مسلمانوں کی محبوب ترین ہستی حضرت محمد مصطفی ﷺکے خلاف یہود و مشرکین کی گستاخیاں کوئی نئی بات نہیں، بلکہ نبی مہربان ﷺ کے دور سے ہی انسانیت کے دشمن اس طرح کی قبیح حرکات کے مرتکب ہو تے رہے ہیں۔ تاہم9؍11کے بعد سے مغرب میں نسل پرستوں کا مشن ہی بس یہ رہ گیا کہ کب اور کیسے مسلمانوں کی اس عظیم ومحبوب ترین ہستی کے خلاف گستاخی کی جائے۔ انہو ں نے وقت وقت پر ایسی سازشیں رچی ہیں جن سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی، جب کہ ردعمل میں مسلمان انصاف کی دہائیاں دینے لگے تو اُن کو شدت پسند اور بُنیاد پرست جیسے القاب سے ملقب کیا گیا۔اسی شیطانی پروپگنڈے کے سلسلے کی ایک کڑی کے طور پرگزشتہ ہفتہ کے فرانس میں واقعات رونما کئے جا چکے ہیں۔ عالم انسانیت نے دیکھا کہ کس طرح سے فرانس کے صدر کیمروں کی پشت پناہی سے وہاں کے ایک ہفتہ روزہ رسالہ چارلی ہیبڈو میں 2015ء کی طرح گزشتہ ہفتے بھی نبی مہربان ﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی ۔ دوسری جانب فرانس کے شہر پیرس میں ایک استاد کی طرف سے بچوں کو آپ ﷺ کے کارٹونوں کی نمائش بھی کی گئی جس کے بدلے میں اس ملعون انسان کو جلد ہی ایک عاشق ِنبی ﷺ نے موت کے گھاٹ اُتار دیا اور بعد میں وہاں کی پولیس نے ماورائے عدالت اُس نوجوان کو راست گولیاں مار کر شہادت کے عظیم منصب پر فائز کر دیا۔ اس واقعے کے بعد ساری دنیا میںمجروح ہوئے جذبات کے ساتھ شدیدقسم کے احتجاج ہوئے اور فرانسیسی صدر کے پُتلے بھی کئی مقامات پر نذر آتش کئے گئے۔چونکہ بحیثیت مسلمان ہماری سب سے محبوب ترین ہستی نبی مہربان ﷺ ہیں، ہمیں اپنے والدین،اولاد اور اقرباء یعنی دنیا کی ہر شئی سے زیادہ اگر کسی سے محبت ہے تو وہ نبی مہربان ؐ ہے۔ ایک کلمہ گو مسلمان کوئی بھی مصیبت، دُکھ اور غم برداشت کر سکتا ہے لیکن آپ ؐ کی شان میں گستاخی ہر گز برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ سارا کچھ اچھی طرح جانتے ہوئے بھی مغربی نسل پرست اس ہتھیار کو مسلمانوں کے خلاف بار بار استعمال کرتے ہیں۔ پہلے آپؐ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور پھر جب اس کے ردعمل میں مسلمان اُٹھتے ہیں تو ان کو ایک اچھا موقعہ ملتا ہے، دنیا کو یہ دکھانے کا ،کہ مسلمان کتنے شدت پسند ہیں۔ ان ہی بُنیادوں پر وہ آج تک اسلامو فوبیا اور بنیاد پرستی کی اصطلاحیں گھڑ گھڑ کے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فرانس کے اس واقعہ کے خلاف مسلم دنیا میں حکومتی سطح پر جو ردعمل آناچاہے تھا وہ نہیں آ رہا ہے تاہم چند ایک ممالک جن میں ترکی، پاکستان اور ایران قابل ذکر ہیں، ان میں بھی خاص طور سے ترکی نے سب مسلم ممالک سے اپیل کی تھی کہ فرانس کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں جس کے جواب میں ابھی چند ہی ممالک نے حکومتی سطح پر روسی صدر کو للکارا تھا کہ میکروں کو تیسرے ہی دن عرب ممالک سے بائیکاٹ ختم کرنے کی اپیل کرنی پڑی اور گزشتہ روز ہفتہ ایک عرب ٹی وی کو انٹریو دیتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا:
