کالج آف کامرس نے تحریک بقا ئے اردو کے اشتراک سے قومی یوم ِ تعلیم منایا
جموں// آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم پیدائش کے موقع پر شعبہ اردو، گورنمنٹ ایس پی ایم آر کالج آف کامرس جموں نے تحریک بقا ئے اردو کے اشتراک سے کل رات 8بجے ایک آن لائن پروگروم بعنوان "ہندوستان کے جدید تعلیمی نظام میں مولانا ابوالکلام آزاد کا کردار" منعقد کیا ۔ پروگرام کا آغازشعبہ اردو کے سربراہ پروفیسر عرفان عارف نے تمام شرکاء کو قومی یوم تعلیم کی مبارکباد دیتے ہوئے کیا اور کہا کہ 2008 سے پورے ہندوستان کے تمام تعلیمی اداروں میں یہ دن قومی سطح پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ ان کے بعد رنجیت سنگھ جموال، پرنسپل گورنمنٹ ایس پی ایم آر کالج آف کامرس، جموں نے رسمی خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔ انہوں نے اس پروگرام کے انعقاد پر شعبہ اردو اور تحریک بقائے اردو کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اتنے مختصر عرصے میں مولانا آزاد کی خدمات پر روشنی ڈالنا ان کی شخصیت کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم جموں و کشمیر کے لوگوں کو فخرحاصل ہے کہ 1955 میں مولاناکے نام سے ایک کالج گورنمنٹ مولانا آزاد میموریل کالج بنایا گیا ہے۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر قدوس جاوید سابق صدر شعبہ اْردو یونیورسٹی آف کشمیر نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد اس وقت کے رہنماؤں کی یہ دوراندیشی تھی کہ انہوں نے مولانا آزاد کو وزیر تعلیم بنایا۔ وہ جتنی سنجیدگی سے سیاست کرتے تھے اتنی ہی سنجیدگی سے انہوں نے ادب اور صحافت میں حصہ لیا ہے۔ پروفیسرقدوس نے مزید کہاکہ سارے لوگ اپنے ملک کو جوڑنے کی بات کریں اور آج کے اس پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ضرورت ہے سانجی اور مشترکہ تہذیب کو آگے بڑھانے اور کثرت میں وحدت جیسے موضوعات کو کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر اسپیشل اسپیکر کے طور پر جاوید انور ایڈیٹر تحریک ادب بنارس نے بھی بڑی خوبصورت اور معیاری تقریر کرتے ہوئے مولانا آزاد کے اقوال بھی پیش کیے اور کہا کہ تعلیم حاصل کرنا ہمارا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے مولانا آزاد کے تعلیمی میدان میں اٹھائے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ یو جی سی ، آئی آئی ٹی اور دیگر علمی ،ادبی، ثقافتی اور تہذیبی اداروں کی بنیاد ان کے ہی خوابوں کی تعبیر کا نتیجہ ہیں۔ آخر میں عرفان عارف نے پرنسپل اور دیگر تمام شرکاء محفل اور بالخصوص تمام ناظرین و سامعین کا شکریہ ادا کیا۔
گوجر بکروال ہوسٹلوں کی ماڈرنائزیشن کیلئے اِقدامات شروع
جموں//قبائلی اَمور محکمہ نے طلباء کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے مختلف اَضلاع میں ہوسٹلوں کو ماڈرنائزیشن بنانے کے لئے اِقدامات شروع کئے ہیں ۔ محکمہ نے خوراک کے نرخوں میں اضافے کے لئے بھی کارروائی شروع کی ہے ۔ہوسٹل کے جاری منصوبوں کی تکمیل او رموجودہ ہوسٹلوں کی سہولیات میں بہتری کے لئے فنڈس مختص کرنے کا مقصد قبائلی طلباء کو معیاری رہائش فراہم کرنا او رمطلوبہ تعلیمی سہولیات کی پیش کش کرنا ہے ۔سیکرٹری قبائلی اَمور ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے کہا کہ ہوسٹل کے جاری منصوبوں کی تکمیل ، نئے ہوسٹلوں کی منظوری او رموجودہ ہوسٹلوں کی ماڈرنائزیشن بشمول فرنیچر ، فرنشننگ ، بنیادی ڈھانچے کی اَپ گریڈیشن اور تعلیمی سہولیات کے لئے اقدامات شروع کئے گئے ہیں۔حکومت نے رواں مالی سال کے اِستعمال کے لئے 15کروڑ روپے کی رقم بھی جاری کی ہے جس میں 26ہوسٹلوں کے لئے فرنیچر اور فرنیچر فراہم کرنے کے لئے 30کروڑ روپے شامل ہیں جبکہ بسنت گڈھ ، کولگام ، شوپیان ، بنی، کالا کوٹ اور کوترنکا میں ہوسٹل کی تکمیل کے لئے 8 کروڑ روپے سے زیادہ فراہم کئے گئے ہیں ۔