ماسٹر حسام الدین بیتاب کاانتقال
تھنہ منڈی کی دینی ،سماجی و سیاسی شخصیات کا اظہار دکھ
تھنہ منڈی // ماسٹر حسام الدین بیتاب کی موت پر خطہ پیر پنچال بالخصوص تھنہ منڈی کی کئی سیاسی ،سماجی و مذہبی تنظیموں و معززین نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کیلئے دعائے مغفر ت کی ہے ۔چیئرمین میونسپل کمیٹی تھنہ منڈی شکیل احمد میر ،مسلم ایجوکیشنل کے سرپرست خورشید بسمل ، راہ حق کے سید منظر علی شاہ ، پہاڑی لیڈر شہباز خان ، پیرپنچال فورم تھنہ منڈی ، کونسلر حاجی محمد اقبال رینہ سنیئرلیڈر مشتاق احمد شال، نظیر احمد گنائی، بشیر احمد وانی، یوتھ لیڈر طارق شال، شمیم احمد مغل کے علاوہ صحافی برادری نے بھی ماسٹر حسام الدین بیتاب کے انتقال پر دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کا اظہار کیا۔سیاسی و مذہبی تنظیموں کساتھ ساتھ صحافتی طبقہ جن میں نثار خان ،جہانگیر خان،عمران خان، عظمیٰ یاسمین ،جاوید خان،راحیل گنائی ، اور دیگر کئی غیر سرکاری تنظیموں نے اپنے الگ الگ تعزیتی پیغامات میں میں مرحوم موصوف کونامور شاعر ، ادیب ، استاد ، علم و عمل کا پیکر اور نَظم و نثر کا پاسباں اور ایک عظیم قومی سرمایہ قرار دیا۔ انہوں نے مرحوم کی موت پر گہرے دکھ کیساتھ ساتھ دعائے مغفرت بھی کی ہے ۔
کووڈ و بندشوں سے مزدور اور تاجرپریشان
محمد بشارت
کوٹرنکہ //سب ڈویژن کوٹرنکہ میں موجودہ صورتحال میں غریب طبقہ کیساتھ ساتھ درمیانہ درجے کے تاجر کئی طرح کی مشکلات میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔کووڈ کی وجہ سے پید ا ہوئی صورتحال کیساتھ ساتھ انتظامیہ کی جانب سے بچائو کے طورپر عائد بندشوں کے دوران جہاں مزدور طبقہ مزدوری سے بھی محروم ہو گیا ہے وہائیں درمیانہ درجے کے تاجروں کا کاروبار بھی گزشتہ کئی عرصہ سے بند پڑا ہوا ہے ۔کشمیر عظمیٰ کیساتھ بات کرتے ہوئے کئی مزدوروں نے بتایا کہ ان کا روز گار حالیہ کئی ماہ سے بند پڑا ہوا ہے جبکہ باہر کووڈ اور گھروں میں بھکمری کی وجہ سے ان کی دقتیں بڑھتی جارہی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ گزرتے وقت کیساتھ ساتھ ان کے پاس وسائل بھی کم ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔اسی طرح چھوٹے کاروبار میں مصروف دکانداروں نے بتایا کہ لاک ڈائون کی وجہ سے جہاں ان کا ساز و سامان خراب ہوگیا ہے وہائیں اب ان کو کئی طرح کے مسائل بھی درپیش ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ کئی ایک تاجروں نے دکانیں کرائے پر لی ہوئی ہیں جبکہ کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے اب کرایہ بھی ادا کرنے کے اہل نہیں رہے ہیں ۔انہوں نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ ان کو مالی امداد دی جائے تاکہ ان کی پریشانی کم ہو سکے ۔
۔55علاقوں میں عائد بندشیں ختم کی گئی
راجوری //ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری کی جانب سے جاری کردہ ایک حکم نامے کے تحت ضلع میں 55علاقوں میں کووڈ کیس آنے کی وجہ سے عائد بندشیں اور ان کے ریڈ زون کو ختم کر دیا گیا ہے ۔انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ علاقوں میں اب سبھی افراد کے کووڈ ٹیسٹ منفی آچکے ہیں جس کی وجہ سے اب عائد بندشوں کو ختم کر دیا گیا ہے ۔غور طلب ہے کہ مذکورہ علاقوں میں کووڈ کیس آنے کی وجہ سے ان کو ریڈ زون میں رکھا گیا تھا ۔انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق تحصیل سندر بنی میں 22علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا تھا جبکہ کالا کوٹ میں 8تھنہ منڈی میں 5اور راجوری میں 20علاقوں میں بندشیں عائد کی گئی تھیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری نے بتایا کہ حالیہ کچھ دنوں سے کووڈ مثبت معاملات کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔انہوں نے عام لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ کووڈ کے بچائو کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں
گمشدہ نوجوان کی لٹکی ہوئی لاش برآمد
راجوری //راجوری ضلع میں ایک گمشدہ نوجوان کی لاش 7دنوں کے بعد ایک درخت کیساتھ سے لٹکی ہوئی ملی جبکہ پولیس نے اس سلسلہ میں معاملہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہے ۔پولیس نے بتایا کہ گمشدہ نوجوان کی شناخت 20سالہ ورن شرما ولد بیربل شرما سکنہ بال شرما پولیس سٹیشن درمسالہ کے طورپر ہوئی ہے ۔پولیس ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مذکورہ نوجوان 30مئی سے لاپتہ ہوگیا تھا جبکہ اس سلسلہ میں ایک گمشدہ رپورٹ پولیس سٹیشن درمسالہ میں درج کی گئی تھی جبکہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب مذکورہ نوجوان کی لاش گھر سے 400میٹر کی دوری پر ایک درخت کیساتھ سے لٹکی ہوئی ملی ۔پولیس نے بتایا کہ مذکورہ نوجوان کی موت کا معاملہ مشکوک ہے جبکہ لاش کا پوسٹ مارٹم سندر بنی سب ڈویژن ہسپتال میں کیا گیا ۔
مشکوک حالت میں جھلسی خاتون
پولیس نے معاملہ کی تحقیقات شروع کی
راجوری //راجوری قصبہ کے قریب ڈھنی دھار علاقہ میں مشکوک حالت میں ایک خاتون کے جھلس جانے کے بعد پولیس نے معاملہ درج کر کے تحقیقاتی عمل شروع کر دیا ہے ۔خاتون کی شناخت سلیمہ بیگم زوجہ عبدالرحمان سکنہ ڈھنی دھار کے طورپر ہوئی ہے ۔خاتون نے شکایت درج کرواتے ہوئے کہاکہ کچھ رشتہ داروں نے اس کو آگ میں جھونک دیا جبکہ اس کا علاج معالجہ کیا جارہا ہے ۔پولیس نے بتایا کہ خاتون کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے بعد اس سلسلہ میں معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں تاہم جن افراد پر الزامات عائد کئے جارہے ہیں انہوں نے اس عمل سے انکار کیا ہے ۔
v