یوں تو عالم ادب میں کئی ایسے عظیم تخلیق کار پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے فن اور فنکارانہ صلاحیتوں سے اپنا لوہا منوایا ہے ، لیکن جموں و کشمیر میں بس گنے چنے تخلیق کار ہیں جن کو عالمی سطح پر ایسی اہمیت نصیب ہوئی ہے۔ اس کی کیا وجوہات ہیں ،اس ارادے کے ساتھ کہ آئندہ اس پرضرور بات ہوگی، آج کے موضوع پر سیدھا آجاتے ہیں ۔ جی ہاں ’’فرید پربتی بحیثیت ہمہ جہت تخلیق کار‘‘۔
اردو لغت کی اصطلاح میں لفظ ’ہمہ‘ کے معنی ’تمام‘ اور جہت کے معنی ’جانب ‘کے ہیں ۔ موضوع کے لحاظ سے معلوم ہوا کہ فرید پربتی ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جو ہر طرف یا یوں کہئے کہ ہر میدان میں ایک عظیم تخلیق کار کے طور پر اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔ بلاشبہ آپ ایک منجھے ہوئے شاعر، تنقید نگار، محقق، مقرر، معلم اورصحافی تھے۔ مگر اردو غزل اور خصوصاً رباعی کہنے پر جو مقبولیت آپ کو ملی وہ غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے ۔ جموں و کشمیر سے ادب کے اُفق پر یہ روشن ستارہ ۴ اگست ۱۹۶۱ کو جلوۂ افروز ہوا اور یوں ادبی ذوق رکھنے والوں کے لئے ایک باب کا باقاعدہ اضافہ ہوا۔ آپ جموں و کشمیر کے ادبی ذخیرے میں اضافے کے لئے اپنی بے پناہ خدمات انجام دیتے ہوئے ’ غلام نبی بٹ سے فریدؔپربتی‘ کے نام سے مشہورر و معروف ہوئے۔ اسلامیہ ہائی اسکول حول سرینگر سے اپنی تعلیم شروع کرتے ہوئے ایک طویل سفر طے کیا اور زندگی کی گوناگوں رعنائیوں، مشکلوں اور پرُپیچ راستوں سے ہوتے ہوئے کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستگی تک اپنی تمام تر صلاحتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئے ۔ اس کامیابی کا ایک راز وہ خود بیاں کرتے ہوئے اعتراف کرتے ہیںکہ گھر کے دینی ماحول، صوفیت کے اثر اور بہترین پرورش نے انکی شخصیت کو نکھارنے میں ایک تحریک بخش کردار نبھایا ہے مگرفرق صرف اتنا ہے کہ انہوں نے خود پر صوفیت کو حاوی نہیں ہونے دیا ۔ چناچہ’ ہجوم ِ آئینہ ‘ کے پیش لفظ میں رقم طراز ہیں؛
’’ میری تربیت صوفیانہ ماحول میں ہوئی۔ جس شخص نے میرے کان میں اذان دی وہ بھی صوفی تھے۔ میرے منہ میں پہلا چمچہ ڈالنے والا بھی صوفی تھا ۔ میرے والد صوفیت کے زبردست دلدادہ تھے مگر میںنے اپنے اُپر صوفیت کو حاوی ہونے نہیں دیاــ‘‘ ۔
شعر گوئی اور شعری رموز ونکات سے بحوبی واقف، یکتائے زمانہ فرید پربتیؔ پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور یہاں راقم اس مخمصے میں ہے کہ انکی کن کن صفات کو دہرائے ۔ یقینا ایسی کوئی صفت نہیں جو موصوف میں بہ درجہ اُتم موجود نہ ہو۔ جہاں آپ کو اردو فارسی اور انگریزی پر دسترس تھی وہیں جموں کشمیر سے شائع ہونے والے بیشتر روز ناموں کی ادارت کا کردار بھی آپ نے بخوبی نبھایا۔ شاعری کے اسراز و رموز سے باخبر ہونے کے ساتھ ساتھ تنقید اور تحقیق میں انکا ثانی نہیں۔آپ کی تخلیقات چاہے وہ شاعری پر مبنی ہوں یا تنقید ی و تخلیقی ،آپ کی ذہانت اور فنکارانہ صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔
پروفیسر احمد صغیر اپنے مضمون ’’جدید اور منفرد لب و لہجے کے شاعر۔فرید‘‘ میں لکھتے ہیں؛’’ فرید پربتی کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے خود کو کسی ایک موضوع، کسی ایک کیفیت اور کسی ایک احساس تک محدود نہیں رکھا بلکہ زندگی کو جس رنگ میں دیکھا، تغیر پذیر لمحات کی مختلف کیفیتوں کو اپنے تجربے اور مشاہدے کی بھٹی میں تپا کر شعری پیکر میں ڈھال دیا ہے ۔ وہ ہر لمحہ رواں دواں اور تازہ دم دکھائی دیتے ہیں ۔ موضوعات کا تنوع ان کے یہاں بدرجہ اُتم موجود ہے لیکن جذبات کی ایک کہکشاں ہے اور جزئیات کا شفق رنگ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘نمونے کے طور پر چند شعر ملاحظہ ہوں ؎
دور لگتا ہے مجھے پاس کا ہر ایک کا منظر
