کھڑی میں لیبرمحکمہ اور ڈی آئی سی کا مشترکہ بیداری کیمپ منعقد
ایم ایم پرویز
رام بن//محکمہ لیبر نے ڈسٹرکٹ انڈسٹریز کارپوریشن کے اشتراک سے ضلع کے کھڑی علاقہ میں تعمیراتی ورکروں کیلئے ایک بیداری کیمپ کا اہتمام کیا گیا ۔اس موقعہ پر تحصیلدار کھڑی تابیش سلیم مہمان خصوصی تھے جبکہ ڈی آئی سی رام بن کے جنرل منیجر بشیر الحسن ،اسسٹنٹ لیبر کمشنر رام بن گھنیشام بسوترہ اور سینئر اسسٹنٹ سنیل کمار چنڈیل بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اے ایل سی نے بہبودی سکیموں کے اغراض و مقاصد پیش کئے اور ورکروں سے ان سکیموں سے استفادہ لینے کے لئے اپنے آپ کو دفتر ہذا کے ساتھ رجسٹر کرنے کا اسرار کیا ۔انہوںنے بغیر رجسٹریشن کے باقی ماندہ ورکروں کو اپنی رجسٹریشن کے لئے فوری طور درخواست گُذاری کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے ورکروں کی سوالات کا بھی جوب دیا اور کئی مسائل کا موقعہ پر ہی حل کیا۔انہوں نے و رکروں کو مختلف بہبودی سکیموں جیسے کہ اٹل پنشن یوجنا، راشٹریہ سواستھیہ بیمہ یوجنا اور پردھان منتری بیمہ یوجنا کی جانکاری دی اور انکی صحت مند زندگی کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے تعمیراتی ورکروں کو نئے لیبئر کارڈوں کی رجسٹریشن کیلئے آن لائن رجسٹریشن کا استفادہ لینے پر زور دیا ،جو سہولیت تما م خدمت مراکز میں دستیاب ہیں۔بشیر الحسن نے بھی عام لوگوں کو محکمہ انڈسٹریز کی جانب سے نئے روز گار پیدا کرنے والے یونٹ کھولنے کیلئے محکمہ کی سیکیموں اور قرضہ سہولیات سے بھی آگاہ کیا۔
مہا شیو راتری کے موقعہ پر ضروری اشیاء فراہم رکھنے کا مطالبہ
ایم ایم پرویز
رام بن// ضلع رام بن میں مقیم بے گھر ہوئے کشمیری پنڈتوں نے ضلع انتظامیہ سے مہا شیو راتری کے سلسلہ میں ضروری اشیاء کی یقینی طور فراہم کرنے رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے حکومت کے راشن کے انکار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا رام بن کے مائینگرینٹوں کو جموں اور ادھمپور کے مائیگرینٹوںکی طرح سہولیات فراہم نہیں دی جاتی ہیں۔انہوں نے شکایت کی کہ انہیں ریلیف راشن 2ماہ تک نہیں دیا جاتا ہے ۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ رام بن میں1990سے ضلع ہیڈ کوارٹر میں 44 کشمیری پنڈت مہاجر کنبے رہتے ہیں جنہیں دوسری جگہوں کی طرح ریلیف میں مفت راشن فراہم کیا جاتا ہے ۔
؎غیر قانونی شراب 37تھیلیوں سمیت ایک گرفتار
ڈوڈہ//منشیات اور غیر قانونی شراب کی فروخت کے خلاف مہم کے دوران ڈوڈہ پولیس نے پریم نگر میں سب انسپکٹر برہم دیو سنگھ کی قیادت میں ایک ناکہ کے دوران ایک شخص دھنیندر سنگھ عرف ڈھیندہ ولد جرنیل سنگھ ساکن ڈرون جمانی سے غیر قانونی شراب کی 37تھیلیاں ضبط کیں ،اس سلسلہ میں ایک ایف آئی آر نمبر 14/18 U/S 48-A Excise Act ٹھاٹھری پولیس سٹیشن میں درج کیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہے۔
