منڈی//خطہ پیر پنچال کو وادی کشمیر سے جوڑنے والی تیسری شاہراہ لورن ٹنگمرگ سڑک پر دو برس سے تعمیری کام بند پڑا ہوا ہے ۔لورن ٹنگمرک 42 کلو میٹر سڑک کو جہاں 2020 میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا لیکن ابھی تک صرف 13کلو میٹر سڑک تعمیر ہوسکی ہے ۔واضح رہے کہ لورن ٹنگمرک سڑک کا تعمیری کام 21 نومبر 2015 میں شروع کیا گیا تھا جس کا سنگِ بنیاد اسوقت کے ریاستی وزیرِ اعلی مرحوم مفتی محمد سعید کے ہاتھوں رکھا گیا تھا اور اس سڑک کی تعمیر کو مکمل کرنے کا ہدف 5 برس تک کا رکھا گیا تھا مگر گزشتہ چھ برس میں سڑک کی تعمیر محض 13 کلو میٹر ہی ہو پائی ہے۔سڑک کا تعمیر اتی عمل محکمہ گریف کے پاس ہے جس کی رفتار انتہائی سست ہے ۔ذرائع کے مطابق گریف نے ہر برس پانچ کلو میٹر سڑک نکالنے کا ہدف رکھا ہے مگر گزشتہ چھ برسوں سے کام کی رفتار نتہائی سست ہو چکی ہے ۔ اگر چہ دو برس قبل محکمہ جنگلات کی وجہ سے سڑک کی تعمیررک گئی تھی لیکن دو برس قبل ہی محکمہ جنگلات کی طرف سے تعمیراتی ایجنسی گریف کو کلین چیٹ دی گئی ۔ گریف ذرائع کے مطابق گزشتہ دو برس سے کووڈ کے چلتے سڑک پر تعمیری کام نہ ہو سکا مگر اس وقت سڑک کا جو حصہ تعمیر کیا گیا ہے اسی حصے کی طرفین کو تعمیر کیا جا رہا ہے ۔غور طلب ہے کہ مذکورہ سڑک کی مدد سے خطہ پیر پنچال کی عوام کو فائدہ پہنچے گا ۔اس کے علاوہ بھی خطہ کو وادی کیساتھ جوڑنے والی مغل شاہراہ شامل ہے ۔مذکورہ سڑک کی تعمیر کیلئے اس وقت محض بیس مزدور ہی کام کررہے ہیں ۔خطہ کے لوگوں نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ رابطہ سڑک کو جلدازجلد مکمل کرنے کیلئے متعلقہ محکمہ کو متحرک کیا جائے تاکہ کافی عرصہ سے التوا کا شکار پروجیکٹ پائے تکمیل تک پہنچ سکے ۔