دفعہ 35 اے کی منسوخی کیخلاف پرامن احتجاج کی اپیل
رام بن// جدید جامع مسجد رام بن کے امام و خطیب مولانا نذیر احمد قاسمی نے کہا کہ دفعہ 35اے ایک بنیادی آئینی مسئلہ اور ریاست کے آئینی ڈھانچے کا حصہ ہونے کے علاوہ ریاستی عوام کے اکثریتی طبقے کے لئے دین و ایمان کا مسئلہ ہے۔ اس لئے شریعت کے لحاظ سے بھی اس کا دفاع کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 35-A سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان کی دیگر ریاستوں کی طرح ریاست جموں و کشمیر ہندوستان میں ضم نہیں ہوئی ہے۔ بلکہ 1954میں وزیر اعظم ہند جواہر لال نہرو اور وزیر اعظم جموں و کشمیر شیخ محمد عبد اللہ کے درمیان بحث و تمحیص کے بعد مشروط الحاق ہواہے۔ دفعہ 370 اور 35-A اہلیان جموں و کشمیر کو ہندوستان کی جانب سے بھیک یا خیرات کے طور پر نہیں ملا ہے بلکہ اس کے عوض ریاست نے اپنی خود مختاری کو سپرد کیاہے۔ اسی دفعہ کے سبب ریاستی اسمبلی کو یہ اہمیت اور اختصاص حاصل ہے کہ ریاستی اسمبلی کے بنائے گئے قوانین کو پارلیمنٹ بھی تبدیل نہیں کر سکتی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ کا بنایا ہوا کوئی قانون ریاست میں ریاستی اسمبلی کی منظوری کے بغیر نافذ ہوسکتا ہے۔ 35-A میں تبدیلی یا منسوخی اسرائیلی پالیسی کا حصہ ہے کیوں کہ ہندوستان کو اس بات کا ادراک و احساس ہوچکاہے کہ ایک نہ ایک دن اسے اپنے کئے گئے وعدے کو وفا کرتے ہوئے ریاست میں رائے شماری کرانا پڑے گی ۔ اس لئے وہ 35-A کی منسوخی کے ذریعہ جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کررہا ہے۔ ۔ مولانا نے عوام الناس اور قوم کے دانشوران سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوستان کے اس مذموم و مبغوض منصوبے کو خاک میں ملانے کے لئے متحد و متحرک ہوکر 35-A کا دفاع کریں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کو بھی چاہیے کہ 35-A سے متعلق آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم کی جانب سے دائر کردہ درخواست کو سرے سے ہی خارج کردے۔ کیوں کہ جو چیز بحث کے دائرے میں نہیں آسکتی ہو اس کو عدالت میں بحث کے لئے منظور کرنا بھی غیرقانونی ہے۔ اور عدالتوں کا کام آئین بنانا، بدلنا یا منسوخ کرنا نہیں ہے بلکہ ان کا کام آئین پر عمل درآمد کرانا ہے۔ مولانا نے اس موقع پر ائمہ مساجد سے خصوصی طور پر اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمعہ کے موقع پر اپنے خطابات میں دفعہ 35-A کے بارے میں عوام الناس کو روشناس کرائیں اور اس دفعہ کی منسوخی کی مذمت کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقراررکھتے ہوئے حدود مساجد میں اور آئین و قانون کی پاسداری کرتے ہوئے صدائے احتجاج بھی بلند کریں۔
سروڑی کی بھاجپا کی غلط پالیسیوں کو بے نقاب کرنے کی اپیل