بھولی بِسری یادوں کا ملن
خطۂ پیر پنجال کی سماجی ،ثقافتی اورتعلیمی میدان میں خدمات کاکوئی بھی شخص کسی بھی طورپرنہیں کرسکتاہے ۔ مختلف شعبوں میں قابل قدرخدمات انجانے والے نوجوانوں کی بھاری کھیپ ریاست کے مختلف حصوں میںاپنی ذمہ داریاں انجام دینے میں مصروف عمل ہے ۔ تعلیمی اِداروں سے ہائر سکینڈری سکول راجوری نے۲۰ نومبر ۲۰۱۷ کو ایک نئی، ایک انوکھی نرالی اور اچھوتی تاریخ رقم کر لی ہے۔ جہاں سکول کے پرنسپل عبدالرئوف ڈار نے پہلی بار ماضی کی یادوں کو تازہ کرنے کی روایت قائیم کر کے اُن تمام طلبا کو جنہوں نے اس سکول سے تعلیم حاصل کی ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میںکام کر کے فارغ ہوچُکے ہیںاور وہ جو ابھی اپنے فرائیضِ منصبی انجام دے رہے ہیں، کو دعوت دیکر اُنکی بھولی اور خفتہ یادوں کوتازہ کرنے کے لئے ایک ملن کا اہتمام کِیا ۔یہ ایک عام ملن نہیں تھا بلکہ یہ ایک نئی روایت کا ملن،ایک یاد گاری ملن،ایک تحریک،ایک جذباتی ہم آہنگی کا ملن،ایک مشاہداتی و تجرباتی عمل کا ملن، بھولی بِسری یادوں کا ملن اور ایک ایسی علامت تھی جس نے اُن تمام سابق طلبا کو دعوتِ کشش دے کراس ملن میں شریک ہونے پر آمادہ کیا۔جس نے جہاں سنا جس حال میں سنا، جو جس عہدہ پر فائز تھا یا جو فرائضِ منصبی انجام دیکر سبکدوش ہو چکے تھے اور با حیات ہیں یہ سبھی لوگ وقت سے پہلے ہی اپنی یادوں کی سوغات ساتھ لیئے سکول احاطہ میں جمع ہونے لگے۔ سکول احاطہ بہترین نقش و نگار سے دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ ایک رنگین دلکش اور جاذب نظر شامیانہ تنا ہوا تھا جسکے نیچے سلیقہ وارقطار در قطار کرسیاں اور صوفے بیٹھنے کیلئے لگائے گئے تھے۔پرنسپل اور سٹاف چاک و چوبند ایک دوسرے کے اِشاروںکے منتظر کھڑے تھے۔استقبالیہ کمیٹی ممبران ہنستے مسکراتے مہمان حضرات کو خوش آمدید خوش آمدید کہتے ہوئے بڑے ادب و احترام سے بٹھا رہے تھے۔
دیکھتے دیکھتے وسیع احاطہ پر پھیلا ہوا سارا پنڈال سابق طلبا جو آج ضلع انتظامیہ میں اعلیٰ سطح کے عہدوں پر ہی نہیں بلکہ ریاستی انتظامیہ،قانون ساز اسمبلی، قانون ساز کونسل، زندگی کے مختلف شعبہ ہائے روزگار اور علیٰ ادبی ، دینی، سماجی اور سیاسی طبقہ سے تعلق رکھنے والوں سے بھر گیا۔یہ مہمانانِ گرامی ایک ہی( چھت)شامیانے میں جمع ہو کر اپنے طا لب علمی کے زمانے کو یاد کرنے لگے اور گزرے زمانے کی یادوں اور خوشیوں کوسمیٹ کرآپس میں بانٹنے لگے۔
