مزید خبرں

مغل میدان ،کشتواڑ میںاسٹیشنری اشیاء تقسیم 

کشتواڑ//فوج کی جانب سے ضلع کے مغل میدان کے مدرسہ میں فوج کی جانب سے اسٹیشنری ائیٹمز تقسیم کئے گئے۔اس پروگرام سے مدرسہ جانے والے بچوں کو فوج کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا ہوا اور فوج کے ساتھ اپنا تجربہ بانٹا ۔پروگرام کے دوران مدسہ کے35 بچوں میں اسٹیشنری ائیٹمز تقسیم کئے گئے۔مقامی لوگوں ، بچوں اور مدرسہ کے اساتذہ نے فوج کے اس خٰر سگالی جذبہ کی سراہنا کی ۔
 

منشیات فروش گرفتار،برائون شوگر بر آمد

رام بن// ایس ایس پی رام بن انیتا شرما کی ہدایت پر منشیات کے خلاف جاری مہم میں رام بن پولیس نیشان پیلس رام بن میں ایک ناکہ لگایا ۔چیکنگ کے دوران ایک مشتبہ شخص نے تلاشی سے بچنے کیلئے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن پولیس نے پیچھا کر کے اسے پکڑ لیا  اور تلاشی کے دوران اس کے قبضہ سے4گرام براون شوگر بر آمد کی ۔پولیس نے اس کی پہچان شبیر احمد ولد عبدالغنی ڈار ساکن ڈورو اننت ناگ حال کائو باغ رام بن کے طور سے کی ہے اور اس سلسلہ میں اسے گرفتار کر کے پولیس سٹیشن رام بن میں ایک ایف آئی آر نمبرNo.125/18 U/S 8/21/22 NDPS Act   کے تحت درج کرلی ہے۔ 
 

کشتواڑ ۔ملاڑ میں کیریئر کونسلنگ کا اہتمام

کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کے ملاڑ علاقے کے نوجوانون کے فوج کی طرف سے ایک روزگار کونسلنگ کا اہتمام کیا گیا ۔لیکچر کا مقصد ملاڑ کے دور دراز علاقوں کے دسویں ،گیارہویں اور بارہویں جماعت پاس کرنے والے بچوں کو پیشے کے مواقع دستیاب کرنے کیلئے ان کو جانکاری دینے کیلئے کیا گیا ۔اس ایونٹ مین 100نوجوانوں نے شرکت کی۔ملاڑ علاقے کے دسویں،گیارہویں اور بارہویں جماعتوں میں پڑھنے والے طلاب  جنہوں نے کونسلنگ میں حصہ لیا کے شکایات کو واضح کرنے کے لئے ایک انٹرایکٹو سیشن منعقد کیا۔ملاڑ کے مقامی لوگوں اور نوجوانوں نے اس تقریب کو سراہا۔
 
 

