مزید خبرں

سرکاری ٹیچر کا پولیس سے انصاف کا مطالبہ 

جاوید اقبال
مینڈھر//مینڈھر کے اڑی علاقہ سے تعلق رکھنے والے ایک ٹیچرنے پولیس پر کارروائی نہ کرنے کا الزام عائد کیاہے۔سرکاری ٹیچر ظفر اقبال نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اس کے ساتھ انصاف کیاجائے۔اس کاکہناہے کہ چند روز قبل وہ اپنی زمین میں جارہاتھا جس دوران  یوگیش کمار گپتا ولد جے کمار گپتا نے اس کے ساتھ گالی گلوچ کرنے لگا اور اس پر حملہ آور ہواجس کے ساتھ ہی اس کے چند رشتہ دار بھی حملہ آور ہوئے اور وہ مشکل سے جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔انہوں نے الزام لگایاکہ وہ انہیں جان سے مارناچاہتے تھے۔ظفر کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں انہوں نے اس سلسلے میں پولیس کے پاس شکایت درج کرائی تھی لیکن اس وقت تک کوئی بھی کارروائی نہیں ہوئی جبکہ پولیس نے ایک طرفہ کارروائی کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حملہ ہونے کے ان کے پاس ثبوت ہیں اس لئے پولیس کارروائی کرکے اسے انصاف دلائے۔رابطہ کرنے پرایس ڈی پی او مینڈھر نے کہا کہ ظفر ان کے پاس ثبوت لائے جس کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
 

مینڈھر میں عید گاہ سے محرومی 

نمازی پریشان ،ڈپٹی کمشنر پونچھ سے زمین کی فراہمی کی مانگ 

جاوید اقبال
مینڈھر//مینڈھر قصبہ میں عید گاہ نہ ہونے کی وجہ سے نمازیوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑتاہے۔مقامی لوگوں نے عید گاہ کیلئے اراضی فراہم کرنے کا بارہا مطالبہ کیا لیکن اس وقت حکومت کی طرف سے اراضی فراہم نہیں کی گئی۔لوگوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کئی سال بیت گئے اوران کی عید گاہ کی فائل پتہ نہیں کس دفتر کی دھول چاٹ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کچھ سال قبل انہوں نے عید گاہ کی زمین کیلئے فائل بنا کے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ کو دی تھی اورانتظامیہ نے یقین دلایاتھاکہ بہت جلد زمین الاٹ کی جائے گی جس کے بعد باقاعدہ طور عید گاہ بنائی جائے گی جہاں لوگ عید کی نماز ادا کرسکیں گے تاہم اب تک یہ فائل  گمنام ہے۔ان کاکہناہے کہ ہر سال عید کے موقعہ پر نمازیوں کو سخت مشکلات کاسامنا کرناپڑتاہے کیونکہ مینڈھر قصبہ میں کہیں پر بھی عید گاہ کے لئے جگہ نہیں ہے جہاں لوگ عید پڑھ سکیں۔انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر محمد اعجاز اسد سے اپیل کی ہے کہ جلد سے جلد عید گاہ کیلئیزمین فراہم کی جائے تاکہ لوگ آرام سے عید کی نماز ادا کر سکیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ مقامی ہونے کے ناطے اس مسئلہ کو اولین فرصت میں حل کریں گے۔
 
 

جامع مسجد مینڈھر میں امن کیلئے دعائیں مانگی گئیں

جاوید اقبال
مینڈھر//مرکزی جامع مسجد مینڈھر میں جمعتہ الوداع کے موقعہ پر امن و امان و خوشحالی کیلئے دعائیں مانگی گئیں۔امام و خطیب جامع مسجد مینڈھرمولانا محمد سلطان نقشبندی نے جمعتہ الوداع کے موقعہ پرلوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی سلامتی کے لئے دعا کی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ ملک میں امن رہے تاکہ لوگ عید کا تہوار آرام سے مناسکیں۔انہوں نے ریاست اور خاص طور پرکشمیر میں بھی امن کی بحالی کیلئے دعائیں مانگیں۔انہوں نے تمام اہل اسلام کو عید کی پیشگی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ عید کی خوشیوں میں غرباو مساکین کو بھی شامل کیاجائے۔
 

