ہائی سکول بزلہ سے مسروقہ کمپیوٹر برآمد، سارق گرفتار
محمد تسکین
بانہال // بانہال پولیس نے گورنمنٹ ہائی سکول بزلہ ، کھڑی سے چار کمپوٹروں کی چوری کے سلسلے میں معاملہ درج ہونے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر معاملہ حل کرکے ایک شخص مشتاق احمد بٹ کو گرفتار کرلیا ہے اور اس کی نشاندہی پر چوری کئے گئے چار ڈیسک ٹاپ قصبہ بانہال سے برآمد کئے گئے ہیں۔ پولیس نے اس سلسلے میں ایک کیس درج کرکے معاملے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہے اورمحکمہ تعلیم کے کسی ملازم کے ہاتھ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ ہائی سکول بزلہ میں نقب زنی کی یہ واردات غالبا چھٹیوں کے دوارن پیش آئی ہے اور اس سال سردیوں کی چھٹیوں کے بعد سکول کھلنے کے بعد جب پنچایت گھر بزلہ میں قائم ہائی سکول بزلہ ، بانہال کے دفتر کو ہائی سکول کی نئی عمارت میں 08 مارچ کولیا جارہا تھا تو وہاں الماری میں رکھے گئے کمپوٹروں کے خالی ڈبے پاکر وہاں موجود سٹاف کے ہوش اڑ گئے اور علاقے میں خبر پھیل گئی۔ ایس ایچ او بانہال ایجاز وانی نے کشمیر عظمیٰ کو تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ انچارج ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول بزلہ محمد اشرف کی طرف سے پولیس پوسٹ کھڑی میں ایک تحریری شکلایت درج کی گئی ، جس میں بتایا گیا تھا کہ ہائی سکول بزلہ سے چار ڈسک ٹاپ کمپوٹر سسٹم دیگر سامان سمیت نامعلوم افراد کی طرف سے چوری کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا اس سلسلے میں پولیس پوسٹ کھڑی کے انچارج افسر وسیم معراج کو تحقیقاتی عمل سونپا گیا اور پولیس نے کئی افراد کو پوچھ تاچھ کیلئے اٹھا لیا ۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران مشتاق احمد بٹ نے چوری کے جرم کو قبول کر لیا اور اس کی نشاندہی پر بانہال قبضہ سے ڈیسک ٹاپ برآمد کئے گئے ہیں جبکہ دو سی پی یو ابھی برآمد کرنا باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشتاق احمد بٹ ولد گل محمد بٹ ساکنہ بزلہ کی نشاندہی پر ڈیل کمپنی کے چار مانیٹر ، دو سینٹرل پراسیسنگ یونٹس ، چار کی بورڈ ، تین سروس فکس 32 اور دیگر سامان قصبہ بانہال سے برآمد کئے گئے جو اس نے کمپوٹر انسٹیٹیوٹ کھولنے کیلئے قصبہ کے ایک گھراوردکان میں رکھے ہوئے تھے۔ مشتاق احمد قصبہ بانہال میں الفلاح ٹرسٹ کے نام سے ایک این جی او بھی چلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس سلسلے میں ایک کیس نمبر 31 سال 2108 زیر دفعہ 380/457 رنیبر پینل کوڈ درج کیا ہے اور مزید تحقیقات وسیم معراج سب انسپکٹر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کاروائی ایس ایس پی رام بن موہن لعل اور ایڈیشنل ایس پی مشتاق چودھری کی نگرانی میں ایس ایچ او بانہال ایجاز احمد وانی کی قیادت میں پولیس پارٹی نے عمل میں لائی۔ ادھر جانکارذرائع نے بتایا کہ اس گروہ میں شامل محکمہ تعلیم کے اندر سے کسی ملازم یا استاد کے مبینہ ہاتھ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے اور پولیس کی مزید تحقیقات میں میں واضع ہونے کا امکان ہے۔
