جموں// سرمائی ر اجدانی جموں میں اپنے مطالبات کے حق میں برسر احتجاج فی میل ملٹی پر پزورکر س کی کام چھوڑو ہڑتال61ویں دن میں داخل ہو چکی ہے ۔اس موقعہ پر مظاہرین نے اپنی مانگوں کے حق میں شدید نعرے بازی کی ۔ذرائع کے مطابق فی میل ملٹی پرپز ہیلتھ ورکر س نے جموں کشمیر میڈیکل ایمپلائزفیڈریشن کے بینر تلے ناظم صحت جموں کے دفتر کے سامنے61دن بھی دھرنا دیا اور اپنی مانگوں کو لے کر احتجاج جاری رکھتے ہوئے کہاکہ ان کی مانگوں و مطالبات کی جانب انتظامیہ کو ئی بھی توجہ نہیں دے رہی ہے جس کی وجہ سے ان کو شدید ذہنی پریشانیوں کا سامنا کر نا پڑرہاہے ۔ سراپااحتجاج ورکروں نے کہاکہ تنظیم کے صدرسوشیل سودن کے مطابق گورنرکے صلاحکارکے ساتھ میٹنگ 26 اکتوبرکوطے تھی لیکن فون پراطلاع دی گئی ہے کہ میٹنگ ملتوی کی گئی ہے اوراب یہ میٹنگ 27 اکتوبرشام کوہوگی۔ان ورکروں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ دو ماہ سے وہ لگا تار احتجاج کر رہی ہیں تاہم انتظامیہ اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے ۔مظاہرین نے مزیدکہاکہ انہوں نے تنخواہ ،ڈی پی سی ،LHVزمرے کیلئے بھرتی عمل شروع کرنا ،ایس آر ائو SRO20میں ترمیم جیسے متعدد معاملات انتظامیہ کے سامنے رکھے ہیں تاہم اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔احتجاجی ملازمین ورکرس کی سربراہی کر نے والے فیڈریشن کے صدر سشیل سودھن نے بتایا گزشتہ کئی دنوں سے فی میل ملٹی پرپز ہیلتھ ورکرس ہڑتال پر بیٹھے ہیں لیکن حکومت اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برقت تنخواہوں کی واگذری اور رینک پرموشن جسے مطالبات کے حق میں ہیلتھ ورکر س دھرنے پر بیٹھنے کے لئے مجبور ہیں تاہم ان کے مطالبات کو پوراکرنے کے تعلق سے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور حکومت کی جانب سے ابھی تک کو ئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔انہوں کہا کہ جب تک ہمارے جائزمطالبات پورئے نہیں کئے جاتے ہڑتال جاری رہے گی۔