کشتواڑ//جموں وکشمیرپردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدرورکن اسمبلی اندروال غلام محمد سروڑی نے پارٹی لیڈرپرزوردیاہے کہ وہ بھاجپاکی غلط پالیسیوں اور تفرقہ ڈالنے والے منصوبوں کوبے نقاب کرنے کیلئے گھرگھر پہنچیں۔وہ یہاں تحصیل مغل میدان کے کوچھال میں مختلف پارٹی کارکنوں کی میٹنگوں سے خطاب کر رہے تھے۔ سروڑی نے کوچھال کا تفصیلی دورہ شروع کیا۔جہاں وانی محلہ، میر محلہ، ہکواس، لوہار محلہ، ہجام محلہ، راتھر محلہ، شیخ پورہ، آہنگر محلہ، نورپلاں، گنائی محلہ، شیخ پورہ، بٹ پورہ، کھونتی محلہ، رائیں محلہ وغیرہ میں اُنہوں نے کارکنوں کی میٹنگیں منعقد کیں۔اس موقع پراُنہوں نے بولتے ہوئے کہاکہ کارکنان عوامی اہمیت کے مسائل کواُجاگرکرنے اور حکامِ بالا تک پہنچانے میں کوئی کسرباقی نہ چھوڑیں۔اُنہوں نے کہاکہ وہ عوام کے معیارِ حیات کوبلندبنانے میں کوئی کسرباقی نہ چھوڑیں گے۔اُنہوں نے ترقیاتی رقومات کی منصفانہ اور یکساں بروئے کاری کااعادہ کرتے ہوئے کہاکہ تعمیروترقی کے معاملے میں کسی علاقے کیساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی جائیگی۔سروڑی نے کارکنان پرزوردیاکہ وہ پارٹی ڈھانچے کوبوتھ سطح سے مضبوط بنائیں تاکہ کانگریس پھر سے اپنے دم پرریاست جموں وکشمیرمیں امن وامان اور خوشحالی لانے کے اہل بن جائے۔ اُنہوں نے کہاکہ کانگریس دورمیں غلام نبی آزادکے دورمیں ریاست میں عوام کی زندگیوں میں نئی بہارآئی تھی، یہاں تعمیروترقی کاایک انقلابی سلسلہ شروع ہواتھا۔اُنہوں نے کہاکہ کانگریس بلاذات ، مذہب وملت ،علاقہ جات عوام کی فلاح وبہبودکی وعدہ بندہے۔اُنہوں نے بھاجپاسرکارپرالزام عائدکیاکہ انتظامیہ میں کورپشن کی جڑیں مضبوط کرنے میں بھاجپانے کوئی کسرباقی نہ چھوڑی اور پورے نظام کوکورپشن سے زنگ آلودہ بنادیا۔انہوں نے کہاکہ مرکزمیں این ڈی اے حکومت بننے کے بعد سے ملک تباہی کے دہانے پرپہنچ چکاہے جبکہ ریاست جموں وکشمیرمیں بھی بھاجپا۔پی ڈی پی کی سابقہ مخلوط سرکارنے ریاست کوایک ایسی تاریکی میں جھونک دیاجس سے باہرنکلنے کیلئے نہ صرف مرکزمیں یوپی اے تین کی سرکاردرکارہے بلکہ جموں وکشمیرمیں کانگریس کی مکمل سرکار کاقیام لازمی ہے اوریہ عوامی اُمنگ ہے ، عوام موقع کی تلاش میں ہیں کہ وہ کب ان پی ڈی پی بھاجپاجیسی مفاد پرست قوتوں کوسبق سکھائیں جنہوں نے عوام کوسبز باغ دکھانے اور تقسیم کرنے کے سواکچھ نہیں کیا۔اس موقع پردرجنوں سیاسی کارکنان نے کانگریس کادامن تھام لیا۔اس سلسلے میں ایک سادہ مگر پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں سروڑی نے نئے سیاسی لیڈران کاپارٹی میں خیرمقدم کیا۔اس موقع پرسروڑی نے اپنے خیالات کااِظہارکرتے ہوئے مرکزکی یوپی اے سرکارکے دورکی حصولیابیوں وعوامی فلاح وبہبودکے پروگراموں کاذکرکرتے ہوئے کارکنان پرزوردیاکہ وہ ریاست اورملک کی بہتری کیلئے کانگریس کی مضبوطی کیلئے جی توڑ محنت کریں۔
بھدرواہ میں جدید طرز کے ذبیح خانہ کا افتتاح
