کوٹرنکہ کیلئے ایڈیشنل ڈی سی کی منظوری
ذوالفقار نے حکومت کے فیصلے کو تاریخ ساز قرار دیا
راجوری//کوٹرنکہ علاقے میں اس وقت خوشی کی لہر دوڑ گئی جب جموں کشمیر سرکار نے کوٹرنکہ میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر دفتر کھولنے کے ضمن میں حکم نامہ جاری کیا۔ سرکار نے حکم نامہ زیر نمبر192جاری کرکے کوٹرنکہ میں شفیق چودھری کو پہلا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مقرر کردیا ہے جو اس علاقے کیلئے ایک بڑی خبر ہے ۔ اس سلسلے میں بدھل ، کوٹرنکہ، خواس، پیڑی اور پروڑی کی عوام کو ایک بڑی راحت ملی ہے جن کی طرف سے یہ مانگ رکھی گئی تھی۔ واضح رہے کہ کوٹرنکہ میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی پوسٹ دینے کیلئے وزیر برائے خوراک، شہری رسدات، امور صارفین و قبائلی امور چودھری ذوالفقار علی کافی متحد ہوگئے تھے جنہوں نے یہ معاملہ کئی بار وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی نوٹس میں لایا اور آج اس ضمن میں باضابطہ آرڈر جاری کرکے سرکار نے یہ مانگ پوری کردی ہے۔ اس حوالے سے چودھری ذوالفقار علی نے اپنے بیان میں اس فیصلے کو تاریخ ساز فیصلہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی محبوبہ مفتی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ چودھری ذوالفقار علی نے بتایا کہ بدھل کے آخری علاقہ سے لوگوں کو ضلع ڈپٹی کمشنر کے دفتر تک پہنچنے کیلئے 140کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا تھا جس سے اس علاقے کے لوگوں کو کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایڈشنل ڈپٹی کمشنر کی پوسٹ دینے سے اس علاقے کے ہزاروں کو ایک بڑی راحت ملی ہے جس کیلئے علاقے کی عوام وزیر اعلی کی شکر گزار ہیں۔ چودھری ذوالفقار علی بتایا کہ کوٹرنکہ میں اے ڈی سی دفتر کھولنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سرکار دور دراز علاقوں کی ترقی کیلئے کتنی سنجیدہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے ہی سرکار نے بھدرواہ اور ترال میں اے ڈی سی دفتر قائم کئے اور اب کوٹرنکہ میں اے ڈی سی دفتر قائم کرنے سے سرکار کی طرف سے عوام کو راحت پہنچانے کے سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا ہے جس کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سرکار ان علاقوں کی طرف خصوصی توجہ دے رہی ہے جو ماضی میں نظر انداز رہے اور ان علاقوں کی ترقی کی طرف کسی نے دھیان نہیں دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اب سرکار نے ان علاقوں میں ترقی کا ایک نیا دور شروع کیا ہے ۔ چودھری ذوالفقار علی اس سلسلے میں وزیر اعلی محبوبہ مفتی کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی ساتھ کوٹرنکہ، بدھل کی عوام کو مبارکباد دی ہے جس کا ایک بڑا خواب پورا ہوگیا ہے۔
مستحق ڈیلی ویجروں کے ساتھ انصاف کیاجائے :تانترے
