خشک سالی پانی کی کمی کا سبب، نئے پروجیکٹوں پر کام شروع :حکام
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع کے بیشتر علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی کمی کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پانی کی عدم دستیابی سے عورتوں، بچوں و بزرگوں کو کوسوں دور جاکر نالوں سے پانی لانا پڑتا ہے اس دوران درجنوں مذہبی مقامات میں بھی پانی کی قلت پائی جاتی ہے۔ ڈوڈہ، گھٹ، گندنہ، کاستی گڑھ،مرمت، عسر، چرالہ کاہرہ، بھالہ، بھدرواہ، چلی پنگل، بھلیسہ و بونجواہ سے کئی عوامی وفود نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سینکڑوں اسکیمیں ناکارہ ہو چکی ہیں جبکہ درجنوں پانی کے حوض و ٹنکیاں ناقابل استعمال بن چکے ہیں اور محکمہ جل شکتی سے بار بار رجوع کرنے کے بعد بھی عملی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو کافی پریشانی کا سامنا ہے۔ تحصیل کاہرہ سے آئے ایک وفد نے بتایا کہ بٹوگڑہ، کنو، ملانوں، ہلارن، درمن و دیگر مضافات میں پانی کا شدید بحران پیدا ہوا ہے اور ملحقہ علاقوں کی آبادی کو کوسوں دور جاکر پانی گندہ پانی لانا پڑتا ہے۔ وفد میں شامل اشرف بٹ، شمس الدین بٹ و عبد الطیف بٹ نے کہا کہ ساٹھ گھروں پر مشتمل پنچائت بٹوگڑہ کے گاؤں کنو میں پینے کے صاف پانی کی کمی سے عوام پریشان ہے۔ ادھر تحصیل چلی پنگل سے سابق سرپنچ لیاقت علی شیخ کی قیادت میں وفد نے کہا کہ پانی کی اسکیمیں ناکارہ و زنگ آلود ہو چکی ہیں اور عوام کو پانی گندے نالوں سے لانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنگل کے لئے گاشر و کھڈی دھار اسکیموں کا قیام آج سے کئی برس قبل عمل میں لایا گیا تھا لیکن متعلقہ محکمہ ان اسکیموں کو عوام تک پہنچانے میں ناکام ہوا ہے۔ انہوں نے حکام سے ناکارہ اسکیموں کی مرمت کرنے و خستہ حال حوض و ٹنکیوں کی تعمیر کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ جل شکتی پانی کی اسکیموں کے لیے پائپیں بچھانے میں کوتاہی سے کام کرتا ہے جس کی وجہ سے کچھ ہی عرصہ بعد یہ اسکیمیں ناکارہ ہوجاتی ہیں اور عوام کو برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ چیئرمین بھلیسہ یونائٹیڈ فرنٹ محمد حنیف ملک کے مطابق سب ڈویڑن گندوہ کے ہر گاؤں میں پینے کا صاف پانی کی کمی پائی جاتی ہے اور متعلقہ محکمہ ناقص کام کر کے سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے کی بلیں سالانہ مرمت کے نام پر نکالتا ہے لیکن عوام تک پانی پہنچانے میں ناکام رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ جل شکتی کی نااہلی سے کئی مساجد و دیگر مذہبی مقامات پر بھی پانی کا بحران ہے اور محکمہ کو ٹس سے مس نہیں ہورہا ہے۔اس بارے میں جب کشمیر عظمیٰ نے محکمہ کے ایک اعلیٰ آفیسر سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ خوشک سالی کی وجہ سے شہر و گام میں پانی کا بحران پیدا ہوا ہے اور وسیع پیمانے پر چشمے سوکھ گئے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ محکمہ کی جانب سے تیارکردہ سینکڑوں نئے پروجیکٹوں کو حکام نے منظوری دی ہے اور عنقریب ان پر کام شروع کیا جائے گا جس سے لوگوں کو راحت ملے گی۔