الحاد کی یلغار کے باوجود جو عمل آج بھی اسکولوں میں رائج ہے اور جسے طلباء و طالبات بڑے ہی انہماک کے ساتھ اور بڑے ہی ترنم میں پڑھتے ہیں، وہ صبح کی دعا ہے جسے مجلس دعا یا پرائر اسمبلی کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ عمل دنیا کے اکثر خطوں میں بلالحاظ نسل و رنگ اور بلا تفریق مذہب و ملت قرنوں سے جاری ہے۔ ان دعاؤں کی عالمگیر اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ غیر موحدانہ معاشروں نے بھی اپنے اساطیری ادب میں مختلف ایسی دعاؤں کے آثار چھوڑے ہیں جو وہ اپنے مخصوص خداؤں سے کرتے تھے۔
تاہم مسلم معاشروں میں اس دعا کی اپنی ایک منفرد شان اور پہچان رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں علم کی تحصیل اصلاً اس تصور کے ساتھ منسلک ہے کہ علم کا اصل منبع اللہ تعالی کی ذات ہے اور اس کی مرضی اور اذن سے ہی بندہ اس میں سے کوئی حصہ حاصل کرسکتا ہے۔ اس لئے تدریسی عمل کا باضابطہ آغاز کرنے سے قبل تحصیل علم کے عمل میں تائید الٰہی کو شامل کرنے کے لئے خدا کی جناب میں دعا کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ باد صبا کے جھونکوں کے درمیان ننھے بچوں کی معصومانہ اداؤں اور جھکے سروں سے پیدا ہونے والے خشوع سے بلند ہونے والی پکار بارگاہ الٰہی تک ضرور پہنچ جاتی ہے اور رحمت خداوندی سے طالبان علم کے ذہنوں کے دریچے وا ہوجاتے ہیں۔
یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ مجلس دعا یا پرائر اسمبلی دراصل پورے دن ہونے والے تدریسی عمل کی ایک صغیرہ شکل (مینئیچر) ہوتی ہے۔ اس مجلس میں حقیقت میں اس سارے کام کی مشق کی جاتی ہے، جس کے ذریعے علم کو بحیثیت ایک اکائی بچوں تک پہنچایا جاتا ہے، جس سے ان کی شخصیت کا ارتقاء شروع ہوجاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مجلس کے دوران علم کی مختلف جہتوں کو برت کر دکھایا جاتا ہے تاکہ ایک طرف علم کی افادیت بچوں کے ذہنوں پر نقش ہوجائے اور دوسری طرف یہ ان کے برتاؤ کا حصہ بن جائے تاکہ علم سے ہی ان کی فطرت ثانیہ کی تعمیر ہوسکے۔
اس ضمن میں مجلس دعا میں ہونے والا ہر ایک عمل قابل دید ہونے کے ساتھ ساتھ قابل غور بھی ہوتا ہے۔ بچے ایک ہی قسم کے لباس (وردی، یونیفارم) میں ملبوس ہوتے ہیں۔ اس سے نفسیاتی طور پر بچوں میں معاشرتی ہم آہنگی کا احساس پیدا ہوتا ہے، جو اونچ نیچ کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔ بچوں کا قطاروں میں کھڑا ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پوری زندگی میں نظم و ضبط اور ترتیب کی کتنی اہمیت ہے۔ دعا کے دوران اساتذہ کی نگرانی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ چھوٹوں کے لئے نہ صرف بڑوں کی شفقت درکار ہوتی ہے بلکہ بڑوں کی محافظت اور نگرانی کا ہونا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ یعنی تجربہ کار، با علم اور با ہنر لوگوں کا معاشرے کی دیکھ بھال کرنا ہر دم ضروری ہے۔ دعا کے بعد اساتذہ کا بچوں کی صفائی ستھرائی کا جائزہ لینا یہ معنی رکھتا ہے کہ جسمانی طہارت کا روحانی پاکیزگی کے ساتھ کتنا تعلق ہے اور مجموعی طور پر علم صاف پاک ابدان اور اذہان میں ہی جگہ پاتا ہے۔ جسمانی کسرت بھی مجلس دعا کا ایک اہم حصہ ہوا کرتی ہے۔ یہ حصہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ زندگی کی روانی کے لئے اس کا ہر دم متحرک رہنا کتنا ضروری ہے۔ ایسا نہ ہو تو کارخانہ زندگی کا ہر پرزہ زنگ آلود ہوجائے گا۔ روزانہ کی بنیاد پر مختلف جماعتوں کے بچوں کا پورے اسکول کے بچوں کے سامنے آنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہر بچہ انفرادی طور پر اس قابل ہوجائے کہ وہ اپنا مدعا اور مافی الضمیر بلا جھجک کسی بھی جماعت یا گروہ کے سامنے پیش کرسکے۔ نطق و بیان کی یہی اُبھری ہوئی صلاحیت آگے چل نہ صرف انسان کے احساس کمتری کو رفع کرنے کا باعث بنتی ہے بلکہ یہی صلاحیت انسان کو اپنے معاشرے کی نمائندگی کرنے کے لئے تیار کرتی ہے۔ یہی صلاحیت قوموں کو مارٹن لوتھر، میلکم ایکس، گاندھی جی اور ابوالکلام آزاد جیسے افراد فراہم کرتی ہے۔ اس طرح مجلس دعا کے دوران بچوں سے سرزد ہونے والی کوتاہیوں پر ہر دم نظر رکھی جاتی ہے تاکہ ان کو بر وقت دور کیا جاسکے۔ اسی سعئ مسلسل سے بچوں کے روشن مستقبل کی امید برقرار رہتی ہے۔تاہم مجلس دعا کی یہ سبھی رنگا رنگی جس چیز کے گرد گھومتی ہے یا جو اس پوری کارروائی کے لئے روح کی حیثیت رکھتی ہے، وہ اصل میں خدا کے حضور کی جانے والی دعا ہے۔ اس دعا کی معنویت ہی دراصل اس مجلس کو نتیجہ خیز بناتی ہے۔ یہاں پر ہم اس مجلس میں پڑھی جانے والی چند مشہور دعاؤں کا ذکر کریں گے جو کشمیر کے اسکولوں میں ہر دلعزیز رہی ہیں۔ سب سے پہلے غلام احمد مہجور کی کشمیری دعائیہ نظم کے چند اشعار پر نظر ڈالتے ہیں:
صاحبو! ستھ چھَم میہ چآنی وَتھ میہ اصلئچ ہاوتَم
کوٗت کالاہ روز بے زان زآنِہ ہُندمَس چاوتَم
یعنی، (الٰہی! مجھے آپ ہی کی ذات پر اعتماد ہے، مجھے سچی راہ دکھا! میں کب تلک انجان رہوں گا، مجھے عرفان کی مے پلادے)
شکلِہ چُھس انسان مگر انسآنی یَت نشہِ بے خبر
ہاوتَم مَتہ امتحان،ییمہ شکلہِ مَتہ مندچھاوتَم
یعنی،( میں شکل و صورت سے انسان تو ہوں، لیکن (اصل میں) انسانیت سے بے خبر ہوں! مجھے آزمائش میں مت ڈالنا، میرے اس انسانی حلیے کو بے عزت مت کرنا)
ظاہر ہے کہ یہ دعا کشمیر کے ہر حلقے میں پسند کی جاتی ہے اور مختلف اسکولوں میں بھی مجلس دعا کی زینت بنی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اکثر ریڈیو سے ’’صبح گاہی‘‘ پروگرام میں نشر کی جاتی رہی ہے۔ چونکہ علم و عرفان کے ذریعے ابھرنے والی ایک دلنشین شخصیت کی خاطر یہ دعا نہایت ہی معنی خیز ہے، اس لئے اس کا مجلس دعا میں شامل کیا جانا ایک مثبت روایت ہے۔اس قسم کی ایک اور دعا ہمارے اسکولوں میں پڑھی جاتی ہے اور یہ ہماری تدریسی روایت کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ اس دعا میں اگرچہ علم کی باپت بلاواسطہ کچھ نہیں کہا جاتا، لیکن بندہ جس طرح ہر لحظہ تائید ایزدی اور نصرت الٰہی کا محتاج ہوتا ہے، اس کی اس میں ترجمانی کی گئی ہے۔ اس ضمن میں اس دعا میں مختلف پیغمبروں کا ذکر کرکے یہ بات بہرحال بالواسطہ کہی گئی ہے کہ جب خدا کے پیغمبر علم و عرفان کے اصل منبعے کے ساتھ راست تعلق ہونے کے باوجود اس کی مدد کے بغیر آگے نہ بڑھ سکے، تو ایک طالب علم کو ہر حال میں راہ علم میں کامیابی کے لئے خدا سے دست بدعا رہنا چاہئے۔ اس دعا کی ابتداء ان الفاظ سے ہوتی ہے:
پروردگار عالم، تیرا ہی ہے سہارا
تیرے سوا جہاں میں، کوئی نہیں ہمارا
ان دعاؤں کے ساتھ ساتھ کئی اسکول اپنی دعائیہ مجالس میں نبی ؐ کی نعت پڑھ کر ذات رسالتمآبؐکو گلہائے عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ’’مدینہ العلم‘‘ (علم کا شہر) اور ’’معلم اعظم‘‘ (بعثت معلما) ہونے کی حیثیت سے یہ نعتیں معنی خیز ہونے کے ساتھ ساتھ بر وقت بھی ہوتی ہیں۔ یہاں پر اس قسم کی ایک نظم کے دو اشعار پیش خدمت ہیں:
دکھائی ہمیں راہ اسلام کس نے؟
ہمارے نبیؐ نے، ہمارے نبیؐ نے
سنایا ہمیں حق کا پیغام کس نے؟
ہمارے نبیؐ نے، ہمارے نبیؐ نے
اس سلسلے میں راقم الحروف کو اپنے اسکول میں اکثر پڑھی ہوئی دعا کے ساتھ ساتھ اس دور کی دعائیہ مجلس آج کے دن کی طرح یاد ہے۔ یہ ایک جامع دعا تھی جس میں دراصل سورہ الفاتحہ کو منظوم انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ اس دعا کو پڑھ کر بچہ خدا کی نوازشوں کا امیدوار ہوتا تھا۔ یہ دعا، میری اطلاع کے مطابق، شاید ہی اب کسی اسکول میں پڑھی جاتی ہے۔ اس دعا کا پہلا شعر ہی بڑا دلکش ہے:
آغاز تیرے نام سے، اے کارساز دو جہاں
رحمت تیری سب سے سوا، تو سب سے بڑھکر مہربان
تاہم مدرسوں کی دعائیہ مجالس کے تناظر میں جو دعا پورے بر صغیر میں نہایت ہر دلعزیز ہے، وہ علامہ اقبال کی ’’بچے کی دعا‘‘ ہے۔ یہ دعا جس طرح علم کے نور سے پروان چڑھنے والی شخصیت، ملک و قوم کی خدمت، نیکی اور بدی کی تمیز، نچلے طبقوں کی دستگیری وغیرہ جیسی عالمی اقدار کو تمنا کے طور پر بچے کے معصوم دہن سے ادا کراتی ہے، اس سے یہ بچے کی نفسیات کو کافی متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دعا بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کے ’’لبوں کو بھی تر رکھتی ہے!‘‘ علم و عمل کو مربوط انداز میں پیش کرنے والی اس دعا کے چند اشعار کو یہاں پیش کیا جاتا ہے۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
میرے اللہ ہربرائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو، اسی راہ پہ چلانا مجھ کو
اسکولوں کی دعائیہ مجالس کی اہمیت ماہ رواں میں اس وقت دوچند ہوئی جب کوڈ۔19 کی سنگین صورتحال میں کمی واقع ہونے پر انتظامیہ نے تعلیمی اداروں کو کھولنے کی اجازت دی۔ تعلیمی عمل کا دو برس کے بعد باضابطہ آغاز ہوتے ہوئے اکثر تعلیمی اداروں میں تعینات اساتذہ نے اپنے شاگردوں کی راہوں میں پھول بچھا کر استقبال کیا۔ بچوں کی راہوں میں گلباری بے شک ایک خوش آئند واقعہ ثابت ہوا، لیکن سماجی رابطوں سے منظر عام پر آنی والی صبح کی دعائیہ مجالس میں بچوں کے ساتھ ساتھ اکثر اساتذہ کو ان مجالس میں سوز و گداز کی کیفیت میں دیکھا گیا۔ پہلے ہفتے کی ان دعائیہ مجالس میں اساتذہ اور بچے خدا کا معمول کے مطابق شکر بجا لانے کے ساتھ ساتھ سبھوں کی آنکھیں اس احساس شکر سے تر تھیں کہ علم کا سفر کوڈ۔19 کی تباہ کاریوں کے بعد پھر سے شروع ہورہا ہے۔
(رابطہ 9858471965)