اِس ماہ 16 کرو ڑروپے کی تخمینہ لاگت سے زائد اَز پانچ ہوسٹل بھی مکمل ہو رہے ہیں۔ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کی ہدایت پر قبائلی امور محکمہ کو ہوسٹلوں کی ماڈرنائزیشن اور مکمل کرنے کے لئے اَب تک کے سب سے زیادہ فنڈس ملے ہیں جس کے لئے مشیر قبائلی اَمور فاروق خان ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں ۔ اُنہوں نے چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری فائنانس اتل ڈولو کا کئی برسوں سے ہوسٹلوں کو مکمل کرنے کے لئے خصوصی فنڈنگ اور سہولیات کی اَپ گریڈیشن کے لئے گرانٹ کے لئے شکریہ اَدا کیا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی صدارت میں میٹنگ میں ہوسٹل کے طلباء کے لئے خوراک کے نرخوں میں بھی 50فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ لیا گیا جو کہ گزشتہ 13برسوں کے بعد پہلی مرتبہ اضافہ ہوا ہے اور اشیائے ضروریہ کے مارکیٹ ریٹ اورغذائیت کے معیارات قومی سطح کے مطابق باقاعدہ اضافہ کو یقینی بنانے کے لئے اِنتظامات کئے گئے ہیں۔محکمہ نے نئے وارڈنوں اور اسسٹنٹ وارڈنوں کے اِنتخاب کا عمل بھی مکمل کیا ہے ۔ ہوسٹل کے انتظام کے لئے رواں ماہ زائد اَز 35 وارڈنوں اور اسسٹنٹ وارڈنوں کو تعینات کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سمارٹ کلا روموں ، لائبریری ، جمنازیم ، پینٹری ، کھیل بنیادی ڈھانچہ اور غیر نصابی سہولیات کی اَپ گریڈیشن ان اسائمنٹس میں اوّلین ترجیح ہوگی جس پر وارڈنوں کی کارکردگی کو مانیٹر کیا جائے گا ۔قبائلی امور محکمہ کے تمام ہوسٹلوں میں طلاب کے لئے ہنرمندی کے کورسوں کو بھی حتمی شکل دی گئی ہے ۔
جموں و کشمیر کو امن، خوشحالی کی طرف لے جانے کیلئے
لوگوں کو نیشنل کانفرنس سے امیدیں وابستہ:گپتا
جموں// یہ کہتے ہوئے کہ جموں و کشمیر ایک مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے، نیشنل کانفرنس کے صوبائی صد رتن لال گپتا نے کارکنوںکو امن اور سیاسی استحکام کی طرف لے جانے کی ذمہ داریوں کو نبھانے کی تلقین کی۔ڈوڈہ کے نو نامزد ضلعی صدر ظفر اللہ راتھر کو مبارکباد دیتے ہوئے اور کیپٹن ریٹائرڈ اومکار ناتھ بھگت کو ان کے حامیوں کے ساتھ پارٹی میں شامل ہونے پر شیر کشمیر بھون میں منعقدہ ایک تقریب میں خوش آمدید کہتے ہوئے گپتا نے کہا ’’ لوگ نیشنل کانفرنس کی طرف دیکھ رہے ہیں،اس لیے یہ کیڈر پر فرض ہے کہ وہ ان کی امنگوں اور توقعات پر پورا اتریں‘‘۔ انہوں نے کہا "نیشنل کانفرنس نے اپنے قیام سے لے کر اب تک عوام کو سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے لیے بہت کچھ کیا ہے جس سے عوامی حوصلہ مند لوگوں کو ایک متحرک پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے اور تمام سطحوں پر فیصلہ سازی میں ان کی شرکت کو یقینی بنایا گیا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ سرشار کارکنوں کی شمولیت مزید آگے بڑھے گی۔ پارٹی کے گڑھ کو مضبوط کریں اور ان کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے عوام کے وسیع پیمانے پر پہنچنے میں مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیکولر اخلاق اور اس کی جامعیت میں یقین رکھنے والوں کے لئے پارٹی فطری انتخاب ہے۔ رتن لال گپتا نے نئے آنے والوں پر زور دیا کہ وہ تمام خطوں اور ان کے ذیلی علاقوں کی سماجی و اقتصادی تبدیلی کا حصہ بنیں۔ انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ کیڈر ریاست میں ہم آہنگی لانے میں اپنا مقررہ کردار ادا کرے گا۔اودھم پور کے کیپٹن ریٹائرڈ اومکار ناتھ بھگت دیگر کارکنوں کے ساتھ نیشنل کانفرنس پارٹی میں شامل ہو گئے۔نیشنل کانفرنس کی پالیسیوں اور پروگراموں پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے، نئے شامل ہونے والوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کی متحرک قیادت ہی لوگوں کے مسائل کے حل کا واحد حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نیشنل کانفرنس کی شمولیت کے پیغام کو صحیح معنوں میں آگے بڑھانے کے لیے انتھک محنت کریں گے۔