نیلگوں آسمان جیسے ہنس رہا تھا۔سورج کی تیزروشنی نے ارد گرد سارا احاطہ اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔فطرت کی ساری رنگینیاں،رعنایاں،دلفریبیاں ان معززمہمانوں (سابق طلبا) کے سامنے رقص کرتی دکھائی دے رہی تھیں۔آج ماضی کے جھرونکوں میں جھانک کرسابق طلبا کی خفتہ یادوں کوتازہ کرنے کا ملن تھا۔اس سکول کا ذرہ ذرہ او ر اسکے در و دیواراپنی عظمت اور درسگاہ ہونے پر فخر کرتے ہوئے بڑی ناز و ادا اور پیار سے اُن ہونہار، ذ ہین اور قابل طلبا کو یاد کر رہا تھا جنہوں نے یہاں سے تعلیم حاصل کر کے کارہائے نمایاںانجام دیکر سکول کا نام روشن کیا۔سکول کے وسیع احاطہ میںکرسیوں پر بیٹھے ہوئے سابق طلبا کے چہروں پرجہاں ہلکا ہلکا سا تبسم پھیل رہا تھا وہیں اُنکی پیشانیوں پر پتلی پتلی لکیریں نمودار ہوکر سنجیدگی کے آثار بھی اُبھر رہے تھے۔ شامیانے کے اندر اور باہر چاروںا طراف خاموشی چھائی ہوئی تھی اور وہاں بیٹھے ہوئے مہمانانِ گرامی، مہمانِ خصوصی (چوہدری ذولفقار علی آنریبل منسٹر) مہمانِ ذی وقار (چوہدری قمر حسین ایم۔ایل۔اے) اور (وِبودھ گُپتا ایم۔ایل۔سی) اور ڈِپٹی کمیشنر راجوری ڈاکٹر شاہد اِقبال ، اس سکول کے سابق پروردہ طلبا کا بڑی بے چینی سے مُنتظر تھے کہ اچانک ایک پُر سوز۔ پُروردہ ، خوش کن اور مترنم آواز نے خاموشی توڑی اور ایک وجدانی کیفیت پیدا کر کے ایک ایسا سما باندھا جس سے سب وجد میں آکر جھومنے لگے۔ یہ شری ارون کمار گُپتا ہیڈماسٹر تھے جو اسی سکول کے سابق طالب علم تھے۔ کُچھ دیر پنڈال میں موسیقی کے مدھر سنگیت کی نغمگی چھائی رہی۔سکول کا احاطہ اور اسکے در و دیوار بھی ان مہمان حضرات کا دبے لفضوں میںخوش آمدید کہہ رہے تھے جو طویل مدت بعد ُان سے سرگوشیاں کرتے ہمکلام ہونے پر فخر محسوس کررہے تھے۔ یہ مہمان سکول کی درودیوار ں کو بغور دیکھنے لگے اور اسی اثنا میں سکول کی دیواروں پر پتلی پتلی خوشنما تحریریں اُبھر کر سامنے آگیں جہاں ہر ایک اپنا بچپن،اپنا لڑکپن،اپنا طالبعلمی زما نہ ، اپنی اپنی معصوم حرکات و سکنات،اپنی اپنی شرارتیں،اپنی میٹھی میٹھی یادیں،پیاری پیاری باتیں پڑھتے جاتے اور لمحوں کے لیئے یادوں کی دُنیا میں کھو جاتے رہے۔اُنکے سامنے عجیب خیا لوں اور یادوں کی دُنیا گھوم رہی تھی۔ وہ کھوئے کھوئے اپنے دماغ کے بند دریچوں سے کرید کرید کر اپنی یادوں کو اپنے دماغ کے بیرونی پردوںپرلانے کی کوشش کر رہے تھے۔واہ کیسا سماں۔ کیساسرور۔ کیسا دلروبا منظر ۔ کیسی دلکشی۔ کیسی نغمگی۔ کیسی چہیل پہیل۔ کیسی رونق۔کیسے کیسے جانے انجانے چہرے۔کیسے کیسے پیرو جواں۔ایک رنگین۔دلفریب۔حسین وجمیل گہما گہمی۔پُر بہار۔پُر فضا۔پُر نکھار دُنیا جیسے اس زمین پر امُڈ آئی ہو۔دل چاہتا ہے کہ اسکی پُر رونق فِضاوئں۔اسکی خوشکن اداوئں۔ اسکی پُر سوز مدائوں۔اسکے ترنم۔اسکی فطری موسیقی اور اسکی رنگینی میں کھو کر ان ہشاش بشاش سابق طلبا کے کِھلتے ۔ ِنکھرتے۔مسکراتے چہروں کو مدتوں دیکھتے رہیئے۔
