بہروٹ کی 5 ہزار آبادی پانی سے محروم
محکمہ پی ایچ ای کے پاس کوئی جامع منصوبہ نہیں
طارق شال
تھنہ منڈی// محکمہ پی ایچ ای کے پا س تھنہ منڈی کے علاقہ بہروٹ کی 5000 آبادی کے لئے پانی کی سپلائی کی خاطر کوئی جامع منصوبہ نہیں۔ مقامی عوام نے محکمہ پر غیر سنجیدگی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ پنچایت بہروٹ کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔ا ن کاکہناہے کہ ماہ صیام میں بہروٹ کے سرمایہ دار لوگ اپنی نجی گاڑیوں پر پینے کے لئے دور دراز سے پانی لاتے ہیںجبکہ عام اور سادہ لوگ علاقے سے بہنے والے قدرتی چشموں سے پینے کا پانی لاتے ہیں۔ اس دوران مقامی مستورات کو ان چشموں سے پانی بھرنے کے لئے اپنے مٹکوں کو قطار میں رکھنا پڑتاہے اور ان کا کافی وقت اسی میں ضائع ہوجاتاہے۔لوگوں کی شکایت ہے کہ پنچایت بہروٹ میں محکمہ کی طرف سے پانی فراہم کرنے کے لئے ہینڈپمپ تک نصب نہیں کیا گیا۔ ان کاکہناہے کہ تین ہفتے قبل ضلع انتظامیہ راجوری کی طرف سے بہروٹ میں عوامی دربار کے دوران لوگوںنے پانی کی فراہمی کے لئے کم سے کم آدھ درجن ہینڈ پمپ نصب کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس پر ضلع انتظامیہ نے ہینڈ پمپ نصب کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی تاہم عمل اس پر عمل درآمد ہونے کا انتظار ہے۔ بہروٹ کے سابق سرپنچ و ریٹائرڈ فیزیکل آفیسر عبدالقیوم نائیک کا کہنا ہے کہ بہروٹ کی عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو پانی اور بجلی فراہم کرنا انتظامیہ اور سرکار کا اولین فریضہ ہے،کئی بار محکمہ پی ایچ ای کواپیل بھی کی گئی لیکن ٹال مٹول کے سوا کچھ نہیں ملا۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ راجوری سے مطالبہ کیا کہ بہروٹ جو راجوری اور تھنہ منڈی کا مرکزہے،کی 5000 کی آبادی کو پینے کا پانی فراہم کرنے کیلئے کوئی جامع منصوبہ مرتب کیاجائے تاہم اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیاجارہا۔رابطہ کرنے پر اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر ہیڈ کوارٹر مصطفی میر نے کہاکہ قدرتی چشمے سوکھ گئے ہیںجسکی وجہ سے پانی کا بحران پیداہواہے ۔تاہم انہوںنے کہا کہ ماہ صیام میں بہروٹ کے عوام کو ٹینکر کے ذریعے پانی تقسیم کیا جا رہاہے ۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پانی کی سپلائی کو یقینی بنایاجائے گا۔
سائیں میراںزیارت کے اردگرد ناجائز تجاوزات
انتظامیہ کمیٹی کا فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ
حسین محتشم
پونچھ//ضلع پونچھ کی معروف زیارت سائیں میراں بخشؒ گونتریاں کے اردگرد ناجائز تجاوزات ہورہی ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق لوگ سرکار اراضی پر اورسڑک پر بغیر کسی روک ٹوک کے تعمیرات کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ایک تو اڈہ سکڑ رہا ہے دوسرے وہاں کی خوبصورتی کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تجاوزات کی وجہ سے زیارت عالیہ پر عرس کے دوران گھنٹوں ٹریفک جام لگا رہتاہے۔ذرائع نے بتایاکہ بس اڈہ موڑ سے تک زیارت کی جانب جانے والے راستے اور سڑک کے دونوں اطراف فٹ پاتھوں اور سروس روڈ پر پختہ دکانوں کے ڈھانچے قائم ہوچکے ہیں جبکہ بس اڈہ پر واقع دکانوں کے سامنے تجاوزات قائم کررکھی ہیں ۔