مرکز کی جانب سے 2024–25میں 25.75کروڑکی مالی مدد فراہم
سرینگر//جموں و کشمیر میں 2024–25 میں مائیکرو فوڈ پروسیسنگ یونٹس کی منظوری میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، تاہم مرکزی مالی اعانت جموں کشمیر کی منظور شدپ پروجیکٹ ایمپلی منٹیشن پلان (پی آئی پی) کے ہدف سے بہت کم رہی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2024–25 میں مرکز نے 25.75کروڑ روپے کی مالی مدد فراہم کی، جس سے 2020–21سے 2024–25 کے دوران جموں و کشمیر کو کل مرکزی رہائی 40.28 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔یو این ایس کے مطابق اسی دوران، مائیکرو فوڈ پروسیسنگ یونٹس کے لیے درخواستیں اور منظوریوں میں بھی اضافہ ہوا۔ 2024–25 میں 1,056درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 680یونٹس کو منظوری دی گئی اور 191کو مسترد کیا گیا۔ 2021–22میں صرف 35یونٹس کو منظوری دی گئی تھی، جبکہ منظوری کی شرح تقریباً 16.9 فیصد تھی، جو 2024–25 میں بڑھ کر 64.4فیصد تک پہنچ گئی۔تاہم، پانچ مالی سالوں 2020–21سے 2024–25 تک جموں و کشمیر کے لیے منظور شدہ پی آئی پی کی کل رقم 92.63 کروڑ روپے ہے، جس کے مقابلے میں مرکزی مالی اعانت صرف 40.28کروڑ روپے رہی، یعنی منظور شدہ پی آئی پی کا نصف بھی فراہم نہیں ہوا۔ وزارت کے مطابق، پی ایم،ایف ایم ای کے تحت قرض اور سبسڈی صرف بینک کی منظوری کے بعد دی جاتی ہیں۔ ضلعی سطح کی کمیٹیاں پروجیکٹس کی سفارش کرتی ہیں اور بینک اپنے قرض کے اصولوں کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ وزارت کے ضلعی وسائل کے اہلکار بھی ڈی پی آر کی تیاری، بینک لنکیج اور ضابطہ جاتی تعمیل میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ریاستی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر کے فوڈ سیکٹر میں فارملائزیشن کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ مائیکرو یونٹس کے لیے درخواستیں سال بہ سال بڑھیں:2021–22میں 207سے بڑھ کر 2024–25 میں 1,056 ہو گئیں، جس کے مطابق یونٹس کی منظوری میں بھی اضافہ ہوا۔اسکیم نے عام سہولت مراکز اور انکیوبیشن مراکز کو بھی فروغ دیا ہے۔ 31 دسمبر 2025 تک، ملک گیر سطح پر 108مشترکہ سہولت مراکز منظور کیے گئے اور 76انکیوبیشن مراکز کے پروپوزلز کی منظوری دی گئی، جن پر 208کروڑ روپے کی گرانٹ جاری کی گئی۔ پانچ سال کے دوران ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز کے لیے کل مرکزی و ریاستی شراکت دار فنڈز اس اسکیم کے تحت 4,111.61کروڑ روپے تک پہنچ گئے۔