جہاں تک بائز ہائئر سکینڈری سکول راجوری میںاس ملن کا تعلق ہے اسکے بنیادی روحِ رواں رئوف ڈار ہی ہیں جنہوں نے سابق طلبا کی بھولی بسری یادوںکو جگا کر اُنکے دل ودِماغ میںایک ہلچل اور ایک ہنگامہ سا برپا کردیا جو دوڑتے، لڑکھڑاتے۔بڑے نازوادا اور جذبئہ شوق لیئے سکول گیٹ سے داخل ہوکر اپنے نقش پا ڈھونڈنے چلے آئے تھے۔اس سکول کو 1947سے قبل بھی مرکزی حثیت حاصل تھی۔ اسطرح اس ضلع کے بہت سے طالبعلم وقتاً فوقتا ً تعلیم حاصل کر کے فارغ ہوتے رہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تحصیل،ضلع یہاں تک کہ صوبائی اور ریاستی سطح کے عہدوں پر فائیض ہوتے رہے۔ کیا مجال کہ وہ بھولے سے بھی اس سکول کو یادکرتے یا آنکھ اُٹھا کر بھی کبھی دیکھتے۔ اﷲ کا شکرہے کہ آج رئوف ڈار نے اُن تمام طلبا کو ایک نئی سوچ اور احساس دلایا کہ وہ سکول میں آکر اپنی میٹھی میٹھی یادیں۔پیاری پیاری باتیں۔بھولے بِسرے واقعات۔اپنا طالبعلمی زمانہ۔اسکے تلخ و شیریں آیام اور بیتے دنوں کے مسرت بھرے لمحات کو تازہ کر کے کچھ دیر کے لیئے ان میں کھو جایئں۔ یہ پیغام سنکر ایک کثیر تعداد میں سابق طلبا اپنے ماضی اور اپنی یادوں کو اپنے دامن میں سمیٹ کریہاں تازہ کرنے کیلئے جمع ہو گئے۔میں دیکھ رہا تھا کہ میرے سامنے بُہت سے چہرے ایسے بھی ہیں جو مُجھ سے بیگانے اور میں اُن سے نہ آشنا تھا۔میرے سامنے بیٹھے چمکتے دمکتے چہرے،خوش باش چہرے، کُچھ مرجھائے اور کُچھ کھل کَھلاتے چہرے، کُچھ اُبھرتے نِکھرتے حُسن و شباب سے مہکتے چہرے، کُچھ غم زدہ اور کُچھ ستم رسیدہ چہرے، کُچھ بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑے اپنی سانسیں اور سسکیاں لیتے چہرے۔ رنگ و روپ بدلتے ہوئے بیشمار چہرے، میں اُنکو اور وہ مُجھے حیرت سے دیکھتے رہے۔ میں کُچھ دیر ان چہروں کو دیکھتا اور پڑھتا رہا اور اَسی کے ساتھ دردو عالم، غم و اندو ہ، حسرت و یاس میں ڈوبی ہوئی یادیں اُن چہر وں کی یاد دلانے لگیں جو ڈھونڈے سے بھی یہاں نظر نہیں آ رہے تھے۔ ہائے ! یہ وہ چہرے تھے جو وقت وقت پر اللہ کو پیارے ہوتے گیئے۔اب تو یہاں اُنکے مٹتے نقوش، اُنکی میٹھی میٹھی باتیں، اُنکے خوبصورت چہروں کی عکس بند تصویریں یاد آ رہی ہیں۔ میں لمحو ں کے لیئے اَن یادوں میں کھو گیا اور بے ساختہ زبان سے یہ شعر نکل پڑا
سب کہاں کُچھ لالہ وگُل میں نمایاں ہو گیں خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہو گیں
اتنے چہروں میں جب یادوں کا حجوم جھوم جھوم کر اُن چہروں کی یاد دلانے لگا تو یہ پنڈال، یہ سکول، اسکے درودیوار گردش کرتے دِکھائی دینے لگے اور اُسی لمحہ وہ گم گشتہ چہرے بھی خاموش مجسم ہوکر ایک طرف تماشائی بنے اس ملن کا لُطف اُٹھانے کی خاطر یہاں بیٹھے ہوئے چہروں کو گھور گھور کر پہچاننے کی کوشش کر رہے تھے۔