راج گڑھ کے متعدد دیہات بنیادی سہولیات سے محروم
ایم ایم پرویز
رام بن//ضلع کے راج گڑھ تحصیل کے عوام نے آزادی کے70 سالوں سے ان علاقوں کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کی مبینہ شکایت کی ہے۔ان لوگوں نے کہا ہے کہ ان دور دراز علاقوں میں نہ تو سڑکوں کا رابطہ ہے، نہ ہی پینے کا پانی ہے اور نہ ہی بجلی کی سہولیت ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق تحصیل راج گڑھ کو وقت کی سرکاروں نے ہر شعبہ میں فراموش کیا ہے۔ان لوگوں کی شکایت ہے کہ انتخابات کے دوران سیاست دان ان کے علاقوں میں آتے ہیںاور انتخابات ختم ہونے کے ساتھ ہی رفو چکر ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران سیاست دان ان کے ساتھ بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں لیکن انتخابات ختم ہونے کے ساتھ ہی وہ اقتدارکا لطف لینے کیلئے اپنی رہائش ریاست کی دو راجدھانیوں میں منتقل کرتے ہیں۔ان کی یہ بھی شکایت ہے کہ ایسے بھی بہت سارے علاقے ہیں جہاں کی آبادی ہزاروں کی تعداد میں ہے لیکن مرکزی سپانسر سکیم پی ایم جی ایس وائی کے باوجود ان کو سڑکوں کا رابطہ فراہم نہیں کیا گیا ہے۔کیمونٹی ہیلتھ سنٹر راج گڑھ ہالہ بغیر کسی اسپیشلسٹ ڈاکٹر کے ہے اور نیم طبی عملے کی بھی کمی ہے ۔ویسا ہی حال ہائر سیکنڈری سکول راجگڑھ، ہائی سکول گنوٹ کا ہے،جہاں پر تدریسی عملے کی قلت ہے۔ان لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض دیہات میں پینے کے پانی کی سخت قلت ہے۔انہوں نے انتظامیہ سے ان علاقوں میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے، تاکہ ان علاقوں کے لوگوں کی پریشانیوںکا ازالہ ہو۔
کشتواڑ
نمائندہ عظمیٰ
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ میں نو روزہ ماں درگا کا تہوار جسے عام طور سے ماں شکتی کہا جاتا ہے نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ شروع ہوا۔شیو مندر اور گوری شنکر مندر کشتواڑ میں درگا کے شر دھالو ئوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں۔نوراترہ کے پہلے دن متعدد خواتین نے سرخ لباس پہنا تھا،شردھائوں نے ترقی اور خوشحالی کیلئے دعا کی۔بھنڈارہ میں خصوصی طور سے کم سن بچیوں میں پوڑی اور حلوہ تقسیم کیا گیا اورانہیں تحفے بھی دیئے گئے۔