محکمہ پی ایچ ای خواب غفلت میں

گول//ھیمداسہ کے زینہ فری علاقہ میں لوگوں میں ُاس وقت تشویش کی لہر دوڑ گئی جب پینے کے پانی کی پائپ سپلائی میں مردہ مینڈک پائے گئے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی روز سے انہیں پانی بند ہو گیا تھا اور وہ پائپ میں فالٹ دیکھنے کے لئے گئے۔اس دوران جوں ہی پائپ کھولی دیکھا کہ یکے بعد دیگرے مردے مینڈک پائپ سے باہر آنے لگے جس وجہ سے انہیں کافی تشویش پیدا ہوئی اور انہوں نے اس سلسلے میں اس معاملے کو اعلیٰ حکام اور ایس ڈی ایم گول کی نوٹس میں لایا ۔مقامی لائن مین کے مطابق دو روزسے پانی کی سپلائی بند پڑی تھی اوراب جب وہ پائپوںکی مرمت کا کام کر رہے تھے تو پائپ لائن میں دو مردہ مینڈک پائے گئے جس وجہ سے پائپ بلاک ہوئی تھی۔ لائن مین کا مزید کہنا تھا کہ پائپ لائن سے اگر چہ ابھی بھی پانی لوگوں کو سپلائی کیا جا رہا ہے لیکن لوگوں میں ابھی بھی خدشہ ہے کہ لائن میں ابھی بھی کیڑے مکوڑے موجود ہوکیونکہ پائیں اس قدر ٹوٹی پھوٹی ہیں کہ بیشتر جگہوں پرپائپ لائن مومی لفافوں سے بندھی ہوئی ہے، ایسے میں کیڑے مکوڑوں کا پائپ میں گھسنا کوئی مشکل نہیں۔زینہ فری کے مقامی لوگوں نے کہا کہ علاقہ میں پینے کے صاف کا حصول ایک خواب بن رہ گیا ہے کیونکہ متعلقہ محکمہ جن پائپوں سے لوگوں کو پانی سپلائی کر رہا وہ پائیں جگہ جگہ ٹوٹی پھوٹی ہیں جس وجہ سے پائیوںمیں سانپ، بچھو اور مینڈک وغیرہ میں گھس جاتے ہیں اور وہیں مر جاتے ہیں اور پھر یہی پانی ہمیں سپلائی کیا جا رہا ہے۔انہوں نے محکمہ پی ایچ ای کے تئیںشدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ عوام کو پینے کا صاف پانی سپلائی کرنے میں مکمل طور سے ناکام ہو چکا ہے، محکمہ زہرآلود پانی سپلائی کرنے کا مجرمانہ عمل اپنائے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ علاقہ میں مہلک بیماریاں پھیلتی جا رہی ہیں اور لوگ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ مقامی لوگوں نے علاقہ میں بیماریوں کے پھیلاؤ کے لئے محکمہ کو ذمہ دار ٹھہراتے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گول میں تعینات عملے کی اس غیر سنجیدگی کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کریںاور علاقہ میں صاف پانی کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لئے فوری اقدام اٹھائیں۔مقامی شہریوں نے محکمہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکمہ عرصہ دراز سے صرف ایک علاقہ میں نہیں بلکہ پورے گول میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی سپلائی کرنے میں انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے جو کہ ناقابل ِ برداشت ہے ۔جمالدین بٹ،محمد اشرف میر،محمد شفیع جرال فاروق احمد بٹ، محمد اشرف شیخ، شہباز مرزا، مسعید نائیک، مشتاق احمد نائیک ، عرفان شیخ کے علاوہ دیگر معزز شہریوں نے محکمہ شیدید برہمی کا اظہا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل محکمہ نے اشکنڈہ کے مقام پر ایک ایسے نالے سے پانی سپلائی کرنے کا ناپاک عمل اپنایا تھا جس نالے میں اکثر لوگوں رفع حاجت کرنے کیلئے جاتے تھے جبکہ وہاں پر پانی کی کوئی خاص مقدار بھی نہیں تھی لیکن محکمہ ہٹ دھرمی سے اُسی نالے سے لوگوں کو پانی سپلائی کرنے پر بضد تھا اور میڈیا کی باربار کی مداخلت سے یہاںاس نالے سے محکمہ نے پانی سپلائی کرنا بند کر دیا۔مقامی لوگوں نے ضلع سطح کے آفیسران سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طورگول میں تعینات عملے کی اس غیر سنجیدہ اور مجرمانہ عمل پر کاروائی کی جائے وگرنہ لوگ محکمہ کے اس مجرمانہ رویے کے خلاف سڑکوں پر اُتر آئیں گے اور متعلقہ محکمہ کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے۔ محکمہ کے AEEکا کہنا تھا کہ پائپوں میں اس طرح سے مردہ کیڑے مکوڑوں کا برآمد ہونا کافی افسوس ناک ہے لیکن محکمہ آئندہ اس تمام صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے آئندہ ماہ اپریل کے آواخر تک اُن تمام چشموں کی باڑ بندی کرے گا جو کھلے پڑے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اُن علاقوں کو بھی پائیوں دی جائیں گی جن جہاں پائپیں بالکل ختم ہو چکی ہیں۔