عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے ساتویں دن منگل کو اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) پر بحث ہوئی۔ یہ فیصلہ طویل کشمکش کے بعد کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید مذاکرات کے بعد ہوئی، جس کے نتیجے میں منگل کو دونوں ایوانوں میں اس معاملے کو اٹھانے کے لیے آل پارٹیز کا اتفاق رائے ہوا۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نےراجیہ سبھا میں قومی گیت وندے ماترم کے 150 سال پورے ہونے کے موقع پر خصوصی بحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس پر شروع سے ہی وندے ماتر م کی مخالفت کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ جب وندے ماترم کے 50 سال پورے ہوئے تو اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا، وہیں سے خوشامد کی سیاست شروع ہوئی اور اسی نتیجے میں ملک کی تقسیم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میرا اور کئی لوگوں کا خیال ہے کہ اگر خوشامد کی سیاست نہ ہوتی تو ملک کی تقسیم نہ ہوتی۔کانگریس اور اس کی اعلیٰ قیادت پروندے ماترم کی مخالفت کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دورِ حکومت میں پارلیمنٹ میں وندے ماترم گایا جانا بند کر دیا گیا تھا، جبکہ دستور ساز اسمبلی نے اسے قومی گیت کا درجہ دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب وندے ماترم کے 100 سال پورے ہوئے تو ملک میں ایمرجنسی نافذ تھی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ کل بھی جب لوک سبھا میں 150 سال کے موقع پر بحث ہوئی تو کانگریس کی ایک خاتون رکن نے کہا— ابھی ‘وندے ماترم پر بات کرنے کا وقت نہیں ہے۔ اس پر کانگریس کے کچھ ارکان نے اعتراض کیا اور پوری بات بتانے کا مطالبہ کیا۔ شاہ نے کہا کہ جس گیت کو مہاتما گاندھی نے ملک کی روح سے جڑا ہوا قرار دیا تھا ۔اسی کا ٹکڑا کرنے کا کام کانگریس پارٹی نے کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 1992 میں جب ایک بار پھر لوک سبھا میں وندے ماترم گایا جانے لگا تو نڈیا اتحاد کے کئی اراکین نے اسے پڑھنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جبوندے ماترم گائے جانے کا وقت ہوتا ہے تو کانگریس کے کئی رکن ایوان سے باہر چلے جاتے ہیں جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے تمام ارکان احترام کے ساتھ کھڑے ہو کر اس گیت کو گاتے ہیں۔اس پر اپوزیشن کے اراکین نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ ثبوت پیش کریں کہ کون وندے ماترم کے دوران کھڑا نہیں ہوتا۔