اس سکول کے سابق طلبا کاانوکھا اور نرالا ملن عبدالرئوف ڈار کے دماغ کی اِختراع ہے۔ وہ اپنے فرایئضِ منصبی کے علاوہ اپنے دماغ میں عجیب عجیب خاکے،منصوبے اور اچھوتے پروگرام ترتیب دیتے رہتے ہیں۔رئوف ڈار کے کام کرنے کا الگ ہی طریقہ ، ڈھنگ اور سلیقہ ہے۔ وہ درس و تدریس اور اپنے فرایئضِ منصبی کے علاوہ ہمیشہ کوئی نئی چیز،نیا پروگرام،کسی محفل یا کِسی ایسے ملن کا اہتمام کرنے کا خاکہ اپنے دماغ میںسوچتے رہتے ہیں جو اس سے قبل ناکسی نے سوچااور نا کِسی نے کیا ہو جس سے اسکی روشن۔تابناک اور درخشندہ تاریخ خود بخود ترتیب پاتی رہتی ہے۔یہ اِسی سوچ اور فکر کا ثمرہ تھا جب عبدالرئوف ڈارضلع شوپیان میں بحثیت ڈپٹی چیف ایجوکیشن آفیسر تعینات تھے تو اُنہوں نے20 ستمبر 2015ء کوایک ایسے ملن کا پروگرام ترتیب دیا جو ریاست جموں و کشمیر کے درس و تدریس، ثقافت اور علمی و ادبی تاریخ میں ایک نمایاں اور حیران کُن باب کے طور پر رقم ہوتا رہے گا۔ اُنہوں نے مغل روڈ کے متصِل ’ڈونگی مرگ’ میںپیر پنجال کے آرپار ایک ایسے ہی ملن کا اہتمام کیا تھا جس میں صوبہ جموں کے کُچھ اِضلاع بشمول ، راجوری، جموں اورکشمیر صوبہ سے سرینگر۔اننت ناگ ۔ بڈگام۔ پلوامہ۔ کولگام۔اور شوپیان اِضلاع کے ادیب۔شعرا اور وعلمی و ادبی شخصیات کو مدعو کرکے ایک شاندار۔دمدار اور تاریخی ملن کا پروگرام ترتیب دِیا تھا۔ اس ملن میں ان اِضلاع کے تعلیمی افیسران بھی شامل تھے اور دو تیں ڈپٹی کمیشنر بھی اس ملن کی کشش سے اسکا حصہ بنے رہے۔یہ بات بھی بہت عجیب سی لگتی ہے کہ عبدالرئوف ڈار بنیادی طور ایک سائنس کا طالبعلم ہوتے ہوئے اُسے اردو ادب سے اسقدر لگائو۔دلچسپی اور رغبت ہیکہ اُنہوں نے پیر پنجال کے آر پار ادیبوں۔شاعروں۔علمی ادبی شخصیات اور آرپاراِضلع کی انتظامیہ کومتحرک کر کے اس تاریخی ملن میں شرکت کیلیئے آمادہ کیا۔وہ ملن نہ صرف شاعروں اور دانشور اِفراد کا ملن تھا بلکہ پیر گلی کے آرپار تہذیبی۔تمدنی۔ثقافتی اور ایک لِسانوی ملاپ تھا۔ وہ ملن ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ میںایک نئی روش۔نئی شروعات۔ایک نئی روایت۔ایک ولولہ انگیزتحریک اور یہ ایک علامتی ملن تھا۔وہ شعرو ادب کی سمتوںاور دل و دماغ کی وسعتوں کاملن تھا۔راقم بھی اس ملن میں شامل تھا جہاں میں نے ایک مقالہ بعنوان ـــ ’پیر پنجال کی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت ‘ پڑھا تھا۔مجھے اب بھی تو یاد ہے کہ ڈونگی مرگ کی پُر فِضا ٹھنڈی ٹھنڈی ہواوں۔دلرُبا اداوئں اور فطری رنگینیوں مین جہاں درجہ حرارت موسم کے تیور بدلتے ہی منفی ہو جاتا ہے وہاں دستر خوا ں بِچھایا گیا اور پروگرام کے درمیان میں پہلے گرم زعفر انی قہوہ اور مشہور کشمیری روٹی شرمال سے مندوبین کو گرمایا گیا اور پروگرام کے اختتام پر گرما گرم کشمیری وازوان سے خاطر تواضع کی گئی جسکو اُس ملن کے مندوبین مُدتوں تک یاد کرتے اور دہراتے رہیں گے۔ایسے شاندار تاریخی ملن کے بنیادی محرک عبدالرئوف ڈار ہی تھے جنہون نے ایک نہایت ہی قابلِ تحسین۔قابلِ تقلید اور قابل ِستایش آرپار ملن مُمکن بنا کرایک نئے باب کی شروعات کی۔
