لُدھیانی

وہ ایک بند دوکان کی دہلیز پہ بیٹھی سگریٹ کے لمبے لمبے کش لے رہی تھی، جو شائد کسی نے جلا کے اُسے دیا تھا کیونکہ جب کبھی اُس کا من سگریٹ پینے کو کرتا وہ کسی بھی سگریٹ پیتے شخص سے اشاروں کے ذریعے نہ صرف سگریٹ مانگتی بلکہ اشارے سے دکھاتی تھی کہ سُلگا کے دو۔ سگریٹ پیتے پیتے وہ ہر آنے جانے والے کو گھورتی تھی اور جب کوئی جوان لڑکا، لڑکی یا کوئی بچہ سامنے سے گزرتا تو وہ اُس پہ موٹی موٹی گندی گالیوں کی بوچھاڑ کر دیتی۔ لگتا تھا جیسے اُسے بچوں یا پھر جوان لڑکے لڑکیوں سے چِڑ ہے۔ ویسے بھی وہ ہر آنے جانے والےکی خدمت میں ایک آدھ گالی ضرور پیش کردیتی تھی۔
صبح کا وقت تھا اسلئے مہاراجہ بازار میں ابھی کچھ ہی دوکانیں کھلی تھیں۔ جس دوکان کے تھڑے پر وہ بیٹھی تھی ، کچھ ہی دیر بعد اُس کا مالک آگیا اور وہ سمجھ گئی کہ اُسے اب دوکان کھولنی ہے اسلئے وہ لپک کے دوسری بند دوکان کے تھڑے پہ جابیٹھی۔ ویسے بھی اس بازار کے اکثر دوکاندار اُس کے کسی دوکان پہ بیٹھنے کو نیک شگون سمجھتے تھے ۔ اکثر دوکاندار چاہتے تھے کہ وہ دن میں کم از کم ایک بار اُن کی دوکان پہ کچھ دیر کیلئے ضرور بیٹھے کیونکہ بقول اُنکے اس سے اُن کی بکری بڑھ جاتی تھی۔ ہاں! البتہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ وہ زیادہ دیر دوکان پہ نہ بیٹھے کیونکہ اکثر گاہک اُس کا سامنا کرتے ہوئے ڈرتے تھے۔
اُسے سب لُدھیانی کے نام سے جانتے تھے۔ وہ کالی کلوٹی ادھیڑ عمر کی ایک پاگل عورت تھی۔ لمبی اور پتلی، تیکھے نقوش کے باوجود بھدی، غصے میں نہایت ڈروانی اور خونخوار لگتی تھی۔ پھٹی پرانی شلوار اور میلی کچیلی قمیض پہ پٹو کا بوسیدہ فرن پہنے۔ میل اور گرد میں اٹے ہوئے چند کھچڑی نما سر کے بال اکثر شانوں پہ بکھرے ہوتے تھے۔ اُس کے میلے اور بوسیدہ کپڑوں کو دیکھ کے لگتا تھا شاید پہنتے وقت ہی دُھلے ہونگے۔ یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کبھی منہ ہاتھ بھی دھوتی ہے یا نہیں۔ نہانا تو دور کی بات تھی۔ اسی لئے اُس کے کپڑوں سے عجیب قسم کی بُو آتی تھی اور اُس کے قریب جاتے ہوئے گھن آتی تھی۔ لیکن ان سب کے باوجود اُس میں ایک عجیب قسم کی کشش تھی کیونکہ جو کوئی بھی اُسکی سرخ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا تو خوف کے باوجود اسے دوسری بار دیکھنے کی چاہت ہوتی۔ گالی سُننے کے بعد پھر سے گالی کھانے کو جی چاہتا تھا۔
لُدھیانی کے بارے میں کسی کو کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ حقیقتاً کہاں سے آئی ہے؟ کس مذہب سے تعلق رکھتی ہے؟ ہندو ہے یا مسلمان، سکھ ہے یاکہ عیسائی؟ وثوق سے اُس کے بارے میں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ اُس کی حرکات و سکنات یا طور طریق سے کچھ بھی تو پتہ نہیں لگ سکتا تھا۔ سب لوگ قیاس آرئیاں کرتے تھے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ کچھ سال پہلے وہ لُدھیانہ سے یہاں آئی تھی پھر واپس نہیں گئی، اسی لئے اُسے لدھیانی کہتے ہیں۔ لیکن اس بارے میں بھی ٹھیک سے کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ ایک بات ضروری تھی کہ وہ کشمیری نہیں تھی کیونکہ وہ گالی صرف اُردو یا پنجابی زبان میں دیتی تھی۔ ویسے بھی عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص گالی اور کوسنے کیلئے اپنی مادری زبان کا ہی استعمال کرتا ہے۔ اسلئے گالی گلوچ کے اعتبار سے یہ کہا جاسکتا تھا کہ لُدھیانی کشمیری نہیں تھی اور وہ ناہی گجر یا پہاڑی ہے کیونکہ گالیاں وہ ٹھیٹھ پنجابی زبان میں دیتی تھی۔
