انجم کی کامیابی: گورنر نے مبارکباد پیش کی
جموں//گورنر این این ووہرا نے کشمیر ایڈمنسٹریٹیو سروسز امتحان میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے انجم بشیر خان خٹک کو مبارک باد دی ہے ۔اپنے ایک مبارک بادی کے پیغام میں گورنر نے انجم کی محنت اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے انجم کو تلقین کی کہ وہ مستقبل کی زندگی میں ایمانداری سے کام کر تے ہوئے عام لوگوں کی بہبودی کو یقینی بنائیں۔گورنر نے انجم کے والدین اور اساتذہ کو بھی مبارک باد دی جنہوں نے انجم کی کامیابی میں اہم رول اداکیا۔واضح رہے کہ انجم خٹک سرنکوٹ کے دور افتادہ علاقے گونتھل کے رہنے والے ہیں جنہوںنے کے اے ایس میں اول مقام حاصل کیاہے ۔
پونچھ کے گنڈی محلہ میں پانی کی شدیدقلت
پونچھ//حسین محتشم//ضلع پونچھ میں ہر طرف پانی کی شدید قلت کاسامناکرناپڑرہاہے ۔قصبہ کے گنڈی محلہ میں بھی متعلقہ محکمہ کے افسران کی چشم پوشی کی وجہ سے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔محلہ اور گردونواح کے علاقوں میں پانی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کرگیا ہے اورمحلہ کی خواتین کے مطابق وہ صبح اٹھ کر محلہ سے دور ایک کلو میٹر ہینڈ پمپ سے پانی لاتی ہیں جس کی وجہ سے بچوں کو وقت پر ناشتہ نہیں ملتا اور نہ ہی تیار کرواکر سکول بھیجاجاسکتاہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے محلہ میںپانی کی فراہمی کا نظام درہم برہم ہوکررہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت کے باعث لوگ پریشان ہیں اور اس سلسلے میں کئی بار شکایت بھی کی گئی لیکن حکام پر کوئی اثر نہ ہوا۔ انہوںنے انتباہ دیاکہ اگر پانی کی سپلائی بحال نہ ہوئی تو وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیںگی ۔
پی ایس سی پر اردو کو نظراندازکرنیکا الزام
سرنکوٹ //جموں کشمیر پبلک سروس کمیشن پر کے اے ایس امتحان کے دوران اردو مضمون کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ناکام امیدواروں نے کہاکہ اردو کو بطور آپشنل چننے والے نوجوانوں کے ساتھ زیادتی کی گئی جس کے نتیجہ میں وہ امتحان میں کامیاب نہیں ہوپائے ۔کچھ امیدواروںنے کہاکہ امتحان کے دوران دوسرے پرچہ میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ کتنے سوال کرنے لازمی ہیں، اردو کے پرچہ میں گزشتہ امتحانات کے دوران چھ سوال کرنے لازمی ہوتے تھے تا ہم اس بار ایسا کچھ حوالہ نہیں دیا گیا کہ کتنے سوال کرنے لازمی ہیں۔ان کاکہناتھاکہ جب امتحان والے دن پبلک سروس کمیشن کے نمائندوں سے دریافت کیاگیا تو انہوں نے پانچ سوالات کو کرنا لازمی بتایا۔امیدواروں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے اس لئے اس پر تحقیقات کروائی جائے ۔
بار ایسو سی ایشن سرنکوٹ کا تعزیتی اجلاس
سرنکوٹ// سرنکوٹ میںوکلا کی جانب سے ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا جس ایڈووکیٹ ممتاز حسین شاہ کاظمی کے ولد سید صابر حسین شاہ کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیاگیا۔صابر حسین شاہ اچانک حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے وفات پاگئے ۔ان کی وفات پر بار نے اپناکام معطل رکھا اور مرحوم کی روح کی تسکین کیلئے دعائے مغفرت کی ۔ وکلا نے کہاکہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں ممتاز حسین شاہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور خداوند متعال سے دعا گو ہیں کہ لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ ملے اور مرحوم کوجنت الفردوس میں جگہ عطا ہو۔تعزیتی اجلاس میں ایڈوکیٹ ماجد خان ،اخلاق حسین شاہ، مرتضیٰ خان ،اعجاز خان، نقی علی رضوی، ماہر علی شاہ ،شیراز احمد، ظفر حسین شاہ، افتخار حسین شاہ، انظار قریشی ،پی او انکش شرما ،شوکت چوہدری وغیرہ بھی موجو دتھے۔
