ڈاکٹر فلک فیروز
زندگی جینے کا پہلے حوصلہ پیدا کرو ، صرف اونچے خوب صورت خواب مت دیکھا کرو ۔
زندگی کے معنی کی تلاش دراصل انسان کے باطن میں جلنے والے اُس چراغ کی جستجو ہے جو تاریکیِ وجود میں روشنی بکھیرتا ہے۔ انسان جب کائنات کی وسعتوں میں اپنی ہستی کو دیکھتا ہے تو اس کے دل میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر اس کی آمد کا مقصد کیا ہے، یہ سانسوں کی روانی کس راز کی امین ہے، اور یہ دل کیوں مسلسل کسی اَن دیکھی حقیقت کی طرف کھنچتا رہتا ہے۔کسی کے نزدیک زندگی محبت کا نام ہے، کسی کے لیے عبادت کا سفر، کسی کے لیے علم و آگہی کی تلاش، اور کسی کے لیے دکھ اور خوشی کے درمیان معنی تراشنے کا عمل۔ یوں معنیِ حیات کوئی ایک جامد حقیقت نہیں بلکہ ہر انسان کے احساس، شعور اور تجربے میں نئی صورت اختیار کرتا رہتا ہے۔شاید زندگی کا اصل حسن بھی اسی تلاش میں پوشیدہ ہے؛ ایک ایسی جستجو جو انسان کو اپنے آپ سے، کائنات سے، اور کبھی اپنے خالق سے ہم کلام کرا دیتی ہے۔
انسانی وجود اسکی معنویت،افادیت اور حقیقت پر غور کیا گیا ہے،کیا جاتا ہے اور کیا جارہا ہے۔یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے بہت سارے جواب بہت سارے نظریات کے تحت موجود ہیں ۔لیکن اس کے باوجود اس سوال کا کوئی جواب ابھی تک حتمی سطح پر نہیں دیا گیا ہے کہ ایک پورا جسم اور دماغ لیکر انسان دن بھر وہ سب کچھ کیوں کر رہا جو وہ ایسے روز کرتا رہتا ہے۔کیا صرف اس لیے کیوں کہ وہ زندہ ہے یا کہ صرف اس لیے کیوں کہ اس سے اگر زندہ رہنا ہے تو یہ کرنا ہے یا اس لیے کیونکہ وہ بذات خود ایک وجود موجود ہے یا اس لیے کیوں کہ وہ سوچتا ہے۔ رینی ڈیکارٹ نے ایک خوبصورت بات کہی تھی کہ میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں۔ رینی ڈیکارٹ کا یہ فلسفیانہ تصور انسان کے شعورِ ذات کی گواہی ہے۔ انسان جب ہر حقیقت پر شک کرتا ہے تو یہی شک اس کے وجود کا ثبوت بن جاتا ہے، کیونکہ سوچنے اور سوال کرنے والا ’’میں‘‘ بہرحال موجود ہوتاہے۔ جیساکہ پہلے ہی ذکر کیا گیا ہے کہ اس کے متعلق مختلف نظریات موجود ہیں۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق انسان کی زندگی کا بنیادی مقصد اپنے خالق و مالک اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا، اس کی عبادت (بندگی) کرنا، اور اس کی رضا حاصل کرنا ہے۔ یہ دنیا ایک آزمائش گاہ ہے جہاں انسان کو اچھے اعمال کے ذریعے اپنی بندگی کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔زندگی کے اہم مقاصد:اللہ کی عبادت و بندگی: قرآن کریم (سورۃ الذاریات: 56) میں واضح ہے کہ جن و انس کی تخلیق صرف اللہ کی عبادت کے لیے ہوئی ہے، جس کا مطلب زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔ اپنے رب کو پہچاننا اور اس کے حضور حقیقی عاجزی و انکساری اختیار کرنا۔ تمام تر دنیاوی مصروفیات کے ساتھ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی مل سکے۔ دنیا کی زندگی ایک امتحان ہے، تاکہ یہ دیکھا جائے کہ عمل میں سب سے بہتر کون ہے۔ دنیا کو آخرت کی کھیتی سمجھ کر نیک اعمال کرنا تاکہ دائمی جنت حاصل ہو سکے۔مختصراً، انسان کا اصل مقصد اللہ کے احکامات کے مطابق زندگی گزار کر اپنے مالک حقیقی کو راضی کرنا ہے۔اسلامی مقصدِ حیات | منہاج القرآن کے علمی و تحقیقی جرائدانسانی زندگی کا اصل مقصد یہ ہے کہ اللہ کی رضا حاصل ہوسکے۔
