نئی دہلی //جمعیۃ علماء ہند کے جنر ل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت عالیہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی گائیڈ لائن کی پابندی کی جائے ، جو گرفتار ہوئے ہیں وہ مستقل ضمانت کے لیے ذیلی عدالت میں درخواست دے سکتے ہیں ۔لاک ڈائون کے باوجود دہلی فساد کی انکوائری کی آڑمیں،پولیس کے ذریعہ مسلم اقلیتوں کی لگاتار گرفتاری پر روک لگانے سے متعلق جمعیۃ علماء ہند (جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی) کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ جو گرفتاری ہوئی ہے یا آئندہ جو بھی ہوگی ، اس کو انجام دیتے وقت ڈ ی کے باسو بنام حکومت ویسٹ بنگال 1977مقدمے میں سپریم کورٹ کے ذریعہ طے کردہ گائیڈ لائن کی مکمل پابندی کی جائے۔ جسٹس سدھارتھ مریدول،جسٹس سنگھ کی دورکنی بنچ نے اپنے آرڈر میں یہ بھی کہا ہے کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ، وہ ذیلی عدالت میں ریگولر بیل(مستقل ضمانت) کے لیے درخواست دے سکتے ہیں ۔ عدالت نے آیندہ سماعت کے لیے 24جون کی تاریخ طے کی ہے ۔واضح ہو کہ جمعیۃ علماء ہندنے اپنے وکیل انوپ جارج چودھری ، جون چودھری، ایڈوکیٹ نیاز فاروقی ، ایڈوکیٹ طیب کے تعاون سے ہائی کورٹ میں22اپریل کو ایک عرضی دائری کی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت جب کہ پورا ملک کرونا وائرس کی ہلاکت خیز بیماری سے جنگ لڑرہا ہے ، ایسے میں دہلی پولیس، فروری میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد کی آڑ میں گلی کوچے سے مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے جیل بھیج رہی ہے ۔ عدالت میں جمعیۃ علماء ہند نے ایسے 45 لوگوں کے نام پیش کیے ہیں، جن کو اس درمیان گرفتار کیا گیا ۔گرفتار شدگان کا تعلق جعفرآباد، مصطفی آباد، برہم پوری، چوہان بانگر،موہن پوری، عثمان پور، چاند باغ سے ہے ،دو طالب علم میران حیدر اور صفور ازرگان جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پی ایچ ڈ ی کے طالب علم ہیں۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب کہ قابل احترام سپریم کورٹ نے سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے تمام ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ پیرول، بیل اور فرلو کے ذریعہ قیدیوں کو رہا کیا جائے اور جیلوں کی بھیڑ کم کی جائے ،اس طرح سے دہلی پولیس نے سپریم کورٹ کی ہدایتوں کے بنیادی مقاصد کو پامال کیا اور جیلوں کے خالی کرنے کے بجائے اسے بھرنے کی کوشش کی ۔ساتھ ہی دہلی سرکار کے ذریعہ قیدیوں سے متعلق ضابطے میں ایمرجنسی پیرول کے اضافہ کو بھی خاطر میں نہیں لا یا گیا۔جمعیۃ علماء ہند نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ یہ افسوسناک ہے کہ ایک سیکولر سماج کی پولیس کا کردار ا س قدر تعصب ، تفریق اور فرقہ واریت پر مبنی ہے۔