہدایت دی۔ ڈپٹی کمشنر پونچھ اندر جیت نے ضلع کے جن پرائمری ہیلتھ سینٹرز (پی ایچ سی) کا دورہ کیا ان میں دیگوار ، اجوٹ ، منگناڑ ، جھلاس ، شیندرہ، سیڑھی خواجہ، لسانہ شامل ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ مشن موڈ میں کام کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو وڈ ویکسین کے ٹکے جلد سے جلد لگائے جائیں۔ انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور ان کی دیکھ بھال اور دیگر ضروری اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔ ڈی سی نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ مریضوں کو بہتر اور معیاری خدمات فراہم کریں خاص طور پر موجودہ صورتحال میں کوڈ 19 وبائی امراض میں ملوث مریضّوں کو پنچایت کی سطح پر قائم کئے جارہے (سی سی سی) میں دستیاب مختلف سہولیات کاجائزہ لیا۔ انہوں نے مریضوں کو صحت کی بہتر اور معیار کی سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی۔ انہوں نے اسپتالوں کے اندر اور باہر صحتمند ماحول کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا ، نیز صحت کے اچھے معیار کے حصول کے لئے حفظان صحت کو ضروری قرار دیا۔ انہوں نے صحت کی دیکھ بھال کے مضبوط نظام کو مضبوط بنانے کے لئے انتظامیہ کی وابستگی پر بھی اعادہ کیا تاکہ بہتر صحت کی دیکھ بھال کا نظام یقینی بنایا جاسکے۔
مینڈھر نالے پر 24برس بعد بھی پل کی تعمیر مکمل نہ ہوسکی | سرحدی علا قہ کی عوام کو دریا عبور کرنے میں مشکل کا سامنا
جاوید اقبال
مینڈھر //مینڈھر قصبہ سے دو کلو میٹر کی دوری پر واقعہ ڈہچل علا قہ میں پل کی تعمیر گزشتہ کئی برسوں سے مکمل نہیں کی جاسکی جس کی وجہ سے سرحدی علا قوں کے کئی دیہات کی عوام کو دریا عبور کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ عوام کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے1996-97 میں ایک پل کی تعمیر شروع کی گئی تھی جس کے دوران پل کے دونوں کناروں پر کام کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد کام کو جوں کا توں چھوڑ دیا گیا جس کی وجہ سے گزشتہ 24برسوں سے عوام پیدل دریا عبور کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پل کی تعمیر مکمل کرنے کے سلسلہ میں متعدد مرتبہ مقامی انتظامیہ و متعلقہ محکمہ سے رجوع کیا گیا لیکن یقین دہانیوں کے بعد بھی عوام کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے پل کی تعمیر مکمل نہیں کی جاسکی جس کی وجہ سے بارشوں کے دوران سینکڑوں افراد کو دریا عبور کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مکینوں نے کہاکہ پل کی عدم موجودگی میں سکولی بچوں کیساتھ ساتھ ملازمین کو خراب موسم کے دران کئی کلو میٹر کی دوری سے دریا پارکرنا پڑتا ہے ۔انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ زیر تعمیر پل کو جلداز جلد مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو سہولیات فراہم ہو سکیں ۔
ڈیری ڈبسی علاقہ کی عوام بنیادی سہولیات سے محروم | پانی ،بجلی اور تعلیمی و طبی نظام غیر معیاری ،رابطہ سڑک کا کوئی بندوبست نہیں
جاوید اقبال
مینڈھر //مینڈھر کے سرحدی علا قہ میں کی گئی تار بندی اور حد متارکہ کے درمیان میں واقعہ ڈیری ڈبسی علا قہ میں بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے عوام قدیم طرز کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔اس علا قہ میں جہاں پاکستانی افواج کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کا ہر وقت خطرہ رہتا ہے تو وہائیں جموں وکشمیر انتظامیہ کی جانب سے کوئی بھی رابطہ سڑک قائم نہیں کی گئی ہے جبکہ علا قہ میں پانی کی سپلائی کیلئے کوئی بھی معیاری و فعال نظام قائم ہی نہیں کیا جاسکا ۔اسی طرح بجلی کی حالت انتہائی خستہ ہو نے کے علا قہ بچوں کی تعلیم کیلئے صرف پرائمری و مڈل سکول قائم کیا گیا ہے جبکہ ہائی سکول کی تعلیم کیلئے بچوں کو تاربند پار کر کے گور نمنٹ ہائی سکول ڈھرانہ میں آنا پڑتا ہے ۔ ڈیری ڈبسی علاقہ میں اس وقت تک کوئی بھی بنکر تعمیر نہیں ہوسکا ہے جس کی وجہ سے تار بندی کے اندررہنے والے لوگوں کو کئی قسم کی دشواریوں کا سامناکرنا پڑرہاہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق ڈیری ڈبسی علاقہ کیلئے ضلع انتظامیہ کی جانب سے 20بنکروں کو منظوری دی گئی تھی لیکن انتظامیہ کی لاپرواہی کی وجہ سے ابھی تک ایک بھی بنکر کی تعمیر شروع نہیں کی گئی ہے ۔انہوں نے انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ علا قہ پاکستانی افواج کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور ہر بار فائرنگ کے دوران مقامی لوگوں کو کئی طرح کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔انہو ں نے کہاکہ بنکر بنانے کے لئے متعلقہ محکمہ نے کچھ حد تک کوشش کی لیکن کسی بھی ٹھیکیدار نے مذکورہ تعمیر اتی کام نہیں لیا ۔انہوں نے کہاکہ علا قہ میں سڑک جیسی بنیادی سہولیات ہی موجود نہیں جس کی وجہ سے بنکروں کی تعمیر ات ممکن نہیں ۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ مذکورہ علا قہ میں سڑک تعمیر عمل میں لائی جائے تاکہ لوگوں کو بنکروں کی تعمیر میں سہولیات فراہم ہو سکیں ۔مقامی لوگوں نے وفاقی انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ تار بندی اور حد متارکہ کے درمیان قید لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں ۔