کبھی کبھی جب اُسے شدید دورہ پڑ جاتا تھا تو دکاندار اُسے پاگل خانے لے جاتے تھے مگر چند دن وہاں رکھنے کے بعد اُسے پھر ان ہی بازاروں میں چھوڑ دیا جاتا تھا۔ خاص طور سے مہاراجہ بازار میں جو اس کا گھر اور وطن تھا۔ رات کسی نہ کسی دوکان کے تھڑے پر گزارتی تھی۔ بازار کے دوکاندار یا کچھ نرم دل لوگ رات کو اُس پر کمبل یا چادر ڈال دیتے تھے اور صبح ہوتے ہی وہ یہ کمبل یا چادر سنبھال کے کہیں رکھ دیتے تھے تاکہ پھر سے استعمال ہوسکے۔
کہتے ہیں کہ مہاراجہ بازار میںکچھ سال پہلے ایک اور جوان پاگل بھی گھومتا تھا جو لُدھیانی کو دیکھتے ہی بھاگ کھڑا ہوتا تھا۔ اُس کے بارے میں یہ کہانی مشہور تھی کہ اُس نے کچھ سال پہلے، جب وہ صحیح حالت میں تھا، رات کو نشے کی حالت میں کسی دوکان کے تھڑے پہ سوئی ہوئی لدھیانی سے زور زبردستی کرکے اُس کی عزت لوٹنا چاہی لیکن لُدھیانی کے شور مچانے پہ وہ بھاگ گیا۔ اس واقعے کے بعد وہ بہت دنوں تک اس بازار میں نہیں دکھا۔ پھر اچانک کوئی سال بھر بعد اس بازار میں نظر آیا لیکن وہ پوری طرح پاگل ہوچکا تھا اور دیوانہ وار گھومتا رہتا تھا۔ مگر جب بھی اُس کا سامنا لُدھیانی سے ہوتا تھا وہ بھاگ جاتاتھا۔ 
لُدھیانی کا کھانا پینا، کپڑا لتا، اوڑھنا بچھونا سب کچھ تو مہاراجہ بازار، ہری سنگھ ہائی سٹریٹ اور گونی کھن بازار کے دوکاندار مل بیٹھ کے پورا کیا کرتے تھے یا پھر دوسرے خدا ترس اور ہمدرد لوگ مدد کرتے تھے۔ کئی برسوں سے یہ سلسلہ چلتا آرہا تھا لیکن کسی میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ اُس کے گھر بار کا پتہ لگا سکے۔ اُس سے براہ راست جب یہ پوچھا گیا تو اُس نے یا تو سوال نظرانداز کردیا یا پھر جواب میں ایک موٹی سی گالی داغ دی۔
لُدھیانی کہاں پیدا ہوئی؟ کہاں پلی بڑھی؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ اُس کی جوانی کےدن اور بچپن کہاں گزرا؟ کوئی کچھ بتا نہیں سکتا تھا۔ اُس کا نام لُدھیانی کس نے رکھا؟ اس کے بارے میں بھی وثوق سے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ اُس کا ماضی کب ، کیسے اور کہاں گزارا؟ کچھ پتہ نہیں تھا مگر اب اُس کی زندگی صرف سرینگر شہر کے ان بازاروں کے بیچ سمٹ کر رہ گئی تھی۔ اب یہی بازار اُس کا گھر وطن اور دنیا تھے۔ دراصل کسی کی شناخت معلوم کرنا تب آسان ہوتا ہے جب اُس کے آس پاس کے ماحول کے بارے میں واقفیت ہو یا وہ ذہنی طور ٹھیک ہو۔ بھلا اپنے ماحول سے الگ تھلگ ایک پاگل کے بارے میں دریافت کرنا یا اُس پہ تحقیق کرنے کی زحمت کوئی کیوں اُٹھاتا۔ شائد یہی ایک وجہ رہی ہوگی کہ لُدھیانی کے بارے میں کسی نے کچھ بھی پتہ لگانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ 
