فن تعمیر،تاریخی ورثہ کی بحالی ، تحفظ اور دیکھ ریکھ

سرینگر// حکومت نے جموں و کشمیر میں فن تعمیر اور ورثہ کی بحالی ، ، تحفظ اور دیکھ ریکھ کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی اور ضلعی سطح کوکارڈی نیشن و نفاذ کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا ہے۔ سرکاری آرڈر میں کہا گیا ہے ’’ جموں و کشمیر میں فن تعمیر اور ورثہ کی بحالی ، حفاظت ، تحفظ اور دیکھ ریکھ کی اسکیم کے نفاذ کے عمل کے منصوبوں کی منظوری کیلئے ایگزیکٹو کمیٹی اور ضلع سطح کارڈی نیشن ونفاذ کمیٹیوں کے قیام کی منظوری دی گئی ہے ۔ ایگزیکٹو کمیٹی کی کمان  چیف سیکریٹری کو سونپی گئی ہے،جبکہ16رکنی کمیٹی میں محکمہ مال ، سیاحت اورثقافت کے انتظامی سیکریٹری،صوبائی کمشنر کشمیرو جموں، چیف آرکیٹکٹ کشمیر و جموں ، چیف ٹائون پلانر جموں اور کشمیر، نظام سیاحت کشمیر اور جموں ، ڈائریکٹر آثار قدیمہ، عجائب گھر، محکمہ ثقافت کے ڈائریکٹر جنرل یا ڈائریکٹر آئی آر ڈی یا ڈائریکٹر پلاننگ اور جموں کشمیر حکومت کی جانب سے5 نامزد ماہرین اس کمیٹی کے ممبران ہونگے۔ ضلع سطح کی کارڈی نیشن و نفاذ کمیٹی کی کمان متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو سونپی گئی ہے جبکہ کمیٹی میں ایڈیشنل ضلع ترقیاتی کمشنر، محکمہ تعمیرات عامہ کے متعلقہ ضلع کے سپرانٹنڈنٹ انجینئر، محکمہ آثار قدئمہ و عجائب گھر کے متعلقہ ڈویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر، محکمہ سیاحت کے نمائندے،جن کا عہدہ متعلقہ صوبے میں ڈپٹی ڈائریکٹر سے کم نہ ہو، متعلقہ ضلع کے چیف ایجوکیشن افسر اور ضلع شماریات افسر ممبر ہونگے۔
کمیٹی کو اس طرح کی سرگرمی کیلئے ایگزیکٹو کمیٹی کی منظوری کے بعدورثہ اور آستانوں ، مندروں اور دیگر مذہبی اور تاریخی یادگاروں کا ڈائریکٹوریٹ آف آرکائیوز ، آثار قدیمہ اور عجائب گھروں کے ساتھ مل کر سروے اور شماری کی ذمہ داری سونہپی گئی ہے تاکہ انکی بحالی ، حفاظت ، تحفظ اور دیکھ ریکھ کی جائے۔ یہ کمیٹیاں مقدس مذہبی اثاثوں اور تاریخی یادگاروں کی بحالی و تحفظ اور تزئین و آرائش کی ضرورت اور تجدید و مرمت کا پتہ لگائے گی ، اور اس ، بحالی ، تحفظ اور دیکھ ریکھ کے کام کو آسان اور مربوط کرنے کیلئے سہولیات فراہم کرے گی۔ سرکار کی جانب سے قائم کی گئی یہ کمیٹیاں جموں کشمیر میں فن تعمیر اور ثقافت کی دیکھ ریکھ اور انکی بحالی و تحفظ کے مقصد کی تکمیل کیلئے رقومات حاصل کرکے گرانٹ فراہم کرے گی۔ ان کمیٹیوں کو نشاندہ مقدس اور ورثہ ڈھانچے کے تحفظ اور طویل عمر ،اور جہاں کہیں بھی کوئی نقصان ہوا ہے اس کی بحالی کے لیے اقدامات تجویز کرنیکے لیے اقدامات کو ترجیح دینا اور تجویز فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی تفویض کی گئی ہے،تاہم اس مقصد کے لیے اور ایگزیکٹو کمیٹی کی منظوری کے لیے مناسب ایکشن پلان تیار کرنا اور حتمی شکل دینا بھی لازمی ہے۔ سرکاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ منظور شدہ ایکشن پلان کے مطابق اصل پوزیشن کی بحالی، نامزد ورثہ،مقدس ڈھانچہ یا جگہ ، ایک ہی تعمیراتی میٹریل اور کاریگری پر قائم رہنا ہوگا۔ کمیٹیوں کی ذمہ داریوں میں ان عبادت گاہوں اور ورثہ کی یادگاروں پر ڈھانچوں کی تجدید اور منظور شدہ ایکشن پلان کے مطابق متعلقین کی مشاورت سے  مقامات ں اور ان کے گردونواح میں زمین کو تیار کرنا ہوگا۔نیز کہا گیا ہے کہ کمیٹیاں مذہبی مقام اورورثہ کی یادگاروں کے ٹرسٹ کے انتظام کے ساتھ قریبی مشاورت سے عملدرآمد اور بحالی کے کاموں کی نگرانی کرے گی جبکہ سہ ماہی بنیادوں پر ایگزیکٹو کمیٹی کو پیش رفت کی اطلاع  دے گی۔