پرمتعدد مذہبی پروگرام مندروں میں بھجن ،ہون وغیرہ منعقد کئے گئے۔شیو مندر فیصل آباد،گوری شنکر مندر سرکوٹ اور مضافات کے کئی مندروں میں لوگوں کی چہل پہل رہی۔کشتواڑ کے ایک رہائشی دیپک شرما نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ نوراتری تہوار دیوی درگا کو نذر کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ لفظ نوراتری سنسکرت سے منسوب ہے جس کا مطلب نو راتیں ہے ،ان راتوں کے دوران دیوی درگا کے نو اقسام کی عبادتیں کی جاتی ہیں۔
رام بن
ایم ایم پرویز
رام بن//ضلع رام بن میں نوراترہ تہوار کے سلسلہ میں اہل ہنود نے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔نو دن تک چلنے والے اس تہوار کی شروعات مختلف قسم کی پوجا ارچنا، ہون اور بھجن کیرتن سے کی جارہی ہے ، لوگ 9دن تک برت رکھتے ہیں اور دیوی دیوتائوں کی پوجا کرتے ہیں برت رکھتے ہیں برت کے دوران انہیںآلو ،دہی اور پھل کھانے کی اجازت ہوتی ہے۔گوشت خوری کے علاوہ سبزی خورپیاز اور لہسن وغیرہ سے پرہیز کرتے ہیں۔ رام بن ،بٹوت اور دیگر علاقوں کے مندروں کو شردھالوں کے استقبال کیلئے سجایا گیا ہے۔ضلع انتظامیہ نے اس تہوار کے سلسلہ میں سخت سیکوریٹی کے انتظامات کئے ہیں۔
جذبات
نوجوانوں کوگمراہ ہونے سے بچانے کی ضرورت
ریاست جموں وکشمیرمتنوع ثقافت کاایک خوبصورت گُل دستہ ہے جہاں مختلف زبانوں،بولیوں اوررنگ ونسل،طبقوِں،قبیلوں،فرقوں اورمذہبوںکے لوگ رہتے ہیں۔ثقافت کی ڈائیورسٹی ریاست کی خوبصورتی میں چارچاندلگانے کاکام کرتی ہے ۔نوجوانوں کوکسی بھی قوم ،ملک اورریاست کے مستقبل سے تعبیرکیاجاتاہے اورجس قوم کا نوجوان فعال ہووہ قوم زندہ قوموں میں شمارہوتی ہے اور نوجوانوں کادرخشاں مستقبل ہی ان قوموں ،ملکوں اورریاستوںکے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہوتاہے۔اس لیے ریاست جموں وکشمیرکے نوجوانوں کے مستقبل کی فکرکرنا،اسے سنوارنا،انہیں گمراہ ہونے سے بچانا ،ریاست کے مستقبل کوسنوارنے کے مترادف ہے اورجس ملک یاریاست کانوجوان سیاسی،سماجی اورتعلیمی شعورکاحامل ہووہ ملک یاریاست ہمیشہ ترقی کی بلندیاں طے کرتاجاتاہے ۔اسی لیے دُنیاکے اکثرممالک کے ارباب اقتدار نوجوانوں کے لیے بہت سی سہولیات پیداکرکے ان کوزندگی کے ہرشعبے میں آگے بڑھنے کاحوصلہ عطاکرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ دنیاکے ایسے اکثرممالک ترقی کی دوڑمیں ہمارے ملک سے کئی گناہ بہترہیں۔یہ ممالک نوجوانوں کی تعلیم، ان کے روزگاراوران میں چھپے ہوئے ہنر کی آبیاری اس طرح سے کرتے ہیں کہ یہ طبقہ آگے چل کر اُس ملک یاریاست کی عزت کاباعث بنتاہے لیکن ہماری ریاست جموں وکشمیرمیں نوجوانوںکی ایک کثیرتعدادبے روزگاری اوردیگرمسائل مثلاً منشیات کی لت، سوشل میڈیاکے غلط استعمال اورمختلف دشمن عناصرکے ہتھکنڈوں کاشکارہوکرہونے کی وجہ سے سماجی برائیوں میں ملوث ہونے جیسے خطرات سے دوچارہے۔