جموں کو چناب سے اضافی سپلائی کیلئے 826 کروڑ روپے کا منصوبہ تیار
ریاست میں واٹر سپلائی سکیموں کو مزید مستحکم کرنے پر خورشید احمد گنائی کا زور
سرینگر //گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے ریاست میں موجودہ واٹر سپلائی سکیموں کو مزید مستحکم کرنے کیلئے مناسب اقدامات کرنے پر زور دیا ہے تا کہ پینے کے پانی کی کمی کو دور کیا جا سکے ۔ خورشید احمد گنائی نے ان باتوں کا اظہار صحت عامہ ، فلڈ کنٹرول اور آبپاشی محکموں کے افسران کی ایک میٹنگ میں کیا۔ میٹنگ میں سیکرٹری صحت عامہ فاروق احمد شاہ اور متعلقہ چیف انجینئروں کے علاوہ دیگر کئی افسران موجود تھے ۔ مشیر نے ریاست میں موجود آبی وسائل کے مناسب استعمال پر زور دیا ہے تا کہ ہر گھر کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا سکے ۔ انہوں نے زیر تعمیر تمام واٹر سپلائی سکیموں کو وقتِ مقررہ کے اندر مکمل کرنیکی ہدایت دی ۔ مشیر نے کہا کہ التوا میں پڑی واٹر سپلائی سکیموں کی تکمیل کو ترجیح دی جانی چاہئیے تا کہ ان کیلئے واگذار کی گئی رقومات کا استعمال کیا جا سکے ۔ میٹنگ میں موجود افسران نے مشیر کو جانکاری دی کہ محکمہ نے 786.86 کروڑ روپے کی لاگت والی 448 واٹر سپلائی سکیموں کا معاملہ فائنانس ڈیپارٹمنٹ کو بھیجا ہے جن میں سے اعلیٰ اختیار والی کمیٹی نے 221 پروجیکٹوں کو منظور کیا ہے ۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ سرینگر میں پینے کے پانی کی قلت پر قابو پانے کیلئے واٹر سپلائی سکیم ٹنگنار کو مزید استحکام بخشنے کیلئے دردست لیا گیا ہے جس پر 148.37 کروڑ روپے کی لاگت آنے کا اندازہ ہے جبکہ جموں میں چناب دریا سے پانی کی سپلائی کو مزید فروغ دینے کیلئے 826 کروڑ روپے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ میٹنگ میں سوپور ، بارہمولہ ، اننت ناگ ، پونچھ ، راجوری اور سانبہ قصبوں کے علاوہ دیگر بڑے قصبوں میں پانی کی صورتحال کا جائیزہ لیا گیا ۔ میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ سٹیٹ سیکٹر کے تحت مختلف سکیموں کیلئے 1939.29 کروڑ روپے کی رقم منظور کی گئی ہے جس میں سے 50 فیصد رقم مختلف سکیموں پر خرچ کی جا رہی ہے ۔ میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ محکمہ فی الوقت 9292 دیہی بستیوں کو پینے کا پانی فراہم کر رہا ہے ۔ میٹنگ میں انسدادِ سیلاب کیلئے جاری کام کا بھی جائیزہ لیا گیا ۔ اس سلسلے میں متعلقہ افسران نے کہا کہ انسدادِ سیلاب پروجیکٹ کے بیشتر حصے مکمل کئے جا چکے ہیں ۔ میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ سیلاب کی روک تھام کیلئے شریف آباد ، نائید کھئی ، پادشاہی باغ ، رام باغ اور بمنہ میں فلڈ سپل چینل کی صفائی کا کام جاری ہے ۔ جبکہ بمنہ سے نائید کھئی تک فلڈ سپل چینل کی ری سیکشننگ کے کام پر 82 کروڑ روپے خرچ کئے جا رہے ہیں ۔
سرکاری ملازمت کا جھانسا دے کر لاکھوں کی ٹھگی
کرائم برانچ میں ملوث خاتون کے خلاف معاملہ درج
جموں//کرائم برانچ کشمیر نے سادہ لوح شہریوں سے سرکاری ملازم فراہم کرنے کے نام پر لاکھوں روپے کی دھوکہ دہی کرنے والی ایک جعلسازخاتون کے خلاف معاملہ درج کیا ہے ۔کرائم برانچ کو خواجہ باغ بارہمولہ کے ایک شہری زاہد علی خان کی طرف سے یہ تحریری شکایت موصول ہوئی تھی کہ واسیا شبیر نامی ایک خاتون خود کو سول سیکریٹریٹ سرینگرکی ملازمہ جتلاکر لوگوں سے ملازمت فراہم کرنے کے نام پر لاکھوں روپے ہڑپ کررہی ہے۔چنانچہ کرائم برانچ کواس معاملے کی چھان بین کے دوران انکشاف ہوا کہ مذکورہ خاتون نے جھوٹ،فریب ،دھوکہ دہی اور فرضی وعدوں سے سادہ لوح افراد کو ملازمت کا جھانسہ دے کر اُن سے1935961روپے ہڑ پ کئے۔جب کہ اسی طرح کی دھوکہ دہی سے مدثر حسین نامی ایک شخص سے بھی 16لاکھ روپے لوٹ لئے گئے۔مدثر حسین نے یہ رقم جعلسازخاتون اوراس کے بھائی کے بنک کھاتے میں جمع کی تھی۔کرائم برانچ نے اس سلسلے میں معاملہ درج کرکے آگے کی کارروائی شروع کی ہے۔