منفی سوچ ، کتنی نقصان دہ

 پچھلے ساڑھے چال سال کے دوران شائد ہی کوئی ایسا دِن گذرا ہوگا جو امن وسکون سے گذرا ہو آئے دن روزانہ کہیں نہ کہیں سے کوئی ایسا شگوفہ چھوڑ دیاجاتا ہے ہے جو بحث کا موضوع بن جاتاہے اور ان حرکتوں کا مقصد ایک ہی ہوتاہے کہ کس یطرح اقلیتوں کو خوفزدہ کرکے محکوم بنایا جائے اشتہار بازی اور سوشل میڈیا کاناجائز استعما ل بالکل اسی ڈھنگ سے کیاجارہاہے جیسے ایک زمانے میں امریکہ اور جرمنی نے اپنے اپنے ملک میں بسنے والی اقلیتی فرقے کے لوگوں کے خلاف کیا تھا۱۸۶۰ء کے ابتداء میں امریکہ میں اخبارات اور ریڈیو کے ذریعے کالی رنگت والے لوگوں کے خلاف اتنا نفرت انگیز پروپیگنڈ ہ کیا گیا کہ وہ جگہ جگہ ہجومی تشدد کے واقعات ہونے لگے اور پوری ایک صدی تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور لاکھوں کی تعداد میں کالے لوگ ہلاک کردیئے گئے اور یہ سلسلہ روکنے کے لئے نیلسن منڈیلا نے ایک مہم چلائی اور کامیابی حاصل کی اور کالے لوگوں کو عزت وآبرو کا مقام دلوایا۔ جس کے لئے انہیں دنیا کے مشہور ازعزاز نوبل پرائز سے نوازا گیا ۔ امرکیہ کے ہی نقش قدم پرچلتے ہوئے بیسویں صدی کے آغاز میں جرمنی نے یہودیوں کے خلاف زبردست مہم چھیڑدی۔ سولینی اور ہٹلر کے دور حکومت میں اس یہودی مخالف مہم نے زبر دس تشد اختیارکرلی۔ وہا بھی میڈیا کا سہارا لیا گیا اور اتنا نفرت انگیز مواد چھپتا رہاکہ یہودی بھی Lynchingہجومی تشدد کاشکار ہونے لگے جس کی آگ پوری دنیا میں پھیل گئی اورجنگ عظیم شروع ہوئی اور لاکھوں افراد مارے گئے۔ ملکوں کے الگ الگ اتحاد بن گئے ۔ اور دوبار ایٹم بموں کے استعمال ہوئے جو جاپان کو تباہ کرگئے ، لیک جرمنی کا حشر بھی بھیانک ہوااور ہٹلر اتحادی فوجوں کی بمباری سے زمین بوس ہوگیا ۔ جرمنی حکمرانوں کا ماننا تھا کہ میڈیا جو کام کرسکتا ہے وہ پوری قوم نہیں دونوں ملکوں نے ایک ہی فرقے کے خلاف محض اس لئے مہم چلائی تاکہ ان ملکوں میں صرف انہی کے فرقے کے ان کے مذہبی عقیدے اوران کے طورطریقے پر چلنے والے لوگ ہی ملک کی شہریت مانے جائیں۔ہمارے لئے اس طرح کے پروپگنڈے کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ ۱۸۵۷ء کے انقلاب نے جہاں مقبوضہ ہندوستان پر حاکم انگریزوں میں تشویش کی لہر پیدا کردی تھی تو دوسری طرف وہ جماعتیں بھی متحد ہونے لگیں جنہوں  نے انگریزوں کو ہندوستان پرقبضہ کرنے میں مدد فراہم کی تھی۔ یہ وہ جماعتیں تھیں جو مغلوں کی حکومت کاخاتمہ چاہتی تھیں وجہ صاف تھی کہ ان کو نظر میں مغل بادشاہ مسلمان تھے ۔ ان جماعتوں  کی سوچ تھی کہ مغلوں کی وجہ سے ان کی صدیوں پرانی تہذیب اور  دیو مالائی دبدبہ ختم ہوتا جارہا ہے اور آگے چل کر بالکل ختم ہوجائے گا ۔ بس ایک سازش کے تحت انگریزوں سے وفاداری جتاتے ہوئے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مغربی بنگال کے راستے ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے انگریز ہندوستان میں داخل ہوئے اوراس وقت بھی اس دور کے میڈیا اور ڈھنڈوروں کے ذریعے یہ ہوا پھیلائی گئی کہ اب ہندوستان میں ترقی عمل شروع ہوجائے گا طرح طرح کے لالچ اور کہیں کہیں ہندوستانیوں کو زدوکوب کرکے انگریزی حکومت کو تسلیم کرنے پر زور دیا جاتا رہا۔ تو دوسری جانب انگریزوں کی خلاف مسلمانوں کو بھی اُکسایا جاتارہا تاکہ قابض دار حکمرانوں کے جبر وتشدد کاشکار مسلمان ہی بنیں اور مسلمانوں کی آئندہ نسل خوفزدہ اور ناکارہ رہے ہندوستان کی جنگ آزادی کے دوران اَسّی ہزار علمائے کرام کو سولی پر لٹکادیا گیا ۔ تو دوسری طرف جیالے سکھوں نے بھی انگریزی حکومت کے خاتمے کے لئے کمر کس لی ، یہی وجہ رہی کہ صوبہ پنجاب بشمول جموں کشمیر لداخ بلتستان پر انگریزوں کی پکڑ کمزور رہی  اور جب ہندوستان کی آزادی کے دن قریب آتے گئے تو انڈین نیشنل کانگریس کے لیڈرون میں نا اتفاقیاں پیدا ہونے لگیں ۔ اور یہ تاثر دیا جانے لگا ہندوستان پر مسلمان حکمرانی نہیں کریں گے ،ان جماعتوں میں سخت بے چینی پائی جانے لگی جنہوں نے مغل مسلمان حکومت ختم کرنے کے لئے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔ آخر اس وقت RSSکے مسٹر گوللوا کر نے جناح کے منہ میں دوقومی نظریہ کے الفاظ ڈال کر ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنا ڈالا ۔۱۹۴۷ء میں انگریزوں سے چھٹکارا حاصل ہوا ایک بڑا ملک دو حصوں میں تقسیم ہوگیا ، قتل وغارت کا سلسلہ شروع ہوگیا  مذہبی بنیاد پر جو اپنی جگہ نہیں چھوڑنا چاہتا تھا اُسے مجبور کردیا گیا ۔ یہاں بھی میڈیا کاسہارا لیا گیا اور غلط قسم کی افواہیں اور خبریں پھیلا کر ہندوؤں اور مسلمانوں میں خوف ودہشت پیدا کی گئی ۔ جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد قتل کردیئے گئے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدیں قائم کردی گئیں کچھ ریاستیں متنازعہ بن گئیں ،جن کو دونوں ملکوں نے کچھ خصوصی مراعات دے کراپنے ساتھ مدغم کردیا۔لیکن ریاست جموں وکشمیر آج بھی متنازعہ ہے، اگرسچ مانا جائے تو ۱۹۵۰ء کی ابتداء میں جموں وکشمیر کی حکومت ہی نہیں بلکہ عوام بھی ریاست کا مستقبل ہندوستان سے کچھ شرط وشرائط کے ساتھ وابستہ کرنے پر آمادہ تھے ، لیکن ہنادوستان کے حامی کشمیریوں کو برگشتہ کرنے والے جن سنگھ کے پانی اورRSS کے اہم رکن شیاما پرشاد مکھرجی ناے اپے مخصوص نظریات جو ہندو قوم پرستی پر مبنی تھے کشمیریوں کو ہندوستان دور  ہونے یا ہندوستان کے خلاف ہونے کا سبب ہوتے تھے اس بات کاذکرممتاز ماہر قانون سماجی کارکن اورمصنف نند یتا یکسر نے اپنی انگریزی کتاب Many Faces of Kashmir Nationalismکشمیری قوم پرستی کے کئی چہرے میں لکھا ہے ایک قوم پرست ہندو نے کشمیریوں کو ہندوستان کا مخالف بنادیا تھا۔ شیاما پرشاد مکھرجی جن کو جموں وکشمیر کا خصوصی  درجہ الگ دستور ، الگ پرچم ناپسناد تھے ان کی سوچ اورفکر اس قدرمحدود تھی کہ جو ریاست کے لئے ایک طویل پریشانی کا باعث بن گئی ۔ حقیقتوں کو نظر انداز کرکے ان کی منفی قوم پرستی اور زہریلے بیانوں اورارادوں کی ہی وجہ سے ریاست کے لوگ جو ہندوستان سے شرط وشرائط کے ساتھ وابستگی اختیار کئے ہوئے تھے ایک بار پھر سے علیحدگی پسند رخ اختیار کرنے لگے نام نہاد قوم پرستی نے ۶۵ سال پہلے جو کام بگاڑا تھا آج بھی ان کے وارث جموں وکشمیر کے عوام اور حکومت پر اپنی مرضی تھوپنا چاہتے ہیں۔ سالہال سال سے ہندوک پاک اپنے اپنے سیاسی مفادات کے لئے کشمیر کے نام کا ہی استعمال کررہے ہیں یہ دونوں ملکوں کے لیڈران اورسیاسی پارٹیوں کی مجبوری بھی ہوسکتی ہے کشمیر کی حفاظت کے نام پر دونوں ملک مہلک قسم کے ہتھیاروں کاذخیرہ کرچکے ہیں اورکرتے جارہے ہیں۔ لیکن بغاوت یا حقوق کچلنے کے نام پر مرکون رہاہے ۔۱۵؍اگست یوم آزادی کے مقوع پر لال قلعے سے وزیراعظم نریندر مودی جی نے آنجہانی قدآور لیڈر اٹل بہاری واجپائی کی کشمیر پالیسی کو ہی اپنانے کا اعادہ کیا ہے ۔ شائد وزیراعظم کو اب احساس ہورہاہے کہ ان کے مشیروں ے کشمیر کے بارے میں غلط مشورے دیئے اورمیڈیا نے بھی غلط تشہیر کی ہے۔ جہاں تک35-Aکامعاملہ ہے یہ اگلی تاریخوں تک ٹل جائے گا لیکنا 2019تک قائم بھی رہیگا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ ختم ۔ یہ مدعا بھی نہیں رہیگا۔ ہاں سوشل میڈیا اورمیڈیا سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ، 2دن بعد عید الضحی ہے سبھی قارئین کو پیشگی مبارکباد ساتھ ہی اپیل کی کوئی ایسا کام نہ کریں نہ ہی کوئی ایسی افواہویں پھیلائیں کے جس سے کسی کی دل آزاری ہو اورتناؤ پھیل جائے۔
ایم اسلم خان،جموں
9419130635
 