مینڈھر میں سڑکوں کی تعمیر
رقومات کے تصرف پر عدالتی تحقیقات کامطالبہ
مینڈھر//نیشنل کا نفرنس بلاک صدر گو رسائی حا جی محمد رفیق کی صدارت میں ایک میٹنگ منعقد ہو ئی جس دوران ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ اس موقعہ پر مقررین نے تعمیراتی ایجنسیو ں کو تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا کہ کام میں غیر معیاری سامان استعمال کیاجارہاہے اور اسی وجہ سے سڑکوں کی حالت خراب بنی ہوئی ہے ۔ انہو ں نے مینڈھر تا سرنکو ٹ سڑک کاکام ٹھیکیدار نے آگے الاٹ کردیاہے جس کو مزید تباہ کردیاگیاہے ۔ انہو ں نے کہا کہ سخی مید ان کلا ئی سڑک گز شتہ با رہ بر سو ں سے زیر تعمیر ہے جس پر کر وڑو ں روپے خر چ ہوچکے ہیںلیکن یہ سڑک گا ڑیو ں کی آمدو رفت کے قابل ابھی تک نہیں بن پائی۔ان کاکہناتھاکہ ہائر سیکنڈری سکول موہری گو رسائی سے مو ڑگو رسائی سڑ ک کاکام2005میں نبارڈ کے تحت شروع ہواتھا جس کاابھی تک صرف 2کلو میٹر کام ہی ہواہے جبکہ سڑک کے نام پر منظور ہونے والا سارا پیسہ خرچ کردیاگیاہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ ایک بڑا اسکینڈل ہے جس کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے ۔این سی کارکنان نے کہاکہ موجودہ حکومت پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں کی تعمیروترقی کیلئے سنجیدہ نہیں ۔انہوںنے کہاکہ مینڈھر میں ہوئے کاموں پر عدالتی تحقیقات کروائی جائے تاکہ ان تینوں پروجیکٹوں کے بارے میں حقائق سامنے آسکیں ۔انہوںنے ممبراسمبلی مینڈھر سے اپیل کی کہ وہ بھی اس سلسلے میں مداخلت کرکے انکوائری کروائیں۔
میونسپل کمیٹی کیخلاف احتجاج جاری
طارق شال
تھنہ منڈی // میونسپل کمیٹی دفتر کے گیٹ کے قریب ساتویں روز بھی بے روزگار نوجوانوں نے احتجاجی دھرنا دیکر حکام کیخلاف نعرے بازی کی ۔جاوید قاضی، محمد ریاض خان، منظور احمد گنائی، جاوید گنائی، محمد شریف کوہلی، خالد حنیف کملاک، مختار احمد کملاک، محمد اویس، وسیم خان وغیرہ نے میونسپل کمیٹی تھنہ منڈی میں بڑے پیمانے پربے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ بھرتی عمل میں کنبہ پروری سے کام لیاگیاہے جس کی تحقیقات کراکے مستحقین کو انصاف دلایاجائے ۔انہوںنے کہاکہ کمیٹی میں کچھ افسران نے برسوںسے قبضہ جمارکھاہے جو اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاکر غلط کام کررہے ہیں اور انہوںنے اپنے ہی رشتہ داروںکو بھرتی کیاہے جبکہ قصبہ تھنہ منڈی کے بے روزگار نوجوانوں کو نظر انداز کردیاگیاہے ۔اس دوران دھرنا دینے والے نوجوان ایم ایل سی ایڈووکیٹ وبودھ گپتا سے بھی ملاقی ہوئے جو تھنہ منڈی عدالت میں وکلا چیمبرس کا افتتاح کرنے آئے ہوئے تھے ۔وفد نے اپنے مطالبات گپتا کے سامنے رکھے جس پر انہوںنے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری، ڈائریکٹر لوکل باڈیز جموں اور وزیر برائے شہری ترقی سے بات کرکے تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی ۔
منصف کورٹ تھنہ منڈی میں وکلاچیمبرس کا افتتاح
طارق شال