ریاست میں 30500 سیلف ہیلپ گروپ قائم
جموں//سٹیٹ رورل لائیولی ہُڈمشن ( ایس آر ایل ایم ) کے ڈائریکٹر عبدالرشید وار نے آج کہا کہ ریاست میں اب تک خواتین کے 30500 سیلف ہیلپ گروپ قایم کئے گئے ہیں ۔ ڈائریکٹر موصوف نے یہ جانکاری اقتصادی جانکاری کی عمل آوری سے متعلق ایک ورکشاپ کا افتتاح کرنے کے موقع پر دی ۔ اس موقعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پردھان منتری جن دھن یوجنا ، پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا ، پردھان منتری سرکھشا بیمہ یوجنا ، اٹل پینشن یوجنا اور مُدرا جیسی مالی سکیمیں سماج کے غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر مرکوز ہیں اور سیلف ہیلپ گروپوں کو ان سکیموں کی وسیع جانکاری دینا لازمی ہے تا کہ ان سکیموں کے اہداف حاصل کئے جا سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے ورکشاپ جموں میں بھی منعقد کئے جائیں گے ۔ ڈائریکٹر موصوف نے تجویز دی کہ سماج کے غریب اور پچھڑے طبقے کو اقتصادی جانکاری فراہم کی جانی چاہئیے تا کہ وہ ترقیاتی سکیموں سے استفادہ کر سکیں ۔ اس موقعہ پر آر یو ڈی ایس ای ٹی آئی کی نیشنل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل آر آر سنگھ ، ایڈیشنل مشن ڈائریکٹر کشمیر رفعت آفتاب ، دیہی ترقی کی مرکزی وزارت کے سینئر حکام اور دیگر کئی افسران موجود تھے ۔
اُردو یونیورسٹی میںفاصلاتی کورسز ،20 ؍اکتوبر آخری تاریخ
جموں//اردو،عربی،اسلامک اسٹڈیز کے علاوہ انگریزی،ہندی اور تاریخ میں پوسٹ گریجویٹ کورسز دستیاب
حیدرآباد//نظامت فاصلاتی تعلیم‘ مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی کے مختلف فاصلاتی کورسز میں آن لائین داخلوں کا عمل 20؍ اکتوبر کو اختتام کو پہنچے گا۔ای پراسپکٹس اور آن لائن درخواست فارم ویب لنک http://manuu.ac.in/admissions/odl2018 پر دستیاب ہے۔پروفیسر پی فضل الرحمن، انچارج ڈائرکٹر نظامت فاصلاتی تعلیم کے بموجب، خواہشمند طلبا ایم اے (اردو،انگریزی،تاریخ،عربی ، اسلامک اسٹڈیز ، ہندی)، بی اے ، بی ایس سی (لائف سائنسز)، بی ایس سی (فزیکل سائنسز) ،بی کام ،ایک سالہ ڈپلومہ (ٹیچ انگلش اور جرنلزم و ماس کمیونیکیشن) اور چھ ماہی سرٹی فکیٹ کورسز (اہلیت اردو بذریعہ انگریزی اور فنگشنل انگلش) میں 20 اکتوبر تک آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔مزید تفصیلات کے لیے ہیلپ لائن 040-23008463 اور صرف اوقات دفتر میں 6301910770 پر یا صرف ایس ایم ایس کے لیے 9100677222 پر ربط پیدا کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ طلبہ حیدرآباد، نئی دہلی، کولکتہ، بنگلور، ممبئی، پٹنہ، دربھنگہ (بہار)، بھوپال، رانچی، امراوتی، سری نگر (جموں و کشمیر)، جموں، لکھنؤ میں واقع یونیورسٹی کے ریجنل / سب ریجنل سنٹرس سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ریجنل وسب ریجنل سنٹرس کے فون نمبرات ای پراسپکٹس سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