سکول احاطہ میں سارا پنڈال بھراسرگوشیاں کرتے ہوئے اپنا اپنا بچپن، اپنا طالبعلمی زمانہ اوراپنی جوانی کے حسین آیام یاد کرتے بڑھاپے کی دہلیز پر آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتے ایک دوسرے کی طرف متعجب نظروں سے دیکھتے جاتے تھے۔ مہمانِ خصوصی اور مہمانانِ ذی وقار کا ابھی بھی انتظار کیا جا رہا تھا۔اتنے میں مہمانانِ گرامی گیٹ سے داخل ہوئے۔ سامنے قطاروں میں کھڑے NCCکیڈٹ نے ڈرِل کرتے ہوئے مہمانان گرامی کو پنڈال تک لایا جبکہ باقی سکولی بچے تالیاں بجا کر مہما نوں کو خوش آمدید کہتے رہے۔مہمانانَ گرامی سکول کی دیواروں پر نظریں ڈالتے،قدم ناپتے،چہروں پر ہلکی ہلکی مسکراہٹ لاتے،ہاتھ ہلاتے ّ اپنی اپنی سیٹوں پر آہستہ آہستہ قدم مرنجاں ہوئے ۔ اور اسی کے ساتھ سکول احاطہ میں مکمل خاموش سی چھا گئی۔اِتنے میں پرنسپل عبدالرئوف ڈار نے خاموشی توڑتے ہوئے تمام مہما نانِ گرامی کا تشریف آوری کیلئے نہایت ہی ادب و احترام سے شکریہ ادا کیااور خوش آمدید کہا۔اُنہوں نے اس پروگرام کو باضابطہ چلانے کیلئے پروفیسر محمد اقبال رینہ کو نظامت کیلئے دعوت دی۔اقبال رینہ کو اُردو میں کمال کی دسترس حاصل ہے۔انہوں نے اپنے تمام فنکارانہ اور ماہرانہ صلاہیتوں سے پروگرام کا آغاز کیا۔اس خوبصورت رنگین ماضی کی یادوں سے آراستہ پیراستہ محفل کی نظامت جوں شروع کی تو اسکی یاداشت کی پرتیں دماغ کے بند تہہ خانوں سے خود بخود کھلنا شروع ہو گیں۔ اقبال رینہ کو کمال کا حافظہ اللہ تعالیٰ نے تحفے کے طور پر عطا کیا ہے۔اُنکی زبان سے یکیِ بعد دیگرے موقعہ محل۔ بر جستہ انوکھے۔نرالے اور اچھوتے اشعار جھوم جھوم کر اس محفلِ ملن کوچار چاند لگاتے رہے۔ اللہ تعلٰی نے اُنہیں نظامت کی تمام رفعتوں۔نزاکتوں۔وسعتوں۔بلندیوں۔یاداشتوں خوبیوں اور خوبصورت ادائوں سے نظامت کیلئے ہی پیدا کیا ہے۔اُسکی اداکاری اور کِردار نگاری قابلِ رشک ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود ایک بات جو اُبھر کر سامنے آئی وہ یہ کہ رینہ کو وقت کا ذرا بھر بھی احساس نہیں رہتا۔ وہ خوبصورت نظا مت کے دوران بلاوجہ اور ضرورت سے زیادہ وقت خود لے لیتے ہیں اور اسطرح بُہت سے سامعین وقت کی تنگی کے باعث اظہارِ خیال کرنے سے رہ جاتے ہیں۔
اس سے قبل پرنسپل صاحب نے اس ملن کے غرض و غا یت مفصل اور جامعہ الفاظ میں کی اورساتھ ہی اس سکول کی تعمیرو ترقی کیلئے چند ایک معروضات بھی پیش کیں اور اسکے بعد اس خوبصورت ملن کاپروگرام باضابطہ طور پر شروع ہوا۔سامنے بیٹھے ہوئے مہمان حضرات اپنی ماضی کی یادوں کواپنے دامن میں سمیٹے ہوئے اپنے شاندار تجربات، احساسات اور تاثرات کا اِظہار کرنے کے لیئے بے چین تھے۔ ان مہمان حضرات میںسے بزرگ ترین چندایک شخصیات نے اپنے طالب علمی زمانہ کو بھولی بسری یادوں کیساتھ دہرایا جہاں انہوں نے اپنی مفلِسی، ناداری، بیکسی، بے بسی، محرومی اور تنگدستی کے ملے جُلے ،تلخ و شیریں تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بیس بیس۔پچیس پچیس میل کا سفر طے کر کے اس سکول کی خاک آلود مٹی میں کھیلتے ، ناچتے ، کودتے تعلیم حاصل کی۔ ماضی کے جھرونکوں میں جھانک کر ان سب کے احساسات ، محسوسات اور تاثرات کم و بیش یکساں اور ایک جیسے ہی تھے۔البتہ ان میں سے ایک نو جوان جس کا حسن و شباب، اُبھرتی نکھرتی جوانی جو سِتارں پر کمندڈالنے کے لیئے بیتاب دکھائی دے رہا تھا نے اپنے تاثرات کا اظہار انگریزی میں کیا جس میں ماضی کی کوئی بات تو نہ تھی البتہ مستقبل کیطرف کچھ اِشارے تھے۔ اُردو کے بجائے انگریزی میں ا،ظہارِ خیال پر سامنے بیٹھے مہمانانِ گر امی نے اپنی ناراضگی اور برہمی کااظہارکیا کیونکہ یہ اس موقع محل پر مناسب اور موذون نہ تھا۔
اسکے بعد ڈپٹی کمیشنر راجوری ڈاکٹر شاہد اقبال نے اس ملن کے اغراض و مقاصد اور اپنی شراکت داری کا اظہار کیا۔ انہوں نے سکول کی بہتری کیلئے دس ہزار روپے دینے کا اعلان کیا اور ضلع کے تمام افیسران کو سکول کی تعمیروترقی کے لیئے دس دس ہزار روپے دینے کی اپیل کی۔ سابق طلبا میں سے سابق منسٹراور ممبر پارلیمنٹ چوہدری طالب حسین نے اپنی طا لب علمی زمانے کی یادوں کو سمیٹ کر ماضی کے آیئنے میںاپنے نرم لہجہ اور شیریں اسلوبِ بیاں میںدہرایا اور کہا کہ مجھے وہ طالب علمی زمانہ کچھ تلخ یادوں کیساتھ اب تک یاد ہے۔
اسکے بعد سابق طلبا سے موجو دہ ایم۔ایل،سی شری وِبودھ گُپتا جنہون نے اس سکول کا حقِ شاگردی ادا کرتے ہوئے اپنی سیاسی بصیرت ۔وسیع النظر اور دور اندیشی سے اس سکول کو اپنے تعمیروترقی کے منصوبہ میں پہلے ہی گود لیا(اپنایا) ہوا ہے۔ انہوں نے یہ قدم اُٹھا کر راجوری کی تاریخ میں پہلا شاندار اور تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے۔ایم۔ایل۔سی ۔صا حب نے بھی اپنی طالبعلمی آیام کی خستہ یادوں کو کرید کر دماغ کے بیرونی پردوں پر لاکر خوبصورت اندازِ بیاں میں پیش کیا۔اُنہوں نے بتایا کہ وہ پہلے بھی اپنے سی۔ڈی ۔ایف۔ سے اس سکول کو ساڑھے چھے لاکھ روپے دے چُکے ہیں اور اس ملن کے موقع پر مزید پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا، اسطرح وبودھ گپتا اپنی سیاسی۔سماجی ا ور تعمیری تابناک اور درخشندہ تاریخ رقم کر رہے ہیں۔
چوہدری قمر حسین ایم۔ایل۔اے۔راجوری سابق طلبا میںسے کسی نجی مصروفیت کی وجہ سے اس یادگاری اور تاریخی ملن کا حصہ نہ بن سکے ورنہ وہ بھی اس سکول کی تعمیرو ترقی کیلئے اپنا مناسب حصہ ڈالنے کا ضرور اعلان کرتے۔