دراصل ایک طرف ریاست بالخصوص وادی کشمیر کے نوجوانوں کوبے روزگاری کامسئلہ درپیش ہے تودوسری طرف ایسی طاقتیں ہیں جوانہیں گمراہی کی راستے پردھکیلنے کیلئے کسی وجہ سے ان کے اندرپائی جانے والی مایوس کافائدہ اُٹھانے کی تاک میں ہیں۔ ظاہر ہے جب پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے چینی اورمایوسی ہوگی توو ہ بہ آسانی کسی بھی سمت میں جاسکتے ہیں۔ ریاست جموں وکشمیرمیں نوجوانوں کوغلط راستے پرگامزن کرنے کی تاک میں کیلئے ایسی طاقتیں کام کررہی ہیں جونوجوانوں کی مایوسی اورحالات کاغلط فائدہ اُٹھاکرانہیں ملی ٹینسی ،پتھربازی یادیگرقسم کی سماجی برائیوں نیزمختلف دشمن سرگرمیوں میں ملوث کرنے کے مشن پرعمل پیراہیں۔جموں وکشمیرمیںایک طرف سے نجی اداروں،تجارتی کمپنیوں اورسرکاری سیکٹروں میں روزگارکے مواقعے بہت ہی کم ہیں ،دوسری طرف سرکاری اداروں میں جوبھرتیاں ہوتی ہیں اُن میں رشوت ،اقرباپروری اورسیاسی مداخلت اس حدتک بڑھ گئی ہے کہ تمام طرح لوازمات اوراصول وضوابط کوبالائے طاق رکھاجارہاہے اوریہ بھی نوجوانوں کی ذہنی پریشانیوں کی ایک وجہ ہے ۔بھرتی اداروں میںرشوت ستانی کی بدعت سے ریاست کی سماجی زندگی پرجومنفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے نوجوان نسل میں ملی ٹینسی کی طرف رجحان میں اضافے کاباعث بھی بن رہاہے ۔روزگارنہ ملنے کی سے بعض نوجوان مایوسی کی حالت میں ایسے قدم اُٹھاتے ہیں جن کو سن کررونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔نشہ آور ادویات کااستعمال ،خودکشی کے واقعات ،ملی ٹینسی کی طرف رجحان،آجکل بے روزگارتعلیم یافتہ نوجوانوں میں عام ہوتے جارہے ہیں یہ سب کچھ ان کے ذہنی بھٹکائوکی وجہ سے ہورہاہے ۔ایسی صورتحال میںظاہر ہے کہ اُن کی توانائی غلط مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے۔اس سنگین صورتحال میں سماج کے ذی شعورشہریوں،والدین، اساتذہ،مذہبی مدرسین ،قانون سازوں کافرض بنتاہے کہ وہ نوجوانوں کوروزگاردلانے ،منشیات سے دوررکھنے ،سوشل میڈیاکے منفی اثرات سے دوررکھنے کیلئے آگے آکراپنارول اداکریں تاکہ نوجوانوں کی توانائی کاغلط سمت میں استعمال نہ ہواورنوجوان ان طاقتوں کے ہتھے نہ چڑھ سکیں جوملک دشمن عناصرسرگرمیاں انجام دینے کیلئے ان کے مستقبل کودائوپرلگانے سے بھی گریزنہیں کرتے اوروقت کاتقاضاہے کہ نوجوانوں کوگمراہ ہونے سے بچانے کیلئے حکومت کے ساتھ ساتھ سماج کاہرشہری اپنافرض نبھائے۔