ان بازاروں کے دوکاندار اور آس پاس کے محلوں کے مکین بھی اب لدھیانی سے اس قدر مانوس ہوچکے تھے کہ اگر کسی دن اُس کے آنے میں ذرا سی بھی دیر ہو جاتی تو پریشان ہوجاتے تھے اور ایک دوسرے سے اُس کے بارے میں پوچھنے لگتے تھے۔ لُدھیانی کے منہ سے نکلی ہوئی گالیاں بھی کچھ دوکانداروں کو دُعائیں لگتی تھیں۔
لُدھیانی کیلئے کھانے پینے کی کوئی پریشانی نہیں تھی کیونکہ وہ جس بھی دوکان سے جو کوئی بھی چیز اُٹھاتی کوئی کچھ نہیں کہتا تھا۔ حلوائی کی دوکان سے مٹھائی، نانوائی کی دوکان سے روٹی، فروٹ والے کی دوکان سے کوئی بھی پھل، سبزی والے کی دوکان سے اُسے گاجر، مولی، ٹماٹر جیسی کوئی بھی کچی کھانے والی سبزی، وہ بے دھڑک اُٹھا لیتی تھی، غرضیکہ سارا دن اُس کا منہ چلتا ہی رہتا تھا۔ ہاں جب زیادہ بھوک لگتی تو گونی کھن یا مہاراجہ بازار کے کسی ویشنو ڈھابے میں جاکے کھانا مانگ لیتی اور ڈھابے والے اُسے خوشی خوشی کھانا دے دیتے تھے۔ عام طور پہ وہ اُس کے کھانا مانگنے کو نیک شگون سمجھے تھے۔ ہاں البتہ جب اُسے رفعِ حاجت یا منہ ہاتھ دھونے کی ضرورت آن پڑتی تو وہ بازاروں کے دائیں بائیں مکانات کے اندر جاکے وہ یہ ضرورت پوری کرلیتی تھی۔ ویسے بھی اُس نے ایسی ضروریات کیلئے کچھ مخصوص مکانات کا انتخاب کر رکھا تھا۔ وہ جب چاہتی ان مکانوں کے پاخانوں اور غسل خانوں کا بلا روک ٹوک استعمال کرسکتی تھی۔ ان مکانوں کے مالکان یا مکین اُسے کچھ نہیں کہتے تھے۔ اُس کے بارے میں یہ بات بھی مشہور تھی کہ وہ بھلے ہی منہ ہاتھ نہ دھوئے یانہائے لیکن رفعِ حاجت کے بعد وضو بڑی اچھی طرح سے کیا کرتی تھی۔ 
گرمی کے موسم میں لُدھیانی کے پاگل پن کا دورہ شدید ہوجاتا تھا۔ گالیوں کی بوچھاڑ میں اضافہ ہوجاتا تھا اور کبھی کبھی وہ دیوانگی اور پاگل پن میں پتھر ہاتھ میں لے کے ہر آتے جاتے کے پیچھے دوڑتی تھی۔ اسکے اس عتاب کا نزلہ عام طور پر بچوں اور نوجوانوں پہ گرتا تھا۔ ان بازاروں کے دوکاندار اور یہاں سے گزرنے والے اکثر راہگیر گرمیوں کے موسم میں لُدھیانی کی اس کیفیت سے واقف تھے، اس لئے وہ پہلے ہی سے محتاط رہتے تھے۔
کئی سال تک لُدھیانی کا ان بازاروں میں پاگل پن کی حالت میں گھومنا روز کا معلوم بن چکا تھا پھر اچانک ایک دن لُدھیانی غائب ہوگئی۔ لاکھ تلاش کے باوجود اُس کا کوئی سُراغ نہیں ملا۔ وہ نہ تو کسی ہسپتال میں ملی اور نہ کسی پاگل خانے میں۔ آس پاس کے بازاروں اور گھروں میں بھی ڈھونڈا لیکن کچھ پتہ نہیں چلا۔ نزدیک کے سب قبرستانوں اور شمشان گھاٹوں سے بھی دریافت کیا مگر کہیں سے کوئی خبر نہیں ملی۔ گویہ پتہ چلا کہ ایک دن پہلے وہ بھلی چنگی چرس گلی اور گونی کھن بازار میں دیکھی گئی تھی۔ پھر دوسرے ہی دن کہاں چلی گئی؟ ایسے لگا جیسے وہ کوئی بادل کا ٹکڑا تھی جو آسمان کی وسعتوں میں تحلیل ہو کے غائب ہوگیا ہو۔ گو ان بازاروں کے لوگ اُس کے اس طرح اچانک غائب ہونے پہ حیران تھے مگر چند ایک اس بارے میں اس قدر توہم پرست تھے کہ اُن کا خیال تھا کہ اُس کے جانے کے بعد اب اُن کے کاروبار پر اثر پڑے گا۔ اُنہیں لگا کہ ان بازاروں کی رونق ماند پڑے گی۔ کچھ ضعیف الاعتقاد لوگ تو اس حد تک بھی کہہ رہے تھے کہ لُدھیانی کا غائب ہونا عام سی بات نہیں ہے۔ وہ ضرور کسی روحانی طاقت کی مالک تھی، جسے عام لوگ پاگل سمجھ رہے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ اسی لئے غائب ہوگئی تاکہ مرنے کے بعد بھی اُسے کوئی چھو نہ سکے۔