’’گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے مسلمانوں کے جذبات کوسمجھتا ہوں،یہ حکومتی پروجیکٹ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو سرکاری حمایت حاصل ہے۔ اشتعال کی وجہ میرے حوالے سے منسوب جھوٹی باتیں ہیں جن میں یہ تاثر دیا گیا کہ میں گستاخانہ خاکوں کی تشہیر کا حامی ہوں، حالانکہ یہ خاکے نجی صحافتی ا داروں نے شائع کیے ہیں، جو حکومتی اجارہ داری سے آزاد ہیں‘‘۔
ابھی بائیکاٹ کی شروعات ہی ہوئی تھی کہ فرانسی صدرنے مسلم دنیا کے پائوں پڑنے جیسا بیان دیا،حالاں کہ یہ انتہائی شاطرانہ انداز میں مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش میں لگا ہوا ہے۔ چونکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ روس نے کیسے ’’حجاب‘‘ پر پابندی اور بہت ساری مساجد پر کیسے تالے چڑھا دیے ہیں؟ اور آئے روز یہ کس طرح سے اسلام اور مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں؟آج بھی یہ خبریں آ رہی ہیں کہ وہاں کی مساجد میں مسلسل توڑ پھوڑ اور گندگی وغیرہ ڈالی جا رہی ہے۔ بلکہ فرانس اُن مغربی ممالک میں سے ایک ہے جہاں باضابطہ مسلمانوں کے خلاف قوانین بنانے جا رہے ہیں۔
جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ مغرب نے 9-11کے بعد سے ہی مسلمانوں کو شدت پسند کہنا اور رسالت مآب ﷺ کی شان میں گستاخی کا عملاً محاذ کھولا ہوا ہے۔ ڈینمارک اور فرانس دو ممالک ہیں جو کھلے عام حضور ﷺکی شان میں گستاخیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں ،جس کا ردعمل مسلمانوں کی طرف سے جائز قرار دیا جا سکتا ہے ۔لیکن اس سارے منظر نامے کے دوران دنیا میں مسلمانوں کو فرانسیسی صدرسے زیادہ بھارتی حکومت اور میڈیا کی جانبداری پر حیرت ہوئی ،جہاں مسلمان ایک طرف سے فرانس کو اس طرح کی گستاخیوں سے باز رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں اور تو دوسری جانب بھارتی میڈیا میں ’’اظہار آزادی‘‘ کے موضوع پر مباحثے کرائے جا رہے ہیں،ایک طرف سے ملکی وزیر اعظم سرکاری طور روسی صدر کو بتا رہے ہیں کہ بھارت آپ کے ساتھ ہے تو دوسری جانب بھارتی میڈیا کو مسلمانوں کے اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کی ناموس کی خاطر انہیں سڑکوں پر آنا اچھا نہیں لگتا، بلکہ اس میڈیا کو دیکھ کے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے مسلمانوں نے بھارت ہی کے خلاف بغاوت شروع کر دی ہو۔ برصغیر سے بے جے پی اور بھارتی میڈیاکی اس طرح کے مسلم دشمن پروگرامات اور بیان بازیوں سے بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو گئے ہیں۔ بہرحال اپنی سیاست کو چمکانے کے لئے اس طرح کے بیانوں سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ مسلمانوں کے دلوں سے آپﷺ کی محبت نکل جائے گی ایسا کبھی نہیں ہو سکتا یہ قوم اپنا سب کچھ آپ ﷺ کی ناموس کی قربان کر سکتی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم کے اس بیان پر تجزیہ نگاروں نے مختلف زاویوں سے دیکھا ہے، چندکا کہنا ہے کہ یہ ہندو ووٹ بینک بنانے کا ایک اچھا منصوبہ ہے ،تو کئی لوگوںکا کہنا ہے کہ مودی اس طرح کے بیان سے اب سیدھا مسلمانوں کی ’’آستھا‘‘ کو ٹھیس پہنچانے سے نہیں ہچکچاتے جو کہ برصغیر کے مسلمانوں کیلئے آیئنہ کے مترادف ہے۔ اس حوالے سے ایک ماہر سیاست و قانو ن دان کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کو ووٹ سے مطلب اورمسلمان دشمنی اس کا آسان ذریعہ ہے خواہ ہنددستان کا سماج تنائو کا شکار ہی ہو جائے۔ اس بیان سے یہ پیغام بھی دینا مقصود ہے کہ ہندوستان اب صرف ہندو احساسات کا ہی ترجمان ہے۔‘‘ اسی حوالے سے ایک اور سیاسی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ ’’مودی کا یہ بیان تعصب پر مبنی ہے۔ فرانس میں گستاخی کے ردعمل میں ہوئے واقعہ کو بُنیاد بنا کر مذہبی بیانات دینا اور فرانس کے تئیں ہمدردی کا اظہار کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح سے مسلم دنیا کی شبیہ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جب کہ حضورﷺ کی شان میں گستاخی ایک سنگین جُرم ہے جس کی دنیا میں کوئی وقعت نہیں۔ مودی کا کھلے عام اس واقعہ کے بعد فراس کے صدر کا ساتھ دینے کا مقصد بس یہ ہے کہ مسلمانوں کے جذبات اور زیادہ مجروح ہوں تاکہ وہ اس کے رد عمل میں کوئی ایسا قدم اُٹھائیں جس کے بعد اُن کو بدنام اور ان کے خلاف کارروائیاں کرنے کی راہ آسان ہو جائے ۔
جب دنیا میں اس طرح کے حالات بنائے جا رہے ہوں، ایک طرف مغرب کے نسل پرست تو دوسری جانب ہنود ایک ہی مشن لے کر کھڑے ہوں کہ کس طرح سے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر کے ان کی زندگیوں کو اجیرن بنایا جائے تو ایسے میں مسلمانوں کو ایک ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ جب کفر ایک ہو تو حق کو بھی ایک ہونا چاہے۔ دنیا کے مسلم حکمرانوں کو اپنے ذاتی اور حقیر مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ایک ہو کے ان اسلام دشمنوں کے خلاف صف آرا ہو جانا چاہے۔ پھر دیکھ لیں جیسے آج چند ممالک کی جانب سے روسی مصنوعات کا بایئکاٹ کیا گیا تو ملون میکروں مسلمانوں سے معافیاں مانگنے پر مجبور ہو گیا، اب اگر سارے مسلمان ایک ہو کر ان کے خلاف صف بستہ ہو کر لڑیں وہ دن دور نہیں جب یہود و ہنود مسلمانوں کو اس دنیا پر جینے کا حق دیں گے ۔دوسری اہم بات یہ کہ ہمیں نبی مہربان ﷺ کی زندگی کو زیادہ سے زیادہ پڑھنے اور اس کی تشہیر کی ضرورت ہے،دنیا تک آپ ﷺ کے امن بھرے پیغام کو پہنچانے کی ضرورت ہے کہ جس رحمت العالمینﷺ کے خلاف آپ ہرزہ سرائی کے مرتکب ہو رہیں وہ عالم انسانیت کے لئے رحمت ہی رحمت ہیں۔ جی ہاں وہ رحمۃً للعالمین ہیں ﷺ۔
نبیٔ مہربانﷺ دنیائے انسانیت کی اصل پہچان ہے اور اس پہچان کے لیے اندھوں کی نہیں بلکہ جن لوگوں کے دل کے دروازے کھلے ہوں وہی لوگ اپنی اس پہچان کو حاصل کر سکتے ہیں وگرنہ ہمیشہ اندھیرا ہی ان کا مقدر بنتا رہے گا، چاہے ان میں ظاہری معاشی ترقی ہی کیوں نہ دکھائے دے۔
رابطہ ۔9906664012