حکومت کوچاہیئے کہ وہ نوجوانوںکیلئے روزگارکے وسائل پیداکرے تاکہ نوجوانوں میں پائی جانے والی مایوسی کاخاتمہ ہواوروہ اپنی توانائی ریاست کی تعمیروترقی اورخوشحالی کیلئے صرف کرسکیں۔جموں وکشمیرمیں باغبانی، زراعت وغیرہ شعبوں میں بھی روزگارکے کافی زیادہ امکانات ہیں جن کواپنانے میں نوجوانوں کوآگے آناچاہیئے ۔نوجوانوں کے مسائل اُسی صورت میں حل ہوسکتے ہیں جب حکومت اورنوجوان اپنی اپنی سطح پرروزگارکے وسائل پیداکرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کریں۔
سلیم خان نوشادؔ
’گڈ فرائیڈے ‘ کا پیغام
آج کے دن کیلئے جو لفظ دیا گیا ہے یعنی’’گڈ فرائیڈے ‘‘اسکو گڈ فرائیڈے کیوں کہا جاتا ہے؟ہر مینے میں چار جمعے کے دن آتے ہیں اور سال میں تقریباً 48جمعہ کے دن آتے ہیں لیکن اس میں سے ایک جمعہ ایسا آتا ہے جس کو کہ گڈ فرائیڈے کا نام دیا گیا ہے۔گڈ فرائیڈے کا مطلب مبارک جمعہ یا بھلا شکروار،اب لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ اس دن پر سیح مر گئے ہیں۔یسوع مسیح کے منہ پر طمانچے مارے گئے ہیں،اسکے منہ پر تھوکا گیا ہے،اسکی پیٹھ پر کوڑے پڑے،ہاتھوں اور پائوں میں کیل ٹھوسے گئے،یسوع کی پسلی میں بھالا مارا گیا۔اس دن مسیح کا پورا جسم مار کھا کر بری طرح زخمی ہو گیا۔اس دن یسوع کی داڑھی کے بال نوچ کئے،گالیاں کھانی پڑیں،پھر مسیح لوگ اس دن کو اس جمعہ کو گڈ کیوں کہتے ہیں؟اسدن مسیح لوگ دکھ مناتے ہیں،افسوس مناتے ہیں،پھر اس جمعہ کو گڈ فرائیڈے کا نام کیوں دیا گیا ہے؟میرے عزیزو: جب آپ یسوع مسیح کی صلیب کی کہانی کو یاد کرو گے تو یقینا آپ نہایت غمگین اور دکھی ہو جائو گے۔جہاں تک کہ سن کر آپ رونا شروع کر دیں گے اور آپکی آنکھوں سے آنسو نکل آئینگے۔یہ تعجب کی بات نہیں کہ مسیح مرگئے۔آج ہم مسیح کی قربانی کی کہانی شروع کریں گے آدم سے۔بائبل مقدس کے اندر ہم بہت بار یسوع مسیح کی قربانی سے پہلے والی قربانیوں کا ذکر پڑھتے ہیں۔یہ قربانیوں کا سلسلہ کب شروع ہوا۔مسیح کو اس دنیا میں آکر مرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟میں آپکو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر پہلی قربانی نہ ہوتی تو یہ آخری قربانی بھی نہ ہوتی۔آدم ؑاور بی بی حوا نے جب خدا کے حکم کی نافرمانی کی اور وہ پھل کھا لیا جس کو کھانے کیلئے منع کیا تھا اور حکم دیا گیا تھا کہ اگر یہ پھل کھائو گے تو مر جائو گے۔بائبل مقدس کی پہلی کتاب جس کو ’’پیدایش‘‘کی کتاب سے جانا جاتا ہے۔اس کے تین باب اور اکیسویں آیت میں لکھا ہے(پیدایش21:3)اور خداوند نے آدمؑ اور انکی زوجہ’’بی بی حوا‘‘کے واسطے چمڑے کے کرتے بنا کر ان کو پہنائے‘‘کیونکہ وہ ننگے ہو گئے تھے۔لیکن خدا وند جو بھلا ہے اور شفقت ابدی ہے،خدا سے ان کا ننگا پن نہیں دیکھا گیا۔خدا وند کو ان پر ترس آیا۔انکے ننگے پن پر تو وہاں خداوند ایک جانور کو قربان کر کے اس جانور کی کھال سے آدم اور حوا کے ننگے پن کو ڈھکتے ہیں۔