پانی کے بحران سے نبٹنے کیلئے طویل مدتی پالیسی بنانے کا مطالبہ
جموں//ڈیلی ویجروں کی مستقلی میں مستحقین کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ممبراسمبلی پونچھ حویلی شاہ محمد تانترے نے حکومت کو آئندہ برسوں پانی کے بحران سے خبردار کرتے ہوئے کہاکہ کوئی طویل مدتی پالیسی اپنائی جائے تاکہ پانی کی کمی پوری ہوسکے ۔محکمہ پی ایچ ای و فلڈ کنٹرول کے مطالبات زر پر بولتے ہوئے شاہ محمد تانترے نے کہاکہ آنے والے برسوں میں پانی کا بحران ہونے جارہاہے جس سے نمٹنے کیلئے کوئی طویل مدتی پالیسی بناناپڑے گی ۔انہوںنے کہاکہ پونچھ میں سب سے بڑا مسئلہ کسی ورکشاپ اور مشینری کا نہ ہوناہے اور اگر کسی لفٹ سکیم کی موٹر ہی خراب ہوجائے تو اس کو ٹھیک کروانے کیلئے جموں بھیجناپڑتاہے جس میں کئی دن لگ جاتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ یہاں پیکیج کی بات کی گئی اور اس اسی کروڑ روپے کے پیکیج میں پونچھ کو بھی حصہ دیاجائے ،یا تو ورکشاپ کھولے جائیں یاپھر متبادل مشینری دستیاب رکھی جائے ۔تانترے نے کہاکہ پونچھ میں ابھی بھی کئی علاقے ایسے ہیں جہاں پانی کی سپلائی کا کوئی بندوبست نہیں ۔انہوںنے ساتھرہ ، پلیرہ ، اڑائی ، دھڑہ فتح پور ، جھلاس ، فتح پور ، درہ دلیاں ، نوناں بانڈی وغیرہ علاقوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ان میں پانی کاکوئی انتظام نہیں ۔ انہوںنے تجویزپیش کی کہ سڑک کنارے ہینڈ پمپ نصب کئے جائیں اور بورویل لگائے جائیں تاکہ پانی کی قلت کا مسئلہ حل ہوسکے ۔ان کاکہناتھاکہ حلقہ انتخاب پونچھ وسیع علاقہ پر پھیلاہواہے جہاں دور دراز علاقوں میں کہیں دس گھر ہیں توکہیں چھ گھر، محکمہ کوان محلوں کیلئے پائپیں اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کیلئے کوئی پالیسی بنائی جائے ۔انہوںنے کہاکہ کوئی حلقہ پانچ سات کلو میٹر پر ہوتاہے لیکن پونچھ اسی کلو میٹر پر پھیلاہواہے ،جب تک دور دراز علاقہ جات میں ترقیاتی کام نہیں ہوںگے تب تک ریاست کی مجموعی ترقی یافتہ نہیں ہوگی ۔انہوںنے کہاکہ ہینڈ پمپ اور بورویل میں پونچھ کے ساتھ ہمدردانہ سلوک رکھاجائے ۔فلڈ کنٹرول پر بولتے ہوئے تانترے نے کہاکہ پونچھ میں کئی نالے ہیں اور سلائڈنگ والا علاقہ ہے جہاں سیلاب اور تباہی سے بچنے کیلئے فنڈزدرکار ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ منڈی سے پیچھے پچاس کلو میٹر تک علاقہ پونچھ کا ہی حصہ ہے لیکن محکمہ کہتاہے کہ اس کی حد منڈی میں ہی ختم ہوجاتی ہے جس پر دھیان دینے کی ضرور ت ہے ۔ مستحق ڈیلی ویجروں کے ساتھ انصاف کرنے پر زور دیتے ہوئے ممبراسمبلی حویلی پونچھ نے کہاکہ کئی ایسے لوگوں کو فہرست میں شامل کیاگیاہے جو اس کے حقدار نہیں تھے اور کئی ایسے نظرانداز کردیئے گئے ہیں جودس سال سے اس محکمہ میں کام کرہے ہیں ۔طیب نامی ایک لڑکے کی مثال دیتے ہوئے تانترے نے کہاکہ وہ دس سال سے کام کررہاہے لیکن اس کانام فہرست میں نہیں ہے ۔انہوںنے کہاکہ اس سلسلے میں خصوصی میٹنگیں منعقد کرکے انصاف کے تقاضہ پورے کئے جائیں۔آخر پر انہوںنے اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر سے اپیل کی کہ وہ ایسا لائحہ عمل مرتب کریں جس سے ہر دوسرے سال پہلے سال یہاں اٹھائے گئے مسائل پر ایکشن ٹیکن رپورٹ پیش کی جائے۔