اسکے بعد مہمانِ خصوصی جناب چوہدری ذولفقار علی آنریبل وزیر نے تیس سال قبل کا اپناطالبعلمی زمانہ اسکی معصوم اور حسین یادوں کیساتھ اپنے انوکھے لب ولہجہ اور دلکش اندازِ بیان میںاُجاگر کیا۔وزیرِموصوف کی بحثیت وزیر جموں کشمیر میں اپنی شناخت اپنی الگ پہچان اور ایک قابلِ ر شک مقام ہے۔ انہوں نے اس ملن کے ایسے اقدام کو بہت سراہا اور کہا کہ ایسی روایت کو دوسرے سکولوں میں بھی عام کرکے ایسے شاندار ملن کا اہتمام کیا جانا چاہئے اور کہا کے اس سے سابق طلبا اور سکول کا رشتہ پیوند تازہ ہوکر ہمیشہ قایم و دائم رہ سکتا ہے۔ وزیرِ موصوف نے بھی سکول میں متعلم ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی سیاسی دور رس نظر، اپنی فراخدلانہ نگاہ،ذہنی بالیدگی، پختہ شعوری عمل اور اپنے بڑے پن کا پورا ثبوت دیا اور سکول کے لیئے مبلغِ بیس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ یقین بھی دلایا کہ اس سکول کی تعمیروترقی کے لیئے آیندہ بھی پیسے کی کمی کا احساس کبھی بھی ہونے نہیں دیا جایئگا۔
پرنسیپل رئوف ڈار نے پرگرام کے درمیان زعفرانی قہواہ اور پلوامہ کشمیر سے منگوائی ہوئی وہی مشہور کشمیری شرمال روٹی پیش کر کے معزز مہمانوں کی خاطر تواضع کر کے تازہ دم کیا اور ڈونگی مرگ والی روائیت کو برقرار رکھا۔
پروگرام کے آخر پر چیف ایجوکیشن آفیسر نے شکریہ کے کلمات کہے اور ساتھ ہی کھانے کی دعوت بھی دی۔ اسطرح یہ تاریخی ملن اپنے نیک جذ بات۔نیک خواہشات۔نیک تمناوں۔نیک آرذوئں اور نیک دعاوں کے ساتھ اپنی یادوں سے ملنے والی خوشیاں بکھیرتے ہوئے اختتام پزیر ہوا ۔
عبداسلام بہار راجوری
9858201396
امت شاہ کی حقیقت بیانی
بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما امت شاہ نے چندروزپہلے اپنے ایک بیان میں اس بات کا اعتراف کیا کہ کشمیر کا مسئلہ ہم سب کے لئے باعث تشویش بنا ہوا ہے جس کا حل تلاش کرنا ناگزیر ہے ۔امت شاہ کا بیان حقیقت پر مبنی ہے اور ہم ان کے اس بیا ن سے اتفاق کرتے ہیں مگر صرف بیا ن بازی یا اس سلسلے میں اعتراف کرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس مسئلے کا موثر اور دیرپا حل تلاش کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ملک اور ریاست کی سبھی سیاسی ، سماجی اور مذہبی تنظیموں کو سیاسی اور تنظیمی نظریات سے بالاتر ہو کر ملک اور ریاست کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے دیانت داری اور خلوص دل سے کام کرنا ہوگااور اس مسلے کا دیرپا حل ریاست اور ملک کے عوام کے لئے سود مند ہے بصورت دیگر لمبی چوڑی تقریروں اور ایک دوسری کے خلاف بیان بازی سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا جیسا کہ اب تک ہوتا آیا ہے اور ملک کی سبھی سیاسی پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ اس مسلے کولیکر اپنی سیاسی دکان چلانے سے گریز کریں کیونکہ ایسا کرنا نہ تو ریاست اور ملک کے حق میں ہے بلکہ مفاد پرست اور منفی سیاست سراسر نقصان دہ ثابت ہوگی ۔
عبدالرشیدکٹوچ
رابطہ نمبر:9469087763