سائیں بابا میراں بخش ؒ ٹرسٹ کے ممبر چوہدری غلام حسین نے کہا کہ سڑک پر تجاوز کر کے تعمیرات کی جا رہی ہیں جس کے بارے میںوہ ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سے بارہا اپیل کر چکے ہیں کہ سرکار اراضی سے ناجائز تجاوزات ہٹائی جائیںلیکن افسوس کہ انتظامیہ اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھارہی۔انہوں نے کہا کہ زیارت پر سالانہ عرس اور دیگر پروگراموں کے دوران پہلے ہی جگہ کی قلت کی وجہ سے ٹریفک جام رہتاہے۔انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ محمد اعجاز اسد سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلہ میں سخت کارروائی کرتے ہوئے ناجائز تجاوزات کو مسمار کروائیںتاکہ زیارت پر آنے والے زائرین کو سڑک اور بس اڈہ کی وجہ سے پریشانیوں کا سامنانہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ سیاحت کی جانب سے گونتریاں کو سیاحتی نقشہ پر لایا گیا ہے اور ان ناجائز تجاوزات سے اس علاقے کی خوبصورتی پر بھی فر ق پڑتاہے۔
ڈپٹی کمشنر کے خلاف الزامات بے بنیاد
ترقیاتی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے
جاوید اقبال
مینڈھر//مینڈھر کے لوگوںنے ڈپٹی کمشنر پونچھ پرکچھ لوگوں کی طرف سے لگائے جارہے الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر ان کی مذمت کی ہے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ ضلع پونچھ میں چند مفاد پرست عناصر جواپنی دلالی میں ماہر ہیں اور بدنام زمانہ ہیں،ڈپٹی کمشنر کاتبادلہ کرانے کا مطالبہ کررہے ہیں کیونکہ ان کی دلالی ختم ہوگئی اور اب ایک غریب انسان بھی ڈپٹی کشنر کے دفتر جاسکتاہے۔ان کاکہناہے کہ ضلع پونچھ کی عوام کی یہ خوش قسمتی ہے کہ عرصہ دراز کے بعد ایک ایسا ڈپٹی کمشنرملاہے جس کی ایمانداری پر فخر کیا جا سکتا ہے اور غریب عوام کو ڈی سی پونچھ سے ملنے کے لئے کسی دلال کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ان کاکہناہے کہ غریبوں کے کام کا ج بلاروک ٹوک ہورہے ہیں اور یہ افسوسناک بات ہے کہ ایسے غریب پرور افسر کے تبادلے کے مطالبے کئے جارہے ہیں ۔ لوگوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے جو علاقہ کی ترقی نہیں چاہتے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایک ٹھیکیدار کو کہاں کا حق ہے کہ عمارت مکمل ہو جانے کے بعد اس کو تالا لگا کے رکھے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ان لوگوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیںگے ۔حاجی شارق خان ،سنجیو کمار شرما،ندیم ریاض، اوپرکاش،کوشل کمار شرما، عبادت خان، سرپنچ محمد آفتاب، ایڈووکیٹ نثار احمد،ایڈووکیٹ علی صیدبیگ، ایڈووکیٹ محمد افضل،حاجی محمد صادق خان، ماسٹر عنایت اللہ خان،محمد اعظم فانی، سابق رینج آفیسر شمیم خان،محمد صادق چوہدری،سید صادق حسین شاہ،سابق سرپنچ نذیر چوہدری وغیرہ کاکہناہے کہ فوری طور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرکے مقدمہ درج کیا جائے جو ایک ایماندار آفیسر کو غریب عوام کے کام کرنے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ نے مختصر سے عرصہ کے دوران ضلع پونچھ میں کئی مقامات پر عوامی دربار لگاکر مسائل حل کئے اور اختراعی اقدامات اٹھاتے ہوئے انتظامیہ کو جوابدہ بنانے کی کوشش کی ۔
آنگن واڑی مراکز کو سامان تقسیم