کتنا مہربان،رحیم ہے رب العالمین ہے ہمارا خدااور اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چمڑا کہاں سے آتا ہے چمڑا کسی پیڑ یا درخت پر تو نہیں صرف جانور کی کھال سے ہی بنتا ہے۔اب چونکہ جانور اس وقت باغ عدن میں زندہ تھے اور جب چمڑا اتارنا ہے تو کیا کرنا پڑیگا؟کیا جانور کے اوپر سے چمڑا اتار لوگے۔کیا کرنا پڑیگا؟اس ناجور کو مارنا پڑیگا اور پھر جاکر چمڑا یعنی کھال اتریگی۔میرے عزیز:آدمؑ اور بی بی حوا نے گناہ کیا اور اس گناہ سے ان دونوں پر شرمندگی آئی اور اس شرمندگی کو دور کرنے کیلئے ایک زبان،ایک نردوش جانور کو مارنا پڑا۔کیا قصور تھا اس جانور کا؟کیا گناہ کیا تھا اس جانور نے؟کیا پھل اس جانور نے کھایا تھا؟کیا جانور کا اس پھل سے کوئی کینا دینا تھا مگر جانور کو مرنا پڑا اور جانور کی پہلی قربانی خدا وند کی طرف سے ہوئی۔پہلا جانور رنج اور اس کا چمڑا اتارا گیا اور اس چمڑے سے آدم اور حوا کا جسم ڈھک دیا گیا۔کیا ہی اتنا مہربان ہے ہمارا خدا وند۔پہلی قربانی اور آج کی قربانی جو ایسی مسیح نے ہمارے گناہوں کی معافی کیلئے ہمارے گناہوں کو ڈھکنے کیلئے،اسکے اوہر پردہ ڈالنے دی اسکا ایک دوسرے کے ساتھ کیا تعلق ہے؟میرے عزیز:اگر پہلی قربانی نہ ہوتی تو آج کی قربانی بھی نہ ہوتی۔بائبل مقدس میں پرانے عہد نامہ کی تیسری کتاب’’احبار‘‘’’لیوی گرنتھ‘‘جب ہم اسکو پڑھتے ہیں تو وہاں پریوں لکھا ہوا ہے’’بنا خون بہائے پاپوں کی معافی نہیں ہو سکتی‘‘آپکو پتہ ہے اس کے بعد کس نے قربانی دی؟قائن اور ع مل نے کو کہ آدم اور حوا کے بیٹے تھے۔چھوٹے بیٹے ہامل کی قربانی خدا وند کے آگے قبول ہو گئی ہامل نے بھی ایک بھیڑوذبح کیا اور اسکی قربانی دی اور بڑے بیٹے قائن کی قربانی قبول نہیں ہوئی کیونکہ بنا خون بہائے معافی نہیں ہو سکتی کیونکہ جہاں پاپ ہے گناہ ہے وہاں پر کسی کا خون بہانا ضروری ہے۔تیسری قربانی جو ہے وہ اسحاق کی قربانی ہے۔خدا نے ابراہیمؑ کو کہا کہ تو اپنے بیٹے اضحاق کو کیلر پہاڑ ہر جا اور اسکو قربان کر۔راستے میں اضحاق اپنے باپ ابراہیم سے پوچھتا ہے کہ بابا قربانی دینے کیلئے تو آپ نے کوئی چیز نہیں لی۔تو انکے والد ابراہیمؑ نے اضحاق سے کہا کہ بیٹے اس کا انتظام اس کا خدا خود کریگا۔ابھی قربانی ہونے والی ہی تھی کہ اتنے میں اوپ سے آواز آئی رک جا ابراہیم مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم مجھے اپنے بیٹے سے بھی زیادہ پیار کرتے ہو اور پیچھے جہاڑیوں سے ایک دنبہ کا بچہ پاتا ہے۔اپراہیمؑ نے اس میمنہ کو پکڑا اسکو قربان کیا اور اسکی قربانی دی۔میرے عزیز:آئیں ہم غور کریں اگر میمنہ کا انتظام نہ ہوتا تو کیا اضحاق بچ جاتا؟نہیں کیونکہ ابراہیم نے ساتھ اضحاق کو اسکی قربانی دینے کیلئے لیا تھا کیونکہ یہ حکم خوا وند کی طرف سے تھا۔