_محرم الحرام اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ نہ صرف ہجری سال کا آغاز کرتا ہے بلکہ اپنی روحانی، تاریخی اور مذہبی حیثیت کی بنا پر مسلمانوں کے دلوں میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ محرم کے ساتھ ہی اسلامی سال کی روحانی فضا قائم ہوتی ہے اور یہ مہینہ ہمیں صبر، قربانی، وفاداری اور حق پر ثابت قدمی کا پیغام دیتا ہے۔اسلامی شریعت میں محرم کو ان چار محترم مہینوں میں شامل کیا گیا ہے جنہیں قرآن مجید میں’’حرمت والے مہینے‘‘ کہا گیا ہے۔ ان چار مہینوں میں محرم، رجب، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ شامل ہیں۔
ان مہینوں میں جنگ و جدال کو حرام قرار دیا گیا ہے تاکہ امن و آشتی کو فروغ دیا جا سکے۔چنانچہ ہر ذی ہوش اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ وجود کائنات سے آج تک زندگی اور موت، آمد و رفت، عروج و زوال، دن اور رات، چاند اور سورج، ستارے اور کہکشائیں اپنے مقررہ نظام کے مطابق گردش کر رہے ہیں۔ وقت کا یہ کارواں کبھی نہیں رُکا بلکہ ہر گزرتا لمحہ انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا عارضی ہے اور اصل زندگی آخرت کی ہے۔لیل و نہار کی گردش، ماہ و سال کی تبدیلی اور زمانے کے بدلتے ہوئے مناظرہر وقت ہمیں خود احتسابی کی دعوت دیتے ہیں کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں، اپنی کوتاہیوں پر ندامت کریں اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ کریمؐ کی اطاعت کے سانچے میں ڈھالیں۔
اسلامی تاریخ کا سب سے دردناک، سبق آموز اور روح کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ سانحۂ کربلا ہے، جو 10 محرم الحرام 61 ہجری کو کربلا کے میدان میں پیش آیا۔ یہ واقعہ فقط ایک جنگ نہیں بلکہ حق اور باطل، انصاف اور ظلم، ایمان اور فسطائیت کے درمیان ایک عظیم معرکہ تھا۔ اس واقعے نے دین ِ اسلام کی بقاء کو ممکن بنایا اور پوری انسانیت کو ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا پیغام دیا۔امام حسینؓ نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ ظالم کے خلاف خاموشی اختیار کرنا خود ظلم ہے۔
آج جب دنیا میں ظلم، ناانصافی اور باطل قوتیں سر اٹھا رہی ہیں، تو واقعۂ کربلا ہمیں جرأت، سچائی اور عدل کا سبق دیتا ہےاورکربلا کی لازوال قربانی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ وقت اور حالات جیسے بھی ہوں، حق کے لیے کھڑا ہونا ایمان کی علامت ہے۔ محرم الحرام کا دسواں دن’ یومِ عاشورہ‘ خاص فضیلت کا حامل ہے۔ اس دن کی اہمیت صرف اسلامی روایات میں نہیں بلکہ سابقہ اُمتوں میں بھی رہی ہے۔ہمارے پیارےنبی ؐ نے اس دن کے روزے کو گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ قرار دیا ہے۔
حضرت موسیٰ ؑنے فرعون کی غرقابی پر شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھا اور نبی اکرمؐ نے بھی اسے جاری رکھا۔اب جبکہ آج ہم اسلامی سال 1448 ہجری میں داخل ہو چکے ہیںتو یہ عظیم اسلامی تقویم حضور سیدِ عالمؐ کی تاریخی ہجرت کی یادگار بھی ہے، جس نے اسلام کی دعوت کو نئی قوت، نئی وسعت اور نئی زندگی عطا کی۔ ہجرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دین کی سربلندی، ایمان کی حفاظت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر طرح کی قربانی پیش کرنا ہی اہلِ ایمان کا شیوہ ہے۔
الغرض اسلامی سالِ نو صرف مبارکباد دینے کا نام نہیں بلکہ یہ خود احتسابی، تجدیدِ ایمان، اصلاحِ نفس اور نئے عزم کے ساتھ زندگی گزارنے کا پیغام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ گزرے ہوئے سال کا محاسبہ کریں کہ ہم نے کیا کھویا، کیا پایا، کہاں نیکیاں کمائیں اور کہاں کوتاہیاں رہ گئیں۔ پھر نئے سال کا آغاز سچی توبہ، نمازوں کی پابندی، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار، حسنِ اخلاق، والدین کی خدمت، صلہ رحمی، حقوق العباد کی ادائیگی اور سنتِ نبویؐ پر عمل کے مضبوط ارادے کے ساتھ کریںاور اللہ تعالیٰ سے دعامانگیں کہ اس ہجری سال کو پوری اُمتِ مسلمہ کے لیے امن، سلامتی، اتحاد، خیر و برکت، دین پر استقامت، باہمی محبت اور اخوت کا سال بنائے۔
� ����������������