سائنس کی دنیا میں زندگی کسی پوشیدہ تقدیر یا مابعد الطبیعی رمز کا نام نہیں، بلکہ مادّے اور توانائی کے اُس حیرت انگیز رقص کو کہا جاتا ہے جو کائنات کی خاموش وسعتوں میں شعور، حرکت اور بقا کو جنم دیتا ہے۔ یہ کاربن اور مختلف عناصر سے ترتیب پانے والا ایسا خودکار کیمیائی نظام ہے جو اپنے وجود کو برقرار رکھتے ہوئے وقت کے ساتھ بدلتا، سیکھتا اور ارتقا کی منازل طے کرتا رہتا ہے۔زندگی دراصل سکون نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے؛ ایک ایسی لطیف جدوجہد جس میں ہر خلیہ فنا کی تاریکی کے مقابل بقا کی شمع روشن رکھتا ہے۔ جسم کے اندر توانائی کی گردش، نمو کی آہٹ، ماحول سے مطابقت، اور نسلوں کا تسلسل یہ سب زندگی کی اسی خاموش موسیقی کے نغمے ہیں۔سائنس کے نزدیک حیات کا سوال ’’کیوں‘‘ سے زیادہ’’کیسے‘‘سے وابستہ ہے۔ وہ مقصدِ وجود کے اسرار میں کم اور وجود کے نظام میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ چنانچہ زندگی اس کے لیے کائنات کے بے کنار اندھیروں میں اُبھرتی ہوئی ایک منظم روشنی ہے، جو انتشار کے سمندر میں ترتیب کا ایک مختصر مگر شاندار استعارہ بن کر جلوہ گر ہوتی ہے۔زندگی کی رفتار جتنی تیز ہوئی ہے، انسان اتنا ہی اپنے وجود کے سوال میں الجھتا گیا ہے۔ ہمارے پاس سب کچھ ہےمعلومات، سہولتیں، مگر اس کے باوجود ایک خلا سا دل میں رہتا ہے۔ ہم دن بھر مصروف رہتے ہیں، مگر شام کو تھکن کے ساتھ یہ سوال بھی لوٹ آتا ہےہم یہ سب کیوں کر رہے ہیں؟
جاپانی تہذیب میں اس سوال کا ایک سادہ مگر گہرا جواب ملتا ہے، جسے ایکیگائی کہا جاتا ہے۔ جس کا مطلب ہے وہ سبب جس کے لیے انسان صبح بیدار ہوتا ہے، وہ مقصد جو زندگی کو محض سانس لینے کے عمل سے آگے لے جاتا ہے۔ یہ کوئی بڑا فلسفیانہ دعویٰ نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی میں پیوست ایک خاموش سچ ہے۔
کتاب ایکیگائی کے مصنف کییرا میکی ایکیگایی کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہوے لکھتے ہیں۔
“What is Ikigai? Ikigai is the art of living life in a way that a person is always inspired to remain focused on their goal. The meaning of Ikigai is to make your life meaningful. The people who use the principles of Ikigai always wake up in the morning with a sense of meaning. This is why, despite having been destroyed in the Second World War, Japan did not only develop but also became a nation of longevity. How was all this possible? This was only possible by adopting the principles of Ikigai. If you would like to live a good and meaningful long life, then this book will help you.” (Preface . Ikigai :The Japanese Art of Living by Keira . Miki)