 
 

بیٹیاں رحمت ہیں نہ کہ زحمت 

زمانہ بدل چکاہے لیکن کچھ لوگوں کی سوچ ابھی تک نہیں بدلی۔کچھ لوگ ابھی پرانی سوچ لے کرجی رہے ہیں۔پرانی ریت رواج کولے کرچل رہے ہیں۔یہ بات توسب جانتے ہیں کہ پہلے لوگ بچی کوپیداہونے ہی نہیں دیتے تھے اگرکسی کے گھر پیداہوجائے تو وہ زندہ دفنادیتے تھے یاپھر دودھ میں زہردے کر ماردیتے تھے لیکن اب بھی کچھ لوگوں کاوہی کام ہے ۔صرف طریقہ بدل دیاہے ۔اب لوگ بچی کو ماں کی کوکھ میں ہی ماردیتے ہیں لیکن کچھ لوگ سدھرگئے ہیں ۔وہ بچی کوگھرکیلئے رحمت مانتے ہیں اورجن لوگوں کی سوچ پرانی ہے جولڑکیوں کوبوجھ سمجھتے ہیں ان کے گھر اگرلڑکاپیداہوتاہے توبڑی دھوم دھام سے اس کاسواگت کرتے ہیں ۔جشن مناتے ہیں ۔خوب مٹھائیاں بانٹتے ہیں لیکن لڑکی ہوگی توان کے چہرے سے رونق اڑجاتی ہے ۔وہ کھوئے کھوئے سے لگتے ہیں ۔کیوں؟ ایساکیوں ہوتاہے؟۔کیالڑکی انسان کی اولادنہیں ہوتی؟۔آج کے زمانے میں دیکھولڑکیاں ہی سب سے آگے ہیں۔گھرکے کام کے ساتھ ساتھ پڑھائی میں بھی اول آتی ہیں لڑکیاں،کھیلوں کے میدان میں لڑکیاں،جنگ کے میدان میں لڑکیاں ۔لڑکیوں میں کوئی کمی نہیں۔وہ لڑکوں کے قدم سے ایک قدم آگے ہیں توپھرایساکیاہے؟ جولڑکیوں کواُن کاحق دینے سے روکتاہے ۔میرے حق بھی توچھوڑیئے، اُن کی زندگی بھی چھین لی جاتی ہے 
خیراس ستم کوبھی کچھ نہ کچھ سُلجھایاگیا
لڑکیوں کوپہلے سے ہنربچایاگیا
لیکن اب افسوس اس بات کاہے کہ ماحول بہت بگڑگیاہے ۔اب کسی بھی انسان پربھروسانہیں کیاجاسکتا۔ اب لڑکیوں کوبُری نظرسے دیکھاجانے لگاہے اوراس بُری ہواسے کتنی لڑکیوں کے سپنے ادھورے ہونے لگے ہیں۔ ان کے جذبات کے گلے گھونٹے جانے لگے ہیں۔ وہ چاہ کربھی کچھ نہیں کرسکتیں ۔یہاں تک کہ وہ اپنی مرضی سے کچھ پہن بھی نہیں سکتی وہ اپنی نانی ،نانا،موسی موسا، پھوپھی ، پھاپھا کے گھربھی نہیں جاسکتیں کیونکہ ان کے والدین کویہ ڈر رہتاہے کہ ہماری بچی گھرسے باہرنکلے گی توان کے ساتھ کچھ غلط نہ ہوجائے ۔وہ خوفناک بیان سن کر اپنی لڑکی کو بھی گھرسے باہرنکلنے کی اجازت نہیں دیتے۔ایسی خوفناک باتیں کیوں سننے کوملتی ہیں ہمیں ۔لڑکیاں باہراکیلے جانے سے کیوں ڈرنے لگی ۔جس لڑکی کے ساتھ چھیڑچھاڑہوتی ہے وہ بھی توکسی کی ماں ہوتی ہے ۔