تھنہ منڈی//اوقاف اسلامیہ شاہدرہ شریف کی زیر نگرانی ماڈل اسلامک اسکول شاہدرہ شریف گزشتہ 3 سال سے تعطل کا شکار ہے اور ایسا لگتاہے کہ مرحوم مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد اس اہم ادارے کی جانب کسی نے کوئی تو نہیں دی۔ سا بق ریاستی وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی سعید کی خواہش پر سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ کے غریب اور نادار بچو ں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے زیارت شاہدرہ شریف کے قرب و جوار میں ماڈل اسکول کا منصوبہ تیار کیا گیا اوراس مقصد سے ریٹائرڈ پرنسپل پروفسر محمد بشیر ماگرے ، ریٹائرڈ پرنسپل و ماہرتعلیم نثار احمد راہی ،کشتواڑ کے ریٹائرڈ سپرانٹنڈنٹ انجینئر مسٹروانی ،کشمیر کے پروفیسر اسداللہ وانی اورسابق ایڈمنسٹریٹر اوقاف شاہدرہ شریف فقیر محمد چوہدری پر مشتمل 5 ممبری مشاورتی بورڈ تشکیل دیکر اسکے قیام کے لئے کوششیں شروع کی گئیں۔اس کمیٹی نے مسودہ بھی تیار کرلیااور اس سلسلہ میں منتخب ممبران کے تین اجلاس بھی منعقد ہوئے جن میں ممبراسمبلی چوہدری قمر حسین کے علاوہ شاہدرہ شریف اور تھنہ منڈی کی متعدد شخصیات نے بھی شرکت کی ۔اس دوران ہوسٹل کی تعمیر کے لئے TRC شاہدرہ شریف سے اوپر والی زمین کی نشاندہی بھی ہوئی تاہم سال 2016 کے مارچ میں تعلیمی سیشن کے شروع کے لئے داخلہ کے بعد کرائے والی عمارت کی تلاش شروع کی گئی۔ تب سرحدی اضلاع راجوری پونچھ کے عوام کو یہ خبر سن کربے حد مسرت ہو ئی کہ اسکول کے قیام سے راجوری پونچھ کے غریب بچوں کو پڑھائی کرنے کا موقعہ ملے گا لیکن تین سال سے یہ اسکول سیاسی رسہ کشی کی وجہ سے تعطل کا شکاربناہواہے اوریہاں کے لوگ انتظار کرتے کرتے تھک چکے ہیں۔مقامی عوام کاکہناہے کہ اگر 2015 میں اسکی شروعات ہوئی ہوتی تو اسوقت اسکے ہوسٹل کی تکمیل بھی ہوگئی تھی لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ مفتی محمدسعید کے انتقال کے بعد اس پروجیکٹ کی طرف کسی نے دھیان نہیں دیا۔انہوںنے اوقاف کے نئے وزیر عبدالرحمن ویری سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرکے اسکول کے قیام کیلئے فوری کوششیں کریں تاکہ سال رواں کے اپریل مہینے میں کلاسز کی شروعات ہوسکے۔