ممنوعہ ادویات سمیت ایک گرفتار

طارق شال
/ تھنہ منڈی// تھنہ منڈی میں پولیس نے ممنوعہ ادویات برآمد کرتے ہوئے ایک شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیاہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تھنہ منڈی پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر الطاف حسین نے راجوری۔تھنہ منڈی سڑک پر بمقام کھبلاں  ناکہ لگا کر تلاشی مہم شروع کی جس دوران ایک منشیات فروش جسکی شناخت جہانگیر اقبال ولد محمد اقبال سکنہ پرانہ تھنہ منڈی کے طور پر ہوئی ہے ،کی تحویل سے 680 نشے والے کیپسول اور 8 پتے نشہ آور ٹکیاِ ں برآمد ہوئی۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ زیر نمبر 89/2018 زیر دفعات 8/21/22 ایکسائز ایکٹ درج کر کے کارروائی شروع کر د ی ہے۔مقامی سیاسی و سماجی تنظیموں نے منشیات مخالف کارروائی پر پولیس کی ستائش کی ہے۔
 
 

پندرہ سالہ لڑکاغرقآب

سمت بھارگو
راجوری//راجوری میں ایک پندرہ سال کا لڑکاپانی میں ڈوب کر لقمہ اجل بن گیاہے۔یہ واقعہ دن کے ایک بجے پیش آیا جب بیلہ کالونی کے نزدیک درہالی دریا میں چند دوست نہارہے تھے جس دوران عمر اقبال ولد محمد اقبال عمر پندرہ سال ساکن بیلہ کالونی ڈوب کر لقمہ اجل بن گیا۔پولیس کے مطابق اس لڑکے نے نہانے کیلئے دریا میں چھلانگ لگائی اور وہ گہرے پانی میں چلاگیا جہاں سے اسے نکالنے کیلئے مقامی نوجوان دوڑ کر پہنچے جبکہ ایس ڈی آر ایف ٹیمیں بھی آگئیں تاہم بعد میں اس کی نعش برآمد ہوئی۔اس دوران پولیس نے قانونی لوازمات پورے کرنے کرکے نعش آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے لواحقین کے سپرد کردی۔
 

مشکوک نقل و حرکت 

راجوری کے متعدد علاقوں میں تلاشی کارروائی

سمت بھارگو
راجوری//سیکورٹی فورسز نے مشکوک نقل و حرکت کی اطلاع ملنے پر راجوری کے متعد دعلاقوں میں تلاشی کارروائی شروع کی ہے۔ذرائع نے بتایاکہ فورسز کی طرف سے اگراتی، پلولیاں،نگوں علاقوں میں تلاشی کارروائی شروع کی گئی ہے کیونکہ ان علاقوں میں مشکوک نقل و حرکت کی اطلاع ملی۔ایس ایس پی راجوری یوگل منہاس نے تلاشی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ مشکوک نقل و حرکت کی اطلاع پر کچھ علاقوں میں تلاشی لی جارہی ہے۔
 

آتشزدگی سے صرافہ دکان خاکستر

رمیش کیسر
نوشہرہ//نوشہرہ بازار میں پراسرار طور پر اچانک نمودار ہوئی آگ کی وجہ سے صرافہ دکان میں رکھاگیا سامان جل کرخاکستر ہوگیا اور دکان کے مالک کو لاکھوں روپے کا نقصان ہواہے۔مقامی ذرائع نے بتایاکہ وجے کمار جیولرس کی دکان میں اچانک پراسرار طو رپر آگ لگ گئی جس سے دکان کے اندر رکھاہواسامان خاکستر ہوگیا اور لاکھوں روپے کا نقصان پہنچاہے۔ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکاہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ کیاہے۔
 

چالیس گاڑیوں کے چالان کاٹے گئے

رمیش کیسر
نوشہرہ//ٹریفک پولیس کی طرف سے نوشہرہ میں مختلف مقامات پر ناکے لگائے گئے جس دوران چالیس گاڑیوں کے چالان کئے گئے۔ ٹریفک پولیس نے ڈرائیوروں کو قوانین کا پابند رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ خلاف ورزی کرنے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
 