خیر وجہ کچھ بھی ہو لیکن یہ بات طے تھی کہ لُدھیانی ان بازاروں کے دوکانداروں کی زندگی کا حصہ بن چکی تھی، جو اُس کے غائب ہونے کے بعد اُس کی کمی کو شدت سے محسوس کررہے تھے۔ کچھ وہمی لوگوں کا تو اس حد تک خیال تھا کہ ان بازاروں اور ان سے منسلک علاقوں پر ضرور کوئی آفت آنے والی ہے۔
عام طور پر یہ دیکھنے میں آیاہے کہ کبھی کبھی کوئی انسان کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے لوگوں یا جاننے والوں یا پھر اپنے علاقے میں بہت اہم بن جاتا ہے۔ بھلے ہی اُس کا کسی سے کوئی رشتہ یا تعلق نہ ہو پھر بھی وہ غیر ارادی طور پر لوگوں کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ جب پاس ہو تو اُس کی اہمیت کا کوئی اندازہ نہیں ہوتالیکن جب وہ دور چلا جائے یا آنکھوں سے اوجھل ہوجائے اُس کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔
لُدھیانی کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ وہ صرف ایک پاگل عورت تھی جو سوائے گالی گلوچ کے اور کچھ نہیں جاتنی تھی۔ اُس کی ذات یا مذہب کے بارے میں بھی کسی کو کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ اُس کا کسی کے ساتھ کوئی رشتہ یا تعلق بھی نہیں تھا لیکن اس کے باوجود جب کسی دن اُسے بازار میں نمودار ہونے میں ذرا سی بھی دیر ہوجاتی تو ہر کوئی دوکاندار، چھاپڑی فروش اُس کے بارے میں فکر مند ہوجاتاتھا اور ہرآنے جانے والے سے اُس کے بارے میں پوچھتا تھا۔ اب جبکہ وہ کئی دنوں سے مسلسل غائب تھی تو سب بازار والے پریشان تھے۔
دوکانداروں کی مشترکہ کمیٹی نے فیصلہ کیاکہ پولیس تھانے میں رپورٹ کی جائے چنانچہ انہوں نے مقامی پولیس تھانے میں اُس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروا دی۔
کوئی ایک مہینہ گذر گیا لیکن لُدھیانی کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلا۔ کچھ نے سوچا شائد کوئی اُس کے گھر سے آکے اُسے اپنے ساتھ لے گیا ہو۔ ایک طبقے کا خیال تھا کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے اور جب وہ اچانک مر گئی ہوگی تو اُسے لاوارث سمجھ کے یا تو کسی انجان قبرستان میں دفنا دیا ہوگا یا پھر ہندو یا سکھ سمجھ کر جلا دیا ہوگا۔
ایک طبقہ وہ بھی تھا جو لُدھیانی کے اس طرح غائب ہوجانے پر خوش تھا کیونکہ اُن کا کہنا تھا کہ اگر وہ عام طریقے سے مرجاتی تو پہلے اُسے دفنانے یا جلانے پر جھگڑا کھڑا ہوجاتا اور پھر اُس کے لئے باقاعدہ ایک مزار بنایا جاتا اور چندلوگ اُس کی پرستش کرنا شروع کردیتے۔
بات کچھ بھی ہو مگر یہ سچ تھا کہ لُدھیانی اچانک غائب ہوچکی تھی اور چاہنے والے تو الگ، اُس سے خائف اور دو بھاگنے والے لوگ بھی اب اُس کی کمی کو بُری طرح محسوس کررہے تھے۔
���
اولڈ ائیرپورٹ روڑ، راولپورہ، سرینگر
موبائل نمبر،9419011881