’ریاست کی سرکاری زبان سازش کاشکار‘
حسین محتشم
پونچھ//غیر سرکاری تنظیم اویک انڈیا کے چیئرمین ایاز مغل نے اُردو زبان کے ساتھ ہو رہی نا انصافی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی قومی زبان ہونے کے باوجود اُردو اپنے وجود کی تلاش کر رہی ہے اور تیسرے درجہ کی زبان بن کر رہ گئی ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ زبان صرف مواصلات کا ذریعہ ہی نہیںہوتی بلکہ صدیوں کی تاریخ سے روبروکرواتی ہے اور زبان کے ساتھ اس طرح کی سازش کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آئندہ نسل اپنے تمدن اور تاریخ سے منقطع ہو جائے گی اور اسکی ذمہ داری ہر غیور وباشعور انسان کے کندھوں پر ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں جس طرح سے اُردو کے ساتھ سلوک کیا جا رہا ہے، وہ دن دور نہیں کہ اردو کا نام لینے والا بھی باقی نہیں رہے گا۔ایاز مغل نے کہا کہ اُردو زبان سوچی سمجھی سازش کا شکاہورہی ہے۔ان کاکہناتھاکہ افسوس اس بات کا ہے کہ اُردو کو اپنا کہنے والے اس کی بقا کی خاطرکچھ نہیں کر رہے ۔ انہوں نے کہا کہ اُردو کو کھلے عام چیلنج کیاجارہاہے ، چاہے وہ اسکولوں کے نصاب ہوں یا پٹواری اورنائب تحصیلدار کے امتحانات ہوں یا پھرسرکاری دفاترہر جگہ سے اردو غائب ہوتی جا رہی ہے اور ہمارے سیاسی رہنما شرمناک خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی رہنمائوں سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی تاریخ کو بچانے کی ذمہ داری ان پرعائد ہوتی ہے یا نہیں۔ ایاز کاکہناہے کہ جہاں ہندوستان کی دیگر ریاستیں اپنی زبان اور تہذیب کونہ صرف بچاتی ہیں بلکہ اسکے فروغ کیلئے بھی اقدامات کررہی ہیں وہیں ریاست کے سیاسی رہنما غفلت کے شکار ہوکر اُردو کے ساتھ نانصافی کے خلاف کھڑا ہونے کی حماقت کر رہے ہیں۔
مینڈھر میں سیمنٹ فیکٹری قائم کی جائے:پیپلز ویلفیئر فائونڈیشن
نیوز ڈیسک
تھنہ منڈی//غیر سرکاری تنظیم جموں کشمیر پیپلز ویلفیئر فائونڈیشن نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحدی علاقہ مینڈھرمیں سیمنٹ فیکٹری کھولی جائے۔اس تنظیم نے ایک یاداشت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی اضلاع راجوری پونچھ کے ساتھ گزشتہ 70 سال سے سوتیلا سلوک اپنا یا جا رہاہے۔تنظیم کی طرف سے جاری ہوئے بیان میں اس کے عہدیداران نے کہاکہ مرحوم مفتی سعید نے تاریخی مغل روڈ کو تعمیر کر کے سرحدی اضلاع کووادی کشمیر سے ملا کر مفلسی اور ان پڑھتا سے باہر نکالا۔ انہوںنے راجوری کیلئے تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے یونیورسٹی قائم کی جس سے اعلیٰ تعلیم کافروغ ہوا اور ساتھ ہی روزگار کے مواقع بھی پید اہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے قوی امید ہے کہ وہ راجوری پونچھ کی تعمیروترقی پر خصوصی توجہ دیں گی ۔انہوںنے کہاکہ اس خطے میںبے روزگاری پر قابو پانے کے لئے ریاست کے دیگر حصوں کی طرح وافر مقدار میں وسائل موجود ہیں،جہاں کارخانہ لگانے کے لئے پتھر وافر مقدار میں موجود ہے وہیں سیمنٹ کا کارخانہ بھی لگا یا جاسکتاہے ۔یاداشت کے مطابق سرحدی اضلاع راجوری پونچھ میں کارخانہ لگانے سے سیمنٹ کی سہولیات میسر ہونگی اور ساتھ ہی بیروزگاری میں بھی کمی واقع ہوگی ۔یاداشت میں بتایاگیاہے کہ مینڈھر بھی پتھروں کی غنیمت سے مالا مال ہے جہاں پر عمدہ اقسام کا پتھر موجود ہے اس لئے تنظیم اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ وزیر اعلیٰ وائس چیئر مین جموں کشمیر سیمنٹ لمیٹڈ کوہدایت جاری کریں کہ مینڈھر میں سیمنٹ فیکٹری قائم کرنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔
تھنہ منڈی میںگھاس خاکستر
نیوز ڈیسک
تھنہ منڈی// تھنہ منڈی کے علاقہ لاح میں آتشزدگی کی وارادت میں گھاس خاکستر ہو گیا۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو عبدالحمید ولد عبدالغنی کا سوکھا گھاس جو مال مویشیوں کے لئے جمع کیا گیاتھا، آتشزدگی میں مکمل خاکستر ہو گیا۔ پولیس تھنہ منڈی نے اس سلسلے میں رپورٹ درج کر کے کارروائی شروع کر دی ہے۔
عارضی ملازمین کی مستقلی کا خیر مقدم
نیوز ڈیسک
کوٹرنکہ// کوٹرنکہ کے پی ڈی پی لیڈر حاجی میرحسین نے حکومت کے عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کے فیصلہ کاخیر مقدم کیاہے ۔ پریس کے نام بیان میں میر حسین نے کہاکہ محترمہ محبوبہ جی کی قیادت والی سرکار نے ساٹھ ہزار ملازمین کو مستقل کرکے ساٹھ ہزار گھرانوںکی دیرینہ مانگ کو پورا کیاہے جوایک تاریخی اقدام ہے۔ان کاکہناتھاکہ یہ ملازمین کئی برسوں سے دربدر ٹھوکریں کھارہے تھے جن کی ساری امیدیں ٹوٹ چکی تھیں تاہم حکومت نے ان کی دیرینہ مانگ پورا کرتے ہوئے تاریخی اقدام کیاہے ۔ انہوںنے کہاکہ کل تک پولیس ان ملازمین کو احتجاج بھی نہیں کرنے دیتی تھی اور آج وہ وزیر اعلیٰ کے فیصلہ پر مسرور ہیں ۔
واجپائی کے یوم پیدائش پرتقریب
طارق شال
تھنہ منڈی // سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے یوم پیدائش کے سلسلہ میں تھنہ منڈی میں ایک مختصر تقریب منعقد ہوئی جس میں اٹل جی کے حالات زندگی پر روشنی ڈالی گئی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بلاک صدر ماسٹر عبدالغنی شال نے کہا کہ 25 دسمبر 1924 کو گوالیار مدھیہ پردیش میں اٹل جی کی پیدائش ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ اٹل بہاری واجپائی ایک کامیاب ترین شخصیت کے مالک ہیںجنہوں نے ملکی نظام کو بہترین طریقہ سے چلایا ۔انہوںنے کہاکہ موصوف 1957 میں لوک سبھا کے ممبر اور 1977 میں مرکزی وزیر بنے اور پھر وزیر اعظم بننے کے بعد انہوںنے پاکستانی کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور بہتر تعلقات قائم کرتے ہوئے آپار راستے کھولے ۔انہوںنے کہاکہ موصوف کے دور حکومت میں ہی ہندوستان نے ٹیکنالوجی میں اہم سنگ میل حاصل کئے اور دفاعی شعبے میں بھی ملک مستحکم ہوا۔بی جے پی لیڈر محمد نعیم گنائی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس موقعہ پر امجد خان،محمد اشرف بٹ اور چوہدری منظور بھی موجود تھے۔
ہاڑی محلہ سے پوٹھہ بائی پاس سڑک خستہ حال
بختیار حسین
سرنکوٹ// سرنکوٹ ہاڑی محلہ سے لے کر پوٹھہ بائی پاس تک سڑک کی حالت اس قدر خراب ہے کہ اس پر پیدل چلنا بھی محال ہے ۔یہ حصہ ایک کلومیٹر ہے جس میںبارش کے دنوں میںکیچڑ تو خشک موسم میں دھول چھائی رہتی ہے اور لوگوں کے کپڑے تباہ ہوئے بغیر نہیں رہتے ۔سرنکوٹ بازار میںتو گریف نے سڑک کو کنکریٹ بنادیاہے لیکن اس سے آگے کاکام نہیں کیاگیا جس وجہ سے لوگ گریف حکام کے تئیں شدید غم و غصہ کا اظہار کررہے ہیں ۔ مقامی لوگوں کاکہناہے کہ اس ایک کلو میٹر میٹرسڑک پر نہ ہی تارکول بچھایاگیاہے اورنہ ہی اسے کنکریٹ بنایاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ اسی وجہ سے سڑک پر بڑے بڑے کھڈے بن چکے ہیں اور نالیوں کا نام و نشان بھی نہیں ۔ہاڑی محلہ کے رہائشی فردوس احمدنے بتایا کہ جہاں کنکریٹ سڑک ختم ہونے کے آگے ایک کلو میٹر کا حصہ محکمہ گریف کی کارکردگی کا ثبوت پیش کرتاہے اور افسوسناک بات ہے کہ متعدد مرتبہ اس جانب توجہ دینے کے باوجود حکام کی طرف سے کوئی اقدام نہیں کیاجارہا۔