محکمہ صحت نے کوئی اقدام نہ کیا

پی ایچ سی منجاکوٹ میں فوج کی طرف سے ڈاکٹر فراہم 

پرویز خان
منجاکوٹ//محکمہ صحت کی طرف سے پرائمری ہیلتھ سنٹر منجاکوٹ میں ڈاکٹر کی تعیناتی عمل میں نہ لائے جانے کے بعد فوج نے ایک ڈاکٹر فراہم کیاہے جس نے جمعہ سے اپنا کام شروع کردیا۔اس طبی مرکز میں کئی عرصہ سے ڈاکٹروں کی قلت کاسامناہیجس کے نتیجہ میں مریضوں کا علاج نہیں ہوپاتااور انہیں مجبوراًراجوری جاناپڑتاہے۔محکمہ صحت کی طرف سے کوئی اقدام نہ کئے جانے کے بعد یہ معاملہ فوج کے نوٹس میں لاکر ڈاکٹر کی فراہمی کا مطالبہ کیاگیا جس پر بریگیڈ کمانڈرکی طرف سے جمعہ سے ایک ڈاکٹر کو پی ایچ سی میں بٹھایاگیاہے جس نے مریضوں کا علاج کرنا شروع کردیا۔ اس اقدام پر مقامی لوگوں نے فوج کا شکریہ ادا کیاہے۔ مقامی شخص فاروق خان کاکہناہے کہ ڈاکٹر کی فراہمی محکمہ صحت کی ذمہ داری تھی لیکن اس نے اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیااور اب فوج نے ڈاکٹر فراہم کیاہے جس کیلئے وہ فوجی حکام کے شکر گزار ہیں۔
 

بوسیدہ نعش کی قبر کشائی 

کشمیر کالاپتہ نوجوان ہونے کا شبہ 

سمت بھارگو
راجوری//حکام نے پونچھ قبرستان میں ایک بوسیدہ نعش کی قبر کشائی کی ہے جو شائد وادی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کی ہوسکتی ہے جس کی گمشدگی کے بارے میں رپورٹ بھی درج کی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق انتیس مئی کو چکاں داباغ کے نزدیک دریا سے ایک بوسیدہ نعش برآمد ہوئی جس کو پولیس نے قانونی لوازمات پورے کرنے کے بعد دفن کردیاگیا۔ پولیس نے بتایاکہ نعش کو بہتر گھنٹوں تک ضلع ہسپتال رکھاگیاتاہم کسی نے بھی اس کا دعویٰ نہیں کیاجبکہ اس حوالے سے سوشل میڈیا میں بھی اطلاع دی گئی جس کے بعد اسے اوقاف اسلامیہ کے حوالے کردیاگیا۔اس سلسلے میں پولیس نے دفعہ 174کے تحت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی جس دوران یہ بات سامنے آئی کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان پچھلے کچھ عرصہ سے پونچھ سے لاپتہ ہے جس کی گمشدگی کی رپورٹ پچیس مئی کو پولیس اسٹیشن پونچھ میں درج کروائی گئی۔یہ درج شکایت پونچھ کے ایک مقامی نوجوان کی طرف سے درج کروائی گئی جس کے مطابق اس کا دوست عبیداللہ ولد عبدالحمید ساکن سرینگر اس کے گھر آیاتھا جو پراسرار طور پرلاپتہ ہوگیا۔ابتدائی طور پر نوجوان کے والد کو سرینگر سے پونچھ بلایاگیا تاہم اس نے کہاکہ یہ اس کے بیٹے کی نعش نہیں۔تاہم پولیس کو برابر یہ شبہ رہا کہ شائد یہ نعش اسی لاپتہ نوجوان کی ہوجس پر اس نوجوان کی والدہ کو بلایاگیاجس نے اس سے تعلق رکھنے والے اشیاکی شناخت کی جس سے اس قیاس کو مزید تقویت ملی۔وہیں پولیس نے جمعہ کے روز ضلع مجسٹریٹ کی اجازت سے ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی موجودگی میں کیمرے کے درمیان قبرکشائی کی اور نعش کووادی سے تعلق رکھنے والے ورثاکے حوالے کردیا۔ایڈیشنل ایس پی پونچھ انوار الحق نے بتایاکہ نعش اور متعلقہ خاندان کے ڈی این اے نمونے حاصل کرکے شناخت کیلئے لیبارٹری بھیجے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نوجوان کی والدہ نے کچھ چیزیں پہچان لیں جس کے بعد ضلع مجسٹریٹ کی اجازت سے قبر کشائی کی گئی۔انہوں نے بتایاکہ پولیس کو کچھ ایسے شواہد بھی ملے ہیں جن سے ان شکوک کو تقویت ملتی ہے کہ یہ نعش وادی سے تعلق رکھنے والے اسے نوجوان کی ہوگی جو لاپتہ ہوا۔دریں اثنایہ معلوم ہواہے کہ لاپتہ نوجوان بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں کام کرتارہاہے تاہم وہ لاپتہ ہونے کے وقت یونیورسٹی کا حصہ نہیں تھا۔