ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی
میں گہری نیند میں سویا ہوا تھا اور خواب دیکھ رہا تھا۔ خواب میں کچھ یوں ہوا کہ ہمارا گھریلو نوکر عزیز دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور کہتا ہے:
“ڈاکٹر صاحب! آپ کے لیے بیڈ ٹی اور اخبار۔”
میں چائے کی چسکیاں آہستہ آہستہ لیتے ہوئے اخبار پر سرسری نظر ڈالتا رہا۔ پورا اخبار بھرا پڑا تھا کہ آج یومِ والدہ یعنی Mother’s Day ہے۔ جلسے ہو رہے ہیں، سیمینار منعقد ہو رہے ہیں، سیاسی شخصیات کے بیانات چھپے ہیں، اسکولوں اور کالجوں میں بحث و مباحثے ہو رہے ہیں۔ ہر طبقۂ فکر کی ممتاز شخصیات کے مضامین شامل ہیں۔ سب نے ماں کی عظمت، ممتا اور شفقت کے تذکرے کئے ہیں۔
اخبار میں رنگ برنگی تصاویر بھی تھیں۔ کہیں بیٹی ماں کے پاؤں چوم رہی ہے، کہیں ماں نے بچے کو گلے لگایا ہوا ہے اور کہیں کوئی ماں اپنی بچی کو دعائیں دے رہی ہے۔ میں نے جیسے ہی چائے ختم کی اور پورا اخبار پڑھ لیا تو دل میں ماں کی عظمت اور بھی زیادہ ابھر آئی۔
جب عزیز چائے اور اخبار لایا تھا تو میں نے اس سے پوچھا تھا:
“عزیز! آج کیا تاریخ ہے؟”
اس نے جواب دیا: “جناب! اخبار پر تاریخ لکھی ہوئی ہے۔”
میں نے اخبار دیکھا تو تاریخ نو مئی تھی۔ اخبار پڑھ کر میں نیچے اترا اور اپنی ماں سے کہا:
“ماں! پتہ ہے آج مدرز ڈے ہے، یعنی پوری دنیا میں آج ماں کی عظمت کو اُجاگر کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ ماں کتنی عظیم اور قابلِ احترام ہستی ہے۔”
ماں یہ سب سن کر بڑی خوش ہوئی۔ میں نے اسے زور سے گلے لگایا، اس نے بھی مجھے پیار کیا۔ میں جذباتی ہو گیا، میری آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ اسی لئے ماں نے مجھے بے شمار دعائیں دیں:
“بیٹا! اللہ تجھے ایمان دے، تو بڑا افسر بنے، تجھے دونوں جہانوں میں عزت ملے، تو کسی کا محتاج نہ رہے، تیرا باغ پھلے اور تو ہمارا نام روشن کرے۔”
ماں ابھی دعائیں دے ہی رہی تھی کہ دروازے پر عزیز کاکا نے دستک دی۔ میں ہڑبڑا کر جاگ گیا۔ خود کو سنبھالا، ادھر ادھر دیکھا۔ میں پسینے میں بھیگا ہوا تھا، زبان خشک تھی، ہاتھ پیر کانپ رہے تھے۔
میں نے دروازہ کھولا۔ عزیز کاکا میز پر چائے کا کپ اور اخبار رکھ کر چلا گیا۔ میں نے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے اخبار پر نظر دوڑائی۔ میں نے پھر پوچھا:
“عزیز کاکا! آج کیا تاریخ ہے؟”
وہ بولا: “صاحب! اخبار پر تاریخ لکھی ہوتی ہے۔”
اخبار دیکھا تو تاریخ نو مئی تھی—وہی ’’یومِ والدہ‘‘۔
میں ایک ایک خبر پڑھتا گیا۔ ساتھ ساتھ مجھے ۹ مئی ۱۹۲۶ء کا دن یاد آنے لگا، جیسے کوئی کیسٹ چل رہی ہو۔ جب میں نے پورا اخبار پڑھ لیا تو ہڑبڑا کر کمرے سے باہر نکلا۔ اہلِ خانہ کے کمروں پر نظر ڈالتا ہوا نیچے لان میں آیا۔ وہاں کرسی پڑی تھی۔ میں تھکا ہارا اس پر بیٹھ گیا۔ ہاتھ میں چائے کا کپ کپکپاہٹ کی وجہ سے چھلک رہا تھا۔ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد میں قدرے سنبھلا۔
ماضی کی کھڑکی کھلی اور ایک ایک یاد سامنے آتی گئی۔ اپنی یادداشت کے اوراق پلٹتا گیا۔
اللہ نے عزت دی، صحت دی، رتبہ دیا، بیوی اور بچے دیئے۔ وہ سب کچھ عطا کیا جس کی ماں نے دعائیں مانگی تھیں۔ مگر ایک چیز کی کمی ہمیشہ کھٹکتی رہی ،ماں کی غیر موجودگی۔ وہ ماں جس کی دعا کا یہ سب ثمر تھا، آج میرے پاس نہ تھی۔
ماں کی عظمت کو حضور اکرم ؐ نے آج سے چودہ سو سال قبل واضح فرمایا ہے۔ ایک شخص نے دریافت کیا:
“یارسول اللہ! حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟”
آپ ﷺ نے فرمایا: “تیری ماں”
سائل نے پھر پوچھا۔
آپ ﷺ نے فرمایا: “تیری ماں”
اس نے تیسری مرتبہ پوچھا۔
آپ ﷺ نے پھر فرمایا: “تیری ماں”
چوتھی بار پوچھنے پر فرمایا: “تیرا باپ”
(مشکوٰۃ حدیث 4911)
���
جموں
موبائل نمبر؛8825051001