انسانی سماج میں ہر سماجی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے متعلقہ ادارے کا قیام فطری ضرورت ہے ۔جس طرح سے انسان کی تہذیب و تمدن کی بقا کے لئے معاشرے کا قیام ضروری ہے اسی طرح سے معاشرے کے استحکام کے لئے اداروں کی احتیاج ہے۔انسان کی سب سے بڑی ضرورت جو اسے انسانیت جیسے مقام پر قائم رکھ سکتی ہے وہ ہے علم۔انسان کھا پی کے ایک جانور کی حیثیت سے زندہ رہ سکتا ہے لیکن علم کا اکتساب کرنے کے ساتھ وہ انسانیت جیسی صفت عالیہ سے متصف ہو کر اشرف المخلوقات کا فریضہ صحیح طور پر انجام دے سکتا ہے۔اس لئے علم کے اکتساب کے لئے علمی ادارے کا قیام ازحد ضروری ہے جس کا احساس انسان کو اپنی تاریخ کے آغاز سے تھا اور جس کے لئے انسان نے زمانی ومکانی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات اٹھائے ۔آثار قدیمہ کی کھدائی سے بھی ہمیں اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مناسب انتظام کئے جانے کے نمونے برآمد ہوتے ہیں اور انسان کی معلوم تاریخ سے بھی ہمیں اس ظمن میں بے شمار مثالیں ملتی ہیں ۔انسان کی اس علمی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ہمارا یہ ایمان ہے کہ ہر قوم کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور رسل کو بحیثیت معلم بنا کر بھیجا۔آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔المختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری دینی تعلیم کا صحیح بندوبست فرما کر ہماری دنیاوی و اخروی زندگی کو کو کامیاب بنانے کا ایک واضح نظام دیا ہے ۔دنیا اور آخرت کی کامیابی کے لئے دینی علوم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔
انسانی دنیا کا ایک قاعدہ ہے کہ انسان اپنے بہت سارے معاملات کو خود طہ کرنے کی خداداد صلاحیت رکھتا ہے۔اس لئے انسان نے تعلیم و تعلم کے ظمن میں بھی بہترین کوششیں کی ہیں جن کا نتیجہ ہم آج بڑے بڑے اداروں کی شکل میں دیکھتے ہیں جہاں پر تحقیق و تدقیق کا کام بڑے زور و شور سے جاری ہے۔اس پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو دین جو کہ ہمارے ایمانی وجود کے لئے روح کی حیثیت رکھتا ہے اس کی کامیاب ترویج و اشاعت کے لئے مسلمانوں نے ہر دور میں بڑے بڑے ادارے کھولے ہیں ۔جس میں غرناطہ، بغداد، قاہرہ وغیرہ معروف ہیں۔لیکن جب سے دور جدید میں مغربی تعلیم کی الحادی چمک نے پوری دنیا کے روایتی علوم کو متاثر کیا تو بدقسمتی سے مسلم دنیا بھی اس سے بچ نہ سکی۔مغربی تعلیم کے اس چمک دمک سے ہم متاثر ہو کر مذبذبین بین ذالک کے مترادف نہ ہی مغربی علوم کا احاطہ کر پائے اور نا ہی دینی علوم کا حق ادا کر سکے۔جس کے نتیجے میں ہم دینی اور دنیاوی اعتبار سے بے وقعت ہوگئے۔
خیر اب جو بھی ہوا مایوسی اس کا حل نہیں ہے بلکہ ہمیں دینی علوم کی جدید طرز پر ترویج واشاعت کے حوالے سے اقدامات اٹھانے چاہئے ۔جس کے لئے پہلے ایک کامیاب دینی ادارے کا قیام ضروری ہے۔لیکن اس کی کامیابی عمارت کے رنگ و روغن پر قطعاً نہیں ہے بکلہ اس کے اندر کام کرنے والے افراد پر اور افراد کے ساتھ ساتھ نصاب کے معیار پر منحصر ہے۔آج ہمارے ہاں یہ دینی ادارے برائے نام بے شمار موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کو چلانے والے دور جدید کے علوم کو دینی علوم کے ساتھ clubکرکے ایک حسین امتزاج کرنے کی صلاحیت سے یکسر عاری ہیں ۔اسلئے اس ظمن میں مسلم آبادی کے باشعور و بافہم تعلیم یافتہ حضرات کو کٹھن محنت کرکے ان اساتذہ حضرات کی تربیت کے حوالے سے ایک خاص تربیتی مشن شروع کرنا چاہئے ۔ ان کے اندر حقیقی اسلامی فکر اور جملہ اخلاقی صفات کا خوبصورت سنگم پیدا کرکے انہیں علمی و عملی طور پر مثالی بنائے جانے کا امکان پیدا کیا جائے۔لکھنے میں تو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن عملانے کے لئے شاید اس وقت سستی اور کاہلی سے چھٹکارا حاصل کرنا اس کام کے لئے شرطِ لازم کی حیثیت رکھتا ہے۔
