لئے لب پہ پھرتی ہے دشنام فطرت
جہاں میں مچائے کیا کہرام فطرت
گہہِ لب و لہجہ ہے آب صورتؔ
گہہِ سنگ صورت ہے عام فطرت
کوئی بول بولے تو ہے آمیز انگبیں
کبھی نیم صورت ہے ہنگام فطرت
نہیں اِس کا کوئی ہے میزان ابدی
بدلتی ہے پل بھر میں خودگام فطرت
ہر اک جنس کا ذہن تابع ہے اسکے
کہے وقتِ صبح کو ہے شام فطرت
کرے نیک و بد میں یہ تمیز گا ہے
گہہ دونوں کو یکساں دے مقام فطرت
ہے ممکن جہاں میں ہر شے کا بدلائو
بدلنے میں رہا فرد ناکام فطرت
ہے لازم کہ فطرت کرے کارِ مثبت
وگرنہ زباں کا ہے انجام فطرت
بھلی ہو بُری ہو یہ فطرت ہے آذرؔ
عنایت ہے رب کی یہ بے دام فطرت
اندھیرے ذہن کو یہ بخشے اُجالا
کرے شمس سا ہے بڑا کام فطرت
مجھے اپنی فطرت پہ ہے ناز عشاقؔ
دے درسِ مُروت میری عام فطرت
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9697524469