تھنہ منڈی //منصف کورٹ تھنہ منڈی میں ڈھائی لاکھ روپے کی لاگت سے تیار کئے گئے وکلاء چیمبرس کا افتتاح کیا گیا۔ یہ افتتاح ممبر قانون ساز کونسل ایڈووکیٹ وبودھ گپتا کے ہاتھوں ہواجبکہ اس موقعہ پر ایڈیشنل موبائل مجسٹریٹ تھنہ منڈی راجہ منظور احمد خان،بار صدر شاہین اعجاز بھٹی، ایڈووکیٹ زبیر عثمان، ایڈووکیٹ ساجد قیوم شال، ایڈووکیٹ نوید انجم شال،ایڈووکیٹ ارشد سمیال، ایڈووکیٹ میر باز، ایڈووکیٹ بابر مرزا، منڈل صدر ماسٹر عبدالغنی شال، محمد لطیف مغل ،زاہد احمد ، خلیل الرحمن، محمد نعیم گنائی،محمد اشرف بٹ وغیرہ بھی موجودتھے ۔اس دوران خطاب کرتے ہوئے گپتا نے کہا کہ عدالت تھنہ منڈی میں وکلاء کے بیٹھنے کے لئے سہولت نہ تھی جسکو مد نظر رکھتے ہوئے انہوںنے اپنے حلقہ اختیاراتی فنڈ سے ڈھائی لاکھ روپے فراہم کئے ۔انہوںنے آپسی بھائی چارے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اس سلسلے میں تھنہ منڈی کے لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوںنے ہمیشہ بھائی چارے کو بنائے رکھا ۔ دریں اثناء انہوںنے عظمت آباد کادورہ کرکے گزشتہ روز خاکستر ہوئے رہائشی مکان کے متاثرین سے بھی ملاقات کی اور اپنے حلقہ اختیاراتی فنڈ سے ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ۔
نریگا ملازمین کی ہڑتال سے لوگ پریشان
پونچھ//حسین محتشم//محکمہ دیہی ترقی کے تحت کام کرنے والے نریگا ملازمین کی کام چھوڑ ہڑتال کی وجہ سے عام لوگوں کے کام کاج متاثر ہورہے ہیں اور وہ پریشان حال ہیں ۔واضح رہے کہ نریگا ملازمین پچھلے کئی دنوںسے اپنے مطالبات کے حق میں جموں میں سراپا احتجاج ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں کو مشکلات کاسامناہے ۔بلاک ننگالی کے تمام GRS بھی اس ہڑتال میں شامل ہیں جس کے نتیجہ میںاس بلاک کے غریب عوام کے تمام کام رُکے پڑے ہیں۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ نریگاکاموں کی ڈیمانڈ فارم آن لائن کروانے کے ساتھ ساتھ دیگر کام بھی رک گئے ہیں اوران کی اجرتیں بھی واگزار نہیں ہورہی ۔سرحدی علاقہ مندھار سے تعلق رکھنے والے فیض اکبر خان راٹھور نے کہا کہ GRSاور دیگر ملازمین کی ہڑتال سے نریگا کے کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ نریگا ملازمین کے مطالبات سنے جائیں اور ان کی ہڑتال کو ختم کروایاجائے تاکہ دیہی علاقوں کی تعمیروترقی پر کوئی اثر نہ پڑنے پائے۔
ڈاکٹر پر لاپرواہی اور
ذرائع ابلاغ نمائندے سے بدسلوکی کا الزام
جاوید اقبال
مینڈھر //سب ضلع ہسپتال مینڈھر میں تعینات چلڈرن سپیشلسٹ ماجد خان پردو دن کے ایک بچے کے علا ج میں لاپرواہی برتنے اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے سے بدسلوکی کا الزام عائد کیاگیاہے ۔ذرائع نے بتایاکہ اعجاز کوہلی کے دو دن کے بچے کو اس بچے کی پھوپھی ہسپتال لیکر آئی اور اس نے پرائیویٹ دکان پربیٹھے ایک ڈاکٹر سے بچہ کا معائنہ کروایا جس نے اسے مشورہ دیاکہ وہ بچے کو ہسپتال میں لیجاکر مشین میں رکھے ۔اس کے بعد یہ خاتون ہسپتال پہنچی تاہم اسے بتایاگیاکہ کمرے کی چابی چلڈرن سپیشلسٹ کے پاس ہے اور تلاش کرنے پر پتہ چلاکہ وہ بھی ایک پرائیویٹ دکان میں بیٹھاہواہے ۔ذرائع نے مزید بتایاکہ خاتون بچے کولیکر اس ڈاکٹر کے پاس گئی جس نے یہ کہتے ہوئے بچے کو مشین میں رکھنے سے انکار کردیاکہ پہلے ہی اسے بچہ کیوں نہیں دکھایاگیا اور اس کا معائنہ اس سے جونیئرڈاکٹر سے کیوںکروایاگیا۔ذرائع نے بتایاکہ خاتون ڈاکٹر سے مایوس ہوکر بچے کو لیکر واپس چلی گئی تاہم گھر والوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندگان کو پتہ چلنے پر بات بلاک میڈیکل افسر تک پہنچی جنہوںنے مداخلت کرتے ہوئے بچے کو واپس منگوایا اور اسے ہسپتال میں زیر علاج رکھا۔اس دوران ذرائع ابلاغ سے وابستہ ایک مقامی صحافی جب کیمرہ لیکر ہسپتال پہنچاتو ڈاکٹر امجد خان نے اس کاکیمرہ چھیننے کی کوشش کی ۔مقامی صحافیوںنے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کارروائی کی مانگ کی ہے۔