پھیلتا جاتا ہے یہ کیسا دھواں ایک نیا
٭٭٭
اب اسی شہر میں کرتا ہوں طلب جائے اماں
لوگ جس شہر سے جان اپنی بچا کے نکلے
٭٭٭
تسلسل ٹوٹتے خوابوں میں پیدا کر گئی
نئے انداز سے شعلے نگر میں بھر گئی دنیا
فرید پربتی نے اردو ادب کی سب سے مشکل سمجھے جانے والی صنف رُباعی کہنے میں جس مہارت کا ثبوت دیا ہے وہ قابل رشک ہے ۔ بقول پروفیسر قدوس جاوید ’’ جدیت کے عروج کے زمانے میں رباعی جیسی صنف کو زندہ رکھنے میں فرید پربتیؔ ایک اہم نام ہے ‘‘۔یہ صنف انکی فطرت کے ساتھ پیوست تھی جس میں انہوں نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں اور تمام تر فنی لوازمات کو پورا کرتے ہوئے ایک منفرد چھاپ چھوڑی۔ ایک ایسی چھاپ کہ جس نے انکے ایک طالب علم محمد اقبال لون کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا؛’’رباعی کے حوالے سے اگر یوں کہا جائے کہ جموںوکشمیر میں اردو رُباعی اور فرید پربتیؔ مترادف الفاظ ہیں تو شائد غلط نہ ہوگا، کیوں کہ شائد ہی کوئی اور نام رباعی میں فرید پربتیؔ کے ہم پلہ ہے‘‘۔ نمونے کے طور پرچند رُباعیاں ملاحظہ ہوں ؎
تھی اس کو شدید پیاس اُسے کیا دیتا
تھا مجھ کو بھی احساس اُسے کیا دیتا
پھل پھول تو ہیں بعد کی باتیں صاحب
سایہ بھی نہ تھا پاس اُسے کیا دیتا
٭٭٭
نادیدہ مقامات دکھاتا ہے کوئی
ہوں اصل میں ہی یہی بتاتا ہے کوئی
تو تو کا پڑھا میںنے وظیفہ اک عمر
میں میں کا سبق مجھے پڑھاتا ہے کوئی
٭٭٭
نا گفتہ حالات کو کھولا نہ گیا
جذبوں کو کسی پلڑے میں تولانہ گیا
حد درجہ بنا نقش تحیر میں ہوں
یہ کس کا ذکر چھڑاذکر کہ بولا نہ گیا
آپ نہ صرف اپنے طلباء کے لئے ایک بہترین استاد، قارئین کیلئے بہترین قلمکار، دوستوں کیلئے بہترین دوست، والدین کیلئے بہترین فرزند اور اہلیہ کیلئے بہترین شوہر تھے بلکہ اردو ادب کیلئے ایک بے مثال ہیرا ہونے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے ایک مایہ ناز سپوت تھے۔ غالباًآپ کی انہی صفات سے متاثر ہو کر پروفیسر مجید بیدار اپنے مضمون’’ خوش خلقی کا پیکر۔ فرید پربتی‘‘ میں یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ ’’خدا نے فرید پربتی کی شخصیت میں ایسا چائو رکھ دیا تھا کہ جس کے نتیجے میں اس کی ذات اور شخصیت کے جائزے کے دوران کسی قسم کے عیب کی تلاش سخت دشوار تھی‘‘۔
پرفیسر صاحب آگے چل کر اسی مضمون میں اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس جیسا شخص آسانی سے نہیں ملتا۔فرماتے ہیں؛’’ جس اپنائیت کے ساتھ فرید پربتیؔ نے خوش اخلاقی اور خوش خلقی کا مظاہرہ کیا، اس سے خود ظاہر ہوتا ہے کہ اس شخصیت کے ظاہر اور باطن میں کوئی فرق نہیں تھا‘‘۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ فرید پربتی کی موت سے جو خلا پیدا ہوا ہے ،وہ شائد ہی کبھی پُرہو سکے اور نہ ہی اس بات سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ انہوںنے اپنی پچاس سالہ زندگی میں جو کارنامے انجام دئے ،وہ قابل رشک ہی نہیں بلکہ بے مثال بھی ہیں ۔ انکی زندگی کے پچاس برسوںمیں آپ انکے لڑکپن کے سات یا آٹھ سال نکال لیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کی چالیس ، اکتالیس بہاروں میں ہی یہ کارنامے انجام دے کر اپنا ایک منفرد نام پیدا کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف جموںوکشمیر بلکہ بر صغیر میں اردو ادب کے اُفق پر روشن ستارے کی طرح اُبھرے ۔جب جب جموںوکشمیر میں زبان و ادب کی تاریخ پر بات کی جائے گی ،فرید پر بتیؔ کا نام زبان زد عام رہے گا ۔ 14دسمبر 2011 کو کینسر کا مو ذی مرض اگرچہ ہم سے ظاہری فرید کو چھیننے میں کامیاب ہوا، مگرباطنی طور پر دنیا کی کوئی طاقت انہیں ہم سے جدا نہیں کر سکتی۔ وہ اپنی تحریروں سے زندہ و جاوید رہیں گے۔ بقول شاعر؎
تم ہو اک زندہ جاوید روایت کے چراغ
تم کوئی شام کا سورج ہو کہ ڈھل جائو گے
رابطہ۔9697394893