بانہال // مدرسہ صوت القران کھڑی (آڑپنچلہ ) ضلع رام بن جموں کشمیر تحصیل کھڑی کا وہ واحد ادارہ ہے جو عقائد صحیحہ کی ترجمانی ، رسومات بد کا خاتمہ ، فتنہ باطلہ کی سرکوبی اور قران پاک کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے آج سے تقریباً تیس سال پہلے مکتب سے مدرسہ کی شکل میں قائم ہوا۔ ابتدائی چند سالوں میں ہی مدرسہ نے تعلیمی و تعمیری اعتبار سے کافی ترقی کی اورعلاقہ کی توجہات کا مرکز بن گیا۔ سنہ 1992 میں اچانک سیلاب اور طغیانی کی صورت میں ایک حادثہ پیش آیا اور پوراگاؤں اسکی زد میں آیا اور مدرسہ صوت القران کھڑی کی عمارت ، ایک بڑی مسجد ، کتب خانہ سمیت دیگر عوامی املاک تباہ ہوئی۔ اس واقع میں مدرسہ کے بانی وامام مسجد کے علاوہ ایک استاد اور ایک طالب علم اس تباہی میں کام آئے اور خالق حقیقی سے جاملے۔ اس وقت فوری طور پر عوام نے یکجہتی کا مظاہرہ کرکے مسجد کی تعمیر کر دی لیکن مدرسہ بے سروسامانی کی حالت میں ایک مکتب تک ہی محدود ہوکر رہ گیا اور ناساز گار حالات کی وجہ سے مزید کوئی ترقی نہ کرسکا۔ سال 2001 میں ایک نئے عزم اور ولولہ کے ساتھ بے سرسامانی کی حالت میں اللہ کے نام پراللہ کے نیک بنددوں کی دعا اور مدد سے دوبارہ شروعات کئی گئی اورچند طلباء کو امدادی داخلہ دیکر علم و ادب کے اس اجڑے چمن کو دوبارہ آباد کیا گیا۔ مدرسہ صوت القران کے مہتمم مولانا عطااللہ مفتاحی کا کہنا ہے کہ بہ بضل اللہ سبحان وتعالی پچھلے ستراں سالوں کی مدت کے دوران مدرسہ صوت القران کھڑی کی تعلیمی و تعمیری کارنامے روزروشن کی طرح عیاں ہیں اور مدرسہ تعلیمی خدمات کے علاوہ فلاحی اور رفاعی کاموں میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یتیم ، غریب اورمعذور طلباء کی ہمیشہ اچھی تعداد مدرسہ میں قیام پزیر ہے ، جن کی مدرسہ کفالت کرتاہے۔ 2001 سے 2018 تک مدرسہ صوت القران کھڑی سے 180 طلبہ اور چار طالبات مکمل حفظ کی سعادت حاصل کر چکے ہیں اور ہزاروں طلبہ وطالبات ناظرہ قران پاک کی تعلیم پاکرمدرسہ ہذا کے شعبہ انگریزی مفتاحی پبلک سکول سے عصری علوم مع اسلامیات کی سند پاکر بڑے بڑے سکولوں اورکالجوں میں ڈگریاں حاصل کر کے اس وقت اہم شعبہ جات میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مدرسہ رابطہ مدارس کا بھی رکن ہے۔ مولانا نے بتایا کہ اسوقت مدرسہ میں مختلف شعبہ جات قائم ہیں جن میں شعبہ حفظ، شعبہ ناظرہ ، شعبہ تجوید ، شعبہ انگریزی ، شعبہ بنات ، شعبہ مکاتب ، شعبہ تبلیغ ، شعبہ تحفظ سنت وختم نبوت ، شعبہ امداد مستحقین قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدرسہ صوت القران میں اس وقت 85 یتیم ، غریب اور مفلس طالبعلم جودوردراز کے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں یہاں مقیم ہیں اوران کے قیام وطعام اورتمام ضروریات کی ذمہ دار مدرسہ پر ہی ہے اور بچوں کی تعلیم وتربیت کیلئے 26 مْدرس کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکے علاوہ مدرسہ کے زیراہتمام شعبہ انگریزی مفتاحی پبلک سکول آٹھویں جماعت تک ہے اور یہ ریاست جموں وکشمیر کے محکمہ تعلیم سے تسلیم شدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچیوں کیلئے شعبہ بنات میں 35 طالبات اور 8 مکاتب میں سیکڑوں طلبہ و طالبات قران پاک کی تعلیم سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف سے درجہ حفظ کے طلباء حفظ میں مصروف اوردوسری طرف انگریزی اٹھویں جماعت کی سند حفظ کے ساتھ ساتھ حاصل کر تے ہیں اوراپنا دینی یاعصری علوم کا مزید سفر اسانی کے ساتھ طے کر پاتے ہیں۔ مہتمم مدرسہ مولانا عطا اللہ مفتاحی نے مزید بتایا کہ ادارے کے تعلیمی و تعمیری بہت اہم منصوبے ہیں جن کی تکمیل کے لئے ادارے کے پاس وسائل کی کمی ہے لیکن عزائم مضبوط اور مستحکم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھڑی آڑپنچلہ کے علاقے میں قائم ادارہ دیہات میں واقع ہیں جہاں کی عوام غریب اور بیشتر لوگوں کا ذریعہ معاش زمینداری اور مزدوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ تعمیری سرگرمیوں میں اورگزشتہ سال طلباء پر خرچ ہوئی رقومات ابھی بھی ادارے پر قرض ہیں اور اس رقم کی ادائیگی کیلئے مدرسہ کے پاس رقم نہیں ہے اور مدرسہ ماہ مبارک کے اِن ایام میں اہل خرت کی امداد کا مستحق اور منتظر ہے۔ اہل خیرات اور درد دل رکھنے والے حضرات مدرسہ صوت القران کھڑی کی مدد اور امداد کیلئے جموں وکشمیر بنک کھڑی ضلع رام بن کے اکوانٹ نمبر 0829040100000529 کا استعمال کر سکتے ہیں۔