وسیع آبادی آج بھی کندھوں پر پانی ڈھونے پر مجبور،جل شکتی محکمہ پر غفلت کاالزام
محمد بشارت
کوٹرنکہ //سب ڈویژن کوٹرنکہ کی مرکزی پنچایت حلقہ کوٹرنکہ کے وارڈ نمبر 8 میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت نے مقامی آبادی کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے، جس کے خلاف لوگوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی باشندوں نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آزادی سے لے کر آج تک اس علاقہ کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہو سکا، اور گاؤں کے لوگ آج بھی کندھوں پر پانی اٹھانے پر مجبور ہیں۔علاقہ کے ایک بزرگ محمد بشارت نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں محض نعروں اور ووٹوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، مگر بنیادی سہولیات آج بھی خواب ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں میں کسی خوشی یا غمی کے موقع پر مرد حضرات اجتماعی طور پر پانی جمع کرتے ہیں تاکہ گھریلو ضروریات پوری ہو سکیں۔ انہوں نے ایک حالیہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ محمد سلیمان کی بیٹی کی شادی کے موقع پر پورے وارڈ کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ پانی کی قلت کے باعث ایک کلومیٹر دور واقع قدرتی چشمے سے پانی لانا پڑا۔مقامی صحافی چوہدری محمد شفیق نے بتایا کہ جل جیون مشن کے تحت وارڈ میں دو پانی کے ٹینک تعمیر کئے گئے تھے اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ علاقے میں پائپ لائنیں بچھائی جائیں گی، مگر دو سال گزر جانے کے باوجود نہ تو ان ٹینکوں میں پانی بھرا گیا اور نہ ہی ان سے کسی قسم کی سپلائی شروع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ سب صرف دکھاوا ہے، عملی سطح پر کچھ نہیں کیا گیا، عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے‘۔لوگوں نے محکمہ پی ایچ ای اور جل شکتی کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کی جانب بارہا توجہ دلائی گئی مگر متعلقہ ملازمین نے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا۔ پانی کی قلت کے باعث لوگ روزانہ کی بنیاد پر شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ بعض گھروں میں خواتین اور بچے روزانہ کئی چکر لگا کر چشمے سے پانی بھر کر لاتے ہیں جو ان کی صحت اور روزمرہ زندگی پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔مقامی باشندوں نے سیاسی نمائندوں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر انتخابی دور میں الگ الگ نعرے لگا کر ووٹ لئے جاتے ہیں، مگر زمینی سطح پر صورتحال جوں کی توں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’چھ سال بعد کسی نئے نعرے کے ساتھ ہمیں امید دلائی جاتی ہے، مگر پینے کا صاف پانی آج تک میسر نہ ہو سکا، جو ہماری بدقسمتی ہے‘۔مقامی لوگوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بدھل کے ایم ایل اے سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے جل شکتی محکمہ کو ہدایت دی جائے کہ جلد از جلد پائپ لائن بچھائی جائے اور تعمیر شدہ ٹینکوں میں پانی کی سپلائی بحال کی جائے۔