کسی کی بہن ہوتی ہے ۔کسی کی بیٹی ہوتی ہے۔اگر کسی کی بہن کواپنی بہن کی نظرسے دیکھاجائے کسی کی بیٹی کواپنی بیٹی کی نظرسے دیکھاجائے توہمارا ماحول کتناصاف ہوجائے گا۔لڑکیوں کے ساتھ بہت ظلم ہوتے ہیں پہلے توانہیں پیداہی نہیں ہونے دیتے ۔اس پرایک واقعہ ہے۔راجستھان کی بیکانیر ،کی تحصیل بجومیں ایک Urmal Trust کے نام سے چل رہاہے وہاں کی ایک کام کرنے والی Nisha Chohan کوبھی یہ ماحول اچھانہیں لگاکہ لڑکیوں کوکیوں ماردیاجاتاہے توانہوں نے بھی اس ماحول کوبہترکرناچاہا۔ انہوں نے فیصلہ کرلیاکہ میں اپنے گائوں کی ہرایک بچی کوموت گے گھاٹ سے بچائوں گی۔تواچانک انہیں پتہ چلاکہ ان کے گائوں میں ایک عورت حاملہ ہے ۔توانہوں نے اس کاپیچھا کرناشروع کیاجب تک اُس کے بچے کی پیدائش ہوتی۔جب وہ عورت بیمارہوئی تواُسے ہسپتال لے کرگئے ۔نیشا جی نے انہیں بہت سمجھایاکہ بچی کومت مارووہ گھرکی لکشمی ہوتی ہے لیکن وہ لوگ نہیں مانے تواُلٹانیشا جی کوکہنے لگے کہ مجھے اگراتنی ہی پیاری لگتی ہیں بچیاں توخودکیوں نہیں گودلے لیتیںہماری بچی۔نیشاجی نے ہاں میں جواب دیااورکہاٹھیک ہے ۔میں اسے اپنی بچی مان کر لے رہی ہوں۔ پھرانہوں نے اس بچی کوگودلے لیااور اپنے بچوں جیساپیاردیا ۔اس کی پرورش کی آج وہ بچی 5سال کی ہے اورنیشاجی نے جب بچی لی تب انہوں نے نہ کسی سے کچھ پوچھا،یہاں تک کہ انہوں نے اپنے پتی سے بھی صلاح نہیں لی اورنہ ہی ساس سُسر اورنہ اپنے والدین سے۔آپ اس واقعہ پرغورکرواورسوچو کہ اسی دنیامیں کتنے لوگ ایسے ہیں وہ رحمت کوٹھکراتے ہیں اورکچھ لوگ جواس کی حفاظت کرنے کوتیاررہتے ہیں ۔ہمیں بھی نیشاجی جیسا بن کرہی بچیوں کوبچاناچاہیئے۔جب لڑکی بڑی ہوجاتی ہے توسب ماں باپ اُسے کتناسمجھاتے ہیں کہ ادھراُدھرنہیں جانا۔راستے میں کھڑے ہوکر کسی سے بات نہیں کرنالیکن بہت کم لوگ ہوتے ہیں جواپنے لڑکوں کوایسے سنسکاردیتے ہیںلیکن اگروہ دیتے بھی ہیں تواتنی سختی سے نہیں جتنی سختی سے لڑکیوں کویہ سنسکار دیئے جاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ کسی لڑکی کے ساتھ غلط ہونے سے سب لڑکیوں کی محنت بیکار جاتی ہے ۔ان کے مقصد پر پانی پھیرجاتاہے ۔