عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//کابینہ وزیر جاوید احمد رانا نے منگل کے روز کہا کہ وہ دن دور نہیں جب لداخ ایک بار پھر جموں و کشمیر کا حصہ بنے گا، اور اس بات پر زور دیا کہ ایک متحدہ جموں و کشمیر ناگزیر ہے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید رانا نے کہا کہ بالآخر حکومتِ ہند کے پاس متحدہ جموں و کشمیر کی بحالی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ انہوں نے ایک بی جے پی ایم ایل اے کی جانب سے جموں کو الگ ریاست بنانے کے دعوے کو خیالی اور گمراہ کن قرار دیا۔رانا نے واضح کیا کہ پیر پنجال اور چناب خطوں سے جموں کی علیحدہ ریاست کے حق میں کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا ہے۔ ان کے مطابق ان علاقوں کے عوام آج بھی خود کو متحدہ جموں و کشمیر سے وابستہ سمجھتے ہیں اور تقسیم کے حق میں نہیں ہیں۔اس دوران وزیر نے کل حکومت کی شراکتی اور جامع حکمرانی کے عزم کی عکاسی کرتے ہوئے ایک بڑے عوامی اقدام کے تحت سری نگر میں کشمیر ڈویژن کی قبائلی کمیونٹیوں کے ممتاز شخصیات کے ساتھ اعلیٰ سطحی اِستفساری سیشن کی صدارت کی۔دن بھر کے اِستفساری سیشن میں قبائلی فنکاروں، مصنفین، شاعروں، سماجی کارکنوں، ماحولیاتی تحفظ کے علمبرداروں، عوامی نمائندوں اور کمیونٹی رہنماؤں کا ایک معزز اجتماع اکٹھا ہواجس نے حکومت اور عوامی نمائندگی رکھنے والی اَقدامات کے درمیان براہ راست گفتگو کے لئے ایک معنی خیز پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ رانا نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس بات چیت کو معمول کی میٹنگ کے بجائے ایک مشترکہ کاوش قرار دیا اور زور دیا کہ حقیقی قبائلی ترقی کمیونٹیوںکی اَپنی خواہشات اور عملی حالات کے مطابق ہونی چاہیے۔وزیر موصوف نے جموںوکشمیر کے دُور دراز قبائلی اکثریتی علاقوں میں مؤثر پالیسیوں کی تشکیل اور ان پر عمل آوری کی نگرانی میں ماہرین، منتخب نمائندوں اور سماجی طور پر مؤثر رہنمائی کے اہم کردار پر زور دیا۔وزیر جاوید رانا نے ادیبوں، فن کاروں، شعرأ اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ قبائلی اور دیگرپسماندہ کمیونٹیوں کے فلاح و بہبودکے اقدامات میں پیش پیش رہیں کیوں کہ ان کا ثقافتی اور سماجی اثر انہیں معاشرے کی رہنمائی اور متحرک کرنے کے لئے ایک منفرد مقام دیتا ہے۔کشمیر ڈویژن کی مختلف قبائلی کمیونٹیوں کے ممتازشہریوں، مصنفین، فنکاروں اور شاعروں نے استفساری سیشن میں بڑھ چڑھ حصہ لیا اور اپنے مطالبات اور تجاویز وزیر کو گوش گزار کئے۔ اہم مسائل میں قبائلی علاقوں میں سہولیات کی اپ گریڈیشن، زبانی تاریخوں کی دستاویز سازی، قبائلی زبانوں اور ثقافت کو فروغ دینا اور کمیونٹی فلاحی سرگرمیوں کے لئے جنگلات سے متعلق اجازت ناموں کو آسان کرنا شامل تھے۔وزیر نے تمام مسائل کوبغور سُنا اور متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ ُاٹھائے گئے مسائل کا فوری اور وقتی ازالہ کو یقینی بنائیں۔