مثلِ شبیرؓکوئی حق کا پرستار تو ہو !

 عدل و انصاف پر مبنی طرزِ زندگی اختیار کرنا فطرت کا تقاضا ہے اور اسلام چونکہ دین  ِفطرت ہے لہٰذا اس میں عدل وانصاف، اخوت و مساوات اور آزادی و حریت کو خاصی اہمیت دی گئی ہے، انسان کو اس بات پر اُبھارا گیا ہے کہ وہ ان بنیادوں پر سماج کو استوار کرے۔اسی لئےقرآن مجید میں انبیاء کرام کی بعثت کے مقصد کو کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے:(ترجمہ)بےشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی ، تاکہ لوگ عدل پر قائم ہوں۔ (الحدید:25)
گویا لوگوں کو نظام عدل پر قائم کرنا اور انہیں نظامِ ظلم سے بچا کر صرف ایک خدا کی عبادت پر اُبھارنا ہر دور میں انبیاء کرام علیہم السلام کا بنیادی مقصد رہا ہے۔ اسلام انسانی سماج کو اخوت و مساوات، عدل وانصاف اور حریت و آزادی کی بنیادوں پر استوار کرتا ہے اور ہر قسم کی ظلم وزیادتی سے معاشرے کو پاک و صاف کرتا ہے۔ عدل و انصاف پر مبنی نظام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرز پر قائم فرمایا کہ اس میں کسی قسم کی کوئی کمزوری نہ رہی اور دین خالصتاً اللہ کا نافذ ہو گیا۔ دور خلفاء راشدین میں، صحابہ کرام اور اہل بیت اطھار رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس نظام عدل کو قائم رکھنے اور اس کی جڑوں کو محفوظ رکھنے میں کافی جد وجہد کی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں کافی کمزوریاں آنے لگیں۔ خلافت ملوکیت کی طرف اور دینداری مادیت کی طرف کھسکنے لگی جس کی پیشنگوئی پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی تھی:
حضرت سفینہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ خلافت تیس سال تک ہو گی ، پھر بادشاہت ہو گی ۔‘‘ پھر سفینہ بیان کرتے ہیں : ابوبکر ؓ کی خلافت دو سال ، عمر ؓ کی دس سال ، عثمان ؓ کی بارہ سال اور علی ؓ کی چھ سال شمار کر ۔ (مشکوٰۃ:5395)
اکابرینِ اسلام حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے 6 ماہ پر مشتمل مختصر دور کو بھی اس تیس سالہ دور خلافت میں شامل کرتے ہیں ،جس کی پیشنگوئی حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی۔ اس کے بعد بنو امیہ کے دور حکومت کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ دورِ خلفائے راشدین کے عدل و انصاف پر مبنی اقدار زوال و انحطاط کا شکار ہوگئے اور موروثیت و آمریت نے اس چشمہ صافی کو گدلا کرکے رکھ دیا۔
اس بدلتے منظرنامہ میں امام عالی مقام سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ملت کے افق پر مہر و ماہ بن کر نمودار ہوتے ہیں اور اسلامی اقدار کے تحفظ و فروغ کے لئے ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لئے مینارہ نور کا کام انجام دیتے ہیں۔آپ اپنی حیاتِ مستعار کی ہر گھڑی ملت اسلامیہ کی خیرخواہی میں لگا دیتے ہیں اور دینی اقدار کی بقا کی خاطر اپنی گردن تک کٹا دیتے ہیں۔گویا ملت کے مفاد کی خاطر آپ ایثار و قربانی، جرأت و شجاعت اور وفا و استقامت کی وہ عظیم مثال قائم کرتے ہیں جس کی مثال تاریخ عالم میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ایک طرف نانا جان کے دین کی خاطر آپ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے آداب فرزندی کی مثال قائم کرتے ہیں تو دوسری طرف ابتلاء و آزمائش کی گھڑی میں قرآن مجید کے احکامات کو اپنا حرزِ جاں بناتے ہیں:
(ترجمہ(: بیشک ہم تمہارا امتحان کریں گے کسی قدر خوف ، بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور ان ثابت قدموں کو خوشخبری سنادو، جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم اللہ ہی کیلئے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔  ( البقرہ: 155,156)
علامہ اقبال اس حقیقت کو کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:
رمز قراں از حسین آموختیم
زآتش او شعلہ ہا اندوختیم
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ حق و صداقت کے نڈر علمبردار، شرفِ انسانی کے بہادر پاسبان اور حریت فکر کے بے باک مجاہد بن کر سامنے آتے ہیں اور یزیدی فوج کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ملت کو بھولا سبق یاد دلاتے ہیں۔
