سرینگر //ماسک کے استعمال کی وجہ سے کشمیر صوبے میں پچھلے 2ماہ کے دوران موسم سرما کے دوران سر اٹھانے والی بیماریوں، سردی، زکام ، کھانسی اور سانس کی نلی کے انفکیشن میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔ وادی میں چھاتی کے امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ماسک پہننے سے سانس کی نلی کی بیماریوں کو روکنے میں اہم رول ادا کیا،اس لئے سردی میں ہونے والی عام بیماریوں میں کمی آئی ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج میں شعبہ ایس پی ایم کے سربرا ہ ڈاکٹر محمد سلیم خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ماسک کی وجہ سے لوگوں میں بیماری منتقل ہونے کے مواقع ختم ہوگئے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ سردی ، زکام اور سانس کی نلی میں ہونے والے انفیکیشن نے ماسک کی اہمیت اجاگر کی ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’ ماسک پہننے کے ساتھ ساتھ سکول اور کالج بند ہونے کے علاوہ سماجی تقریبات میں کمی کی وجہ سے انفلنزا کے کیسوں میں کمی آئی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں اور نجی کلنکوں پر مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ عام بیماریوں میں ماسک کے استعمال سے کافی کمی آئی ہے‘‘۔شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں چھاتی کے امراض کے ماہر ڈاکٹر مدثر قادری نے کہا ’’ کشمیر میں عام طور پر عام انفلنزا جن میں H1N1اورH3N2شامل ہے، نومبر مہینے سے شروع ہوجاتے تھے لیکن امسال نومبر اور دسمبر مہینے میں کافی کم کیس سامنے آئے ہیں‘‘۔ڈاکٹر مدثر قادری کہتے ہیں کہ جنوری اور فروری مہینے انفیکشن کی منتقلی کے حوالے سے کافی اہم ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی وباء کے جانب سب کی توجہ لگی ہوئی ہے ااور ایسے میں احتیاط برتنی ہے کہ چھاتی کے دیگر امراض بھی عام لوگوں پر حملہ آوار نہ ہوں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ چھاتی کے انفیکیشنوں کی منتقلی کو روکنے میں ماسک انتہائی اہم رول ادا کرتا ہے اور اسلئے لوگوں کو ماسک کا استعمال کرنا چاہئے۔ شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ کے نوڈل آفیسر ڈاکٹر غلام حسن یتونے کہا ’’ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کمی آئی ہے لیکن کتنی کمی آئی ہے، یہ اعداد و شمار کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی پتہ چلے گا‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ عام زکام، کھانسی اور دیگر انفلنزا کیسوں میں کمی کی وجہ ماسک کا استعمال کرنا اور سماجی دوری برقرار رکھا ہے‘‘۔ڈاکٹر غلام حسن نے کہا ’’ سکول کالج اور دیگر سماجی اجتماعات میں کمی کی وجہ سے بھی وادی میں کووڈ کے علاوہ دیگر انفکیشن کے معاملات میں بھی کمی آئی ہے‘‘۔