ڈوڈہ //بھدرواہ میں جدید ذبیح خانہ کا افتتاح کیا گیا ، اس طرح سے بھدرواہ ریاست کے ان اہم قصبوں میں شامل ہوگیا جہاں پر جدید طرز کے ذبیح خانے ہیں،ضلع ترقیاتی کمشنر سمرن دیپ سنگھ نے یہ جدید ذبیح خانہ کو سرکاری اہلکاروں ، میونسپل کمیٹی اہلکاروں اور سول سوسائٹی ممبران کی موجود گی میں عوام کو وقف کیا ۔اس جدید طرز کے ذبیح خانہ میں تمام سہولیات دستیاب ہیں،جسکی تکمیل 2۔کروڑ روپے کی لاگت اسپیشل ٹاسک فورس فنڈنگ کے تحت کی گئی ہے۔ اس پروجیکٹ پر کام 2013 میں شروع کی گئی تھی لیکن فنڈوں کی تنگی کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی۔ ضلع ترقیاتی کمشنر نے اپنے حالیہ دورہ بھدرواہ کے دوران میونسپل کمیٹی سے کہا تھا کہ اس اہم عوامی اثاثہ کو بروئے کا رلائے کیونکہ پروجیکٹ گُذشتہ کئی مہینوں سے مکمل کیا گیا ہے۔
بھدرواہ یوتھ فیسٹول کے انتظامات کی حتمی شکل
پہلی مرتبہ کشمیر اور لداخ کے طلاب شرکت کر رہے ہیں
بھدرواہ//آنے والے بھدرواہ یوتھ فیسٹول (سنگم ۔2019)کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے سلسلہ میں بھدرواہ کیمپس میں جمعرات کے روز ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کیا گیا ، جس میں بھدرواہ کیمپس کے اعلیٰ اہلکاروں اور 4۔راشٹریہ رائفلز نے بھی شرکت کی۔ بھدرواہ کیمپس کے اعلیٰ اہلکاروں اور 4۔راشٹریہ رائفلز کے اشتراک سے اس پانچ روزہ یوتھ فیسٹول (سنگم ۔2019)کا انعقاد 28اگست سے یکم ستمبر تک ہوگا۔اس سلسلہ میں کئے جارہے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لئے کیمپس کے ریکٹر پروفیسر جی ایم بٹ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جی ایم بٹ نے کہا کہ اس یوتھ فیسٹول میں پہلی مرتبہ کشمیر اور لداخ خطوں کے طلاب بھی حصہ لے رہے ہیں، جس سے ان خطوں کے درمیان آپسی اشتراک ،بھائی چارہ مزید مستحکم ہوگا اور طلاب اور مقامی لوگوں کو فوج کے ساتھ کام کرنے کی حوصلہ افزائی ہو گی۔فیسٹول میں چنا ب خطہ ، کشمیر اور لداخ خطہ کے مُختلف کالجوں کے400سے زائد طلاب اس میں شرکت کریں گے۔کُل ملا کر 40 مُختلف مقابلے یعنی کہ سپورٹس ( دونوں انڈور اور اوٹ ڈور ) فائن آرٹس،پرفارمنگ آرٹس، اور اکیڈمکس (کوئیز ،بحث و مباحثۃ،لیکچر سئیرئیز ) فیسٹول کے دوران منعقد کئے جائیں گے۔پروفیسربٹ نے مزید کہا کہ بھدرواہ کیمپس نے متعدد ن اکیڈمک،سپورٹس اور کلچرل ایونٹس بشمول ٹی۔20کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کئے ہیں۔
ناقص تعلیمی نظام پر یوتھ ویلفیئر ایسوسی ایشن برہم
غریب طلاب کے مستقبل کیساتھ کھلواڑ کا الزام
عظمیٰ نیوز
ڈوڈہ //ڈسٹرکٹ رورل یوتھ ویلفیئر ایسو سی ایشن(DRYWA) نے ضلع میں مبینہ ابتر ہو رہے تعلیمی نظام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ایک نیوز ایجنسی سے باتیں کرتے ہوئے DRYWA کے صدر فرید احمد نائیک نے دیہی علاقوں کے طلاب کو در پیش مسائل کی ایک لمبی فہرست پیش کی۔انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں تعلیمی معیار کی بہتری کیلئے متعدد فلیگ شپ سکیمیں متعارف کی گئیں لیکن ان کا صیح استعمال نہیں کیا گیا ہے جسکی وجہ سے دیہی سکولوں میں طلاب کی تعداد بتدریج کم ہو تی جا رہی ہے،جسکی سب سے بڑی وجہ تعلیمی معیار کا فقدان اور لوگوں کا محکمہ تعلیم پر اعتماد کی کمی ہے۔