عاقب ڈار کی پر اسرار موت کی تحقیقات کا مطالبہ
طارق شال
تھنہ منڈی//راجوری شہر سے تعلق رکھنے والے عاقب ڈار کی جموں میں پر اسرار موت پر تھنہ منڈی کے لوگوں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عاقب ڈار ولد عاشق ڈار جس کیعمر تقریبا 20 سال تھی۔ گذشتہ اتوار کے روز جموں میں پر اسرار موت ھوئی تھی۔ تھنہ منڈی کی متعدد تنظیموں نے موجودہ مخلوط سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ عاقب ڈار کی موت کی سی بی آئی کے ذریعے تحقیقات کرائی جائے۔ بیوپارمنڈل تھنہ منڈی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان وقار حمد گنائی کا کہنا ہے کہ عاقب ڈار کی موت منصوبہ بند سازش کے تحت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس سازش میں ملوث ہیں انکے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ اگر اسکی باریک بینی سے تحقیقات نہیں کرائی گئی تو موجودہ سرکار سے یہاں کے لوگوں کابھروسہ اُٹھ جائے گا۔
ضلع انتظامیہ پونچھ کی جانب سے لپروسی بیداری مہم کاآغاز
حسین محتشم
پونچھ// مہاتما گاندھی کے یوم وصا ل پرکوڑھ سے متعلق بیداری مہمان کاباضابطہ آغاز کیاگیا۔اس سلسلے میں ضلع ترقیاتی کمیشنر پونچھ نے اہم اجلاس منعقد کیا جس میں چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر ممتاز احمد بھٹی، اے سی آر چوہدری محمد اشرف، ڈی ایچ او ڈاکٹر شمیم بھٹی، بلاک میڈیکل افسر ڈاکٹر پرویز خان، بلاک میڈیکل افسر ڈاکٹر ذوالفقار چوہدری، بلاک میڈیکل افسر ڈاکٹر مشتاق حسین جعفری، چیف ایجوکیشن افسرپونچھ عارف ملک ، ضلع سوشل ویلفیئر افسر، ضلع اطلاعات افسر مشتاق احمد شاہ، ضلع پروگرام افسر آئی سی ڈی ایس، ضلع آشا کورارڈینیٹر اورپی ایم اے موجود تھے۔چیف میڈیکل افسرڈاکٹرممتازبھٹی نے (سلیس) کے بارے میں مفصل جانکاری دی جس کے بعد ضلع ترقیاتی کمیشنر نے لیپروسی مہم شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔
تھنہ منڈی کی کملاک برادری کو صدمہ
راجوری / تھنہ منڈی کے علاقہ عظمت آباد کی کملاک برادری کو اس وقت صدمے سے دوچارہوناپڑاجب حاجی محمد اکبر کملاک سکنہ عظمت آباد کی اہلیہ ( عمر 62 سال)وفات پاگئیں۔ذرائع کے مطابق وہ کچھ عرصہ سے بیمار تھیں۔ مرحومہ حسین بی ایک نیک اور با اخلاق خاتون تھی جن کی موت سے پورے علاقہ میں صف ماتم بچھ گئی ۔ مرحومہ کو آبائی علاقہ عظمت آباد، میں پرنم آنکھوں سے سپردخاک کیا گیا۔ مرحومہ کی نماز جنازہ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تھنہ منڈی کی سیاسی و سماجی تنظیموں نے مرحومہ کے حق میں دعائے مغفرت کی ہے اور کہا کہ اللہ پسماندگان کو صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ علاوہ ازیں تھنہ منڈی وارڈ نمبر 9 کی رہنے والی حنیفہ بیگم شیخ کا پیر کی شام کو حرکت قلب بند ہونے سے انتقال ہوگیا۔ مرحومہ دل کی مریضہ تھیں۔ مرحومہ خوش اخلاق اور نیک سیرت خاتون تھیں۔ مرحومہ کو مرکزی جامع مسجد تھنہ منڈی کے قریب واقع قبرستان میں سپردخاک کیاگیا اوران کی نماز جنازہ میں کثیرتعدادمیں شامل ہوئے۔
آغا سید فضل اللہ موسوی الصفوی کے انتقال پر تعزیتی اجلاس
حسین محتشم
پونچھ// کشمیر کے معروف شیعہ عالم دین اور معزز علمی اور دیندار گھرانے کے چشم و چراغ حجت الاسلام والمسلمین آغا سید محمد فضل اللہ الموسوی الصفوی کے انتقال پر شیعہ فیڈریشن پونچھ کی جانب سے ایک تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا۔جس کی صدارت حجۃ السلام سید سجاد حیدر صفی نے کی۔اس اجلاس کے دوران مرحوم کے انتقال پر نہایت رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ مرحوم ہمیشہ جموں وکشمیر میں اتحاد بین المسلمین کا داعی سمجھے جاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیشتر خطابات میں مسلمانوں کے تمام فرقوں کے درمیان اتحاد اور فرقہ واریت سے دوری پر زور دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آغا سید محمد فضل اللہ گذشتہ کئی برسوں سے علیل تھے اور پیر کی صبح قریب ساڑھے گیارہ بجے دار فانی کو الوداع کہتے ہوئے دار ابدی کی طرف کوچ کر گئے۔ انہوں نے کہا کہ آغا سید محمد فضل اللہ وادی کے معروف عالم دین و اسلامی اسکالر مرحوم آغا سید یوسف الموسوی الصفوی کے فرزند تھے۔ ان کے بھائی آغا سید محمود نیشنل کانفرنس سے وابستہ ممبر قانون ساز کونسل ہیں جبکہ ان کے فرزند حجت الاسلام آغا سید ہادی بھی حوزہ علمیہ قم سے فارغ التحصیل اور وادی میں مصروف تبلیغ دین ہیں۔اس تعزیتی اجلاس کے دوران مرحوم کی ایصال ثواب کے لئے خصوصی فاتحہ خوانی کی گئی ۔اور مرحوم کی مغفرت کے لئے خصوصٰ دعائیں طلب کی گئی۔اس اجلاس میں شعیہ فیڈریشن کے ضلع صدر سید ذکی حید،سید محمد صالح رضوی،ڈاکٹر رفیق حسین میر،ڈاکٹر اصغر علی میر،غلام مہدی ونتو، محمد انیس میر،ماسٹر اطہر حسین بٹ،ذاہد علی میر، امتیاز علی میر،شاکر حسین بٹ،عاشق حسین،الحاج ماسٹر نثار حسین میر، ریاضت علی میر،انور حسین ونتو، جاوید علی قلی، کفایت حسین صوفی،فیاض آرزو،عنایت حسین بابا،دلشاد علی میر،رضوان حسین بٹ، غلام محمد میر، الحاج ذاالفقار علی میر، جاوید علی میراور دیگران موجود تھے۔
سرحدی عوام کی مشکلات کیلئے
مرکزی حکومت ذمہ دار:حسن مرزا