صوبائی کمشنرکی جموں و کشمیر کے سپیڈ بال کھلاڑیوں کو مبارکباد
نندا نے عالمی چمپئن شپ میں سولو ہٹ کا ایشین ریکارڈ توڑا
جموں//صوبائی کمشنر جموں ڈاکٹر راگھولنگر نے جموں میں مقیم سپیڈ بال کھلاڑیوں کے ایک گروپ کو مبارکباد دی۔سنی نندا، جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے ہندوستان کے ٹاپ سیڈ سولو کھلاڑی، جنہوں نے تیونس میں 32 ویں عالمی چمپئن شپ میں 4 منٹ میں 460 شاٹس لگا کر سولو کا ایشین ریکارڈ توڑا۔ یہ پہلا موقع تھا جب ہندوستان کے کسی کھلاڑی نے 450 سے زیادہ شاٹس لگائے۔460 شاٹس کے ساتھ، سنی نندا عالمی درجہ بندی میں چوتھے نمبر پر ہیں، جو پولینڈ سے تعلق رکھنے والے کانسی کا تمغہ جیتنے والے 475 شاٹس سے صرف 15 شاٹس پیچھے ہیں۔ تیونس 520 شاٹس کے ساتھ دوسرے اور مصر 605 شاٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔اس عالمی چمپئن شپ میں کل 12 ممالک نے حصہ لیا۔ ڈبلز ایونٹ میں ہندوستانی، سنی نندا اور گرومنجیت سنگھ کی ٹیم نے مجموعی طور پر 4 ویں رینک حاصل کی۔ بنیان انٹرنیشنل اسکول کے طالب علم ہرشدیپ سنگھ نے جونیئر سنگلز ایونٹ میں 5 واں مقام حاصل کیا۔جے اینڈ کے اسپورٹس اسپیڈ بال ایسوسی ایشن نے اپنے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہا اور انہیں اگلے سال اگست میں امریکہ میں منعقد ہونے والی اگلی عالمی چمپئن شپ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب دی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر راگھو لنگر (سرپرست ایسوسی ایشن) نے کہا کہ امریکہ میں منعقد ہونے والے آئندہ عالمی کھیلوں میں محکمہ کھیل اسپیڈ بال کے کھیل کو بلند ترین مقام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔ انہوں نے ایسوسی ایشن اور کھلاڑیوں کو ان کی کامیابی پر مبارکباد دی اور کہا کہ عالمی چمپئن شپ میں چوتھا رینک حاصل کرنا آسان کام نہیں ہے اور امید ظاہر کی کہ اگلے سال امریکہ میں پوڈیم میں ہندوستانی جھنڈا نظر آئے گا۔
فوجی ہیلی کاپٹر کی پرمنڈل میں ایمرجنسی لینڈنگ
جموں// ہندوستانی فضائیہ کے چیتک ہیلی کاپٹر نے سانبہ ضلع کے پرمنڈل میں حفاظتی لینڈنگ کی۔دفاعی ذرائع نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر اسکواڈرن لیڈر اور عملے کے پانچ ارکان کے ساتھ معمول کی گشت پر تھا۔انہوں نے کہا "پائلٹ نے تکنیکی خرابی کی وجہ سے پرمنڈل میں کھیل کے میدان میں حفاظتی لینڈنگ کی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ "ضروری مرمت کے کام کے بعد تکنیکی خرابی کو دور کر دیا گیا اور ہیلی کاپٹر اپنی منزل پر واپس آ گیا"۔
جموں سمارٹ سٹی مشن:39 پروجیکٹ مکمل،45 زیر تعمیر
جموں// جموں سمارٹ سٹی مشن کے تحت زائد از 671 کروڑ روپیوں کے لاگت سے 39 پروجیکٹوں کا کام مکمل ہوچکا ہے جبکہ 45 پروجیکٹس زیر تعمیر ہیں۔جموں سمارٹ سٹی پروجیکٹ کے چیف ایگزیکیٹو افسر (سی ای او) انوی لواسہ نے ایک میٹنگ کے دوران تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ جموں سمارٹ سٹی لمیٹڈ کا مقصد لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ سمارٹ سٹی مشن کے تحت اب تک زائد از 671 کروڑ روپیوں کی لاگت سے 39 پروجیکٹوں کو مکمل کیا گیا ہے جبکہ زائد از 1294 کروڑ روپیوں کی لاگت والے 45 پروجیکٹس زیر تعمیر ہیں۔اس موقع پر جموں میونسپل کارپوریشن کے میئر چندر موہن گپتا نے کئی پروجیکٹوں کو مکمل کرنے پر افسروں کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ ان پروجیکٹوں سے مندروں کے شہر جموں کی خوبصورتی میں مزید چار چاند لگ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ان سے جموں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا جس سے لوگوں کے لئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا ہوں گے۔