انہوں نے سکولوںمیں اساتذہ کی کمی کو بھی دوسری سب سے بڑی وجہ بیان کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسکے علاوہ انفراسٹریکچر کی کمی ،کلاس رووموں، ٹائیلٹ، رسوئی شیڈوں کی ابترحالت بھی حُکام کی غفلت شعاری کی زندہ مثالیں ہیں۔انہوں نے مڈَ ڈے میل میں حفظان صحت کا فقدان بھی سب سے بڑی وجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ تعلیمی نظام کی وجہ سے دیہی علاقوں کے طلاب کوکافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے سرکارسے ا س طرح غریب طلاب کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑکا الزام لگایا ۔ انہوںنے کہا کہ ڈسٹرکٹ رورل یوتھ ویلفیئر ایسو سی ایشن(DRYWA)نے ضلع بھر میںہمیشہ سے ہی عوام کے مسائل اُبھارے ہیں اورمتعلقہ حُکام سے اسکی جانب توجہ مبذول کرنے کی اپیل کی ہے۔
دھرماڑی،ریاسی میں والی بال چمپئن شپ کا اہتمام
ریاسی //فوج کی جانب سے بگا میں والی بال چمپئن شپ کا اہمتام کیا ،جسکا مقصد ان علاقوں کے نوجوانوں میں سپورٹس مین شپ کا جذبہ پیدا کرکے انکی فروغ کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔چمپئن شپ میںخطہ کے مُختلف دیہات کی23ٹیموں نے شرکت کی۔ٹورنامنٹ ناک اوٹ بنیادوں پر منعقد کی گئی۔ارناس ’اے‘ ٹیم کو سب سے بہترین چمپئن ٹیم قرار دیا گیا ،جس نے سلال ٹیم کو ایک کانٹے کی ٹکرمیں شکست دی۔ٹورنا منٹ میں لوگوں نے کافی جو ش وخروش سے شرکت کی۔چمپئن شپ کا آخری میچ دیکھنے کے لئے راجوری کے دیہات سے 140سے زائد مقامی لوگوں نے شرکت کی۔چمپئن شپ میں تمام ٹیموں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا ۔مقامی لوگوں نے فوج کی جانب سے چمپئن شپ منعقد کرنے پر فوج کی ستائش کی ۔
دھرنگدرون، کشتواڑ میں بیداری کیمپ کا اہتمام
کشتواڑ//فوج کی جانب سے ضلع کے دھرنگدرون میں ایک بیداری کم کونسلنگ سیشن کا اہتمام کیا گیا ، جس کامقصد خطہ کے دور افتادہ علاقہ کے نوجوانوں کو نیشنل رورل لائیو لی ہُڈ مشن کے تحت روز گار کی مختلف مواقعوں کی جانکاری دینا تھا ۔لیکچر کا اہتمام سرکاری اہلکاروں کے اشتراک سے کیا گیا تھا جسکا ہدف10ویں اور بارہویں جماعت کے طلاب اور دیہی نوجوانوں کو اپنے ہنر کا مظاہرہ کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا اور انہیں باہری دنیا سے جوڑا جا سکے تاکہ وہ با معنی روز گار حاصل کر سکیں۔علاقہ کے37نوجوانوں نے اس لیکچر میں شرکت کی ۔ اس موقعہ پر انہیں حمایت سکیم کے تحت اندراج کرنے کے لئے مطلوبہ طریقہ کار اور دستاویزات کی جانکاری دی گئی اور انہیں ان کورسوں میں شامل ہونے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔مقامی لوگوں اور نوجوانوں نے ایسی کاوشیں کرنے پر فوج کی ستائش کی۔ اس موقعہ پر فوج کی جانب سے در دست لئے گئے مختلف پروجیکٹوں کا خاکہ بھی پیش کیا گیا ۔