مصنف کے مطابق ایکیگائی دولت، شہرت یا عہدے کا نام نہیں۔ یہ اس کام میں پوشیدہ ہو سکتی ہے جو انسان دل سے کرتا ہے، اس رشتے میں جو اسے جوڑے رکھتا ہے، یا اس خدمت میں جو کسی اور کی زندگی آسان بنا دے۔ جاپان کے جزیرہ اوکیناوا کے طویل العمر لوگ اسی وجہ سے زندگی کو بوجھ نہیں بلکہ نعمت سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس جینے کی ایک وجہ موجود ہوتی ہے اسی وجہ کو ان کی زندگی کا ایکیگایی ماننا جاتا ہے گویا ایکیگائی کوئی سمجھانے والا گھمبیر نسخہ یا معنی خیز فلسفہ نہیں ہے بلکہ یہ عام زندگی کے معنی مقاصد تفہیم اور زندہ رہنے کی اس جستجو لگن اور کوشش کا نام ہے جس کے لیے انسان زندہ ہے یا جس کو ایک انسان حاصل کر کے اپنی زندگی کے ان مقاصد کو پانا چاہتا ہے، ان صلاحیتوں کو باہر نکالنا چاہتا ہے جن کی وجہ سے وہ دنیا کو کچھ دے رہا ہے اور اپنی زندگی کو مشعل راہ کے طور پر مرنے کے بعد بھی زندہ رکھنا چاہتا ہے اس طرح سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایکیگایی کو سمجھنے کے لیے فلسفہ کی کتابوں کو پڑھنا لازم نہیں ہے بلکہ اپنی موجودہ زندگی جس کو گوشت پوشت اور ہڈیوں والا ڈھانچہ یا عقل و فکر کے نظام کے ساتھ موجود پایا جا رہا ہے، کے تعلق سے ان خصوصیات لیاقتوں صلاحیتوں کو سمجھنا اور نکھارنا مطلوب ہے۔
یہ کتاب جاپانی فلسفے کی کھوج کرتی ہے۔ انسانی وجود کی ایک وجہ، جو زندگی کے معنی، خوشی اور لمبی عمر لاتی ، مصنف ہمیں جاپان کے اوکیناوا لے جاتے ہیں، جو دنیا کے سب سے طویل عرصے تک رہنے والے لوگوں کا گھر ہے، اور ایک مکمل، خوشگوار اور صحت مند زندگی کے رازوں سے پردہ اٹھاتے ہیں ۔کتاب سے درج ذیل اہم نکات کو اس طرح سے سمجھا جاسکتا ہے۔
اپنی ایکیگائی دریافت کریں۔ زندگی میں اپنے جذبے اور مقصد کو تلاش کرنے کا طریقہ سیکھیں ۔جاپان سے لمبی عمر کے راز اوکیناوان کے بزرگ کس طرح لمبی، خوش اور فعال زندگی گزارتے ہیں۔ بہاؤ کی طاقت موجودہ لمحے میں رہنا خوشی کو کیسے بڑھاتا ہے۔ صحت مند عادات اور طویل زندگی کے لیے خوراک کو کیسے مقرر کرے۔ جاپانی کھانے کی عادات اصول اور متوازن غذائیت کے بارے میں بصیرت ، تناؤ پر قابو پانے اور جوان رہنے کے سنہری اصول اور طریقہ کار کی جانکاری، تناؤ کو کم کرنے اور صحت مند، فکر سے پاک زندگی گزارنے کی تکنیک۔
برادری اور دوستی کی اہمیت: کس طرح بامعنی رشتے ایک طویل اور زیادہ مکمل زندگی میں حصہ ڈالتے ہیں۔
زندگی میں معنی تلاش کرنے کے عملی اقدامات : سادہ مشقیں جو آپ کو اپنے حقیقی جذبے اور مقصد سے پردہ اٹھانے میں مدد کرتی ہیں ۔
آپ کو یہ کتاب کیوں پڑھنی چاہیے؟ ذاتی ترقی کو متاثر کرتا ہے ۔ آپ کو یہ سمجھنے میں مدد کرتا ہے کہ آپ کی زندگی میں خوشی اور معنی کیا ہے۔ قارئین کے لیے بہترین ہے جو جاپانی حکمت کو دریافت کرنا چاہتے ہیں ۔سائنسی اور ثقافتی بصیرت – لمبی عمر اور خوشی پر تحقیق سے سیکھیں ۔عملی اور زندگی کو بدلنے والا روزمرہ کی زندگی میں لاگو کرنے کے لیے حقیقی زندگی کی مثالیں اور مشقیں فراہم کرتا ہے۔یہ کتاب کس کو پڑھنی چاہیے؟کوئی بھی جو بامقصد اور بامقصد زندگی کی تلاش میں ہے۔ وہ لوگ جو خود کو بہتر بنانے اور خوشی میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔جاپانی ثقافت اور فلسفے کے بارے میں دلچسپی رکھنے والے قارئین ،جو لوگ تناؤ سے نجات اور لمبی عمر کے مشورےتلاش کر رہے ہیں ۔ وہ افراد جو صحت مند اور ذہنی زندگی اپنانا چاہتے ہیں۔شاید مسئلہ یہ نہیں کہ ہماری زندگی میں مواقع کم ہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی ایکیگائی پہچاننا چھوڑ دیا ہے۔ جب تک انسان یہ جان نہ لے کہ وہ کس لیے جیتا ہے، تب تک ہر کامیابی ادھوری اور ہر آسودگی بے معنی رہتی ہے۔
رابطہ ۔8825001337.