اساتذہ کی تربیت کے حوالے سے دین پسند جید علمائے کرام کو ایک تحریک کا آغاز کرنا چاہیے کیونکہ اس خلا کو پر کرنے کے لئے میری نگاہ بھی اب ایک تحریک ہی موئثر کردار ادا کرسکتی ہے۔انہیں اساتذہ حضرات کی سب سے پہلے روحانی تربیت کا اہتمام کرنا چاہئے ۔اساتذہ کو تربیت دینے والے حضرات ان میں ایک احساس پیدا کرنے میں کامیاب ہونے چاہئیں تاکہ اساتذہ یہ جان لیں کہ وہ جس کام کو کرنے کے لئے چنے گئے ہیں یہ کام کافی پاک اور مقدس ہے۔اس میں ہلکی سی کوتاہی بھی ایک بحران پیدا کرنے کا امکان پیدا کر سکتی ہے۔اساتذہ حضرات کو اس کام کے کرنے میں صرف رضا الہی مقصود ہو ناکہ ان کی دل اور دماغ میں دورِ جدید کی رنگینیوں کو دیکھ کر احساس کمتری کے جراثیم پیدا ہوں۔دورجدید کی چکا چوند سے فطری طور پر متاثر ہونے سے بچنے کی لئے روحانی طور پر ہدایت یافتہ ہونا ازحد ضروری ہے۔اگر اس پہلو میں کمی رہ جاتی ہے تو مدارس سے وہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے کہ جن کی بنیاد پر ایک ادارہ کامیاب ادارہ کہلانے کا استحقاق حاصل کر سکے۔
اساتذہ اپنی جگہ مستقل ایک ادارہ ہوتا ہے اور جس ادارے کی عام طور پر ہم بات کرتے ہیں وہ محض عمارت کے مفہوم میں کرتے ہیں ۔جس کی رنگ و روغن کو اکثر کامیابی مانا جاتا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اساتذہ کی شخصیت جب تک attractive نہ ہو تب تک ادارے کی کامیابی کے بارے میں سوچنا بچگانگی ہے۔ایک کامیاب ادارے کی کامیابی اساتذہ کی کامیاب شخصیت پر مبنی ہے ۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ادارے کی کامیابی کے لئے اساتذہ کی جملہ صفات کو اہمیت کا حامل سمجھا جائے ۔
ہمارے یہاں ایک نالہ عام اکثر عوام کی زد زبان پر رہتا ہے کہ مدارس معیاری نہیں ہیں ،مدارس دقیانوسیت کے رنگ میں ہیں اور مدارس کچھ بھی نہیں کر پا رہے ہیں ۔لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ہماری دقیانوسی سوچ ،تنگ نظری اور مرعوبیت کا نتیجہ ہے کہ ہم یہ مضحکہ خیز بیانات اپنی زبان سے نشر کرتے رہتے ہیں ۔یہ تو ہماری خطا ہے کہ ہم مدارس کو اہمیت کا حامل سمجھتے نہیں، مدارس کو تعلیم دلانے کا صحیح اور معیاری ادارہ نہیں سمجھتے اور مدارس کا نام سن کے ہی ہمیں جاہلیت وغیرہ جیسے الفاظ ذہن میں گھومنے لگتے ہیں ۔پہلے ہمیں اپنی سوچ درست کرنی چاہئے اور اپنے آباو اجداد کی وراثت پر فخر ہونا چاہئے کہ یہ مدارس اس زمانے سے ہیں جب یورپ میں علمی اداروں کا نام و نشان تک نہیں تھا۔یہ ہمارے مدارس ہی تھے کہ جنہوں نے دور جدید کی یونیورسٹی کو وجود بخشا۔یہ ہمارے مدارس ہی تھے کہ جنہوں نے علم کے اکتساب اور پھیلاو کے لئے ایک طریقہ کار دنیا جہان والو کو بخشا ۔مداراس کا آغاز مسجد نبوی میں اصحاب صفہ کے چبوترے سے ہوتا ہے ۔مراکش کی جامعۃ القرویین دنیا کی سب سے پہلی یونیورسٹی ہے جو پہلے مدرسہ تھا جس کو فاطمہ الفہیری نے 859 میں شروع کیا تھا۔جامعہ الاظہر بھی پہلے مسجد کے اندر ایک مدرسے کے طور پر شروع کی گئی تھی ۔المختصر مجھے یہ کہنا ہے کہ مدارس ہمارا جو ماضی میں علمی وقار تھا اس کا ضامن تھے اور آج بھی جو کچھ علمی ڈھانچہ ہمارے پاس ہے وہ مدارس کی دین ہے ۔یہ مدارس ہیں جنہوں نے ہمارے مسلم شناخت کو برقرار رکھا۔ہمارے علمائے دین اکثر و بیشتر مدارس سے تعلیم یافتہ ہیں ۔یہ علمائے دین ہی ہیں جو آج کی اد مغرب زدہ سست اور کاہل مسلم عوام کو اپنے دین سےجوڑے رکھے ہوئی ہے۔ہمیں چاہیے کہ مدارس کو مضبوط اور قوی کرنے کے لئے ہر قسم کا تعاون فراہم کریں ۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ہمارے مدارس کا نصا معیاری نہیں ہےیا اساتذہ باصلاحیت نہیں ہیں تو اس کے زمہ وار بھی ہم ہیں ۔ہم جب تک تن من دھن سے اسلامی مدارس کی نشاۃ ثانیہ کے لئے کوشاں نہ ہوں تو ہمیں گھر بیٹھ کے مدارس کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے ۔