۔ 14 فروری 2019ء کو سی آر پی کی کانوائے پر لیتہ پورہ اونتی پورہ میں ایک ہلاکت خیز فد ائین حملہ ہوا جس میںپچاس جوا ن ہلاک اوراُنتالیس جوان زخمی ہوئے۔ کشمیری قوم جانتی ہے کہ کسی گھرانے کا چراغ گل ہو،کوئی عورت کا سہاگ لٹ جائے ، کوئی بچہ یتیم ہو جائے، کسی ماں باپ کی لاٹھی ٹوٹ جائے توایسی موت کا درد کیا ہوتا ہے ۔اس لئے خون خرابے کا جو کوئی بھی شکار بنے، وہ انسانیت کا خسارہ ہی شمار ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کشمیر میں ایسے خونی واقعات کیوں ہورہے ہیں؟ اس کی وجہ جاننے کے لئے ہمیں اگست 1947کو تقسیم ہند کی کہانی سمجھناہوگی۔ ہندوستان انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا تو ساتھ میں ملک کا بٹوارہ ہوا۔ بٹوارہ ا نڈیا اور پاکستان کو دو آزاد وخود مختارملکوں کی صورت میں ہوا۔ فامولہ کے تحت اس وقت کی تمام ریاستوں کے عوام کو انڈیا یا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کا مجاز قرار دیا گیا ، کشمیر ا س وقت مہاراجہ ہری سنگھ کے تحت ایک الگ ملک تھا مگر اسے بھی دوملکوں میں ایک کے ساتھ الحاق کا حق حاصل تھا ۔ افسوس کی تاریخ کی بے رحم گردش میں عوام کا یہ حق فراڈ اور طاقت کے ذریعے مارا گیا اور اب تک ریاستی عوام اس بنیادی حق کو انجوائے کر نے سے محروم ہیں ۔ اس زمانے میں ریاست جموں و کشمیر میں مسلمان کل آبادی کا نوے فی صد سے زائد تھے اور اس کی چوائس کیا ہوسکتی تھی ، وہ کہنے کی ضرورت نہیں مگر 27؍اکتوبر 1947ء کو ہندوستان کی سیاسی قیادت نے کشمیر میں فوجی کاروائی کرکے اس کو اپنی تحویل میں لے لیا ۔ پچھلے 71؍سال سے یہ معاملہ یونہی چل رہاہے ۔کشمیر ی عوام سے یہ پوچھے بغیر کہ وہ اپنی سیاسی تقدیر کے حوالے سے کیا چاہتے ہیں، جنت ارضی کو بدامنی، بے چینی ا ور ناسازگار حالات کے سپرد کیا گیا۔اسی کا نتیجہ آج ہم لیتہ پورہ کے افسوس ناک زیاں کاری کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ غور طلب ہے کہ بھارت کے ا ُس و قت کے وزیراعظم نہرو جی نے کشمیر مسئلہ اقوام متحدہ کو ریفر کیااور عالمی ادارے میں بہ نفس نفیس اعلان کیا کہ کشمیری عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا بھرپور مواقع دیا جائے گا مگر ابھی تک اُن کا یہ اعلان اور وعدہ ایک سراب بنا ہوا ہے۔ اُدھر کشمیر یوں نے اپنا پیدائشی حق سلب کئے جانے کے خلاف آواز اٹھائی تو بجائے ا س کے کہ ان کی شنوائی ہو تی ،ان پر طرح طرح کی نا انصافیوں اور زیادتیوں کے پہاڑ توڑے گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ1947ء سے آج تک ریاست جموں و کشمیر میں لاکھوں لوگ قتل کرکے رکھ دئے گئے ہیں ، جب کہ 1990ء سے ایک محتاط اندازے کے مطابق لاکھ سے زائدبے گناہ کشمیری مسلمانوں کی جانیں انسان حقوق کی پامالیاں کر تے ہوئے تلف ہوچکی ہیں ۔ آج بھی انسانوں کو قبروں میں اُتارنے کا یہ سلسلہ شدو مد سے جاری وساری ہے۔اس دوران ہزاروں بیوائیں، لاتعداد یتیم ویسیر ، بے شمار خاکستر بستیاں اور بازار ، اُجڑے گھرانے، اَن گنت زخمی اور زندان خانوں کی سزائیں اس صورت حال کے وہ بدنماداغ ہیں جو لاچاروبے کس کشمیری عوام کے دردواضطراب کو دو چند کر رہے ہیں ۔ ظلم یہ کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کسی نہ کسی جگہ تلاشی کارروائی ، محاصرہ ، جھڑپ، مظاہرہ ، بے آبروئی ، آتش زدگی اور آہ وبکا کی داستان نہ بن رہی ہو ۔ پچھلے 71سال سے ریاستی عوام کو اقتصادی معاشی، اخلاقی، سماجی طور بھی تتر بتر کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ آر پار ایل او سی کے قریب آرپار رہنے والے لوگوں کو زندگیاں بھی مسلسل گولہ باری کے سائے میں گزر رہی ہیں ۔ دونوں طرف کشیدگی کی وجہ سے نفرت اورماردھاڑ کا کیساماحول بنا ہوا ہیاس کی ایک جھلک گزشتہ دنوں جموں میںفرقہ پرست غنڈوں کے ہاتھوں کشمیری اور جموں کے مسلمانوں کو نقصانات پہنچانے کی شکل میں ظاہر ہو اہے ۔ کشمیر ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے اور اس کاحل فریقین امن مذاکرات سے ڈھونڈ سکتے ہیں جو وقت کی ضرورت ہے اور جس کی فہمائش یواین جنرل سیکرٹری اور امریکہ بھی کر چکے ہیں ، سعودی ولی عہد نے بھی دونوں ملکوں کو معاملہ فہمی کی تاکید کی ہے ۔ سہ فریقی مذاکرات ایک واحدآپشن ہے جو نہ صرف مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل نکال سکتا ہے بلکہ لیتہ پورہ جیسے ہوش ربا واقعات قصہ ٔ پارینہ ہوں گے ۔اُمید کی جانی چاہیے کہ ا نڈیا کی نئی حکومت پہلی فرصت میں یہی واحد آپشن برصغیر کے امن اور تعمیر وترقی کے مفادمیں اپنائے گی۔