قربانیاں کیوں ہوتی تھیں۔کیونکہ بائبل میں لکھا ہے’’بنا خون بہائے معافی نہیں مل سکتی‘‘کیا ابراہیمؑ کے بیٹے اضحاق نے کوئی گناہ کیا تھا؟غلطی یا گناہ یا کوئی قصور اگر ہوا ہوگا وہ وہ ابراہیم سے ہوا ہوگا لیکن اضحاق کی جان کو بچانے کیلئے ایک میمنہ کو مرنا پڑا۔اگرکسی کی جان کو بچانا ہے یا کسی بھی جان کو بخشنا ہے تو شریعت کے مطابق کسی بے قصور جانور کی قربانی دینی پڑیگی جس کے اندر کوئی غلطی نہ ہو۔جو بلکل بے قصور ہو۔آپکی غلطی کا بوجھ اس نردوش پر لادھ دیا جائیگا۔اب یہ ہوتا اس لیے تھا کہ لوگوں نے اپنے دل کی کٹھورتا سے اسکو ایک بہانا بنا لیا ھا۔غلطیاں کرتے جوئو اور قربانیاں دیتے جائو۔لوگوں نے گنا کرنے کا ایک بہانا بنا لیا ہوا تھا۔اب خدا وند کو پتہ چلتا ہے کہ زمین پر کوئئی بھی گناہ مکت نہیں ہے۔سب گناہ کر رہے ہیں اور قربانیاں دے رہے ہیں کیونکہ مقدس میں لکھا ہے’’سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہے(رومیو23:3)خدا وند نے آسمان سے زمین پر دیکھا کہ ہر انسان،ہر منش گناہ میں پھس کر گھر چکا ہے اور اسکو بچانے کیلئے اب کوئی بھی طریقہ نہیں ہے اور شیطان یعنی ابلیس ان پر پائوں رکھ کر بری طرح روند رہا ہے۔کچل رہا ہے تب خدا وند ایسوی مسیح کو اس زمین پر آنا پڑا۔میرے عزیز:بائبل مقدس میں لکھا ہے کہ خدا کو کسی نے بھی نہیں دیکھا ہے زمین پر آنے کیلئے اس نے جسمانی کڑے پہن لئے نہیں تو بائبل مقدس میں صاف لکھا ہوا ہے کہ ’’خدا روح ہے‘‘آتما ہے۔اگر وہ آتا تو ہمیں پتہ نہیں لگتا تھا۔(یوجنا14:1)میں یوں لکھا ہوا ہے ’’اور کلام مجسم ہوا اور فضل اور سچائی سے معمور ہو کر ہمارے درمیان رہا اور ہم نے اسکا ایسا جلال دیکھا جیسا باپ ک اکلوتے کا چلال‘‘یاد کریں کہ گناہ کرنے سے ایک کامل انسان آدم اپنی اولاد پر موت لے آیا تھا۔ایسوع کی زندگی،انسانی باپ کے بغیر۔براہ راست خدا کے ذریعے وجود میں آئی تھی اس لئے ایسوع ہی ایک واحد شخص ہے جو اس زمین پر مورتی گناہ سے پاک اور کامل انسان کے طور ہر بیدا ہوا تھا۔(اپرس19:1)پس جس طرح ایک کامل انسان آدم کی نافرمانی کے باعث گناہ مینا میں آیا تھا اسی طرح سے ایک دوسرے کامل انسان،ایسوع کی فرما برداری کے ذریعے مکمل کفارہ ممکن ہوا تھا۔(رومیوں17,12:5)اسی لیے و ایسوع نے اہنے بارے میں کہا تھا کہ وہ’’اپنی جان بہتروں کے بدلے فدیہ میں‘‘دینے کیلئے آیا تھا(متی28:20)ایسوع نے آشکارا کیا تھا کہ انسان کو نجات دلانے کی خاطر اسے مرنا تھا۔تاہم،اسکی موت دشمنوں کے سامنے اسکی اپنی کمزوری کے باعث نہیں بلکہ اس کے الٰہی مرضی بجا لانے کے باعث ہوئی تھی۔(عبراینوں7:10)ایسوع نے کہا باپ مجھ سے اس لئے محبت رکھتا ہے کہ میں اپنی جان دیتا ہوں تاکہ اسے پھر لے لوں۔