شوپیان میں سردی کا قہر جاری
آبی ذخائرمنجمداورپینے کے پانی کی بحرانی صورتحال
سرینگر//چلہ کلاں کے رخصت ہونے کے باوجود پہاڑی ضلع شوپیان میں سردی کا قہر جاری ہے اور درجہ حرارت میں اس قدر نمایاں کمی واقع ہوئی ہے کہ ضلع میں سردی کا 30سالہ ریکاڈ ٹوٹ گیا ۔ ضلع ہیڈکوارٹر سمیت حلقہ انتخاب وچی زینہ پورہ اور کیلر تحصیل کے متعدد دیہات میں پانی کی پائپ لائن اور آبی ذخائر منجمد ہونے سے رہائشی علاقوں،مساجد ،ہوٹلوں اور عوامی بیت الخلائوں میں پانی کا سپلائی نظام منقطع ہوگیا ہے اور لوگوں کو انتہائی تکلیف دہ صورتحال سے گزرنا پڑرہا ہے۔ مقامی آبادی نے ٹینکروں کے ذریعے پانی کی سپلائی بحال کرنے کی مانگ کی ہے لیکن رابطہ سڑکوں پر زبردست پھسلن اور جل شکتی محکمے کے بنیادی ڈھانچے میں پائی جارہی خامیوں کے باعث صارفین کو اپنی مدد آپ کے تحت ہی انتظام کرناپڑتا ہے۔ درجہ حرارت میں بھاری گراوٹ کے باعث مکانوں کے اندر نہ صرف پائپیں بلکہ چھتوں پر نصب ٹینکیاں بھی منجمد ہوگئی ہیں بلکہ متعدد علاقہ جات میں گھروں کے اندر نل پھٹ جانے سے گھریلوں ساز و سامان کو نقصان پہنچنے کی بھی اطلاعات موصول ہورہی ہے۔وادی کشمیر کے دوسرے اضلاع کے مقابلے میں شوپیان واحد ضلع ہے جہاں پر گزشتہ مہینے سب سے زیادہ برفباری ہوئی تھی اور ضلع ہیڈکوارٹر پر 5فٹ جبکہ دوسرے پہاڑی علاقوں میں5فٹ سے زائد برف ریکاڈ کی گئی اور اب بھاری برف کی موجودگی اور ہڈیوں کو پگلانے والی سردی سے 231 دیہات میں رہائش پذیر آبادی کی روز مرہ کی سرگرمیاں تشویشناک حد تک متاثر ہوئی ہیں اور سخت ترین سردی سے تجارت پیشہ افراد کے ساتھ ساتھ مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جبکہ درجہِ حرارت میں بھاری گراوٹ کے باعث ٹیوشن پر جارہے اسکولی بچوں کے علاؤہ بزرگوں اور خواتین کو انتہائی تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کے این ایس
وقف بورڈ میں تعینات ملازمین تنخواہوں میں تفاوت دور کرنے کا مطالبہ
سرینگر/ /جموں و کشمیر وقف بورڈ میں تعینات ملازمین نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تنخواہوں میں تفاوت کو دور کیا جائے۔ملازمین کا کہنا تھا کہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد مرکزی سرکار نے جموں و کشمیر وقف بورڈ کو اپنی تحویل میں لیا ہے اور اس ضمن میں مرکزی سرکار پر ضروری بنتا ہے کہ وہ مرکز کے زیر انتظام دیگر ریاستوں کی طرح انہیں بھی تنخواہ اور دیگر سہولیات فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ملازمین کے وفد نے گورنر کے مشیر سے ملاقات کی تھی جنہوں نے انہیں یقین دلایا تھا کہ ان کے مطالبات کو جائز اور ترجیہی بنیادوں پر حل کیا جائے گالیکن ابھی تک ان کے مسائل کی جانب کوئی توجہ مرکوز نہیں کی جارہی ہے۔کے این ٹی
سوپور کے معروف ماہر تعلیم کا انتقال
مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کا اظہار دکھ
سوپور //شمالی کشمیر کے سوپور علاقے سے تعلق رکھنے والے معروف ماہر تعلیم محمد مقبول کیمہ پیر کے روز انتقال کر گئے ۔ متعدد سماجی، علمی و ادبی انجمنوں نے مرحوم کے وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کر کے پورے خاندان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ عمر آباد کالونی امر گڈھ سوپور سے تعلق رکھنے والے ماہر تعلیم محمد مقبول کیمہ کی عمر81برس تھی۔مرحوم ایک قابل اور شریف النفس شخصیت کے مالک تھے۔ پیشہ سے استاد مرحوم نے علاقہ زینہ گیر میں تعلیم کا شعور پیدا کرنے اور تعلیم کے نور کو پھیلانے میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔1998میں بحثیت پرنسپل ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ایم ای ٹی بی ایڈ کالج سوپور میں بطور تاریخ کے پروفیسرفائر ہوئے۔انہیں شعبہ تاریخ پر عبور حاصل تھا۔مرحوم اپنے وقت کے معروف فٹ بالر بھی تھے ۔مرحوم علی محمد ریشی ترال کے والد بستی تھی ۔اس دوران مرحوم کی وفات پر قصبے کو معروف سماجی کارکن اور سیاسی لیڈر ارشاد رسول کار کے علاوہ مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے پورے خاندان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ۔
مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے
کنگن میں پنچایتی اراکین اور ڈرائیوروں کی پریس کانفرنس
غلام نبی رینہ
کنگن//زوجیلا اور زیڈ موڑ ٹنل پروجیکٹوںمیں مقامی نوجوانوں کو روز گار فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ جب زیڈ موڑ ٹنل کی تعمیر کاکام شروع کیا گیا تھا، اس وقت بھی سرکار سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ تعمیراتی کمپنی میں مقامی لوگوں کو ہی روز گار فراہم کیا جائے کیونکہ تعمیراتی کمپنی سے جو بھی نقصانات ہورہے ہیں اس سے مقامی آبادی ہی متاثر ہے۔فرنڈس ڈرائیورس یونین گنڈ کے عہدیداروں اور بلاک ڈیولپمنٹ چیئرمین ، پنچوں اورسرپنچوں نے مشترکہ طور پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعمیراتی کمپنی میں روز گار فراہم کرنے کا حق بھی یہاں کے لوگوں کو ہی ملنا چاہے مگر ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اب زوجیلا ٹنل پر مقامی لوگوں کو ہی روز گار فراہم کیا جانا چاہئے کیونکہ اس ٹنل سے اگرچہ سارے نقصانات اسی علاقے کو اٹھانے پڑیں گے لیکن روز گار بھی یہاں کے لوگوں کو ملنا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ تعمیراتی کمپنی کو یہاں کی یونین کو منظور کرنا ہوگا۔ مولوی رفیق نے بتایا کہ اگر یہاں کے لوگوں کو زوجیلا ٹنل میں روز گار فراہم نہیں کیا گیا تو بی ڈی سی چیئرمین ، پنچ اور سرپنچ استعفیٰ دیں گے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر، صوبائی کمشنر اور ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل سے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں ذاتی مداخلت کریں۔ پریس کانفرنس میں بی ڈی سی چیئرمین مولوی محمد رفیق کے علاوہ فرنڈس ڈرائیورس یونین کے عہدیداروں نے شرکت کی۔
کولگام میں سب انسپکٹرکی سبکدوشی پر الوداعی تقریب
کولگام//کولگام پولیس کی جانب سے ایک پولیس افسر کی سبکدوشی پر ضلع پولیس لائنز میں الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔الوداعی تقریب میں ایس پی کولگام گوریندر پال سنگھ کے علاوہ دیگر افسران نے شرکت کی۔تقریب میں سبکدوش ہوئے سب انسپکٹر غلام حسن ڈارکے رشتہ داروں نے شرکت کی ۔ایس پی کولگام نے سبکدوش ہونے والے افسرکیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کی اچھی صحت اور کامیابی کے لئے دعا کی۔اس موقع پرسبکدوش افسران نے بھی خطاب کیا اور اپنے تجربات سے شرکاء کو مستفید کیا۔انہوں نے الوداعی پارٹی کے انعقاد پر ایس پی کولگام اور دیگر افسران واہلکاروں کا شکریہ ادا کیا ۔
ٹائیگور ہال میں ڈرامہ فیسٹول کا انعقاد
سرینگر//نا رتھ زون کلچر ل سینٹر پٹیالہ اور جموںو کشمیر کلچرل اکیڈیمی کے باہمی اشتراک سے ٹائیگور ہال سرینگر میں ڈرامہ فیسٹول کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں وادی کے25کلبوں نے حصہ لیکر اپنے فن کا مظاہرہ پیش کیا۔ گزشتہ دنوں یمبر زل یوتھ کلب سرینگر کی جانب سے گلال ڈرامہ آن لائن پیش کیا گیا۔ جس میں کلب سے وابستہ کئی اداکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ پیش کیا۔ گلال ڈرامہ میں جن اداکاروں نے شرکت کی اُن میں خورشید میر، شوکت ماگرے، مہجبین انکساری، امین دھرمیندر ، بشارت بخاری، مبالیغ اور جا وید کشمیری شامل ہیں۔ نامور اداکار خورشید میر اس ڈرامے کے ہدایت کار تھے جبکہ ڈرامہ شہزاد شبیر نے لگا تھا۔ تقریب پر کئی شخصیات موجود تھیں اور تالیاں بجا کر اداکاروں کو داد دے رہے تھے۔ اس موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے گلزار احمد نے یمبرزل یو تھ کلب سے وابستہ اداکاروں اور گلال ڈرامہ کے ہدایت کار اور رائٹر کو خوبصورت الفاظ میں سراہنا کی۔ انہوں نے اپنے خطے میں اداکاروں کے رول کو کا فی سراہا۔