سرنکوٹ //سی ڈی پی او سرنکوٹ نے تاج النساء کاظمی نے آنگن واڑی سینٹروں میں ٹاٹ تقسیم کئے۔اس دوران بچوں کی تعلیم کے لئے چارٹ اور دیگر سامان بھی دیا گیا۔سی ڈی پی او نے بتایا کہ 70 آنگن واڑی ورکران کو ابھی تک ٹاٹ اور دیگر سازوسامان دیا گیا جا چکا ہے اور آنے والے دنوں میں بقیہ سینٹروں کو بھی سامان تقسیم کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی یہ کوشش ہے کہ ہر کسی آنگن واڑی سینٹر میں اعلیٰ اور معیاری قسم کا سامان دیا جائے اور ایسا سازوسامان دیا جائے جو بچوں کی بنیادی تعلیم کے لئے فائدہ مند ہو۔انہوں نے کہا کہ تصاویر والے چارٹ بھی سینٹروں کودئے گئے ہیں جن سے بچے آسانی سے سیکھ پائیں گے۔
رمضان جنگ بندی ایک بھونڈا مذاق: پیپلز مومنٹ
راجوری//جموں کشمیر پیپلزمومنٹ نے سرکارپر ریاست میں انسانی حقوق کی لگا تار خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے نئی دہلی کی جانب سے اعلان کردہ رمضان جنگ بندی کو ایک بھونڈا مذاق قرار دیا ہے۔ یہاں جاری ایک پریس بیان کے مطابق سینئر حریت رہنما اور پیپلز مومنٹ کے چیئر مین میر شاہد سلیم نے گزشتہ روز سرینگر جامع مسجد کے باہر فورسز کی جانب سے مظاہرین پر گاڑی چرھائے جانے کے واقعے کی پر زور مذمّت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں جبر و استبداد کی ساری حدیں پار کر دی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پیلٹ اور گولی سے نوجوانوں پربراہ راست وار کرنے کے بعد اب نوجوانوں کو اپنی گاڑیوں سے روندنا فورسز کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز فورسز اہلکاروں نے جس بے دردی کے ساتھ فتح کدل کے اکیس سالہ قیصر احمد بٹ کوگاڑی کے نیچے روند کر قتل کر دیا اور دوسرے کئی کو زخمی کر دیا ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس بیہمانہ طریقہ سے کشمیر کی مزاحمتی آواز کو کچلنے کی کوشش ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے ماہِ صیام کے مقدس موقعہ پر جس یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا ،اس کااطلاق زمینی سطح پر دور دور تک بھی نظر نہیں آرہا بلکہ اس کی حیثیت محض ایک بھونڈے مذاق سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو یہ بات ہر گز نہیں بھولنی چاہیے کہ ظلم و زیادتی سے وہ کشمیری قوم کا جذبہ مزاحمت کچل نہیں سکتا اوراس بات کا اندازہ اسے آپریشن آل آؤٹ کے دوران بخوبی ہو گیا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری قوم استصواب رائے کی خاطر ایک پرامن سیاسی تحریک چلا رہے ہیں جس کا وعدہ ان کے ساتھ عالمی برادری نے کر رکھا ہے۔ انہوں نے رمضان جنگ بندی کو حقیقت سے بعید ایک کھوکھلا اعلان قرار دیتے ہوئے کہاکہ سیکورٹی فورسز نے دوران رمضان بھی عام شہریوں کے خلاف ظلم و بربریت کا بازار گرم کئے رکھا ۔حریت رہنما نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل جو کچھ فلسطین میں کر رہا ہے ، من و عن وہی حربے اور ہتھکنڈے آزادی پسند کشمیری قوم کے خلاف استعمال کئے جارہے ہیں۔
تھنہ منڈی کی طالبہ کے دسویں میں 94فیصد نمبرات
تھنہ منڈی// تھنہ منڈی کی ایک طالبہ نے دسویں جماعت کے امتحان میں 94فیصد نمبر ات حاصل کر کے علاقے کا نام روشن کیاہے۔ تھنہ منڈی کی سحر محمود دختر طلعت محمود شال جو دہلی پبلک اسکول جموں میں زیر تعلیم ہیں،نے دسویں جماعت کے سی بی ایس ای کے تحت ہونے والے نتائج میں بہترین کارگردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 94 فیصدنمبر ات حاصل کئے ہیں۔ اس طالبہ کی کامیابی پر اہالیان تھنہ منڈی نے اسے مبارکباد پیش کی ہے ۔ مقامی لوگوں نے بچی کے تئیںنیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس نے علاقے کا نام روشن کیاہے اوروہ دعا گو ہیں کہ آئندہ بھی اسی طرح سے کامیابی پاتی رہے ۔