کوئی اسے مجھ سے چھینتا نہیں بلکہ میں اسے آپ پہ دیتا ہوں۔(یوجنا18-17:10)ایسوع مسیح کی پیدائش سے تقریباً سات سو پہلے خدا نے یسعیاہ بنی پیش گوئی کر دی تھی’’میرا خادم‘‘کے طور پر اس کا حوالہ دیا تھا۔اس نے اسے ’’برّہ‘‘سے تشبیہ دی۔’’جدے ذبح کرنے لو لے جاتے ہیں اور فرمایا کہ اسے گناہ کی قربانی کے طور پر گذارا جائیگا۔پس خدا اسے اجردیگا’’کیونکہ اس نے اپنی جان موت کیلئے انڈیل دی اور اس نے بہتوں کے گناہ اٹھا لئے اور خطاکاروں کی شفاعت کی‘‘۔(یسعیاہ12:53,13:52)وانی ایل بنی کی پیشن گوئی میں جس نے مسیحا کے ظہور کے وقت آشکار کیا۔خدا نے ’’بد کرداری کے کفارے‘‘کے بند بست کا بھی ذکر کیا کسکی بدولت گناہ اور خطاکاری کا خاتمہ کیا جائیگا۔اس کے علاوہ خدا نے یہ بھی ظاہر کیا کہ مسیح کو ’’قتل‘‘کیا جائیگا اور وہ ذبیحے اور یدیے کو موقوف کریگا(دانی ایک27:24:9)اب ہمارے کئے خدا کی مرضی کیا ہے؟پاک کلام بیان کرتا ہے کہ ’’خدا اپنی محبت کی خوبی،ہم پریوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر ‘‘یہ اس لیے تھا کہ کو جوئی اس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زنگدی پائے۔(رعمیوں8:5)(یقحنا16:3)خدا چاہتا ہے کہ ہم اور تک فردوس میں رہیں ہمیں کسی قدر خدا کے احسان مند ہونا چاہیے۔جس نے یہ عظیم ترین اور نہایت پیش قیمت کفارے کی قربانی کا بندوبست کر کے ہمارے لئے اتینی محبت کا اظہار کیا۔اس سے ہمیں کیا کرنے کی تحریک ملنی چاہیے؟کلام مقدس بیان کرتا ہے۔’’کیونکہ مسیح کی محبت ہم کو مجبور کر دیتی ہے۔وہ اس لئے سب کیلئے مواکہ جو جیتے ہیں وہ آگے کو اپنے لئے نہ جیں بلکہ اس کیلئے ،جو ان کے واسطے مرا اور پھر جی اٹھا‘‘۔(2کرنیتھوں15-14:5)اسکی خاطر زندہ رہنے کیلئے ہمیں اسکی تعلیمات کو جاننے کی ضرورت ہے۔میرے عزیزبہن،بھائیو،بزرگو اور بچو اسلئے آج کے روز کو مبارک جمعہ یعنی’’گڈ فرائیڈے‘‘اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اس روز خداوند مسیح نے ہمارے گناہوں کی معافی کیلئے ہمیں جنات بخشنے کیلئے صلیب پر اپنی جان قربان کر دی۔جس چیز نے مسیح کو صلیب سے جگڑے رکھا تھا۔وہ کیل مہین تھے بلکہ انسان کیلئے مسیح کی محبت تھی خود کو نہ بچانے کے پیچھے مسیح کا یہ مقصد تھا کہ دوسروں کو بچالے۔مسیح نے یسعیاہ نبی کی نبوت کو پایہ تکمیل تل پہنچادیا اور اپنی زندگی کو موت کے حوالہ کر دیا تاکہ ہم زندہ رہیں اور روز اول سے مسیح کے خدا اور آسمانی باپ کی ہی مرضی تھی۔مسیح کی موت میں ہمیں دل کی شفا اور گناہوں سے معافی کا عطیہ مل جاتا ہے۔کیونکہ وہ خدا کا خادم ہے۔ایک ایسا خادم جسے خدا نے اس کئے زندگی عطا کی تھی کہ ہمارے لئے قربانی بن جائے۔آمین
حمید مٹو
کرسچن کالونی جموں
9419299044