راجوری//یوتھ کانگریس راجوری نے پاکستان کی گولہ باری کی وجہ سے سرحدی عوام کی مشکلات کیلئے مرکزی حکومت کی کمزورپالیسیوں کوذمہ دارٹھہرایاہے۔یہاں جاری ایک پریس بیان میں یوتھ کانگریس کے ضلع صدرراجوری حسن مرزانے گولہ باری کی وجہ سے سرحدی علاقوں کے لوگوں کی پریشانیوں پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ یہ سب مودی سرکار کی کمزورپالیسی کانتیجہ ہے اورپاکستان کے ساتھ نمٹنے کیلئے بی جے پی حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی جانب سے جاری بے تحاشہ گولی باری کی وجہ سے سرحدی علاقوں کے لوگوں کوزبردست جانی ومالی نقصان اٹھاناپڑرہاہے اوروہ بے گھرہوکردردرکی ٹھوکریں کھارہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ حکومت سرحدی لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں کررہی ہے۔حسن مرزانے کہاکہ پاکستان کے ساتھ نمٹنے میں مودی سرکارمکمل طورناکام ہوچکی ہے اورپاکستانی گولہ باری سے سرحدی علاقوں کے لوگ تباہ وبربادہورہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کے اقتدارکے چارسال گذرچکے ہیں مگرعوام کے ساتھ کیاگیاایک بھی وعدہ ابھی تک پورانہیں کیاگیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ سرحدوں پرپاکستانی فائرنگ سے ہمارے جوان شہیدہورہے ہیں ۔سرحدی علاقوں کے لوگ پاکستانی فائرنگ سے بری طرح سے متاثرہیں ۔ان کے گھرتباہ ہوگئے ہیں ،مال مویشی مرگئے ہیں ،اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کوچھورہی ہیں ،غریب اوردرمیانہ طبقہ کے لوگوں کاجینادوبھرہوگیاہے ۔جی اے میرنے جموں کشمیرکاذکرکرتے ہوئے جب سے پی ڈی پی ۔بی جے پی سرکارنے ریاست کااقتدارسنبھالاہے کشمیرمیں امن وقانون کی صورت بدسے بدترہوگئی ہے اوران دونوں پارٹیوں نے انتخابات کے دوران عوام سے جووعدے کئے تھے ان میں سے ایک بھی وعدہ پورانہیں کیاہے۔
ایڈوکیٹ سردار ندیم خان کاسنگیوٹ وچنڈیال کا دورہ
مینڈھر//ایڈوکیٹ سردار ندیم خان پی۔ڈی۔پی سینئر لیڈر نے سنگیوٹ وچنڈیال کا تفصیلی دورہ کیا اور متعدد لوگوں سے ملاقات کی۔اس دوران لوگوں نے ان کے سامنے کئی مسائل سامنے رکھے اور کہا کہ سنگیوٹ اور چنڈیال پسماندہ ترین علاقہ ہے ۔اور یہاں پانی،بجلی،سڑک،سکولی نظام کا فقدان ہے۔یہاں کے رہنے والی عوام کو طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی دور اور ڈیجیٹل انڈیا میںیہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ جہاں کے لوگوں کوضروریاتِ زندگی کی لینے کے لیئے قریبی علاقہ منجا کوٹ ،تھنہ منڈی یا سرنکوٹ جانا پڑتا ہے۔انھیں تحصیل دار کے دفتر میں جانے کے لیئے دھار گلون اور تھانہ میں جانے کے لیئے گورسائی اور سب ڈویژن مینڈھر کے صدردفتر میں جانے کے لیئے براستہ بھمبر گلی (بی جی) یا براستہ جڑاں والی گلی جانا پڑتا ہے ۔جس کے لیئے انھیں اپنے ابا واجداد کا زمانہ یاد آجاتا ہے جب وہ پیدل چلا کرتے تھے ۔جس میں کئی دن لگ جاتے تھے ۔اسی طرح انھیں اپنے صدردفترمینڈھر جانے کے ایک دن درکار ہوتے ہیں ۔بجائے اس کے اگر یہاں کے عوام راجوری جانا مطلوب ہو تو دو گھنٹہ کی مسافات کے بعد آسانی سے صدر مقام راجوری پہنچ سکتے ہیں۔ اوراگر کوئی بیمار ہو جائے تواسے راجوری یا مینڈھر لے جانا پڑتا ہے ۔اور سڑک رابطہ کی خستہ حالت ہونے کیوجہ سے وہاں کی عوام کو اپنے بیماروں کو کاندھوں پر اٹھا کر لے جانا پڑتا ہے۔ علاقہ کی ٹاپو گرافی ہی کچھ اس طرح ہے کہ اسمبلی حلقہ مینڈھر کے شرق وغرب ایک دوسرے سے سینکڑوں کلو میٹر کی دوری پر ہیں۔ اگر زمینی حقائق کا ملاحظہ کیا جائے تو تب ہی جا کراصلیت کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے ۔ اسی وجہ سے سنگیوٹ اور چنڈیال خطہ پیر پنجال میں سب سے زیادہ پسماندہ ہیں ۔کیونکہ انتظامی کام کاج کے لئے ان دونوں پنچائتوں کا تعلق ضلع پونچھ اسمبلی حلقہ مینڈھر کے ساتھ ہے۔ کسی بھی نے اس دور دراز اور پسماندہ علاقہ کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ہے اور ہماری پسماندگی کا اصل سبب بھی یہی ہے کہ ہمارا یہ علاقہ جغرافیائی لحاظ سے چھوٹی چھوٹی وادی کی شکل میں بکھرا ہوا ہے ۔ آج بھی یہاں ان دونوں پنچائتوں میں مناسب سڑک رابطہ نہ ہونے کی برابر ہے۔ اس دونوں پنچائتوں میں ایک ہی ہائی سکول ہے جو کہ سنگیوٹ اور چنڈیال پنچائتوں کے عین آخری کونے پر واقع ہے۔ جس کا فائدہ صرف چنڈیال محلہ اور ایک دو اور موڑہ جات کے بچوں کو ہو سکتا ہے باقی اس تمام علاقہ سے ہمارے بچے اور بچوں کو حصول تعلیم کے لئے یا تو راجوری اور یا پھر مینڈھر جانا پڑتا ہے اُنہوں کہا کہ اس علاقہ میں پانی اور بجلی کی شدید قلت ہے اور اس کمی میں اور زیادہ اضافہ ہونے کااندیشہ ہے ۔ایک سڑک جو بندھ پاڑہ تا سنگیوٹ گلی پی ڈبلیو ڈی کے ماتحت تعمیر ضرور ہوئی ہے جسے پی ایم جی ایس وائی کے سپرد کر دیا ہے جو آمد ورفت کے قابل نہ ہے ۔جسے آرمی بھی استعمال کرتی ہے اسی وجہ سے وہ اسے مرمت بھی کرتے ہیں۔سردار ندیم خان پی۔ڈی۔پی سینئر لیڈر نے وہاں کی عوام کو اس بات کی یقین دانی کروئی ہے کہ آپ کے تمام مسائل ریاستی سرکار کے نوٹس میں لاوں گا۔اور اُن کو حل کروانے کی پوری کوشش کرو گا۔ان کے ہمرہ حاجی طارق خان،یونس ڈار،عمران علی خان قابلِ ذکر ہیں۔
بنکروں کی تعمیر میں تاخیر باعث تشویش: پیرپنچال عوامی پارٹی
مرکزی حکومت سے سرحدی علاقوںمیںبنکروں کی تعمیرکیلئے رقومات واگذارکرنے کی اپیل
مینڈھر//مینڈھر پیر پنجال عوامی پارٹی کے صدر چوہدری محمد یونس چوہان نے پریس کے نام جاری بیان میں کہا ہے کہ ملک کی آزادی سے لیکر تا ہنوز بارڈر علاقہ کے عوام کو ایک مسلسل جنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ روز انہ آر پارکی گولہ باری سے عوام سخت پریشان ہے ۔دونوں ممالک میں انسانی جانوں ضائع ہوتی ہیں ۔جس کے لیئے حکمران طبقہ نے اکثر عوام کے ساتھ تمام مراعات سے نوازے جانے کے لیے وعدے کیئے لیکن کوئی بھی وعدہ یا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچا ۔ وہاں کے عوام کو پر امن جگہ پر ہائشی مکانوں کی تعمیر کے لیئے انھیںکوئی پلاٹ الاٹ کیا گیا نہ ہی اُن کے تحفظ کے لیئے ضرورت کے مطابق بنکر بنائے گئے صرف کھوکھلے وعدے کیئے گئے جسے عوامی کی پریشانی میں کمی کے بجائے اضافہ ہواکہ اِن کے ساتھ مشکل وقت میں بھی سیاسی انداز اپنایا جا گیا۔ سیاست دانوںکے اس رویہ سے عوام کا یقین بھی اُن سے اٹھ گیا ۔ چند بنکربنائے جانے کے جو احکامات بی آر جی ایف (BRGF)تحت صادر ہوئے تھے اُن میں بھی سیاسی مداخلت ہوئی جسے وہاں کے عوام کے تحفظ کے لیئے کوئی بھی معقول حل نہ کیا گیا۔علاوہ ازیں تعمیراتی اجنسیاں جنھیں تعمیر کا کام سونپا گیا اُن کے ذاتی مفاد بھی حائل رہے اور عوام کی حفاظت کا مسئلہ ادھورا رہا۔ اگر اسی نسبت سے بنکروں کی تعمیر کاکام جاری رہا تو کئی سال عوام کو تحفظ دینے میں لگ سکتے ہیں۔ اس میں سرعت لانے کے لیئے ۔ مرکز وزارتِ دفاع کے ذریعہ بارڈر علاقہ کے ہر گھر کے قریب حفاظتی بنکر تعمیر کرنے کے لیے فنڈ واگزار کرے تاکہ ریاست کی پر امن جگہوں کی ساتھ یہ لوگ بھی ترقی کریں اور پُر امن زندگی بسر کریں۔
پرائمری سکول کھیت مگرالاں اڑی کاٹیچرڈی ٹیچ
طلباء کامستقبل دائوپر،دوسر ے استادکی تعیناتی کامطالبہ
جا وید اقبال
مینڈھر//تعلیمی زون ہر نی کے گو رنمنٹ پر ائمری سکول کھیت مگر الا ں اڑی سے ڈیو ٹی سی ای او مینڈھر نے ایک ٹیچر کو ڈی ٹیچ کر کے سکول میں بچو ں کی پڑ ھائی کیلئے صرف ایک ہی ٹیچر کو رکھا ہے۔ محکمہ تعلیم کے اعلی افسر ان کو بچو ں کے والدین نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ علا قہ کے لو گو ں نے گز شتہ چند ماہ قبل سکول کو تالابند کر کے کئی دنو ں تک احتجاج کیا تھا کہ ہما را سکول ایک مہینے میں کئی دن بند رہتا ہے کیو نکہ ایک ہی ٹیچرسکول میںتعینات ہے جس کو میٹنگ کیلئے مڈ ڈے میل کو بھی دیکھنا ہوتاہے جبکہ کسی دن گھر پر بھی کام ہو تے ہیں اور سکول کو بند کر دیا جا تا ہے اور بچو ں کا مستقل تباہ و بر با د ہو رہا ہے۔ جس کے بعد متعلقہ افسر ان نے موقعہ پر جا کر ایک ٹیچر کو اٹیچ کیا تھا ، جس کے بعد سکول کی حالت بہتر ہو گئی اور بچو ں کی پڑ ھائی بھی جا ری رہی لیکن منگلوار کو ڈپٹی سی ای او مینڈھر نے ایک ٹیچر کو ڈی ٹیچ کر کے بچو ں کی مشکلات کو بڑ ھا دیا ہے ، اور بچو ں کی پڑ ھائی کی جانب افسر ان نے نہیں سوچا ۔ جو سر اسر بچو ںکے ساتھ زیا دتی ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ دو دنو ں کے اندر ہمیں کوئی دوسرا ٹیچر نہیں دیا گیا تو ہم دو با ہ سکول کو بند کر کے افسر ان کے خلاف احتجاج کر یں گے کیو نکہ بچو ں کے امتخانات سر پر ہیں ۔ اور اگر ٹیچر نہیں دیا گیا تو بچے کیا امتحان دیں گے ۔ اس ضمن میں جب سی او پونچھ سے بات کی گئی تو انہو ں نے کہا کہ مجھے معاملے کا کوئی پتہ نہیں ہے میں پتہ کرو ں گا کیا معاملہ ہے۔ جبکہ ڈپٹی سی او مینڈھر کا کہنا تھا کہ میں نے سی ای او کے کہنے کے مطابق ڈی ٹیچ منٹ کی ہے اور زیڈ ای او ہرنی کو کہا ہے کہ جو اساتذہ متعلقہ سکول سے کہیں پر اٹیچ ہیں ان کو فو ری طور پر سکول میں واپس کیا جا ئے۔