وہ گھرسے دورجاکراپنی تعلیم حاصل نہیں کرسکتی۔ اگرایساہی ہوتارہا توہم ترقی کیسے کریں گے ۔سب سے پہلے ہمیں بیٹی بچانی ہوگی۔اورپھرلڑکوں کوبھی ویسے ہی سنسکار دینے ہوں گے جوہم لڑکیوں کودیتے ہیں۔سب کواحساس دلانا ہوگا انسانیت کا۔ تبھی ہمارے سپنے پورے ہوسکتے ہیں اوران لوگوںکے دِلوں سے بھی اس خیال کونکالنا ہوگا کہ لڑکی بوجھ نہیں گھرکی رحمت ہوتی ہے۔اس لیے بیٹی کوبچائواوراُسے تعلیم دوپھردیکھوکہ آپ کی بیٹی کہاں سے کہاں پہنچتی ہے۔اورہم لڑکیوں کوبھی اپنے آپ کوایک ایسی شمع بناناچاہیئے جس سے صرف کوئی ایک یاکسی ایک کوروشنی نہ ملے بلکہ سب کواس روشنی سے ہم اُجالاکرسکیں اوراپنے ماں باپ کے سپنوں کوپورا یں ۔ہم اپنی سوچ کواتنی صاف اورطاقتوربنادیں تاکہ ہم ایک اچھی بیٹی ،اچھی بہن، اچھی دوست ،اچھی پڑوسن،اچھی طالب علم یعنی کہ کسی بھی چیزسے پیچھے نہیں بلکہ سب خوبیاں ہم میں موجودہوں۔ اگرہم خوداچھی ہوں گی تو ہمارے ساتھ بھی اچھاہوگا۔ ہمیں اپنے آپ کوسیدھے راستے پرچل کر کسی کوکچھ بن کردکھاناچاہیئے تاکہ سب کے دِلوں سے یہ بات نکل جائے کہ بیٹی بوجھ ہے ۔لڑکیوں کوپیداکرکے خوش نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ ہم غریب ہیں ۔اگر ہمارے گھر تین یاچار لڑکیاں ہوگئیں توہم ان کاخرچہ کیسے چلائیں گے۔ انہیں پال پوس کر بڑاکرکے جب شادی ہوگی توجہیزکہاں سے لائیں گے۔ لڑکا ہوا تووہ ہمیں کماکردے گا لیکن وہ یہ نہیںسوچتے کہ لڑکاکسی سے گالیاں بھی دلاسکتاہے۔خیر!سب لڑکے ایک جیسے تونہیں ہوتے ہیں لیکن کسی ایک کی کالی کرتوتوں کی وجہ سے سب لڑکے بدنام ہوتے ہیں اورانہیں دیکھ کرباقی بھی وہی غلطیاں کرناشروع کردیتے ہیں ۔ہماراماحول گندہ کسی ایک کی وجہ سے نہیں بلکہ ہم سب نے مِل کر خراب کیاہے ۔ہم کسی کی غلطی کواگردیکھتے ہیں توروکنے کے بجائے ہم خودبھی وہی غلطیاں کرنا شروع ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے ہم ترقی یافتہ ہوکربھی ترقی یافتہ نہیں کہلاتے ،اس لیے کیوں نہ ہم غلط پرانی ریت رواج اورپراگندہ سوچ کودماغ سے نکال دیں ۔آئیے ہم اپنی سوچ کوبدلیں اوردوسروں کی سوچ بدلنے کی بھی کوشش کریں۔
رُخسارکوثرمسکان،چھترال مینڈھر
رابطہ نمبر:07497852343