دنیا اپنی حالت پر قائم ہے اور ہمیشہ قائم رہے گی لیکن اس قفس کے امیر بدلتے رہیں گے ۔ہماری چند روزہ زندگی کا وہ حصہ جو دنیا کی چہل پہل سے علاحیدہ صَرف ہوتا ہے بصیرت کے نئے نئے باب کھول دیتا ہے ۔ دنیا ایک عظیم کتاب ہے جو لوگ اسے گھر چھوڑ کر باہر نکلتے ہیںوہ اس کتاب کا ایک ہی صفحہ پڑھ کر رہ جاتے ہیں۔یاد رکھیئے کہ ناکامیوں سے گھبرانے کے بجائے مسلسل کوشش کرنے والے لوگوں کی گود میں کامیابی خود بخود آبیٹھتی ہے گویا جس کسی نے بھی زندگی بھر پوری تندہی سے کسی چیز کے حصول کی کوشش کی ،اُسے وہ چیز مل ہی جاتی ہے۔البتہ اس دنیا میں جو لوگ متکبرانہ روش کے تحت کسی کاخوف نہیں کھاتے ہیں،وہ بالآخر خوف سے ہی دُکھ پاتے ہیں ،خوف سے اُن میں بُرائیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور خوف سے ہی اُن کی موت بھی ہوجاتی ہے۔خوف وہ شٔے ہے،جس کی پہلی نشانی گھبراہٹ ہےاورگھبراہٹ ایک جانی انجانی سی انسانی بحرانی کیفیت کا نام ہے ۔ عمرانی نظریات کے تناظر میں گھبراہٹ کی اصطلاح لا فانی شہرت اور لا ثانی معانی رکھتی ہے ۔ اکتاہٹ، ہچکچاہٹ، کپکپاہٹ،بوکھلاہٹ اورچڑچڑاہٹ سب گھبراہٹ کے ہم منصب وہم پلہ الفاظ ہیںاور انہی الفاظ کے تحت کسی گھر ، کسی محلے ،کسی معاشرے ،کسی مِلت یا کسی مُلک میں فتنہ وفساد کی جڑ نکل آتی ہےجس کواگر بر وقت اُکھاڑ نہ دیا جائے تو وہ تباہی کی ضامن بن جاتی ہے ۔اب ذرا غور کیجئے کہ جس قوم یا مُلک کے سرکاری یا غیر سرکاری ادارے اور افراد امن و امان کی ہَوااور تحفظ کی فضا کو صاف و شفاف رکھنے کے لئے قانون کے مطابق اپنے اختیارات اور فرائض کا استعمال ایمانداری سے انجام دینے میںاپنا ایک خاص مقام رکھتے ہوں، اپنی کسی کوتاہی پر فوراًمعذرت خواہ ہونے میںکوئی عار محسوس نہ کرتے ہوںاور بعد ازاں اپنی کوتاہی کی وجہ سے اپنے عہدے سے دستبردار بھی ہوجاتے ہوں ۔جب اُسی قوم یا مُلک کا سربراہ اپنے اختیارات اور فرائض کا استعمال بد دیانتی ، غیر ذمہ داری اور غیر منصفی سے کرتا ہو تو اُس قوم یا مُلک کےاُن صاف و شفاف اداروں اور افراد کی منتہج کیا ہوگی؟
جی ہاں! آپ سمجھ گئے ہونگےکہ بات دنیا کے سب سے طاقتور مُلک امریکہ کی ہورہی ہے،جہاں اب نئے سربراہ کا انتخاب بھی ہوچکا ہےاورمنتخب صدر مسٹر جوبائیڈن کو صدارت کا عہدہ آنے والے سال جنوری کے تیسرے ہفتے میں سونپا جائے گا۔امریکہ کے موجودہ سربراہ ڈونالڈ ٹرمپ گوکہ انتخابات سے قبل ہی گھبراہٹ کی جانی انجانی کیفیت میں مبتلا ہوکر خوف کا شکار ہوچکے تھےاور کپکپاہٹ،بوکھلاہٹ اور چڑچڑاہٹ کے عالم میں نہ صرف اپنے مد ِ مقابل جو بائیڈن بلکہ اپنے مُلک کے بیشتر اداروں کے خلاف اُلٹے ٹیڑے اقدامات اور بے ہودہ بیانات سےنہ صرف امریکہ بلکہ ساری دنیا میں رُسوا ہورہے ہیں۔جہاں وہ اپنی چار سالہ دورِاقتدار کی پہلی ٹرن میںاپنے متکبرانہ رویے، غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں اور جانبدارانہ فیصلوں سے بہت سے ممالک خاص طور پر بعض کمزور مسلم ملکوں کو کافی حد تک زک پہنچانےاور نیچا دکھانے میں پیش پیش رہے، وہیں بعض ترقی یافتہ ملکوں سے بھی اپنے تعلقات کشیدہ سے کشیدہ تر کرتے رہے۔نہ کہیں امن و امان بحال کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی مظلوم و مقہور قوموںکو تحفظ دلانے کا قدم اٹھایا۔