برسوں کی مانگ کے بعد بھی مینڈھر کو میونسپلٹی کا درجہ نہ مل سکا | آبادی میں لگاتار اضافے کیساتھ ہی صفائی ستھرائی کا حال بے حال
جاوید اقبال
مینڈھر //مینڈھر کی عوام کی جانب سے گزشتہ کئی برسوں سے قصبہ کو میونسپل کمیٹی کے زیر تحت لانے کی مانگ کی جارہی ہے لیکن ابھی تک عوام کی مانگ پوری نہیں کی جاسکی ۔مقامی لوگوں نے وفاقی انتظامیہ کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مینڈھر قصبہ میں ملحقہ علا قہ جات کی ایک بڑی تعداد آکر آباد ہو چکی ہے جس کی وجہ سے قصبہ کا دائرہ وسیع ہو تا جارہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی گلیوں کی حالت انتہائی خراب وصفائی ستھرائی کا بھی کوئی بندوبست نہیں کیا جارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ محکمہ دیہی ترقی کی جانب سے قصبہ میں صفائی ستھرائی کیلئے کو ئی بندوبست نہیں کیاجارہاہے جس کی وجہ کئی گلیوں کی نالیاں گندگی سے بند ہو چکی ہیں ۔مکینوں نے کہاکہ مقامی انتظامیہ کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے بارشوں کے دوران نالیوں کا پانی گلیوں و سڑک پر آنے کی وجہ سے جہاں عام راہگیرو ں کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو دوسری جانب پانی رہائشی مکانات و دکانوں میں داخل ہو نے کی وجہ سے تجاروں و مکینوں کوپریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔خورشید احمد اور معرف مغل نامی مقامی افراد نے کہاکہ حالیہ کئی برسوں سے مینڈھر کو میونسپل کمیٹی کے زمر ے میں لانے کیلئے مانگ کی جارہی ہے لیکن سابقہ حکومتوں اور موجودہ وفاقی انتظامیہ اس طرف کوئی دھیان نہیں دے رہی ہے ۔مقامی لوگوں نے کہا کہ جموں وکشمیرمیں کئی چھوٹے چھوٹے قصبوں کو میونسپل کمیٹی کے تحت لایا گیا ہے لیکن مینڈھر کے ساتھ ناانصافی لگاتار جاری ہے ۔انہو ں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ عوام کوبہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے قصبہ کو میونسپل کمیٹی کے زمرے میں لایا جائے ۔
منجاکوٹ میں6سے زیادہ ہینڈ پمپ ناکارہ
پرویز خان
منجا کوٹ //تحصیل منجاکوٹ میں 6سے زیادہ ہینڈ پمپ ناکارہ ہو چکے ہیں مگر محکمہ گراؤنڈ واٹر کی جانب سے خراب مشینری کو درست کرنے میں کوئی دھیان ہی نہیں دیا جارہا ہے ۔مکینوں نے متعلقہ محکمہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مشینری کی مرمت کے سلسلہ میں کئی مرتبہ رجوع بھی کیا گیا لیکن محکمہ اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے اور مذکورہ ہینڈ پمپوں کی زد میں آنے والے گھروں کی خواتین کئی کلو میٹر دور سے پینے کا صاف پانی لا نے پر مجبور ہیں ۔عام لوگوں نے بتایا کہ انٹرنیشنل سکول منجا کوٹ کے قریب نصب کر دہ ہینڈ پمپ گزشتہ کئی عرصہ سے خراب ہوا ہے لیکن اس کی مرمت نہیں کی گئی ۔اسی طرح حیات پورہ و دیگر علاقوں میں نصب کردہ پمپ بھی خراب ہوگیا ہے ۔مکینوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ تحصیل میں نصب ہینڈ پمپوں کی جلداز جلد مرمت کروائی جائے تاکہ عام لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہو سکے ۔
حیات پورہ کی متعدد وارڈوں میں پانی کی شدید قلت
پرویز خان
منجا کو ٹ //تحصیل منجا کوٹ کی پنچایت حیات پورہ کی مختلف وارڈوں میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کی وجہ سے عام لوگوں کو مسائل کا سامناکرناپڑرہا ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ پنچایت کی وارڈ نمبر 1،وارڈ نمبر دو اور تین میں پانی کی قلت پائی جارہی ہے ۔لوگوں کا کہنا تھا کہ کوئی بھی پائپ لائنیں نہیں بچھائی گئی اور کئی کلومیٹر دور سے خواتین کو پینے کیلئے پانی لانا پڑتا ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے ایک ہینڈ پمپ نصب کیا گیا تھا لیکن وہ بھی حالیہ کئی عرصہ سے خراب ہوا ہے ۔مکینوں نے محکمہ آب رسانی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ پانی کی فراہمی کے سلسلہ میں کئی مرتبہ متعلقہ حکام سے رابطہ بھی کیا گیا لیکن ابھی تک کوئی عملی کام ہی نہیں کیاجاسکا ۔مکینوں نے ضلع انتظامیہ راجوری سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ وارڈوں میں جلداز جلد پانی کی پاپئیں بچھائی جائیں تاکہ ان کو پینے کا صاف پانی میسر ہو سکے ۔