گاندربل//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے شیرکشمیرزرعی یونیورسٹی کے فیکلٹی آف فارسٹری کے 5.30 کروڑ روپے کے نئے بوائز ہوسٹل کا اِفتتاح کیا اور گاندربل ضلع کے ایس کے یو اے ایس ٹی کشمیر کیمپس بنہامہ میں10 کروڑ روپے کی لاگت سے منی واٹر شید پروجیکٹ ، 3.80 کروڑ روپے کاٹرینیز ہوسٹل اور 8کروڑ روپے کی لاگت سے اکیڈمک بلاک کا سنگ بنیاد رکھا۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے ترقی پسند کاشت کاروں کو مبارک باد پیش کی اور’’ چمپئن فارمر ایواڑ ‘‘ کے 10 ایوارڈز کو فی کس 5,000 روپے کی چیک پیش کیں ۔اُنہوں نے زراعت اور جنگلات کی سات اِشاعتیں بھی جاری کیں۔ اِس موقعہ پر اَپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ حکومت نے جموںوکشمیر میں زراعت اور جنگلات کی صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں لائی ہیں جس کی وجہ سے مذکورہ شعبے میں پیداوار ی صلاحیت ، منافع اور ملازمت میں بہتری واقع ہوگی۔اُنہوں نے زراعت اور اس سے وابستہ مضامین میں اِنسانی وسائل کی تیاری، زراعت اور اس سے منسلک علوم میں کسانوں کے مسائل حل کرنے کے لئے ٹیکنالوجی تیار کرنے اورفیلڈ لیب کی جدت طرازی کرنے اوراس کے علاوہ کسانوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کیلئے شیوکشمیرزرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کی مشترکہ کوششوں کو سراہا ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ دیہات ، جنگل رہائشیوں اور کاشتکاری برادریوں کی تیزی سے ترقی کا ہدف صرف ہمارے جنگلاتی وسائل کی حفاظت اور جنگل کی مصنوعات کو نئی سرمایہ کاری کی پالیسی میں ضم کرکے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔جموںوکشمیر جنگلات کی دولت سے مالا مال ہے جس کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہمارے سائنسدانوں ، سینئر اَفسران ، نوجوانوں اور دیگر شراکت داروں کو خود کو ایگرو فارسٹ ریسورس کی بحالی میں مصروف ہونا چاہیئے ۔جنگلات کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے حکومت کی کوششوں پر بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموںوکشمیر یوٹی حکومت جلد از جلد فارسٹ رائٹس قانون کو مکمل طور پر عملانے کے لئے پُرعزم ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ انتظامیہ ان کے حقوق کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم جنگلات پر منحصرکمیونٹیوں اورشراکت داروں تک ان کی معاش پیدا کرنے کے لئے مزید مواقع پیدا کر کے ان تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے مقامی زرعی انتظام جنگلات کی مصنوعات کی برانڈنگ ، مارکیٹنگ اور ٹرانسپورٹیشن کے لئے یو ٹی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے جدید اقدامات کی بھی نشاندہی کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مقامی پیداوار میں جی آئی ٹیگنگ سے لے کر نائٹ فلائٹس کے عمل اور بین الاقوامی ایئر کارگو کی شروعات تک ، ہم نے کسانوں کی پیداوار کے لئے منڈی کو باہمی رابطے مستحکم کرنے کی ایک بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں مرکزی حکومت یو ٹی میں زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں کی ترقی اور پیش رفت کی طرف توجہ مرکوز کر رہی ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے زراعت سے متعلق جنگلات کی صنعت میں نمو اور تنوع کے مزید امکانات تلاش کرنے کیلئے بھی کچھ تجاویز پیش کیں ۔ انہوں نے دواؤں اور خوشبو دار پودوں کی تولید کو ترجیح دینے کے علاوہ اس سلسلے میں باقاعدہ سروے کرنے اور آئندہ ایک سال کیلئے ورکنگ پلان تیار کرنے پر زور دیا ۔ انہوں نے جنگلات کی فیکلٹی کو یہ بھی تجویز پیش کی کہ جنگل کی مصنوعات جیسے کوٹ روٹ پلانٹ کو دیگر ترقی کی امکانی صنعتوں کے ساتھ مربوط کرنے کے تمام امکانات تلاش کریں ۔ انہوں نے زراعت میں ویلیو ایڈیشن کی طرف توجہ دینے کے بارے میں یو ٹی کے ہر کونے سے کاشتکاروں کی طرف سے حاصل کردہ تجاویز پر تبادلہ خیال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں 2 ایف پی او کے ہدف کے ساتھ ہم دیہی ملازمت کیلئے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں ۔ حکومت ایسی سہولیات اور ماحولیاتی نظام بنانے کیلئے کوشاں ہے تا کہ نوجوانوں کو بھی کئیرئر کے اختیارات کے طور پر کاشتکاری کا موقع مل سکے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کی خواتین کا خصوصی ذکر کیا جو زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں میں مصروف عمل ہیں اور انہوں نے جے کے آر ایل ایم کے ساتھ مل کر دواؤں کی خصوصیات کے ساتھ جنگلات کی پیداوار کی مارکیٹنگ کیلئے خواتین کیلئے مزید راہیں کھولنے پرزوردیا ۔ سبز سونے کے تحفظ میں نوجوان نسل کے اہم کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جنگلات میں شامل نوجوانوں خاص طور پر لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ایک حوصلہ افزاء علامت ہے ۔ اُنہوںنے نوجوانوں ، سائنسدانوں اور فیکلٹی ممبران پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی تحفظ اور ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے جن بھاگیہ داری کے جذبے کے ساتھ کام کریں ۔ اس سے قبل لیفٹیننٹ گورنر نے سکاسٹ۔کے کے ذریعے لگائے جانے والے سبزیوں کی اقسام کے سٹالوں کا معائینہ کیا اور اس موقعہ پر درختوں کے پودے بھی لگائے ۔ اِس موقعہ پر چیف سیکرٹری ارون کمار مہتا ، وی سی سکاسٹ کشمیر پروفیسر جے پی شرما ، صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے ، آئی جی پی کشمیر وجے کمار ، ڈائریکٹر جنرل ہارٹیکلچر اعجاز احمد بٹ کے علاوہ متعلقہ اَفسران اور کسان موجود تھے ۔ چیئرپرسن ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل گاندر بل نزہت اشفاق ، سرینگر کی کلسٹر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر قیوم حسین اور بی جی ایس بی یو کے وی سی پروفیسر اکبر مسعود بھی اس موقعہ پر موجود تھے ۔