لکھن پور ، وجے پور ، ڈوڈہ اورٹھاٹھری
کھلے میں رفع حاجت سے پاک قصبے قرار ،وزیرنے محکمہ کی کارکردگی کوسراہا
جموں/مکانات وشہری ترقی کے وزیر ست پال شرما نے سوچھ بھارت مشن کے تحت جموں صوبے کے چار بلدیاتی اداروں جن میں لکھن پور ، وجے پور ، ڈوڈہ ، ٹھاٹھری کو کھلے میں رفع حاجت سے پاک قصبے قرار دئیے جانے پر متعلقہ محکمہ کی کوششوںکی سراہنا کی۔اس سلسلے میں وزیر موصوف نے متعلقہ محکمہ کے افسران اور اہلکاروں کو مبارک باد دی ہے۔فائنانشل کمشنر مکانات و شہری ترقی کے بی اگروال نے کہا ہے کہ ان چار قصبوں میں سوچھ بھارت مشن کے تحت کھلے میں رفع حاجت سے پاک قرار دئیے جانا ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔کیوں کہ یہ چار قصبے سیاحتی اعتبار سے بھی اہمیت کے حامل ہے ۔ ڈائریکٹر اربن لوکل باڈیز جموں محترمہ سشما چوہان کے مطابق اس بات کا ااعلان تمام میونسپلٹیوں میں تین دِن تک لگاتار آڈِٹ کو عمل میںلانے کے بعد کوالٹی کونسل آف انڈیا نے سرکاری طور رپر کیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ چار قصبے جموں صوبے میں سب سے پہلے کھلے میں رفع حاجت سے پاک قصبے قرار دئیے گئے۔انہوںنے کہا کہ جموں صوبہ میں باقی ماندہ بلدیاتی اداروں کو کھلے میں رفع حاجت سے پاک بنانے کے لئے محکمہ نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ۔
ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے پر گورنر کا پیغام
سرینگر/راج بھون سے جاری کردہ ایک پیغام میں گورنر این این ووہرا نے کہا ہے کہ ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے ہر سال 14؍جون کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں خون کے عطیئے رضاکارانہ طور پر دینے کے لئے عوامی بیداری پیدا کی جاسکے ۔رضاکارانہ طور خون کا عطیہ دینے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے گورنر نے کہا کہ بہتر طریقے پر بلڈ بینک چلانے والے لوگ ہر سال لاکھوں کی جان بچاتے ہیں ۔ انہوںنے تمام صحت مند لوگوں سے اپیل کی کہ وہ باقاعدہ طور پر سامنے آئے اور ضرورت مندوں کے لئے رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ دیں۔
وائس چانسلر جموں یونیورسٹی گورنر سے ملاقی
سرینگر //وائس چانسلر یونیورسٹی آف جموں پروفیسر آر ڈی شرما آج یہاں راج بھون میں گورنر این این ووہرا سے ملاقی ہوئے ۔ پروفیسر شرما نے یونیورسٹی کی کارکردگی کے بارے میں گورنر کو آگاہ کیا ۔ گورنر نے پروفیسر شرما کو روسا سیکنڈ کے تحت 100 کروڑ روپے حاصل کرنے پر مبارک باد دی ۔ گورنر نے یونیورسٹی میں معیاری تعلیم اور تحقیقی سرگرمیوں کو جاری رکھنے پر بھی زور دیا ۔
ڈاکٹر منیال مرکزی وزیر صحت سے ملاقی ہوئے
نئی دہلی//ریاستی وزیر صحت و طبی تعلیم ڈاکٹر دویندر کمار منیال نے یہاں مرکزی وزیر صحت و فیملی ویلفئیر جگت پرکاش نڈھا کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں ریاست میں محکمہ صحت و طبی تعلیم سے متعلق مختلف پروجیکٹوں کے بارے میں سیر حاصل بحث کی ۔ مرکزی وزیر کے ساتھ ملاقات کے دوران جو معاملات زیر بحث آئے اُن میں ریاست کے مختلف طبی مراکز کی اپ گریڈیشن بھی شامل ہے ۔ اس موقعہ پر مرکزی وزیر نے یقین دلایا کہ وہ ریاست کو ہر ممکنہ تعاون فراہم کریں گے ۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم کے ترقیاتی پیکج کے تحت باقی ماندہ 267.33 کروڑ روپے کی رقم بھی واگذار کی جائے گی ۔ ایس ایم جی ایس ہسپتال جموں اور لل دید ہسپتال سرینگر کے اپ گریڈیشن پروجیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ ان ہسپتالوں کو مریضوں کو بہتر طبی نگہداشت فراہم کرنے کیلئے مزید استحکام بخشا جائے گا ۔
پاکستان کو سبق سکھانے کی ضرورت : نائب وزیر اعلیٰ
جموں// جموں وکشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا نے کہا کہ پاکستان کو ایک بار پھر سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی شرارتوں کا مناسب اور بھرپور جواب دیا جائے گا اور ایک گولی کا جواب دس گولیوں سے دیا جائے گا۔ نائب وزیر اعلیٰ نے یہ باتیںبدھ کے روز یہاں سانبہ میں بین الاقوامی سرحد پر پاکستانی گولہ باری کے نتیجے میں ہوئی بی ایس ایف اہلکاروں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا ’ہم نے رمضان المبارک کے مہینے کو دیکھتے ہوئے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ان کی (پاکستان کی) سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ وہ 1965، 1971 اور کرگل کا جنگ دیکھ چکا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ پاکستان کو ایک بار پھر سبق سکھانے کی ضرورت ہے‘۔ کویندر گپتا نے کہا کہ پاکستان کی شرارتوں کا مناسب اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ’دیش کی ایکتا پر کوئی سمجھونہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہم ملک کی ایکتا کو لیکر کوئی سمجھوتہ نہیں کررہے ہیں۔ ہمارے سیکورٹی فورس جوان ہمیشہ صبر وتحمل سے کام لیتے ہیں۔ لیکن اگر پاکستان کی طرف سے شرارت ہوتی ہے تو اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ ایک گولی کا جواب دس گولیوں سے دیا جائے گا‘۔ نائب وزیر اعلیٰ جو کہ بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ پاکستان کی نیت شروع سے ہی خراب رہی ہے۔ انہوں نے کہا ’پاکستان کی نیت شروع سے ہی خراب رہی ہے۔ لیکن ان کی ہی طرف سے ایک گذارش آئی تھی کہ سیز فائر آگے بڑھایا جائے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ اس قابل نہیں ہے‘۔ یو این آئی