صرف اپنے منظور ِ نظر ہم منصبوں اور جے جے کار کرنے والے غلام حکمرانوں کے ہر جائز و ناجائز کام کرنے کے لئے حوصلہ بڑھاتے رہےاور جہاں کہیں کسی نے بھی آنکھ اٹھاکر حق بات کی جرأت کی اُسےاپنا حریف سمجھ کر للکارتے رہے۔اپنے پگلے پن ،رُودالی چال ، طفلانہ حرکت اور منافقانہ رول سے نہ صرف دنیا کے بیشتر ممالک کو انتشار و فساد میںڈال دیا بلکہ اپنے امریکی عوام کو بھی اضطراب کی ایسی صورت حال میں ڈبو دیا کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف لڑنے اور مرنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔ کئی جگہوںپر ووٹوں کی گنتی رُکوادی اور کئی جگہوںپر فساد کروائے،اپنے مُلکی اداروں اور امریکیوں پر ایسے الزامات لگائے جو کسی ایک چھوٹے ترقی پذیر یا کمزور مُلک کے سربراہ کو بھی زیب نہیںدیتا۔کوویڈ انیس کا مذاق اُڑانے والے اس متلون مزاج اور ہٹ دھرم امریکی صدر نےاپنی بے ہودہ بکواس اور خیالی دلیلوں سے جہاں ڈھائی لاکھ سے زائد امریکیوں کو کرونائی قہر کا نوالہ نبوایا وہیں اپنے مُلک کو معاشی طور پر بھی تباہ کروایا۔اس کے برعکس جوبائیڈن کی طرف سے جتنے بھی بیان سامنے آتے رہے، وہ زیادہ تر عوام دوستانہ رہے،اُن کےہر بیان میں متوازن سوچ اور متحمل مزاجی کی جھلک دکھائی دیتی تھی جس کا بالآخر یہی نتیجہ نکل آیا کہ امریکی تاریخ پہلی بار نئے منتخب سربراہ سب سے زیادہ ووٹ پالئےاور ڈونالڈ ٹرمپ زبردست چیخ و پکار کے باوجود اقتدار کے دوسری ٹرن کے لئے ذلیل و خوار ہوکر اپنے کئے کی سزا پاگئے۔خیر!
اب جبکہ امریکی انتخابات میں متلون مزاج، بڑبولے اور انا پرست ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں نسبتاً کم گو، متحمل مزاج اور متوازن سوچ کے حامل جوبائیڈن کے صدر منتخب ہوگئے ہیں،تب بھی یہ توقع عبث ہوگی کہ سپر پاور امریکہ کی خارجہ پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی آئے گی لیکن اتنا ضرور ہے کہ بین الاقوامی منظر پر متکبرانہ طرز عمل کی جگہ کسی قدر مدبرانہ اندازِ فکر نظر آسکتا ہے۔ دھاندلی، فراڈ اور ووٹ چوری جیسے سنگین الزامات کی گونج، احتجاج، مظاہروں مقدمے بازی اور شور شرابے کے ماحول میں اس بارامریکی انتخابات میں جوغیر یقینی صورت حال امریکہ میں پیدا ہوگئی ، وہ عموماً سیاسی استحکام سے عاری پسماندہ یا ترقی پزیر ملکوں میں انتخابی مواقع پر نظر آتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کی سربراہی کے لئے منتخب امیدوارڈیمو کریٹک پارٹی کے جوبائیڈن، جو صدر بارک اوبامہ کے ساتھ ملک کے نائب صدر رہ چکے ہیں،نے 538الیکٹورل ووٹوں میں سے 270ووٹ حاصل کرکے اپنے حریف، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پچھاڑ دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی231 سالہ تاریخ میں 11ویں صدر ہونگے جو دوسری بار صدر منتخب نہیں ہو سکے اور لوگوں نے انہیں مسترد کردیا۔1789میں امریکی صدر کا عہدہ تخلیق کئے جانے پر جارج واشنگٹن کو پہلا صدر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ جون ایڈمز ان کیساتھ بطور نائب صدر فرائض سرانجام دیتے رہے اور جارج واشنگٹن کے سبکدوش ہونے پر امریکہ کے دوسرے صدر منتخب ہوئے لیکن دوسری مدت کیلئے لوگوں نے انہیں مسترد کردیا تو تھامس جیفرسن تیسرے امریکی صدر منتخب ہوگئے۔ یوں جون ایڈمز دوبارہ انتخاب میں شکست کھانے والے پہلے امریکی صدر بن گئے۔45میں سے 10صدور کو امریکی ووٹرز نے سیکنڈ ٹرم کے لئےمسترد کیا۔آخری بار ایسا تب ہوا تھا جب1992 میں جارج بش سینئر بل کلنٹن سے شکست کھاگئے۔امریکی صدارتی الیکشن کے طریقہ کار کو سمجھنے کے لئے آپ کے لئے یہ جانکاری دینا بہت ضروری ہے کہ امریکہ میں ہر شخص ووٹ تو کاسٹ کرتا ہے مگر صدر منتخب ہونے کے لئے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا ضروری نہیں ہوتا۔مثلاً 2016 کے صدارتی انتخابات میں ہلیری کلنٹن اپنے حریف ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں 30لاکھ ووٹ زیادہ لینے کے باوجود ہار گئیں۔اسلئے امریکی نظامِ ِانتخاب سے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہاں اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسے کتنے ووٹ ملتے ہیں بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ کسے کس علاقے میں زیادہ ووٹ ملتے ہیں۔اس اہمیت کےاعتبار سے اس بار جوبائیڈن بازی مار گئے ہیں۔
یہ امر بھی بالکل واضح ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے عہدہ ٔصدارت کے دوران متعدد متنازعہ فیصلے کئے۔ خاص طور پر مسلمانوں اور تارکین وطن کے بارے میں ان کا رویہ تنقید کی زد میں رہا۔ بین الاقوامی اُفق پر بھی انہوں نے کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑا ،جس کی بنا پر ماہرین پیشگوئی کر رہے تھے کہ بائیڈن آسانی سے اُنہیں ہرا دیں گے ۔ اب جبکہ اقتدار کا ہما جوبائیڈن کے سرپر بیٹھنے والا ہےتو تجزیہ نگاروں کی آرائیں درست ثابت ہوئیںالبتہ یہ الگ بات ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ’رَسی جل گئی پر بَل نہ گئے‘ کے مصداق بدستور اپنی ضد اور پاگل پَن کا مظاہرہ کرکے اپنی شکست قبول نہیں کرتے ہیں اور متضاد بیانات دے رہے ہیں ۔ ویسے تو امریکہ میں صدر کوئی بھی ہو اس کی پالیسی صرف اپنے مفاد کے تابع رہتی ہے چاہے کسی کو اچھی لگے یابُری۔ لیکن بادی النظر میں جوبائیڈن شاید مسلم دنیا اور مسلمانوں کے لئے قدرے بہتر ثابت ہوں۔ یہ امید اس لئے باندھی جا سکتی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ انسانی حقوق کی حمایت کی ہے اور کشمیر میں ہونے والے مظالم کی بھی مذمت کی ہے۔ظاہر ہے کہ جنوبی ایشیا میں امریکہ، چین کو اپنا دشمن سمجھتا ہےاوربھارت بھی چین کو دشمن سمجھتاہے، اس لئے دشمن کے دشمن کو دوست سمجھنا اور اس کے ساتھ اسٹریٹجک معاہدے کرنا اس کی حکمت عملی ہے۔چنانچہ بھارت پاکستان کا بھی حریف ہے مگر افغانستان میں پاکستان کا کردار اسے پاکستان کے ساتھ مصلحت آمیز دوستی کی راہ دکھاتا ہے۔امریکہ کے نو منتخب صدر جوبائیڈن نے اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ وہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسے صدر ہوں گے جو تفرقہ پھیلانے کے بجائے لوگوں کو متحد کریں گےاور دنیا میں امن کی بحالی کا کام کریں گے۔اب تویہ وقت ہی بتا دے گا کہ وہ اپنے وعدے پر پورا اُترتے ہیں یا نہیںکیونکہ وقت بدلنے میں زیادہ دیر بھی نہیں لگتی؟۔