مشہور مؤرخ مولانا معین الدین ندوی لکھتے ہیں:’’ امام حسین کی تقریر سے واضح ہے کہ حضرت امام کا یزید کے مقابلے میں آنا محض حصول خلافت کے لئے نہ تھا بلکہ اصلی مقصد اسلامی خلافت کا احیاء تھا، یعنی موروثی حکومت کے اثر سے جو خرابیاں آگئیں تھیں انہیں دور کرکے خلافت راشدہ کی یاد تازہ کرنا تھا۔‘‘
امام حسینؓ کے واقعہ شہادت اور آپ کی تقاریر کو پڑھ کر یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کتاب و سنت کے قانون کو صحیح طور پر نافذ کروانا چاہتے تھے اور مسلسل جہاد کے ذریعے ملوکیت و آمریت کی جگہ خلافت علیٰ منہاج النبوت قائم کرنا چاہتے تھے۔اس کام میں آپ زَر و زور کی نمائش سے مرعوب نہ ہوئے، خوف و ہراس اور مشقت و آزمائش سے نہ گھبرائے اور ہر وقت اللہ ہی کو یاد کیا، اُسی پر توکل کیا اور ہر حال میں اُسی سے رجوع کیا۔آپ ؓنے حق کا بول بالا کرنے کے لئےمدینہ منورہ کی پرسکون و باتمکین فضاؤں کو الوداع کہا اور ظالم و فاسق حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کیا تاکہ اُمت میں حق و باطل کے درمیان تمیز کرنے کا شعور پیدا ہوسکے۔اس قسم کے اقدامات کو احادیث میں اعظم الجہاد قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:(ترجمہ:(  ظالم بادشاہ کے سامنے حق کہنا سب سے بہتر جہاد ہے۔ ( ترمذی:2174)
امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی اور اپنے اقرباء کی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے یزیدی نظام کے سامنے سینہ سپر ہوکے اس کو چیلنج کیا، استبداد کے خلاف احتجاج درج کروایا اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لئے جان کا نذرانہ پیش کیا۔
مشہور مؤرخ اسلام ڈاکٹر علی محمد الصلابی لکھتے ہیں:’’حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے یزید سے بیعت نہیں کی تھی اور انہوں نے شوریٰ اور ان مبادیات اسلام کے دفاع میں حکومت میں وراثت کے تصور پر اعتراض کیا تھا جو امت کو اپنی مرضی سے حکمران کے انتخاب کا حق دیتی ہیں۔‘‘
شہید ِکربلا جگر گوشہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب کا واقعۂ شہادت مسلمانوں کے لئے تاابد دعوتِ فکر و عمل پیش کرتا رہے گا۔ان کی بے مثال قربانی مسلمانوں کو ہمیشہ اس مقصدِ عظیم کی دعوت دیتی رہتی ہے جس کے لئے آپ بے چین ہوکر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ اور پھر مکہ مکرمہ سے کوفہ جانے کے لئے تیار ہو گئے اور جس کے لئے اپنے سامنے اپنی اولاد اور اپنے اہل بیت کو قربان کرکے آپ خود قربان ہوگئے۔ جو کوئی بھی واقعہ شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، غور سے آپ کے خطوط اور خطبات کو پڑھتا ہے ، اُسے معلوم ہوتا ہے کہ آپؓ نے قرآن و سنت کے منہج کے مطابق اسلام کے نظام عدل کو ازسرنو قائم کرنے کے لئے اپنا جان و مال اور اولاد سب قربان کردیا۔خلافتِ نبوت کے بجائے ملوکیت و آمریت کی بدعت کے مقابلہ میں آپؓ نے آخری دم تک مسلسل جہاد کیا اور حق کے مقابلے میں زور و زَر کی نمائشوں سے آپ ہرگز مرعوب نہ ہوئے۔خوف و ہراس اور تکلیف و مشقت میں آپ نہ گھبرائے اور ہر وقت اللہ کو یاد کرتے رہے، اُسی پر توکل کیا اور ہر حال میں اُسی کا شکر ادا کیا اور شکوہ و شکایت کو زبان پر آنے نہ دیا۔
دراصل یہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی آغوشِ تربیت کا ہی فیض ہے کہ جب ہمیں صلح و امن کے اعلی معیارات کی بات کرنی ہو تو امام حسن رضی اللہ عنہ کی صورت میں ایک بہترین نمونہ ہمارے سامنے آتا ہے، جب صبر و استقلال،جرأت و بہادری اور باطل کے آگے چٹان کی طرح ثابت قدم رہنے والی نفوس کی بات کرنی ہو تو امام حسین ؓ کا قابل تقلید نمونہ نکھر کر سامنے آتا ہے۔حضرت امام عالی مقام سیدنا حسین ؓ چاہتے تو باطل کے ساتھ سمجھوتہ کرکے اعلیٰ مادی و سیاسی کرسیوں پر متمکن ہو کر آرام کی زندگی گزار سکتے تھے مگر انہوں نے مٹتی عدل و انصاف اور تقویٰ پر مبنی اسلامی قدروں کو جلا بخشنے میں متاعِ جاں لگا دی اور یہ سبق دیا:
چڑھ جا کٹ کے سر تیرا نیزے کی نوک پر
لیکن تو فاسقوں کی اطاعت  نہ کر  قبول
ضرورت اس بات کی ہے کہ شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے اور ساکن و جامد شب و روز سے نکل کر رسمِ شبیری ادا کرنے کا عزم کیا جائے، باطل مادی طاقتوں کو مات دے کر روحانی و اخلاقی انقلاب برپا کرنے کی کاوشیں کی جائیں اور عادلانہ اقدار کو اپنی شناخت بنانے کی راہ پر چلنے کی کوشش کی جائے۔